aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "zarf"
ظریف لکھنوی
1870 - 1937
شاعر
ظریف جبلپوری
1913 - 1964
حادث صلصال
born.1995
حسینی میاں ظریف
مصنف
ظریف دہلوی
ظریف احمد سیفی
ناشر
محمد ظریف
عاشق ظرفی
مدیر
یمت پنیٹھا ضیف
born.1990
خواجہ لطیف احمد جریح
1885 - 1941
عائدہ راغبہ الجراح
شوقی ضیف
عبدالغنی میر زائف
کہہ رہا ہے شور دریا سے سمندر کا سکوتجس کا جتنا ظرف ہے اتنا ہی وہ خاموش ہے
جو اعلی ظرف ہوتے ہیں ہمیشہ جھک کے ملتے ہیںصراحی سرنگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانہ
کہنے کے لیے ہم بھی زباں رکھتے ہیں لیکنیہ ظرف ہمارا ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے
جب بھی ضمیر و ظرف کا سودا ہو دوستوقائم رہو حسین کے انکار کی طرح
ساقیا تو نے مرے ظرف کو سمجھا کیا ہےزہر پی لوں گا ترے ہاتھ سے صہبا کیا ہے
ज़र्फ़ ظَرْف
برتن
عربی
ज़र्फ़ زَرْف
دروازے کی زنجیر، زنجیر کا حلقہ
ज़र्फ़-ए-मय ظرف مے
شراب کا برتن
عربی, فارسی
ज़र्फ़ देखना ظَرْف دیکْھنا
حوصلہ دیکھنا، ہمت دیکھنا
یہ میرا ظرف دیکھ
مصنف: عطیہ پروین بلگرامی
1986
افسانہ تمثیلی/ علامتی افسانے
مناظر کی ژرف گوئی پر نزیر کی ژرف نگاہی : تجزیے
ایڈیٹر: شبیر فراز فتح پوری
2019
تحقیق و تنقید سوانح حیات
ظرف نظر
مصنف: امن دیب سدھو چڈھا
2013
شاعری مجموعہ
اردو کے چار مزاحیہ شاعر
ظریف، شوکت، جعفری، مجید
ایڈیٹر: احمد جمال پاشا
1965
طنز و مزاح شاعری
دیوانجی
کلیات ظریف لکھنوی
مصنف: ظریف لکھنوی
ایڈیٹر: صفی لکھنوی
1949
ظریف شعرائے بدایوں
ایڈیٹر: طیب بخش بدایونی
1993
تحقیق و تنقید تحقیق
خاں صاحب
مصنف: ظریف دہلوی
1945
افسانہ
انتخاب کلام ظریف
ایڈیٹر: سید عبدالباری
2004
شاعری انتخاب
آبجکٹو اردو نصاب
برائے BET, NET, J.R.F. (U.G.C) Lectureship & Other Competitive Exams، پندرہ سو سے زائد سوالات مع جوابات کے اضافہ کے ساتھ (دوسرا ایڈیشن)
مصنف: ابو طلحہ
کشمیر جنت نظیر
مصنف: محمد ظریف
1913
فرمانِ ظرافت
مصنف: ظریف جبلپوری
1952
ظریف کے ڈرامے
جلد۔004
مصنف: حسینی میاں ظریف
ایڈیٹر: سید امتیاز علی تاج
1969
ڈرامہ
موضوع اور ضعیف حدیثوں کا چلن
مصنف: شمس پیر زادہ
1989
نیلم کی انگوٹھی
1947
جدید عربی ادب
مصنف: شوقی ضیف
مترجم: شمس کمال انجم
2014
تحقیق و تنقید شاعری تنقید
خدا نے بخشا ہے کیا ظرف موم بتی کوپگھلتے رہنا مگر ساری رات چپ رہنا
تالاب تو برسات میں ہو جاتے ہیں کم ظرفباہر کبھی آپے سے سمندر نہیں ہوتا
گہر سمجھا تھا لیکن سنگ نکلاکسی کا ظرف کتنا تنگ نکلا
کھلی زبان تو ظرف ان کا ہو گیا ظاہرہزار بھید چھپا رکھے تھے خموشی میں
رند جو ظرف اٹھا لیں وہی ساغر بن جائےجس جگہ بیٹھ کے پی لیں وہی مے خانہ بنے
کم ظرف زمانے کی حقارت کا گلہ کیامیں خوش ہوں مرا پیار سمندر کی طرح ہے
ظرف سے بڑھ کے ہو اتنا نہیں مانگا جاتاپیاس لگتی ہے تو دریا نہیں مانگا جاتا
کاغذ پہ اگل رہا ہے نفرتکم ظرف ادیب ہو گیا ہے
اتنے کم ظرف نہیں ہم جو بہکتے جاویںمثل گل جاویں جدھر جاویں مہکتے جاویں
ضبط بھی چاہئے ظرف بھی چاہئے اور محتاط پاس وفا چاہئےزندگی دشمنوں میں بھی مشکل نہیں آدمی میں ذرا حوصلہ چاہئے
تھے چور میکدے کے مسجد کے رہنے والےمے سے بھرا ہوا ہے جو ظرف ہے وضو کا
شاعری طلب اپنی شاعری عطا اس کیحوصلے سے کم مانگا ظرف سے سوا پایا
کیسے بند ہوا مے خانہ اب معلوم ہواپی نہ سکا کم ظرف زمانہ اب معلوم ہوا
اس کی گلی میں ظرف سے بڑھ کر ملا مجھےاک پیالہ جستجو تھی سمندر ملا مجھے
اب دیکھنا ہے مجھ کو ترے آستاں کا ظرفسر کو جھکا رہا ہوں بڑی عاجزی کے ساتھ
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books