aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "chashma-e-faiz"
بے نیازی کا یہ عالم ہے تو اک دن چشمہؔمیرے دل کو وہ تڑپ صورت ماہی دیں گے
چشمۂ فیض چشم گریاں سےذرے ذرّے نے ہیں گہر رولے
وہ دوسروں کے لئے کیا بنیں گے چشمۂ فیضجو آپ اپنے گناہوں پہ شرمسار نہیں
چشمۂ فیض ہے کیا ذات مرے ساقی کیایک قطرہ کو کہا جس نے سمندر پایا
تشنہ تشنہ سے بدن میں ہے شرابی نشہچشمۂ فیض تری آنکھ سے پھر جاری ہے
چشم کو شوق اشک باری ہےچشمۂ فیض ہے کہ جاری ہے
آشنا دوست نہیں بحر فنا اے منعمچشمۂ فیض ہے دولت اسے جاری رکھنا
چشمۂ فیض ہے تیرے ہیں عدو بھی سیرابہے تری چشم کرم رحمت عام اے ساقی
بھولے سے مسکرا تو دیے تھے وہ آج فیضؔمت پوچھ ولولے دل ناکردہ کار کے
وہی چشمۂ بقا تھا جسے سب سراب سمجھےوہی خواب معتبر تھے جو خیال تک نہ پہنچے
مقام فیضؔ کوئی راہ میں جچا ہی نہیںجو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے
فیضؔ تھی راہ سر بسر منزلہم جہاں پہنچے کامیاب آئے
بھیگی ہے رات فیضؔ غزل ابتدا کرووقت سرود درد کا ہنگام ہی تو ہے
چشم میگوں ذرا ادھر کر دےدست قدرت کو بے اثر کر دے
دیار غیر میں محرم اگر نہیں کوئیتو فیضؔ ذکر وطن اپنے روبرو ہی سہی
فیضؔ تکمیل غم بھی ہو نہ سکیعشق کو آزما کے دیکھ لیا
آخر شب کے ہم سفر فیضؔ نہ جانے کیا ہوئےرہ گئی کس جگہ صبا صبح کدھر نکل گئی
تم بہت گھبرا گئے گھر کی ویرانی سے فیضؔاب ہجوم شہر میں تنہائیاں ڈھونڈا کرو
صبا سے کرتے ہیں غربت نصیب ذکر وطنتو چشم صبح میں آنسو ابھرنے لگتے ہیں
چلو فیضؔ پھر سے کہیں دل لگائیںسنا ہے ٹھکانے کے دن آ رہے ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books