aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "siyaa"
نمی سے گل بھی سکتے ہیں شرر سے جل بھی سکتے ہیںبھروسا کر رہی ہیں کیوں سیاؔ بے درد کاغذ پر
سیا سچدیو
born.1967
شاعر
سیما غزل
born.1964
سیما شرما میرٹھی
سیما نقوی
صفدر سلیم سیال
1936 - 2018
عشرت معین سیما
born.1968
ابن سینا
980 - 1037
مصنف
سیما گپتا
سیما فریدی
سیما صغیر
1959 - 2022
سیما شرما سرحد
گوہر سیما
سیما عابدی
سید مزمل احمد سیاہ
سیما شکیب
چاک کرنے کے لیے اے ناصحہم گریبان سیا کرتے ہیں
اپنے حال پہ خود رویا ہوںخود ہی اپنا چاک سیا ہے
اک بخیہ ادھیڑا ایک سیایوں عمر بسر کب ہوتی ہے
سو زخم ابھر آئےجب دل کو سیا ہم نے
میری قسمت میں لکھے تھے یہ انہیں کے آنسودل کے زخموں کو سیا ہے کوئی افسوس نہیں
سایہ شاعری ہی کیا عام زندگی میں بھی سکون اور راحت کی ایک علامت ہے ۔ جس میں جاکر آدمی دھوپ کی شدت سے بچتا ہے اور سکون کی سانسیں لیتا ہے ۔ البتہ شاعری میں سایہ اور دھوپ کی شدت زندگی کی کثیر صورتوں کیلئے ایک علامت کے طور پر برتی گئی ہے ۔ یہاں سایہ صرف دیوار یا کسی پیڑ کا ہی سایہ نہیں رہتا بلکہ اس کی صورتیں بہت متنوع ہوجاتی ہیں۔ اسی طرح دھوپ صرف سورج ہی کی نہیں بلکہ زندگی کی تمام ترتکلیف دہ اور منفی صورتوں کا استعارہ بن جاتی ہے ۔
سمندر کو موضوع بنانے والی شاعری سمندر کی طرح ہی پھیلی ہوئی ہے اور الگ الگ ڈائمینشن رکھتی ہے ۔ سمندر ، اس کی تیزوتند موجیں خوف کی علامت بھی ہیں اور اس کی صاف وشفاف فضا ، ساحل کا سکون اوربیکرانی، خوشی کا استعارہ بھی ۔ آپ اس شاعری میں دیکھیں گے کہ کس طرح عام سا نظر آنے والا سمندر معنی کے کس بڑے سلسلے سے جڑ گیا ہے ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے اور لطف لیجئے ۔
सियाسِیا
stitched
कियाکِیا
ہندی
کرنا کا فعل ماضی، تراکیب میں مستعمل
हियाہِیا
سنسکرت
من، دل، قلب، جگر
सायाسایا
چھاؤں، پناہ، آسیب
زندگی مجھ سے اور کیا لے گی
شاعری
اسلام اور شیعہ مذہب
مولانا امام علی دانش قاسمی
سیہ بر سفید
مجربات بو علی سینا
طب یونانی
تانیثیت اور اردو ادب روایت مسائل اور امکانات
مضامین/ انشائیہ
ترجمہ و شرح کلیات قانون ابن سینا
کلیات
قانون شیخ بو علی سینا (مترجم)
طب
آتش پارے اور سیاہ حاشیے
سعادت حسن منٹو
افسانوی ادب
سیرالاولیاء
خواجہ امیر خورد کرمانی نظامی
ملفوظات
کلیات قانون بو علی سینا (مترجم و مشرح)
سرخ و سیاہ
بلراج مینرا
افسانہ
ستاں دال
ناول
پنجابی پڑھائی لکھائی
سیتا رام باہری
قرۃ العین حیدر کے چار ناولٹ
قرۃالعین حیدر
نہیں عشق جس دو بڑا کوڑ ہےکدھیں اس سے مل بیسیا جائے نا
دوستو اب مجھے گردن زدنی کہتے ہوتم وہی ہو کہ مرے زخم سیا کرتے تھے
کیا چلے زور دشت وحشت کاہم نے دامن کبھی سیا ہی نہیں
خیاط نے قضا کے جامہ سیا جو میراآیا نہ جی میں اتنا کیا اس میں جوڑ ڈالوں
ہمیں تم پہ گمان وحشت تھا ہم لوگوں کو رسوا کیا تم نےابھی فصل گلوں کی نہیں گزری کیوں دامن چاک سیا تم نے
سیا ہے زخم بلبل گل نے خار اور بوئے گلشن سےسوئی تاگا ہمارے چاک دل کا ہے کہاں دیکھیں
اب تو فقر و فاقہ کی آبرو اسی سے ہےتار تار دامن کو کیوں بھلا سیا جائے
ایسی ترتیب سے زخموں کو سیا ہے میں نےچارہ گر غور سے ٹانکوں کی طرف دیکھتے ہیں
علاج چاک پیراہن ہوا تو اس طرح ہوگاسیا جائے گا کانٹوں سے گریباں ہم نہ کہتے تھے
یہ تو سچ ہے کہ نہیں اپنے گریباں کی خبرتیرا دامن تو کئی بار سیا ہے میں نے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books