aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "tarshaa"
ترونا مشرا
born.1966
شاعر
تشنہ اعظمی
born.1970
تابش دھرم کوٹی
مصنف
ترسیل انٹرپرائزز پشاور، پاکستان
ناشر
ترسیم مال
کے۔ ایل ترانہ
سردار ترسیم سنگھ
مدیر
اوم پرکاش ترکھا
یوسف خاں تشنہ
ترسیل پبلیکیشنز، بنگلور
ادارہ تیشہ، حیدرآباد
شیشۂ و تیشہ، بنگلور
چندر ترکھا
ترسیل پبلشرز، نئی دہلی
ترسیل پبلی کیشنز، دریا گنج، نئی دہلی
نگینے کی طرح ترشا ہوا ہےاور ہیرے کی انی کی طرح اس کی تیز نوکیں ہیں
میرے الفاظ کا ترشا ہوا سنگ مرمرکون سے بت میں ترے جسم جواں کو ڈھالے
جسم ترشا ہوا سانچے میں ڈھلا ہے جیسےدست آزر نے قسم کھائی ہو صناعی کی
پتھر سمجھ رہے تھے اثر جس کو لوگ وہترشا گیا تو رونق بازار ہو گیا
مجھ سے مرمر کا وہ ترشا ہوا بت کہتا تھافن مری راہ کا پتھر ہے مجھے فن سے نکال
आ'शा اَعشیٰ
عربی
रतौंधी का रोगी, रात्र्यंध, शबकोर, जिसे रात को न दिखाई देता हो
नक़्शा نَقشا
عربی, فارسی
تصویر، شبیہ، صورت کی نقل
तरसा تَرْسا
سنسکرت
رک: چرس، چرسا، چمڑے کا بڑا ڈول
लाशा لاشا
رک : لاشہ جو فصیح ہے.
شکوہ جواب شکوہ
علامہ اقبال
نظم
تحقیق کے طریقۂ کار
ش اختر
تحقیق
تماشا گھر
اقبال مجید
افسانہ
عوامی ذرائع ترسیل
اشفاق محمد خاں
صحافت
ادبی اور لسانی تحقیق
عبدالستار دلوی
تحقیق کے طریقہ کار
چشم تماشا
نجم الحسن رضوی
تجدید فکریات اسلام
وحید عشرت
لیکچر
تحقیقی طریقہ کار
ایس۔ ایم۔ شاہد
نصاب
ناصر کاظمی کی شاعری میں پیکر تراشی
سمیہ تمکین
تنقید
جدید طریقہ تدریس
غضنفر
ادب اطفال
ہفت تماشا
مرزا محمد حسن قتیل
تماشاے اہل قلم
لطف اللہ خان
خاکے/ قلمی چہرے
اودھوت کا ترانہ
اردو کا طریقئہ تدریس
رفیقہ کریم
زبان
رسول انقلاب کا طریق انقلاب
اسرار احمد
مجھے تو یوں لگا ترشا ہوا تھا شعلہ کوئیبدن ہی ایسا تھا کچھ پیرہن ہی ایسا تھا
تمہارے ہاتھ سے ترشا ہوا وجود ہوں میںتمہی بتاؤ یہ رشتہ بھلانے والا ہے
اک جوانی کیف میں ڈوبی ہوئیاک بدن مہکا ہوا ترشا ہوا
سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہےکہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں
دل تو چمک سکے گا کیا پھر بھی ترش کے دیکھ لیںشیشہ گران شہر کے ہاتھ کا یہ کمال بھی
بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگےہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے
میں اپنی ہی الجھی ہوئی راہوں کا تماشہجاتے ہیں جدھر سب میں ادھر کیوں نہیں جاتا
زمانہ واردات قلب سننے کو ترستا ہےاسی سے تو سر آنکھوں پر مرا دیوان لیتے ہیں
آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسےایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے
شہرت کی بلندی بھی پل بھر کا تماشا ہےجس ڈال پہ بیٹھے ہو وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے
یہی دل تھا کہ ترستا تھا مراسم کے لیےاب یہی ترک تعلق کے بہانے مانگے
مجھے تیری خیانت نے غضب مجروح کر ڈالامگر طیش شدیدانہ کے بعد آخر زمانے میں
وہ بلائیں تو کیا تماشا ہوہم نہ جائیں تو کیا تماشا ہو
اے عشق ہمیں برباد نہ کردنیا کا تماشا دیکھ لیا غمگین سی ہے بیتاب سی ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books