aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "sadaa-e-bar-haq"
مطبوعہ صدر انجمن پریس مسلم ہال، بنگلور
ناشر
مکبہ ناول ہال اسٹریٹ صدر کراچی
نیشنل کمیٹی برائے سات سو سالہ تقریبات امیر خسرو
رزق برحق میرے حصے میں نہیں آیا ابھیتیرے ہونے پر مجھے پھر سے یقیں آیا ابھی
تم کو نوبل کی ضرورت ہی نہیں ہے باباکوئی اعزاز کوئی تخت کوئی تاج شہیکوئی تمغہ نہیں دنیا میں تمہارے قد کاتم نے اس ملک کے لوگوں پہ حکومت کی ہےتم نے خدمت نہیں کی تم نے عبادت کی ہےکوئی مسند بھی تمہارے لئے تیار نہیںتم کسی اور ستائش کے بھی حق دار نہیںلیکن آتی ہے کہیں سے یہ صدائے برحقجھلملاتی ہوئی آنکھوں کی نمی میں تم ہوسب کے دکھ درد کے ساتھی ہو غمی میں تم ہوسب کی خوشیوں میں ہو موجود دکھوں میں تم ہوسب کی سانسوں میں مہکتے ہو دلوں میں تم ہواسی خدمت میں ہے پوشیدہ تمہارا نوبلتم یہاں خاک نشینوں کے نمائندہ ہوصرف بیواؤں یتیموں کے لئے کام کروتم تو بس لاشیں اٹھانے کے لئے زندہ ہو
الٰہی عدل کی میزان برحقزمیں پر کب اتاری جا رہی ہے
یہ جھوٹے خدا مل کے ڈبو دیں گے سفینہتم ہادیٔ برحق کو صدا کیوں نہیں دیتے
اک مرشد بر حق سے ہے دیرینہ تعلقپرواہ نہیں مجھ کو سزا کی نہ جزا کی
تخلیق کارکی حساسیت اسے بالآخراداسی سے بھردیتی ہے ۔ یہ اداسی کلاسیکی شاعری میں روایتی عشق کی ناکامی سے بھی آئی ہے اوزندگی کے معاملات پرذرامختلف ڈھنگ سے سوچ بچار کرنے سے بھی ۔ دراصل تخلیق کارنہ صرف کسی فن پارے کی تخلیق کرتا ہے بلکہ دنیا اوراس کی بے ڈھنگ صورتوں کو بھی ازسرنوترتیب دینا چاہتا ہے لیکن وہ کچھ کرنہیں سکتا ۔ تخلیقی سطح پرناکامی کا یہ احساس ہی اسے ایک گہری اداسی میں مبتلا کردیتا ہے ۔ عالمی ادب کے بیشتر بڑے فن پارے اداسی کے اسی لمحے کی پیداوار ہیں ۔ ہم اداسی کی ان مختلف شکلوں کو آپ تک پہنچا رہے ہیں ۔
اس کلیکشن میں ہم نے زبیر رضوی کی اُن نظموں کو شامل کیا ہے جو ایک سلسلے کا حصہ ہیں اور جن کی ابتدا "پرانی بات ہے" کے مصرعے سے ہوتی ہے۔
بیسویں صدی کا ابتدائی زمانہ دنیا کے لئے اور بالخصوص بر صغیر کے لئے خاصہ ہنگامہ خیز تھا۔ نئی صدی کی دستک نے نئے افکار و خیالات کے لئے ایک زرخیز زمین تیّار کی اور مغرب کے توسیع پسندانہ عزائم پر قدغن لگانے کا کام کیا۔ اس پس منظر نے اردو شاعری کے موضوعات اور اظہار کےمحاورے یکسر بدل کر رکھ دئے اور اس تبدیلی کی بہترین مثال علامہ اقبالؔ کی شاعری ہے۔ اقبالؔ کی شاعری نے اس زمانے میں نئے افکار اور روشن خیالات کا ایک ایسا حسین مرقع تیار کیا جس میں شاعری کے جملہ لوازمات نے اسلامی کرداروں اور تلمیحات کے ساتھ مل کر ایک جادو کا سا اثر پیدا کیا۔ لوگوں کو بیدار کرنے اور ان کے اندر ولولہ پیدا کرنے کا کارنامہ انجام دیا۔ اقبالؔ کی شاعری نے عالمی ادب کے جیّدوں سے خراج حاصل کیا اور ساتھ ہی ساتھ تنازعات کا محور بھی بنی رہی۔ اقبال بلا شبہ اپنے عہد کے ایسے شاعر تھے جنہیں تکریم و تعظیم حاصل ہوئی اور ان کے بارے میں آج بھی مستقل لکھا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ انھوں نے بچوں کے لئے جو شاعری کی ہے وہ بھی بے مثال ہے۔ان کی کئی نظموں کے مصرعے اپنی سادگی اور شکوہ کے سبب آج بھی زبان زد عام ہیں۔ مثلاً سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا یا لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری کا آج بھی کوئی بدل نہیں۔ یہاں ہم اقبالؔ کے مقبول ترین اشعار میں سے صرف ۲۰ اشعار آپ کی نذر کر رہے ہیں۔ آپ اپنی ترجیحات سے ہمیں آگاہ کر سکتے ہیں تاکہ اس انتخاب کو مزید جامع شکل دی جا سکے۔ ہمیں آپ کے بیش قیمت تاثرات کا انتظار رہے گا۔
نظم برحق
محمد فیاض الدین
نظم
صداے برق
آفتاب عمر
سدباب ذریعہ
صدائے حق
عبدالحمید نعمانی
بچوں میں جرائم پسندی
نامعلوم مصنف
بڑھاپا اور اس کا سد باب
حکیم محمد اقبال حسین
اعجاز غوثیہ
مولوی محمد حسین
قادریہ
شمارہ نمبر- 020
خالد سیف اللہ
Jul, Aug 2011صدائے حق
شمارہ نمبر۔031
Feb 2012صدائے حق
شمارہ نمبر۔016
Feb 2011صدائے حق
شمارہ نمبر۔012
Sep, Oct 2010صدائے حق
شمارہ نمبر۔018
Apr 2011صدائے حق
شمارہ نمبر- 013
Nov 2010صدائے حق
شمارہ نمبر۔030
Jan 2012صدائے حق
شمارہ نمبر۔017
Mar 2011صدائے حق
کیا تھی مشکل وصال حق میں صداؔتجھ سے بس رد نہ تیری ذات ہوئی
اس بار بخش دے مرے مولیٰ صداؔ کو توقید حصار ذات کی پھر سے سزا نہ دے
اہل حق کو رہے خیال صداؔخاص ہے حق سے دار کا رشتہ
خدا معبود ہے مطلق بندا موجود ہے مطلقیو دونوں مطلق برحق سمجھ ہر یک کا مشکل ہے
یاد رکھے گی یہ دنیا اس کو صدیوں دوستوجان برحق جس نے دے دی سر نہ لیکن خم کیا
مسجد سے لاالہ کی صدا آئے بار بارگنبد کے ساتھ ہی کوئی اونچا منار دے
ہوا بے مہر تھی اس رات ٹھنڈی اور کٹیلیسانس لینا سر سے اونچی لہر سے ٹکر لگانا تھاصدا کوئی نہیں تھیسمت کی تعین مشکل تھینشیبی بستیوں میں راستے اک دوسرے میں ختم ہوتے تھےتجھے کیا علم ہے وہ رات سرتاپا شب ہجراں ہمارے حق میں کیسی تھیلکیریں ہاتھ کی نا مہرباںماتھا معیشت کی طرح تنگ اور گھر برکت سے چہرہ نور سے عاریگناہوں کا کیا مقدور تھا اچھا عمل بھی ہو نہیں پایاکسی بڑھیا کی کٹیا میں دیا جھاڑونہ روئے با وضو ہو کرنہ کچھ ترتیل نہ تحلیلہونٹوں سے دعا ہی پھوٹتی لیکن ہماری تیرہ روزی رات کے ہر برج پربیدار اور چوکس تھیگاہے گاہے اک للکار آتی تھی ازل کی لوح سےاور ہم منوں مٹی کے نیچے سہم جاتے تھےہوا بے مہر تھی اس رات ٹھنڈی کٹیلیسانس لینا سر سے اونچی لہر سے ٹکر لگانا تھا
رب برحق خالق عالی جنابہو گئے اپنے مشن میں کامیابسلسلہ رشد و ہدایت کا ہے ختمآسماں سے اب نہ اترے گی کتاب
موبائل پر بات کرتے کرتے اچانک اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ موبائل بند کرکے اس نے کچھ سوچا، پھر اٹھ کر کمرے میں ٹہلنے لگا، بیوی غور سے اس کی حرکات و سکنات کو دیکھ رہی تھی، آخر وہ پوچھ بیٹھی۔...
یہ تری تخلیق نا فرجام یہ ٹیڑھی زمینحشر تک ٹیڑھی رہے گی اس میں تو معذور ہےآ کہ سینے سے لگائیں خالق برحق تجھےجتنے ہم مجبور ہیں اتنا ہی تو مجبور ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books