aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "taa-had-e-ehsaas"
تصورات کے حسرت کدے میں کون آیاچراغ تا حد احساس جلتے جاتے ہیں
تا حد نظر چاندنی اس طرح کھلی ہےجیسے ترے ہونٹوں کی ہنسی پھیل گئی ہے
زمیں میں رہ کے بھی تا حد آسماں دیکھوںمجھے تو آ رہے ہو تم نظر جہاں دیکھوں
تا حد نظر دمک رہے ہیں ذرےصد شعلہ بجاں دہک رہے ہیں ذرے
ویسے دیکھیں تو یہ تا حد نظر رہتے ہیںدر بہ در پھر بھی یہاں لوگ مگر رہتے ہیں
تخلیق کارکی حساسیت اسے بالآخراداسی سے بھردیتی ہے ۔ یہ اداسی کلاسیکی شاعری میں روایتی عشق کی ناکامی سے بھی آئی ہے اوزندگی کے معاملات پرذرامختلف ڈھنگ سے سوچ بچار کرنے سے بھی ۔ دراصل تخلیق کارنہ صرف کسی فن پارے کی تخلیق کرتا ہے بلکہ دنیا اوراس کی بے ڈھنگ صورتوں کو بھی ازسرنوترتیب دینا چاہتا ہے لیکن وہ کچھ کرنہیں سکتا ۔ تخلیقی سطح پرناکامی کا یہ احساس ہی اسے ایک گہری اداسی میں مبتلا کردیتا ہے ۔ عالمی ادب کے بیشتر بڑے فن پارے اداسی کے اسی لمحے کی پیداوار ہیں ۔ ہم اداسی کی ان مختلف شکلوں کو آپ تک پہنچا رہے ہیں ۔
عشق اور رومان پر یہ شاعری آپ کے لیے ایک سبق کی طرح ہے، آپ اس سے محبت میں جینے کے آداب بھی سیکھیں گے اور ہجر و وصال کو گزارنے کے طریقے بھی۔ یہ پہلا ایسا خوبصورت مجموعہ ہے جس میں محبت کے ہر رنگ، ہر کیفیت اور ہر احساس کو قید کرنے والے اشعار کو اکٹھا کر دیا گیا ہے۔ آپ انہیں پڑھیے اور عشق کرنے والوں کے درمیان شئیر کیجیے۔
پیش ہے گاندھی جی کے کتابوں کا اردو ترجمہ
تا حد نظر
نسیم سلیم پوری
تا حد نگاہ
ضیا سرحدی
نفسیاتی
انتخاب منظومات
مسعود عالم
انتخاب
انتخاب اردو رباعیات آغاز تا حال
سلمہ کبریٰ
خواتین کی تحریریں
جزائر انڈمان ونکوبار : ماضی تا حال
ایم۔ احمد مجتبیٰ
تحقیق و تنقید
حدِ جاں سے گذرنے تک
ساحر داؤدنگری
مجموعہ
ہادی اعظم حصۂ اوّل
ابو خالد
تاریخ احسن
محمد عبدالحی
شعور احساس
عبدالحئی پیام انصاری
آئینہ احساس
محمد تاج الدین تاج اورنگ آبادی
شاعری
مكتوبات التصوف
محمد زکریا کاندھلوی
تہہ دریا
احسن یوسف زئی
موسم گل حیران کھڑا ہے
کلیم احسان بٹ
عورت
کشور ناہید
مقالات/مضامین
عورت زبان خلق سے زبان حال تک
مضامین
ہے تا حد نظر نیلا سمندربدن میں پھڑپھڑاتا ہے کبوتر
دور تا حد افق منظر سنہرا ہو گیارفتہ رفتہ شام کا ہر رنگ گہرا ہو گیا
منجمد آخر ہے کیوں تا حد منظر پھیل جاچار جانب اے مرے خوں کے سمندر پھیل جا
ہے سلگتی دھوپ تا حد نظرلائے تھے ہم ایک سورج مانگ کر
تا حد نظر آج جو پھیلا ہے سمندراک سویا ہوا دیوتا لگتا ہے سمندر
چمن سا دشت تا حد نظر کتنا حسیں ہےتو میرا ہم قدم ہے تو سفر کتنا حسیں ہے
پیاس بڑھتی ہوئی تا حد نظر پانی تھارو بہ رو کیسا عجب منظر حیرانی تھا
کانٹے ہی کانٹے ہیں تا حد نظرپھر بھی تازہ ہے مرا عزم سفر
تا حد نظر عرش پے پھیلا جو دھواں ہےفریاد ہے ماتم ہے بپا آہ و فغاں ہے
تا حد نظر کوئی بھی دم ساز نہیں ہےیا پھر مری چیخوں میں ہی آواز نہیں ہے
تا حد نظر کوئی مکاں ہے نہ مکیں ہےدل وقت کے مقتول فسانوں کی زمیں ہے
تا حد نظر جب نظروں میں جنت کے نظارے ہوتے تھےباتوں میں کنائے ہوتے تھے نظروں میں اشارے ہوتے تھے
دور تا حد نظر آب شجر کچھ بھی نہیںجانے کیا کیا تھا نگاہوں میں مگر کچھ بھی نہیں
تا حد بینائی اندر باہر حوریہ کیسا منظر ہے منظر منظر حور
تا حد نظر برہمیٔ کون و مکاں ہےدیکھے سے تو لگتا ہے کہ آغاز جہاں ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books