aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "taa-had-e-ehsaas"
تصورات کے حسرت کدے میں کون آیاچراغ تا حد احساس جلتے جاتے ہیں
تا حد نظر دمک رہے ہیں ذرےصد شعلہ بجاں دہک رہے ہیں ذرے
ہے تا حد نظر نیلا سمندربدن میں پھڑپھڑاتا ہے کبوتر
ہے سلگتی دھوپ تا حد نظرلائے تھے ہم ایک سورج مانگ کر
کانٹے ہی کانٹے ہیں تا حد نظرپھر بھی تازہ ہے مرا عزم سفر
تخلیق کارکی حساسیت اسے بالآخراداسی سے بھردیتی ہے ۔ یہ اداسی کلاسیکی شاعری میں روایتی عشق کی ناکامی سے بھی آئی ہے اوزندگی کے معاملات پرذرامختلف ڈھنگ سے سوچ بچار کرنے سے بھی ۔ دراصل تخلیق کارنہ صرف کسی فن پارے کی تخلیق کرتا ہے بلکہ دنیا اوراس کی بے ڈھنگ صورتوں کو بھی ازسرنوترتیب دینا چاہتا ہے لیکن وہ کچھ کرنہیں سکتا ۔ تخلیقی سطح پرناکامی کا یہ احساس ہی اسے ایک گہری اداسی میں مبتلا کردیتا ہے ۔ عالمی ادب کے بیشتر بڑے فن پارے اداسی کے اسی لمحے کی پیداوار ہیں ۔ ہم اداسی کی ان مختلف شکلوں کو آپ تک پہنچا رہے ہیں ۔
عشق اور رومان پر یہ شاعری آپ کے لیے ایک سبق کی طرح ہے، آپ اس سے محبت میں جینے کے آداب بھی سیکھیں گے اور ہجر و وصال کو گزارنے کے طریقے بھی۔ یہ پہلا ایسا خوبصورت مجموعہ ہے جس میں محبت کے ہر رنگ، ہر کیفیت اور ہر احساس کو قید کرنے والے اشعار کو اکٹھا کر دیا گیا ہے۔ آپ انہیں پڑھیے اور عشق کرنے والوں کے درمیان شئیر کیجیے۔
پیش ہے گاندھی جی کے کتابوں کا اردو ترجمہ
تا حد نظر
نسیم سلیم پوری
تا حد نگاہ
ضیا سرحدی
نفسیاتی
انتخاب منظومات
مسعود عالم
انتخاب
انتخاب اردو رباعیات آغاز تا حال
سلمہ کبریٰ
خواتین کی تحریریں
جزائر انڈمان ونکوبار : ماضی تا حال
ایم۔ احمد مجتبیٰ
تحقیق و تنقید
مزار غالب
شمس بدایونی
تحقیق
حدِ جاں سے گذرنے تک
ساحر داؤدنگری
مجموعہ
تاریخ احسن
محمد عبدالحی
آئینہ احساس
محمد تاج الدین تاج اورنگ آبادی
شاعری
شعور احساس
عبدالحئی پیام انصاری
عورت
کشور ناہید
مقالات/مضامین
تہہ دریا
احسن یوسف زئی
ذوق حاضر ہے تو پھر لازم ہے ایمان خلیل
محمد بدیع الزماں
شعر العجم فی الہند
محمد اکرام الحق
تنقید
عورت زبان خلق سے زبان حال تک
مضامین
تا حد بینائی اندر باہر حوریہ کیسا منظر ہے منظر منظر حور
پیاس بڑھتی ہوئی تا حد نظر پانی تھارو بہ رو کیسا عجب منظر حیرانی تھا
تا حد نظر چاندنی اس طرح کھلی ہےجیسے ترے ہونٹوں کی ہنسی پھیل گئی ہے
تا حد نظر عرش پے پھیلا جو دھواں ہےفریاد ہے ماتم ہے بپا آہ و فغاں ہے
ویسے دیکھیں تو یہ تا حد نظر رہتے ہیںدر بہ در پھر بھی یہاں لوگ مگر رہتے ہیں
دور تا حد افق منظر سنہرا ہو گیارفتہ رفتہ شام کا ہر رنگ گہرا ہو گیا
زمیں میں رہ کے بھی تا حد آسماں دیکھوںمجھے تو آ رہے ہو تم نظر جہاں دیکھوں
تا حد نظر آج جو پھیلا ہے سمندراک سویا ہوا دیوتا لگتا ہے سمندر
ہے تا حد امکاں کوئی بستی نہ بیاباںآنکھوں میں کوئی خواب دکھائی نہیں دیتا
چمن سا دشت تا حد نظر کتنا حسیں ہےتو میرا ہم قدم ہے تو سفر کتنا حسیں ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books