aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "uqda-e-asraar-e-azal"
ابن صفی
1928 - 1980
مصنف
مطبع اکسیر اعظم، بنارس
ناشر
قائد اعظم اکادمی، کراچی
نضیراءاعظم
سید سکندر اعظم
ایم اے آزاد عالم
اخبار اعظم، مراد آباد
آقاۓ رازی
مکتبۂ آزاد، لاہور
عقد سریا، دریا گنج
فتح محمد رئیس اعظم
قائد اعظم لائبریری، لاہور
قائد اعظم سوسائٹی، لاہور
دعوت فکرو عمل، لاہور
مفتی محمد کفایت اللہ
1875 - 1952
کب کون کہاں کس لیے زنجیر بپا ہےیہ عقدۂ اسرار ازل کس پہ کھلا ہے
میں واقف کار اسرار بقا ہوںاسی خاطر تو ان پر مر مٹا ہوں
جو لوگ نہیں واقف اسرار محبتکیا ان کی نگاہوں میں ہو معیار محبت
اہل دنیا واقف اسرار پنہاں ہو گئےداستان غم سنا کر ہم پشیماں ہو گئے
تیرا ہر جلوہ ہے آئینۂ اسرار ازلتیری صورت میں ہیں انوار معانی صنما
شاعری میں اکثر ایک سے زیادہ معانی ہوتے ہیں - غزل کے ساتھ یہ معانی کے ساتھ ساتھ احساس کی سطح پر بھی ہے - ان غزلوں کو پڑھ کر آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں -
انسان کائنات کی تخلیق کا سبب ہی نہیں بلکہ شاعری موسیقی اور دیگر فنون لطیفہ کے مرکز میں بھی انسان ہی موجود ہے۔ اردو شاعری خاص طور سے غزل کے اشعار میں انسان اپنی تمام نزاکتوں، نفاستوں اور خباثتوں کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ ہر چند کہ یہ مخلوق ایک معمہ سے کم نہیں لیکن ہم یہاں انسان یا آدمی کے موضوع پر بیس بے حد مقبول اشعار آپ کی خدمت میں پیش کرنے کی جسارت کر رہے ہیں۔
ہمیں آپ کو یہ بتاتے ہوئے بیحد خوشی ہو رہی ہے کہ ریختہ فاؤنڈیشن نے دس سالوں کا سفر طے کر لیا ہے۔ اور اس منزل تک پہنچنے میں آپ سب کا قیمتی اور محبّت بھرا ساتھ بہت اہم تھا۔ ہم نے ان دس سالوں میں سب زیادہ پسند کی گئیں غزلوں، شعروں، نظموں اور کہانیوں کا انتخاب کیا ہے۔ پڑھیے اور جانئے کہ اس انتخاب میں کیا کیا شامل ہے۔
ترجمان اسرار خودی
شرح اسرار خودی
یوسف سلیم چشتی
تعلیم اسرار تصوف
خواجہ حسن نظامی
مخزن اسرار دہلی
ایس۔ اے۔ عزیز
کہانی
مطالب اسرار و رموز
غلام رسول مہر
شرح
گنجینہ اسرار انصاف فی رد انکشاف
سید محمد ظہوراللہ
کتاب گلزار معانی
سوامی ملک ہیمراج
غلام دستگیر شہاب
ترجمہ
عکس اسرار خودی
علامہ اقبال
مثنوی اسرار و رموز
مثنوی
اسرار دربار یورپ
کاشفۂ اسرار غیبیہ باالاحادیث النبویۃ
علامہ جلال الدین سیوطی
اسلامیات
کلام شاد المعروف بہ اسم تاریخی مخزن اسرار معرفت
شاد میرٹھی
انتخاب
آئینہ اسرار معرفت
شاہ شمس الدین
شاعری
گنج اسرار ازل ہے باغ دہرپتا پتا دفتر صد راز ہے
جس کی پیری میں ہے مانند سحر رنگ شبابکہہ رہا ہے مجھ سے اے جويائے اسرار ازل
یہاں شعور کے ناخن تو ہم بھی رکھتے ہیںمگر یہ عقدۂ فکر و نظر کہاں کھولیں
جو انساں باریاب پردۂ اسرار ہو جائےتو اس باطل کدے میں زندگی دشوار ہو جائے
اسم اعظم کی رٹ لگاتا ہوںبھیجا اللہ کا میں کھاتا ہوں
فقیر راہ کو بخشے گئے اسرار سلطانیمگر سلطانہ ڈاکو ہے کوئی بہرام ہے ساقی
اس شاعر گستاخ کو اسرارؔ سخن کواس نظم کی تخلیق پہ پھانسی کی سزا دو
میں اپنی وضع داری ہاتھ سے جانے نہیں دوں گااگر سارا جہاں بھی درپئے آزار ہو جائے
روز ازل وہ درد مسلسل عطا ہوادل کو سکون مل نہ سکا عمر بھر کہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books