aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "sila-kaar-e-mohabbat"
مطبع مصطفائے محمد خان مصطفیٰ
ناشر
حافظ و قاری محمد سعید
مرزا خان ابن فخرالدین محمد
مصنف
محبت کا صلہ کار محبت سے نہیں ملتاجو افسانے سے ملتا ہے حقیقت سے نہیں ملتا
یہ کار محبت بھی کیا کار محبت ہےاک حرف تمنا ہے اور اس کی پذیرائی
جان ہم کار محبت کا صلہ چاہتے تھےدل سادہ کوئی مزدور ہے اجرت کیسی
اس کار محبت کا بس اتنا ہنر جانااک بخیہ ادھڑ جانا اک زخم کا بھر جانا
روش کار محبت کے سبب جانتا ہوںکس تعاقب میں ہیں احباب میں سب جانتا ہوں
ذیشان ساحل اردو نظم کے منفرد اور حساس لہجے کے شاعر ہیں جنہوں نے جدید دور کی پیچیدہ کیفیات کو سادہ مگر گہرے استعاروں کے ذریعے بیان کیا ہے۔ ان کی نظموں میں ایک خاموش احتجاج، ایک تہہ دار تنقید، اور ایک فکری نرمی پائی جاتی ہے جو قاری کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔ ان کے ہاں دکھ، خاموشی، اور وقت جیسے موضوعات کا جمالیاتی اظہار نمایاں ہے۔
قرض محبت
رئیس احمد جارچوری
مجموعہ
قرض مقراض محبت است
افسانہ
مکتوبات محبت
ارشاد احمد خاں
مثنوی
دام محبت
سیتا رام
ناول
کرب آگہی
محمد بشیر مالیر کوٹلوی
تاریخ بنگالۂ مھابت جنگی
یوسف علی خان
پیغام محبت
ثریا خان
غزل
نسخہ نعت محمد
عبد الکریم خاں مخلص
نعت
خد و خال اقبال
محمد امین زبیری
خفتگان خاک لاہور
محمد اسلم
انوار خط روشن
محمد علی اثر
دیوان عطارد
میر محمد علی خان بہادر
اصول الرشاد لقمع مبانی الفساد
محمد نقی علی
ذکر محمد آسمانی صحیفوں میں
محمد یحیٰ خان
اسلامیات
کہاں تک ہو سکا کار محبت کیا بتائیںتمہارے سامنے ہے کام جتنا ہو رہا ہے
اگر کار محبت میں محبت راس آ جاتیتمہارا ہجر اچھا تھا جو وصلت راس آ جاتی
مصروف ہیں کچھ اتنے کہ ہم کار محبتآغاز تو کر لیتے ہیں جاری نہیں رکھتے
اس کار محبت میں تو سب کچھ ہے گوارہسو کرتا چلا جاتا ہوں جتنا ہو خسارا
ہر گھڑی کار محبت میں فغاں ہونا تھااشک بن کر مجھے آنکھوں سے رواں ہونا تھا
جوانی کار فرمائے محبت ہوتی جاتی ہےقیامت میں بپا تازہ قیامت ہوتی جاتی ہے
محبت میں لٹا کر دین و دل یہ آبرو پائیکوئی کہتا ہے دیوانہ کوئی کہتا ہے سودائی
بن کر ارمان محبت جو دلوں پر چھا سکےکہنے والے بھی کہیں تو ایسا افسانہ کہیں
لاکھ راس آئے مگر کام ہے نادانی کاتم مرے ماحصل کار محبت پہ نہ جاؤ
یقین کر او محبت یہی مناسب ہےزیادہ دن مری صحبت کو اختیار نہ کر
نہ جاؤ کار محبت میں چھوڑ کر تنہاذرا سا ہاتھ بٹا لو خدا کا خوف کرو
اب ذرا کار محبت سے مفر کوئی گھڑیآخر اس موج میں کب تک کوئی چلتا چلا جائے
بھلا کیا کھیل ہے کار محبتجو دانستہ دوبارہ کر لیا جائے
ہو کبھی وقت تو زیارت کراے محبت ترا مزار ہیں ہم
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books