aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "uqda-e-asraar-e-azal"
ابن صفی
1928 - 1980
مصنف
مطبع اکسیر اعظم، بنارس
ناشر
قائد اعظم اکادمی، کراچی
نضیراءاعظم
آقاۓ رازی
سید سکندر اعظم
اخبار اعظم، مراد آباد
عقد سریا، دریا گنج
مکتبہ عزم و عمل، کراچی
دعوت فکرو عمل، لاہور
فتح محمد رئیس اعظم
روح عصر، کراچی
قائد اعظم لائبریری، لاہور
قائد اعظم سوسائٹی، لاہور
ایم اے آزاد عالم
کب کون کہاں کس لیے زنجیر بپا ہےیہ عقدۂ اسرار ازل کس پہ کھلا ہے
میں واقف کار اسرار بقا ہوںاسی خاطر تو ان پر مر مٹا ہوں
جو لوگ نہیں واقف اسرار محبتکیا ان کی نگاہوں میں ہو معیار محبت
اہل دنیا واقف اسرار پنہاں ہو گئےداستان غم سنا کر ہم پشیماں ہو گئے
گنج اسرار ازل ہے باغ دہرپتا پتا دفتر صد راز ہے
کفیل آذر امروہوی کی یہ 10 منتخب اور بہترین غزلیں اُن کی شاعری کے نمائندہ رنگ پیش کرتی ہیں، جن میں محبت، ہجر، زندگی کے نشیب و فراز اور انسانی احساسات کی گہرائی پوری شدت کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔ جو اُن کے منفرد اسلوب، سادہ مگر پُراثر بیان اور کلاسیکی روایت سے جڑی جدید حسیت کی بھرپور عکاسی کرتی ہیں۔
شاعری میں اکثر ایک سے زیادہ معانی ہوتے ہیں - غزل کے ساتھ یہ معانی کے ساتھ ساتھ احساس کی سطح پر بھی ہے - ان غزلوں کو پڑھ کر آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں -
انسان کائنات کی تخلیق کا سبب ہی نہیں بلکہ شاعری موسیقی اور دیگر فنون لطیفہ کے مرکز میں بھی انسان ہی موجود ہے۔ اردو شاعری خاص طور سے غزل کے اشعار میں انسان اپنی تمام نزاکتوں، نفاستوں اور خباثتوں کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ ہر چند کہ یہ مخلوق ایک معمہ سے کم نہیں لیکن ہم یہاں انسان یا آدمی کے موضوع پر بیس بے حد مقبول اشعار آپ کی خدمت میں پیش کرنے کی جسارت کر رہے ہیں۔
ترجمان اسرار خودی
مخزن اسرار دہلی
ایس۔ اے۔ عزیز
کہانی
شرح اسرار خودی
یوسف سلیم چشتی
مطالب اسرار و رموز
غلام رسول مہر
شرح
تعلیم اسرار تصوف
خواجہ حسن نظامی
عکس اسرار خودی
علامہ اقبال
ترجمہ
گنجینہ اسرار انصاف فی رد انکشاف
سید محمد ظہوراللہ
کلام شاد المعروف بہ اسم تاریخی مخزن اسرار معرفت
شاد میرٹھی
انتخاب
غلام دستگیر شہاب
شاعری
اسرار دربار یورپ
اسرار اسم اعظم کا شرعی فیصلہ
سید حسن
کتاب گلزار معانی
سوامی ملک ہیمراج
اسرار کلام اللہ اور اسرار اسم اعظم
کاشفۂ اسرار غیبیہ باالاحادیث النبویۃ
علامہ جلال الدین سیوطی
اسلامیات
آئینہ اسرار معرفت
شاہ شمس الدین
تیرا ہر جلوہ ہے آئینۂ اسرار ازلتیری صورت میں ہیں انوار معانی صنما
جس کی پیری میں ہے مانند سحر رنگ شبابکہہ رہا ہے مجھ سے اے جويائے اسرار ازل
یہاں شعور کے ناخن تو ہم بھی رکھتے ہیںمگر یہ عقدۂ فکر و نظر کہاں کھولیں
منکشف تھے ہم پہ اسرار جمالراز دار جلوۂ جاناں تھے ہم
لے دے کے ایک دل تھا سو اس کو کہاں دماغکھولے گا کون عقدۂ اسرار کون ہے
اسم اعظم کی رٹ لگاتا ہوںبھیجا اللہ کا میں کھاتا ہوں
اس شاعر گستاخ کو اسرارؔ سخن کواس نظم کی تخلیق پہ پھانسی کی سزا دو
جو انساں باریاب پردۂ اسرار ہو جائےتو اس باطل کدے میں زندگی دشوار ہو جائے
فقیر راہ کو بخشے گئے اسرار سلطانیمگر سلطانہ ڈاکو ہے کوئی بہرام ہے ساقی
شاعر اعظم ہوں میں عزت مآبوہ یہ بولے میں تو بہرا ہوں جناب
دم ہے کہ ہے اکھڑا اکھڑا سا اور وہ بھی نہیں آ چکتے ہیںقسمت میں ہو مرنا یا جینا اب ہو بھی چکے جو ہونا ہے
کب کھلا عقدہ رضاؔ جب کر چکے اظہار شوقمدعا جائز تھا حرف مدعا معیوب تھا
گوریوں نے جشن منایا میرے آنگن بارش کابیٹھے بیٹھے آ گئی نیند اصرار تھا یہ کسی خواہش کا
اس عقیدے نے لیا قیصر و کسریٰ سے خراجموت کا وقت ازل سے ہے مقرر دیکھو
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books