aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "tohmat"
تحفۃ الاعم
ناشر
مطبع تحفہ کشمیر، سرینگر
گھنشیام سنگھ تومر
مصنف
تحفۂ ہند پریس، دہلی
مطبع تحفہ ہند، بجنور
مطبع تحفہ پنجاب، لاہور
ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کیچاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا
چشم نم جان شوریدہ کافی نہیںتہمت عشق پوشیدہ کافی نہیں
غم عاشقی سے کہہ دو رہ عام تک نہ پہنچےمجھے خوف ہے یہ تہمت ترے نام تک نہ پہنچے
طنز و طعنہ و تہمت سب ہنر ہیں ناصح کےآپ سے کوئی پوچھے ہم نے کیا برائی کی
ساقی مجھے شراب کی تہمت نہیں پسندمجھ کو تری نگاہ کا الزام چاہیئے
تخلیق کارکی حساسیت اسے بالآخراداسی سے بھردیتی ہے ۔ یہ اداسی کلاسیکی شاعری میں روایتی عشق کی ناکامی سے بھی آئی ہے اوزندگی کے معاملات پرذرامختلف ڈھنگ سے سوچ بچار کرنے سے بھی ۔ دراصل تخلیق کارنہ صرف کسی فن پارے کی تخلیق کرتا ہے بلکہ دنیا اوراس کی بے ڈھنگ صورتوں کو بھی ازسرنوترتیب دینا چاہتا ہے لیکن وہ کچھ کرنہیں سکتا ۔ تخلیقی سطح پرناکامی کا یہ احساس ہی اسے ایک گہری اداسی میں مبتلا کردیتا ہے ۔ عالمی ادب کے بیشتر بڑے فن پارے اداسی کے اسی لمحے کی پیداوار ہیں ۔ ہم اداسی کی ان مختلف شکلوں کو آپ تک پہنچا رہے ہیں ۔
زمانے بیت گئے مگر محمد رفیع آج بھی اپنی آواز کی ساحری کے زور پر ہرکسی کے دل پر اپنی حکومت جمائے ہوئے ہیں ، ان کے گائے ہوئے بھجن ، اورنغموں کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہے۔ آج ہم آپ کے لئے کچھ مشہورو معروف شاعروں کی ایسی غزلیں لے کر حاضر ہوئے ہیں جنہیں محمد رفیع نے اپنی آواز دی ہے اور ان غزلوں کے حسن میں لہجے اور آواز کا ایسا جادو پھونکا ہے کہ آدمی سنتا رہے اور سر دھنتا رہے ۔
بچوں کے لئے ١٠ منتخب اردو نظمیں
तोहमतتُہْمَت
اتہام، بہتان، افترا، الزام
तोहमत करनाتُہْمَت کَرنا
جھوٹا الزام دینا، عیب لگانا، متہم کرنا (پر یا پہ کے ساتھ).
तोहमत होनाتُہْمَت ہونا
رک: تہمت معنی نمبر ۱.
तोहमत लगनाتُہْمَت لَگْنا
تہمت لگانا (رک) کا لازم.
تہمت
شبنم رومانی
مجموعہ
شہزاد بیگ
شاعری
توبۃ النصوح
ڈپٹی نذیر احمد
معاشرتی
تحفۃ اللذات محبوبیہ (خوان نعمت آصفیہ)
غلام محبوب حیدرآبادی
دستر خوان
افسانوی ادب
توبتہ النصوح
اصلاحی و اخلاقی
تحفۃ الاحباب
محمد علی کشمیری
تحفۃ القلوب
خواجہ عثمان
ترجمہ
تحفۃ العوام
تہمت لگا کے ماں پہ جو دشمن سے داد لےایسے سخن فروش کو مر جانا چاہیے
اب کسے ہے دماغ تہمت عشقکون سنتا ہے بات پھولوں کی
کچھ لوگ جو سوار ہیں کاغذ کی ناؤ پرتہمت تراشتے ہیں ہوا کے دباؤ پر
اس ہجر پہ تہمت کہ جسے وصل کی ضد ہواس درد پہ لعنت کی جو اشعار میں آ جائے
رکھتے ہیں مرے دل پر کیوں تہمت بیتابییاں نالۂ مضطر کی جب مجھ میں ہو قوت بھی
کیوں ترے درد کو دیں تہمت ویرانئ دلزلزلوں میں تو بھرے شہر اجڑ جاتے ہیں
کوئی تہمت ہو مرے نام چلی آتی ہےجیسے بازار میں ہر گھر سے گلی آتی ہے
تہمت چند اپنے ذمے دھر چلےجس لیے آئے تھے سو ہم کر چلے
اس ڈر سے یعنی رات و دھنا کہیں نہ دےتہمت یہ عاشقوں کو لگاتی ہے مفلسی
Jashn-e-Rekhta 10th Edition | 5-6-7 December Get Tickets Here
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books