Asim Wasti's Photo'

ابوظہبی میں مقیم معروف شاعر، نامور ادیب وشاعر شوکت واسطی کے فرزند

ابوظہبی میں مقیم معروف شاعر، نامور ادیب وشاعر شوکت واسطی کے فرزند

1.6K
Favorite

باعتبار

مری زبان کے موسم بدلتے رہتے ہیں

میں آدمی ہوں مرا اعتبار مت کرنا

تیز اتنا ہی اگر چلنا ہے تنہا جاؤ تم

بات پوری بھی نہ ہوگی اور گھر آ جائے گا

عجیب شور مچانے لگے ہیں سناٹے

یہ کس طرح کی خموشی ہر اک صدا میں ہے

تری زمین پہ کرتا رہا ہوں مزدوری

ہے سوکھنے کو پسینہ معاوضہ ہے کہاں

بدل گیا ہے زمانہ بدل گئی دنیا

نہ اب وہ میں ہوں مری جاں نہ اب وہ تو تو ہے

اب یہی سوچتے رہتے ہیں بچھڑ کر تجھ سے

شاید ایسے نہیں ہوتا اگر ایسا کرتے

انتہائی حسین لگتی ہے

جب وہ کرتی ہے روٹھ کر باتیں

غلط روی کو تری میں غلط سمجھتا ہوں

یہ بے وفائی بھی شامل مری وفا میں ہے

مجھے خبر ہی نہیں تھی کہ عشق کا آغاز

اب ابتدا سے نہیں درمیاں سے ہوتا ہے

لوگ کہتے ہیں کہ وہ شخص ہے خوشبو جیسا

ساتھ شاید اسے لے آئے ہوا دیکھتے ہیں

تمہارے ساتھ مرے مختلف مراسم ہیں

مری وفا پہ کبھی انحصار مت کرنا

وقت بے وقت جھلکتا ہے مری صورت سے

کون چہرہ مری تشکیل میں آیا ہوا ہے

سیکھا نہ دعاؤں میں قناعت کا سلیقہ

وہ مانگ رہا ہوں جو مقدر میں نہیں ہے

یہ ہم سفر تو سبھی اجنبی سے لگتے ہیں

میں جس کے ساتھ چلا تھا وہ قافلہ ہے کہاں

کسی بھی کام میں لگتا نہیں ہے دل میرا

بڑے دنوں سے طبیعت بجھی بجھی سی ہے

تم اس رستے میں کیوں بارود بوئے جا رہے ہو

کسی دن اس طرف سے خود گزرنا پڑ گیا تو

بنا رکھا ہے منصوبہ کئی برسوں کا تو نے

اگر اک دن اچانک تجھ کو مرنا پڑ گیا تو

زاویہ دھوپ نے کچھ ایسا بنایا ہے کہ ہم

سائے کو جسم کی جنبش سے جدا دیکھتے ہیں

کہیں کہیں تو زمیں آسماں سے اونچی ہے

یہ راز مجھ پہ کھلا سیڑھیاں اترتے ہوئے

تو مرے پاس جب نہیں ہوتا

تجھ سے کرتا ہوں کس قدر باتیں

میں انہماک میں یہ کس مقام تک پہنچا

تجھے ہی بھول گیا تجھ کو یاد کرتے ہوئے

ہم اپنے باغ کے پھولوں کو نوچ ڈالتے ہیں

جب اختلاف کوئی باغباں سے ہوتا ہے

ہونٹوں کو پھول آنکھ کو بادہ نہیں کہا

تجھ کو تری ادا سے زیادہ نہیں کہا

خشک رت میں اس جگہ ہم نے بنایا تھا مکان

یہ نہیں معلوم تھا یہ راستہ پانی کا ہے

ہے ی امید مرے خواب میں آپ آئیں گے

ایک در آنکھ کا رکھتا ہوں کھلا رات کے وقت

نہیں وہ شمع محبت رہی تو پھر عاصمؔ

یہ کس دعا سے مرے گھر میں روشنی سی ہے

کچھ وہ بھی طبیعت کا سکھی ایسا نہیں ہے

کچھ ہم بھی محبت میں قناعت نہیں کرتے