aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "sail-e-aab"
سعید اے شیخ
ناشر
مکتبہ سیل نو، حیدرآباد
ساحل اجمیری
born.1929
شاعر
ساز سعید
مصنف
ادبستان صائب، ٹونک
محمد سعید ایم اے
ابن سعید
born.1932
آل انڈیا بزم سعید، جھبوا
بزم ساحل فریدی، دیوبند
محمد سعید اینڈ سنز تاجران کتب، کراچی
حافظ و قاری محمد سعید
کبری پبلیشرز، سعید پبلی کیشنز، اے۔ پی۔
ابل رہا تھاجیسے سیل آب کے مقام سے
کسی کی آنکھوں میں سیل آب نہیںزندگی تیرا بھی جواب نہیں
اے سیل آب ٹھہر اب کے گردنوں تک رہتنوں کی تختیاں دھونی ہیں بس تنوں تک رہ
نہ جانا ناتوانی پر کہ اب بھی سعئ ناخن سےدکھا سکتے ہیں ہم زخم کہن کا مسکرا دینا
کب تک رہے سینہ میں تمنائے مدینہکب تک دل بیتاب کہے ہائے مدینہ
ذیشان ساحل اردو نظم کے منفرد اور حساس لہجے کے شاعر ہیں جنہوں نے جدید دور کی پیچیدہ کیفیات کو سادہ مگر گہرے استعاروں کے ذریعے بیان کیا ہے۔ ان کی نظموں میں ایک خاموش احتجاج، ایک تہہ دار تنقید، اور ایک فکری نرمی پائی جاتی ہے جو قاری کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔ ان کے ہاں دکھ، خاموشی، اور وقت جیسے موضوعات کا جمالیاتی اظہار نمایاں ہے۔
پابلو نیرودا نے بجا طور پر کہا تھا، محبت مختصر ہوتی ہے اور بھول جانا بہت طویل۔ ان کی نظموں کے مشہورمجموعے سے متاثر، ہم آپ کو محبت، اس کی خوبصورتی، اس کے دکھوں اور مایوسی کے یہ منتخب گیت پیش کرتے ہیں۔
انتظار کی کیفیت زندگی کی سب سے زیادہ تکلیف دہ کیفیتوں میں سے ایک ہوتی ہےاوریہ کیفیت شاعری کےعاشق کا مقدر ہے وہ ہمیشہ سے اپنے محبوب کے انتطار میں لگا بیٹھا ہے اور اس کا محبوب انتہائی درجے کا جفا پیشہ ،خود غرض ، بے وفا ، وعدہ خلاف اوردھوکے باز ہے ۔ عشق کے اس طے شدہ منظرنامے نے بہت پراثر شاعری پیدا کی ہے اور انتظار کے دکھ کو ایک لازوال دکھ میں تبدیل کر دیا ہے ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے اور انتظار کی ان کفیتوں کو محسوس کیجئے ۔
साल-ए-नौسالِ نَو
فارسی
نیا سال، آئںدہ سال
सैर-ए-जाँسَیْر جاں
اپنے آپ میں گم رہنا، صرف اپنی ذات کا خیال رکھنا، اپنی دنیا میں مگن رہنا
आए-सालآئے سال
ہر سال، سال بہ سال، سال بھر کے بعد.
सैल-ए-अनाسَیلِ اَنا
flood, excess of ego
وقائع سیرو سیاحت ڈاکٹر برنیر
سید محمد حسین
سیر جزیرہ صورت آباد
مرزا عبداللہ حسرتی
مختصر سیر گلشن ہند
مطبوعات منشی نول کشور
سیروسیاحت ہندوستان
محمد مصطفی علی خاں شرر
سیر ملک اودھ
یوسف خاں کمبل پوش
سفر نامہ
سیر سیاح
سیر کراچی
بابو عبدالحلیم انصاری ناگپوری
سیر روحانی
محمد بشیرالدین
سیر ظلمات
سیر کائنات
حفیظ احمد خاں
سیر اردو
سبیل دولت
محمد تقی بھار
نصابی کتاب
سیل عشق
عرفان ترابی
سیل آتش
سید فضل محمد
جناب شیخ مے خانہ میں بیٹھے ہیں برہنہ سراب ان سے کون پوچھے آپ نے پگڑی کہاں رکھ دی
خزاں کا جو گلشن سے پڑ جائے پالاتو صحن چمن میں نہ گل ہو نہ لالہ
امانت محتسب کے گھر شراب ارغواں رکھ دیتو یہ سمجھو کہ بنیاد خربات مغاں رکھ دی
تم آؤ مرگ شادی ہے نہ آؤ مرگ ناکامینظر میں اب رہ ملک عدم یوں بھی ہے اور یوں بھی
عرصۂ حشر میں کچھ گل نہ کھلا دے کوئیداور حشر پہ تہمت نہ لگا دے کوئی
ہے واقعہ ہدف سیل آب تھا کوئی اورمرا مکان تو بس راستے میں آیا ہے
حصے میں میرے آئی ہمیشہ شب فراقہر لمحۂ نشاط کو ظلمت نگل گئی
اے خدا شکوہ نہیں سائلؔ کو تیری ذات سےماں مری کو بخش دے تو تجھ سے ہے بس یہ دعا
شب سیاہ گزرتے ہی چاند کہنے لگااگر یہ اب بھی نہ کٹتی میں جلنے والا تھا
ورنہ یہ سیل آب لے جاتاشہر کو آگ نے بچا لیا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books