aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "dollar"
تہذیب کے لباس اتر جائیں گے جنابڈالر میں یوں نچائے گی اکیسویں صدی
مزدوری پر جاتا ہوں تو شعر سسکتے رہتے ہیںڈالر کی خواہش نے میرے فن پاروں کو مار دیا
اسے گھمنڈ تھا اپنے امیر ہونے پرسو میرے سامنے ڈالر شمار کرتا رہا
اب تو ڈالر ہی دور حاضر میںاک غزل نظم مثنوی ہے میاں
مرے قاتل میں تجھے چاہوں گا ڈالر کی طرحتجھ پہ لکھوں گا قصیدے کسی شاعر کی طرح
جو قیمت ہے محبت کی کبھی وہ کم نہیں ہوگیچلا لے تو جہاں چاہے یہ ہیں ڈالر محبت کے
مرے سکے بہت ہشیار رہناکہ ڈالر کی حکومت آ رہی ہے
اسے کون دیکھ سکتا کہ یگانہ ہے وہ یکتاجو دوئی کی بو بھی ہوتی تو کہیں دو چار ہوتا
پیوں شراب اگر خم بھی دیکھ لوں دو چاریہ شیشہ و قدح و کوزہ و سبو کیا ہے
یہ جو دیوانے سے دو چار نظر آتے ہیںان میں کچھ صاحب اسرار نظر آتے ہیں
کعبہ و دیر میں یا چشم و دل عاشق میںانہیں دو چار گھروں میں ہے ٹھکانا تیرا
لے میرے تجربوں سے سبق اے مرے رقیبدو چار سال عمر میں تجھ سے بڑا ہوں میں
دو چار دن کی بات ہے دل خاک میں مل جائے گاجب آگ پر کاغذ رکھا باقی بچا کچھ بھی نہیں
شہر کا شہر ہی ناصح ہو تو کیا کیجئے گاورنہ ہم رند تو بھڑ جاتے ہیں دو چار کے ساتھ
جن سے آوارگئ شب کا بھرم تھا وہ لوگاس بھرے شہر میں دو چار ہوا کرتے تھے
سورج ہمارے گھر نہیں آیا تو کیا ہوادو چار آنگنوں میں اجالا ہوا تو ہے
دو چار شعر آگے اس کے پڑھے تو بولامضموں یہ تو نے اپنے کیا حسب حال باندھے
تجھ سے دو چار ہونے کی حسرت کے مبتلاجب جی ہوئے وبال تو ناچار مر گئے
رو دھو کے وہ بھی ہو گیا خاموش ایک روزدو چار دن میں رنگ حنا بھی اتر گیا
مدت میں شام وصل ہوئی ہے مجھے نصیبدو چار سال تک تو الٰہی سحر نہ ہو
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books