aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "samotaa"
ثمینہ راجہ
1958 - 2012
شاعر
مریم ناز
born.1988
ثمینہ سید
died.2026
ثمینہ اسلم ثمینہ
ثمینہ رحمت منال
born.1976
ثمینہ ثاقب
born.1994
ثمینہ گل
سرتا جین
ثمینہ نذیر
مصنف
ثمینہ یاسمین
دکتر یداللہ ثمرہ
ثمینہ تبسم
ثمینہ شوکت
born.1936
ثمینہ باغچہ بان
مہا سویتا دیوی
غم کا خموش نغمۂ دلسوز بھی نشورؔاک کیف سا رگوں میں سموتا چلا گیا
کچھ اس صورت سموتا ہوںکہ میرا غم بھی سب کو
اور میں نا خواستہ قدموں سے باہر کی طرف جاتے ہوئے آنکھوں ہی آنکھوں میںتمہیں خود میں سموتا جا رہا تھا
میں حرف حرف میں پیکر ترا سموتا ہوںغزل تو ہوتی ہے پر ہو بہ ہو نہیں ہوتی
عصر حاضر کے نمائندہ ہیں میرے اشعارغم انساں کو تغزل میں سموتا ہوں میں
فلم اور ادب میں ہمیشہ سے ایک گہرا تعلق رہا ہے ،اگر بات ہندوستانی فلموں کی ہو تو ان میں استعمال ہونے والی زبان، ڈائلوگز ، اسکرین رائٹنگ اور نغموں میں اردو کا ہمیشہ سے بول بالا رہا ہے جو اب تک جاری ہے۔ آج اس کلیکشن میں ہم نے راجہ مہدی علی خان کے کچھ مشہورنغموں کو شامل کیا ہے ۔ پڑھئے اور کلاسیکل گانوں کا لطف لیجئے۔
समाताسماتا
ہندی
ایسی عورت جو ماں کے قائم مقام ہو، سوتیلی ماں، خالہ
सरोताسَروتا
سنسکرت
پوتے کا پوتا، پروتے کا بیٹا، پرپوتے کا بیٹا
समोटीسَموٹی
چائے دانی، چینک، کیتلی
समोनाسَمونا
جذب کرنا، سمیٹ لینا، مِلنا، مِلانا، آمیز کرنا، کھپانا، جذب ہونا، ٹھنڈے اور گرم پانی کو مِلا کر معتدل کرنا
بے ساختہ
اکبر معصوم
مجموعہ
شور بھی ہے سنّاٹا بھی
محسن اسرار
سرقے کی روایت تاریخ کی روشنی میں
سید خالد جامعی، عمر حمید ہاشمی، سمیہ ایوبی
تحقیق
غالب
ثمینہ ندیم
شاعری تنقید
بے سروپا
سالک لکھنوی
طنز و مزاح
ہویدا
حیدرآبادی ڈھولک کے گیت
ثمینہ بیگم
گیت
آج کی شب پھر سناٹا
ذکاء صدیقی
کلیات
جاوید حسین پالوجی شارب
افسانہ
جنوبی ہند میں ڈھولک کے گیتوں کی روایت
خواتین کی تحریریں
کتاب اول دبستان
مہ لقا
انتخاب
تارا شنکر بندیو پادھیائے
سوانح حیات
ابن مفتی
شاعری
سفرنامۂ کرناٹک
سید تراب علی
یہ پیار تو ایسا ہوتا ہےجو دل میں درد سموتا ہے
رستہ یہ جانا پہچانا ہے کبھی کبھی یہ اپنا ہوتا تھابرسوں برس تک ان پتھ پر پیار ہمارا سنجوتا تھا
میرے دکھوں میں مل گئے دنیا کے سارے دکھدکھ خود میں ایک عمر سموتا رہا مجھے
دل میں کتنے طوفاں ہیں پر سکون چہرہ ہےجانے وہ صباؔ اپنے دکھ کہاں سموتا ہے
جھوٹ بھی اس کا معلوم ہوتا ہے سچداستاں میں حقیقت سموتا ہے وہ
ترے ماتھے پر میں سجاتا ستارےتری آنکھوں میں بھی سموتا سمندر
کس لیے سموتا ہےآنکھوں کے بستر سے روز وہ اترتا ہے
میں نہ سمجھا سرد و گرم روزگارعمر بھر ان کو سموتا ہی رہا
مگر گردابآغوش محبت میں تمہیں ایسے سموتا ہے
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگمیں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books