aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "مشجر"
گوری کے صندوق میں امیدوں کے بیچسرخ مشجر کی پوشاک سکڑتی تھی
کرتا ہے کام وہ دل جو عقل میں نہ آوےگھر کا مشیر کتنا نادان ہے ہمارا
گر ہم مشیر ہوتے اللہ کے تو کہتےیعنی وصال کی شب یا رب دراز کرنا
ستم میں بھی شان کرم دیکھتے ہیںہمیں جانتے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں
مرنا عذاب تھا کبھی جینا عذاب تھامیرا مشیر عشق سا خانہ خراب تھا
نصیب عشق مسرت کبھی نہیں ہوتییہ بزم وہ ہے جہاں روشنی نہیں ہوتی
ہے منصفی میرے دم سے قائمعدالتوں کی مشیر ہوں میں
میری نظر نظر میں ہیں منظر جلے ہوئےابھریں گے حرف حرف سے پیکر جلے ہوئے
تیری چشم ستم ایجاد سے ڈر لگتا ہےیہ غلط ہے کسی افتاد سے ڈر لگتا ہے
مشورہ اس مشیر سے مت کرہو جو آدھا ادھر ادھر پورا
تاب نظر سے ان کو پریشاں کیے ہوئےآئینۂ جمال کو حیراں کیے ہوئے
محبت میں سحر اے دل برائے نام آتی ہےیہ وہ منزل ہے جس منزل میں اکثر شام آتی ہے
تری برق پاش نگاہ سے ترے حشر خیز خرام سےبہ سکون قلب گزر گیا میں ہر ایک ایسے مقام سے
میجر نے جنوں کی ہے یہ تیار کی پلٹنہاں دیکھ صف خار مغیلان سمجھ کر
سوز و گداز عشق کا چرچا نہ کر سکےحسن ستم ظریف کو رسوا نہ کر سکے
حوصلہ دل کا حوادث میں بڑھا رکھا ہےشمع کو میں نے ہواؤں میں جلا رکھا ہے
عشق کی شعلہ مزاجی خود ہی برساتی ہے آگبانس کے جنگل میں اپنے آپ لگ جاتی ہے آگ
نظروں کی ضد سے یوں تو میں غافل نہیں رہاپہلو میں اے مشیرؔ مگر دل نہیں رہا
دامن بچا کے شوق سے غصہ اتاریےکیچڑ میں سانپ کو بھی نہ پتھر سے ماریے
زہر اس ماحول کا مجھ میں کچھ اتنا بھر گیاسانپ نے کاٹا مجھے اور کاٹتے ہی مر گیا
Jashn-e-Rekhta 10th Edition | 5-6-7 December Get Tickets Here
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books