aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "dubaane"
کیسے لکھ دوں میں ترے نام فسانہ کوئیبیچ منجدھار میں کشتی کو ڈبانے والے
دریا بھی نہیں تھے ترے ساحل بھی نہیں تھےہم کشتی ڈبانے میں تو شامل بھی نہیں تھے
نہ سیلاب آیا نہ طوفاں ہی کوئیاداؤں سے دل وہ ڈبانے لگے ہیں
ہو گئے غرق بھی گر ایک تبسم میں ہزارمیرا گریہ نہ فنا ہوگا ڈبانے والے
رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آآ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ
شام ہی سے دکان دید ہے بندنہیں نقصان تک دکان میں کیا
تجھ سے کچھ ملتے ہی وہ بے باک ہو جانا مرااور ترا دانتوں میں وہ انگلی دبانا یاد ہے
یہ کون ہے سر ساحل کہ ڈوبنے والےسمندروں کی تہوں سے اچھل کے دیکھتے ہیں
اب کے ہوا کے ساتھ ہے دامن یار منتظربانوئے شب کے ہاتھ میں رکھنا سنبھال کر دیا
دیتا ہوں تم کو خشکئ مژگاں کی میں دعامطلب یہ ہے کہ دامن پر نم ملے تمہیں
اس تماشے میں الٹ جاتی ہیں اکثر کشتیاںڈوبنے والوں کو زیر آب مت دیکھا کرو
احباب بھی غیروں کی ادا سیکھ گئے ہیںآتے ہیں مگر دل کو دکھانے نہیں آتے
کہیں تار دامن گل ملے تو یہ مان لیں کہ چمن کھلےکہ نشان فصل بہار کا سر شاخسار کوئی تو ہو
یہ جو دیوانے سے دو چار نظر آتے ہیںان میں کچھ صاحب اسرار نظر آتے ہیں
تیری باتیں ہی سنانے آئےدوست بھی دل ہی دکھانے آئے
لاش کی طرح سر آب ہوں میں اور شاہدؔڈوبنے والے مددگار سمجھتے ہیں مجھے
خود کو دوران حال میں اپنےبے طرح ناگوار تھے ہم تو
میں ان کی راہ دیکھتا ہوں رات بھروہ روشنی دکھانے والے کیا ہوئے
اک تم ہی نہیں تنہا الفت میں مری رسوااس شہر میں تم جیسے دیوانے ہزاروں ہیں
ڈوبنے والے پار جا اترےنقش پا اپنے چھوڑ کر تنہا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books