Gulzar's Photo'

سمپورن سنگھ۔ ممتاز فلم ساز و ہدایت کار، فلم نغمہ نگار اور افسانہ نگار۔ مرزا غالب پر ٹیلی ویژن سیریل کے لئے مشہور۔ ساہتیہ اکادمی اوارڈ یافتہ

سمپورن سنگھ۔ ممتاز فلم ساز و ہدایت کار، فلم نغمہ نگار اور افسانہ نگار۔ مرزا غالب پر ٹیلی ویژن سیریل کے لئے مشہور۔ ساہتیہ اکادمی اوارڈ یافتہ

گلزار کے اشعار

79K
Favorite

باعتبار

آپ کے بعد ہر گھڑی ہم نے

آپ کے ساتھ ہی گزاری ہے

آئنہ دیکھ کر تسلی ہوئی

ہم کو اس گھر میں جانتا ہے کوئی

شام سے آنکھ میں نمی سی ہے

آج پھر آپ کی کمی سی ہے

زندگی یوں ہوئی بسر تنہا

قافلہ ساتھ اور سفر تنہا

کبھی تو چونک کے دیکھے کوئی ہماری طرف

کسی کی آنکھ میں ہم کو بھی انتظار دکھے

وقت رہتا نہیں کہیں ٹک کر

عادت اس کی بھی آدمی سی ہے

کتنی لمبی خاموشی سے گزرا ہوں

ان سے کتنا کچھ کہنے کی کوشش کی

عادتاً تم نے کر دیے وعدے

عادتاً ہم نے اعتبار کیا

جس کی آنکھوں میں کٹی تھیں صدیاں

اس نے صدیوں کی جدائی دی ہے

کوئی خاموش زخم لگتی ہے

زندگی ایک نظم لگتی ہے

ہم نے اکثر تمہاری راہوں میں

رک کر اپنا ہی انتظار کیا

ہاتھ چھوٹیں بھی تو رشتے نہیں چھوڑا کرتے

وقت کی شاخ سے لمحے نہیں توڑا کرتے

کل کا ہر واقعہ تمہارا تھا

آج کی داستاں ہماری ہے

اپنے سائے سے چونک جاتے ہیں

عمر گزری ہے اس قدر تنہا

تمہارے خواب سے ہر شب لپٹ کے سوتے ہیں

سزائیں بھیج دو ہم نے خطائیں بھیجی ہیں

میں چپ کراتا ہوں ہر شب امڈتی بارش کو

مگر یہ روز گئی بات چھیڑ دیتی ہے

خوشبو جیسے لوگ ملے افسانے میں

ایک پرانا خط کھولا انجانے میں

ایک ہی خواب نے ساری رات جگایا ہے

میں نے ہر کروٹ سونے کی کوشش کی

دل پر دستک دینے کون آ نکلا ہے

کس کی آہٹ سنتا ہوں ویرانے میں

جب بھی یہ دل اداس ہوتا ہے

جانے کون آس پاس ہوتا ہے

اپنے ماضی کی جستجو میں بہار

پیلے پتے تلاش کرتی ہے

سہما سہما ڈرا سا رہتا ہے

جانے کیوں جی بھرا سا رہتا ہے

زندگی پر بھی کوئی زور نہیں

دل نے ہر چیز پرائی دی ہے

اسی کا ایماں بدل گیا ہے

کبھی جو میرا خدا رہا تھا

آپ نے اوروں سے کہا سب کچھ

ہم سے بھی کچھ کبھی کہیں کہتے

دن کچھ ایسے گزارتا ہے کوئی

جیسے احساں اتارتا ہے کوئی

زخم کہتے ہیں دل کا گہنہ ہے

درد دل کا لباس ہوتا ہے

دیر سے گونجتے ہیں سناٹے

جیسے ہم کو پکارتا ہے کوئی

پھر وہیں لوٹ کے جانا ہوگا

یار نے کیسی رہائی دی ہے

رکے رکے سے قدم رک کے بار بار چلے

قرار دے کے ترے در سے بے قرار چلے

راکھ کو بھی کرید کر دیکھو

ابھی جلتا ہو کوئی پل شاید

وہ عمر کم کر رہا تھا میری

میں سال اپنے بڑھا رہا تھا

وہ ایک دن ایک اجنبی کو

مری کہانی سنا رہا تھا

آنکھوں کے پوچھنے سے لگا آگ کا پتہ

یوں چہرہ پھیر لینے سے چھپتا نہیں دھواں

یادوں کی بوچھاروں سے جب پلکیں بھیگنے لگتی ہیں

سوندھی سوندھی لگتی ہے تب ماضی کی رسوائی بھی

یہ شکر ہے کہ مرے پاس تیرا غم تو رہا

وگرنہ زندگی بھر کو رلا دیا ہوتا

خاموشی کا حاصل بھی اک لمبی سی خاموشی تھی

ان کی بات سنی بھی ہم نے اپنی بات سنائی بھی

چند امیدیں نچوڑی تھیں تو آہیں ٹپکیں

دل کو پگھلائیں تو ہو سکتا ہے سانسیں نکلیں

گو برستی نہیں سدا آنکھیں

ابر تو بارہ ماس ہوتا ہے

ایک سناٹا دبے پاؤں گیا ہو جیسے

دل سے اک خوف سا گزرا ہے بچھڑ جانے کا

بھرے ہیں رات کے ریزے کچھ ایسے آنکھوں میں

اجالا ہو تو ہم آنکھیں جھپکتے رہتے ہیں

آنکھوں سے آنسوؤں کے مراسم پرانے ہیں

مہماں یہ گھر میں آئیں تو چبھتا نہیں دھواں

یہ دل بھی دوست زمیں کی طرح

ہو جاتا ہے ڈانوا ڈول کبھی

رات گزرتے شاید تھوڑا وقت لگے

دھوپ انڈیلو تھوڑی سی پیمانے میں

یہ روٹیاں ہیں یہ سکے ہیں اور دائرے ہیں

یہ ایک دوجے کو دن بھر پکڑتے رہتے ہیں

یوں بھی اک بار تو ہوتا کہ سمندر بہتا

کوئی احساس تو دریا کی انا کا ہوتا

چولھے نہیں جلائے کہ بستی ہی جل گئی

کچھ روز ہو گئے ہیں اب اٹھتا نہیں دھواں

کانچ کے پار ترے ہاتھ نظر آتے ہیں

کاش خوشبو کی طرح رنگ حنا کا ہوتا

آگ میں کیا کیا جلا ہے شب بھر

کتنی خوش رنگ دکھائی دی ہے

ناخدا دیکھ رہا ہے کہ میں گرداب میں ہوں

اور جو پل پہ کھڑے لوگ ہیں اخبار سے ہیں

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

GET YOUR FREE PASS
بولیے