aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "zarf-e-be-mai"
ظرف بے مے سے پلائی تو حرم میں پھیلیپھیلتی جلد ہے کچھ اہل کرامات کی بات
مے بے رنگ کا سو رنگ سے رسوا ہوناکبھی میکش کبھی ساقی کبھی مینا ہونا
عیش و عشرت ہی میں کچھ ہے زندگیمرگ ہے بے یار و بے مے زندگی
شعاع مہر شبنم کی بقا کیا چھین سکتی تھییہ قطرے خود میں ظرف بے کراں رکھتے تو اچھا تھا
کنولؔ مے خوار کیا جانے سرور بے خودی کیا ہےاسی سے پوچھئے جو بے پیے سرشار ہو جائے
تخلیق کارکی حساسیت اسے بالآخراداسی سے بھردیتی ہے ۔ یہ اداسی کلاسیکی شاعری میں روایتی عشق کی ناکامی سے بھی آئی ہے اوزندگی کے معاملات پرذرامختلف ڈھنگ سے سوچ بچار کرنے سے بھی ۔ دراصل تخلیق کارنہ صرف کسی فن پارے کی تخلیق کرتا ہے بلکہ دنیا اوراس کی بے ڈھنگ صورتوں کو بھی ازسرنوترتیب دینا چاہتا ہے لیکن وہ کچھ کرنہیں سکتا ۔ تخلیقی سطح پرناکامی کا یہ احساس ہی اسے ایک گہری اداسی میں مبتلا کردیتا ہے ۔ عالمی ادب کے بیشتر بڑے فن پارے اداسی کے اسی لمحے کی پیداوار ہیں ۔ ہم اداسی کی ان مختلف شکلوں کو آپ تک پہنچا رہے ہیں ۔
یہ دس ایسی غزلوں کا مجموعہ ہے جنہیں نامور گلوکاروں نے اپنی آواز دی ہے، یہ غزلیں محبت اور عشق کے شدید جذبے سے لبریز ہیں۔ ہماری یہ پیشکش آپ کے لیے خاص ہے۔ یہاں آپ ان غزلوں کو پڑھ سکتے ہیں جنہیں ابھی تک صرف سنتے رہے ہیں۔
نئے سال کی آمد کو لوگ ایک جشن کے طور پر مناتے ہیں ۔ یہ ایک سال کو الوداع کہہ کر دوسرے سال کو استقبال کرنے کا موقع ہوتا ہے ۔ یہ زندگی میں وہ واحد لمحات ہوتے ہیں جب انسان زندگی کے گزرنے اور فنا کی طرف بڑھنے کے احساس کو بھول کر ایک لمحاتی سرشاری میں محو ہوجاتا ہے۔ نئے سال کی آمد سے وابستہ اور بھی کئی فکری اور جذباتی رویے ہیں ، ہمارا یہ انتخاب ان سب پر مشتمل ہے ۔
دفتر بے معنی
نعیم صدیقی
نثر
کرشمہ شباب
ایچ۔ ایم۔ حیران
کلام نانک
جیت سنگھ سیتل
سکھ ازم
فرہنگ فارسی جدید
غلام مجتبیٰ انصاری
ترجمہ دیوان بو علی قلندر مع مثنوی
شاعری
جہاں رنگ و بو میں
فریدہ زین
مضامین
تائید مذہب اہل السنتۃ مع فضائل بیت صحابہ و اہل بیت
شیخ احمد فاروقی سرہندی
ترجمہ دیوان بو علی قلندر
بو علی شاہ قلندر
چشتیہ
دولت بے زوال و برکت حال و مال
مفتی سید عبدالفتاح
حقیقۃ الصلوٰۃ
شیخ برکت علی اینڈ سنز، کشمیری بازار، لاہور
اسلامیات
زواجر ہندی
ابن حجر ہیتمی
بے غیرت
احسان بی۔ اے
افسانہ
ابتدائی کلام اقبال
علامہ اقبال
انتخاب
مجموعۂ کلام محروم معروف بہ گنج معانی
منشی تلوک چند
ابتدائی کلام اقبال بہ ترتیب مہ و سال
گیان چند جین
کہاں تک نہ بے ہوش و بے خود کرے گیمئے وصل ہے کوئی شربت نہیں ہے
بد خصلتی سے باز کب آتا ہے بد نہادکم ظرف واماں بے ضمیر پہ لعنت ہی کیوں نہ ہو
عطا درد ہوتا تھا شاعر کے دل کوخودی تشنہ کام مے بے خودی تھی
مرے کنج میں مجھے روز و شبمے بے خودی تھی پلا رہی
مے بے خودی کا ساقی مجھے ایک جرعہ بس تھانہ کبھی نشہ اترتا نہ کبھی خمار ہوتا
ہر رنگ کی ساقی ترے میخانے میں پی لیاب تو مرا ساغر مے بے رنگ سے بھر دے
بے مے و مے خانہ و ساقی جو آئی مجھ کو موتحلقۂ ماتم ہے دور چرخ مینائی نہیں
گرج کا شور نہیں ہے خموش ہے یہ گھٹاعجیب مے کدۂ بے خروش ہے یہ گھٹا
شیخ کو دے دو مے بے رنگ و بواس کی قسمت سے کھنچی اچھی نہیں
تو نے کیا چیز بنا دی نگہ سحر طرازوہ جو تھی شیشۂ دل میں مئے بے نام ابھی
Jashn-e-Rekhta 10th Edition | 5-6-7 December Get Tickets Here
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books