aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "zabaan-e-khanjar-e-qaatil"
مجلس زبان دفتری، پنجاب
ناشر
شعراء گسترش زبان و ادبیات فارسی
مرکز تحقیقات زبان وادبیات فارسی، دہلی
ادارۂ زبان و اسلوب، علی گڑھ
استاد زبان وادبیات فارسی، دہلی
ادارۂ زبان و ادب، مرادآباد
گورمانی مرکز زبان و ادب، پاکستان
انجمن ترقی گوجری زبان و ادب، ہریانہ
عبدالرحیم خانخاناں
1556 - 1637
مصنف
خانقاہ نعیمیہ، بہرائچ
بیرم خان خان خانان
شاعر
دارالاشاعت خانقاہ امجدیہ، سیوان
خانقاہ فیاضیہ، پٹنہ
ناظم خانقاہ مجددیہ، بھوپال
خانقاہ نعمتیہ، گوپال گنج
رہا نہ ہوگا مرا شوق قتل بے تحسیںزبان خنجر قاتل نے داد دی ہوگی
شہادت دے کے جس کو پی گیا مرد مجاہد بھیوہ نعرہ اب زبان خنجر قاتل سے نکلے گا
شبیہ خنجر قاتل بنا کررکھی سینے میں ہم نے دل بنا کر
اب زباں خنجر قاتل کی ثنا کرتی ہےہم وہی کرتے ہیں جو خلق خدا کرتی ہے
جب خنجر قاتل سے نہ انکار ہوا چپآخر مرے ہاتھوں کا طلب گار ہوا چپ
کلاسیکی شاعری میں قاتل محبوب ہے ۔ اسی لئے محبوب کی بھوؤں کو تلوار اور پلکوں کو نیزہ سے تشبیہ عام ہے ۔ وہ اپنے انہیں اوزاروں ، جلوؤں اور اداؤں سے اپنے عاشقوں کا قتل کرتا ہے ۔ جدید شاعری میں قاتل عشق کے دائرے سے باہر نکل آیا ہے اور وہ اپنی تمام تر سماجی صورتوں کے ساتھ شاعری میں برتا گیا ہے ۔ معیاری شعروں کا ہمارا یہ انتخاب آپ کو پسند آئے گا۔
مثنوی خنجر عشق
منشی امیر اللہ تسلیم
خنجر تسلیم
نامعلوم مصنف
اسلامیات
خنجر بیداد
ویلنٹائن ولیمز
جاسوسی
چمنستان گفتار
خنجر اجمیری
دیوان
خنجر ہلال
منشی غلام قادر
تاریخی
کلام قتیل شفائی
فاروق ارگلی
غزل
جوہر خنجر
سید ظہور احمد
مجموعہ
رقعات قتیل
متاع قتیل
رضوان اللہ آروی
تجلیات قتیل
محمد قائم قتیل
زبان و مسائل زبان
عبدالغفار شکیل
شمارہ نمبر-001
Mar 1888خنجر عشق، لکھنؤ
قتیل دانا پوری
مجلس زبان دفتری پنجاب
وحید قریشی
مظلوم تاریخ زبان اردو
سکینہ!جب کہانی ختم ہوگی
ابھی اور تیز کر لے سر خنجر ادا کومرے خوں کی ہے ضرورت تری شوخئ حنا کو
تیر و کمان، خنجر و تلوار بن گئےدشمن ملا تو ہاتھ بھی ہتھیار بن گئے
عاشقی شیوۂ رندان بلا کش ہے میاںوجہ شائستگیٔ خنجر قاتل رہیے
کچھ اس کے سوا اور بھی الزام بہت تھےکب منتظر خنجر قاتل نہیں ٹھہرا
کام اپنا تو تمام کیا یاس نے ہوسؔجی اشتیاق خنجر قاتل میں رہ گیا
دل کی تسکین کا سامان بھی ہو جائے گاجوہر خنجر قاتل پہ بھروسہ کیجے
وہ زیر خنجر قاتل نہ تھا گلو کوئیوہ اک خیال تھا جس کو شہید کرتے رہے
کوئی مر کر تو دیکھے امتحاں گاہ محبت میںکہ زیر خنجر قاتل حیات جاوداں تک ہے
میان سے باہر نکل اے خنجر قاتل ذراراہبر درکار ہے راہ عدم کے واسطے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books