آدمی اور انسان پر 20 مشہور شعر

انسان کائنات کی تخلیق

کا سبب ہی نہیں بلکہ شاعری موسیقی اور دیگر فنون لطیفہ کے مرکز میں بھی انسان ہی موجود ہے۔ اردو شاعری خاص طور سے غزل کے اشعار میں انسان اپنی تمام نزاکتوں، نفاستوں اور خباثتوں کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ ہر چند کہ یہ مخلوق ایک معمہ سے کم نہیں لیکن ہم یہاں انسان یا آدمی کے موضوع پر بیس بے حد مقبول اشعار آپ کی خدمت میں پیش کرنے کی جسارت کر رہے ہیں۔

یہاں لباس کی قیمت ہے آدمی کی نہیں

مجھے گلاس بڑے دے شراب کم کر دے

بشیر بدر

ہر آدمی میں ہوتے ہیں دس بیس آدمی

جس کو بھی دیکھنا ہو کئی بار دیکھنا

ندا فاضلی

وقت رہتا نہیں کہیں ٹک کر

عادت اس کی بھی آدمی سی ہے

گلزار

بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا

آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

مرزا غالب

گھروں پہ نام تھے ناموں کے ساتھ عہدے تھے

بہت تلاش کیا کوئی آدمی نہ ملا

بشیر بدر

مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں

تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں

یہ میر تقی میر کے مشہور اشعار میں سے ایک ہے۔ اس شعر کی بنیاد ’’مت سہل ہمیں جانو‘‘ پر ہے۔ سہل کا مطلب آسان بھی ہے اور کم تر بھی۔ مگر اس شعر میں یہ لفظ کم تر کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ فلک کا مطلب آسمان ہے اور فلک کے پھرنے سے مراد گشت کرنے کا بھی ہیں اور مارا مارا پھرنے کے بھی۔ مگر اس شعر میں فلک کے پھرنے سے غالب مراد مارامارا پھرنے کے ہی ہیں۔ خاک کا مطلب زمین ہے اور خاک کا لفظ میر نے اس لئے استعمال کیا ہے کہ انسان کو خاک سے بنا ہوا یعنی خاکی کہا جاتا ہے۔

شعر میں خاص بات یہ کہ شاعر نے ’’فلک‘‘، ’’خاک‘‘ اور ’’انسان‘‘ کے الفاظ سے بہت کمال کا خیال پیش کیا ہے۔ شعر کے قریب کے معنی تو یہ ہوئے کہ اے انسان ! ہم جیسے لوگوں کو سہل مت سمجھو، ہم جیسے لوگ تب خاک سے پیدا ہوتے ہیں جب آسمان برسوں تک بھٹکتا ہے۔

یہ میر تقی میر کے مشہور اشعار میں سے ایک ہے۔ اس شعر کی بنیاد ’’مت سہل ہمیں جانو‘‘ پر ہے۔ سہل کا مطلب آسان بھی ہے اور کم تر بھی۔ مگر اس شعر میں یہ لفظ کم تر کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ فلک کا مطلب آسمان ہے اور فلک کے پھرنے سے مراد گشت کرنے کا بھی ہیں اور مارا مارا پھرنے کے بھی۔ مگر اس شعر میں فلک کے پھرنے سے غالب مراد مارامارا پھرنے کے ہی ہیں۔ خاک کا مطلب زمین ہے اور خاک کا لفظ میر نے اس لئے استعمال کیا ہے کہ انسان کو خاک سے بنا ہوا یعنی خاکی کہا جاتا ہے۔

شعر میں خاص بات یہ کہ شاعر نے ’’فلک‘‘، ’’خاک‘‘ اور ’’انسان‘‘ کے الفاظ سے بہت کمال کا خیال پیش کیا ہے۔ شعر کے قریب کے معنی تو یہ ہوئے کہ اے انسان ! ہم جیسے لوگوں کو سہل مت سمجھو، ہم جیسے لوگ تب خاک سے پیدا ہوتے ہیں جب آسمان برسوں تک بھٹکتا ہے۔

میر تقی میر

فرشتے سے بڑھ کر ہے انسان بننا

مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ

الطاف حسین حالی

میرؔ صاحب تم فرشتہ ہو تو ہو

آدمی ہونا تو مشکل ہے میاں

میر تقی میر

جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو اس پر ظفرؔ

آدمی کو صاحب کردار ہونا چاہیئے

ظفر اقبال

مری زبان کے موسم بدلتے رہتے ہیں

میں آدمی ہوں مرا اعتبار مت کرنا

عاصم واسطی

اے آسمان تیرے خدا کا نہیں ہے خوف

ڈرتے ہیں اے زمین ترے آدمی سے ہم

نامعلوم

سمجھے گا آدمی کو وہاں کون آدمی

بندہ جہاں خدا کو خدا مانتا نہیں

صبا اکبرآبادی

ظفرؔ آدمی اس کو نہ جانئے گا وہ ہو کیسا ہی صاحب فہم و ذکا

جسے عیش میں یاد خدا نہ رہی جسے طیش میں خوف خدا نہ رہا

بہادر شاہ ظفر

جانور آدمی فرشتہ خدا

آدمی کی ہیں سیکڑوں قسمیں

الطاف حسین حالی

سب سے پر امن واقعہ یہ ہے

آدمی آدمی کو بھول گیا

جون ایلیا

راہ میں بیٹھا ہوں میں تم سنگ رہ سمجھو مجھے

آدمی بن جاؤں گا کچھ ٹھوکریں کھانے کے بعد

بیخود دہلوی

خدا سے کیا محبت کر سکے گا

جسے نفرت ہے اس کے آدمی سے

نریش کمار شاد

ہزار چہرے ہیں موجود آدمی غائب

یہ کس خرابے میں دنیا نے لا کے چھوڑ دیا

شہزاد احمد

دنیا پہ ایسا وقت پڑے گا کہ ایک دن

انسان کی تلاش میں انسان جائے گا

فنا نظامی کانپوری

آدمی بلبلہ ہے پانی کا

کیا بھروسا ہے زندگانی کا

مولوی عبدالرضا رضا