aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "yaar-e-yaar"
مکتبۂ شہر یار، کراچی
ناشر
رکھا ہے جیسے سوگ دوگانہ نے یار کامسی کی کچھ ہوس ہے نہ کچھ پان کی ہوس
چنگیز خاں سے کم نہیں خوں خوار کا مزاجدشمن کا ہو نہ جو ہے مرے یار کا مزاج
میلا ہو یا کچیلا ہو دے جائے ہے مزاہے وضع دار کی نہ طرح دار کی تلاش
پا بوس یار کی ہمیں حسرت ہے اے نسیمآہستہ آئیو تو ہمارے مزار پر
نئے سال کی آمد کو لوگ ایک جشن کے طور پر مناتے ہیں ۔ یہ ایک سال کو الوداع کہہ کر دوسرے سال کو استقبال کرنے کا موقع ہوتا ہے ۔ یہ زندگی میں وہ واحد لمحات ہوتے ہیں جب انسان زندگی کے گزرنے اور فنا کی طرف بڑھنے کے احساس کو بھول کر ایک لمحاتی سرشاری میں محو ہوجاتا ہے۔ نئے سال کی آمد سے وابستہ اور بھی کئی فکری اور جذباتی رویے ہیں ، ہمارا یہ انتخاب ان سب پر مشتمل ہے ۔
یاد شاعری کا بنیادی موضوع رہا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ناسٹلجیائی کیفیت تخلیقی اذہان کو زیادہ بھاتی ہے ۔ یہ یاد محبوب کی بھی ہے اس کے وعدوں کی بھی اور اس کے ساتھ گزارے ہوئے لمحموں کی بھی۔ اس میں ایک کسک بھی ہے اور وہ لطف بھی جو حال کی تلخی کو قابل برداشت بنا دیتا ہے ۔ یاد کے موضوع کو شاعروں نے کن کن صورتوں میں برتا ہے اور یاد کی کن کن نامعلوم کیفیتوں کو زبان دی ہے اس کا اندازہ ان شعروں سے ہوتا ہے ۔
نئے سال پر 20 منتخب شعر
कू-ए-यारکُوئے یار
محبوب کی گلی ، دوست کا کوچہ
आ करآ کَر
آنے کے بعد ، آتے ہی (بعد میں آنے والے فعل کا معطوف علیہ)
सर-ए-मूسَرِ مُو
فارسی
(in neg.) slight, little
मू-ए-सरمُوئے سَر
سر کے بال
یاد یار مہرباں
مرزا ظفر الحسن
خواجہ احمد فاروقی
تذکرہ
خالد محمود خان
خاکے/ قلمی چہرے
یاد نامہ
خیال یار مہرباں
پروفیسر عبدالحق
خاكه
ذکریار مہرباں
ذکر یار
غلام محمد عمر خاں
001
محمد نثار حسین
Feb 1912پیام یار
جنگ شہر یار نگارستان برقلعہ نگارین
نامعلوم مصنف
جلد۔011
پیام یار
شمارہ نمبر۔006
محمد نثار حسین نثار
Jun 1885پیام یار
شمارہ نمبر۔007
Jul 1891پیام یار
شمارہ نمبر۔010
Oct 1890پیام یار
شمارہ نمبر۔005
May 1885پیام یار
یار مجھ کو دیکھ زا رونا تو ان سا ہجر میںمشفقانہ کچھ نصیحت جبکہ فرمانے لگے
یہ میرے یار نے کیا مجھ سے بے وفائی کیملے نہ پھر کبھی جس دن سے آشنائی کی
کھلی ہے آنکھ جوش انتظار یار جانی ہےبہ مشکل دیدۂ زنجیر خواب پاسبانی ہے
بغیر ساغر و یار جواں نہیں گزرےہماری عمر کے دن رائیگاں نہیں گزرے
اے یار دل نشیں وہ ادا کون لے گیاتیرے نگیں سے نقش وفا کون لے گیا
سر راہے کبھی کبھار سہیرس بھری اک نگاہ یار سہی
جمال یار سے روشن ہوئی مری دنیاوہ چمکی دل میں کرن ماہتاب سے پہلے
محال تھا کہ ہم اے جوشؔ زندہ رہ سکتےفراق یار میں اک روز مر گئے ہم بھی
خالق سے دعا یہ ہے کہ یا رب کہیں جلدیوہ پردہ نشیں یار طرح دار خبر لے
تو وفادار ہے اے یار جنا کار کہ تومیں وفادار ہوں اے یار ہبہ کار کہ تو
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books