آدمی اور انسان پر 20 مشہور شعر

انسان کائنات کی تخلیق کا سبب ہی نہیں بلکہ شاعری موسیقی اور دیگر فنون لطیفہ کے مرکز میں بھی انسان ہی موجود ہے۔ اردو شاعری خاص طور سے غزل کے اشعار میں انسان اپنی تمام نزاکتوں، نفاستوں اور خباثتوں کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ ہر چند کہ یہ مخلوق ایک معمہ سے کم نہیں لیکن ہم یہاں انسان یا آدمی کے موضوع پر بیس بے حد مقبول اشعار آپ کی خدمت میں پیش کرنے کی جسارت کر رہے ہیں۔

آدمی بلبلہ ہے پانی کا

کیا بھروسا ہے زندگانی کا

مولوی عبدالرضا رضا

اے آسمان تیرے خدا کا نہیں ہے خوف

ڈرتے ہیں اے زمین ترے آدمی سے ہم

O heavens I do not fear your God above you know

I am afraid O Earth, of your human beings below

O heavens I do not fear your God above you know

I am afraid O Earth, of your human beings below

نامعلوم

بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا

آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

Tis difficult that every goal be easily complete

For a man, too, to be human, is no easy feat

Tis difficult that every goal be easily complete

For a man, too, to be human, is no easy feat

مرزا غالب

دنیا پہ ایسا وقت پڑے گا کہ ایک دن

انسان کی تلاش میں انسان جائے گا

فنا نظامی کانپوری

فرشتے سے بڑھ کر ہے انسان بننا

مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ

الطاف حسین حالی

گھروں پہ نام تھے ناموں کے ساتھ عہدے تھے

بہت تلاش کیا کوئی آدمی نہ ملا

بشیر بدر

ہر آدمی میں ہوتے ہیں دس بیس آدمی

جس کو بھی دیکھنا ہو کئی بار دیکھنا

ندا فاضلی

ہزار چہرے ہیں موجود آدمی غائب

یہ کس خرابے میں دنیا نے لا کے چھوڑ دیا

شہزاد احمد

جانور آدمی فرشتہ خدا

آدمی کی ہیں سیکڑوں قسمیں

barbaric and human, angelic, divine

man, by many names, one may well define

barbaric and human, angelic, divine

man, by many names, one may well define

الطاف حسین حالی

جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو اس پر ظفرؔ

آدمی کو صاحب کردار ہونا چاہیئے

ظفر اقبال

خدا سے کیا محبت کر سکے گا

جسے نفرت ہے اس کے آدمی سے

نریش کمار شاد

مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں

تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں

میر تقی میر

میرؔ صاحب تم فرشتہ ہو تو ہو

آدمی ہونا تو مشکل ہے میاں

میر تقی میر

مری زبان کے موسم بدلتے رہتے ہیں

میں آدمی ہوں مرا اعتبار مت کرنا

عاصم واسطی

راہ میں بیٹھا ہوں میں تم سنگ رہ سمجھو مجھے

آدمی بن جاؤں گا کچھ ٹھوکریں کھانے کے بعد

بیخود دہلوی

سب سے پر امن واقعہ یہ ہے

آدمی آدمی کو بھول گیا

جون ایلیا

سمجھے گا آدمی کو وہاں کون آدمی

بندہ جہاں خدا کو خدا مانتا نہیں

صبا اکبرآبادی

وقت رہتا نہیں کہیں ٹک کر

عادت اس کی بھی آدمی سی ہے

گلزار

یہاں لباس کی قیمت ہے آدمی کی نہیں

مجھے گلاس بڑے دے شراب کم کر دے

بشیر بدر

ظفرؔ آدمی اس کو نہ جانئے گا وہ ہو کیسا ہی صاحب فہم و ذکا

جسے عیش میں یاد خدا نہ رہی جسے طیش میں خوف خدا نہ رہا

بہادر شاہ ظفر

Added to your favorites

Removed from your favorites