aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "idaara"
مرے اشعار ہیں وہ آسمانی خواب جن کومری مٹی کے ہونٹھوں پر اتارا جا رہا ہے
جو چاہتا ہے وہ تسخیر کر لے دنیا کوکسی بھی شے پہ نہیں ہے یہاں اجارہ مرا
جو بچاتا ہے ڈوبنے والےوہ ادارہ بھی ڈوب سکتا ہے
ہجوم شہر کہ جس کی ملازمت میں ہوں میںمرے لیے مری تنہائی کا ادارہ بنا
میں اک چراغ کہاں تک مزاحمت کرتامرے خلاف تھا کتنا بڑا ادارۂ شب
تربیت انبیا بھی پاتے ہیںماں کی آغوش وہ ادارہ ہے
وہ رنگ ساز رہا غرق فکر رنگیں میںوہ حسن زیست میں اک دل نشیں ادارہ ہوا
اس نے بھیجا ہے محبت کے لیے دنیا میںکاش اس بات کو سینوں میں اتارا ہوتا
زمانے کے دیے اک ہی دئے سے جلتے ہیں لیکنبساط فرد واحد کیا ادارہ جگمگاتا ہے
در بدر پھرتا کوئی خواب مرا آوارہرات آنکھوں میں چلا آیا تھا ہارا ٹوٹا
لوگ یوںہی بے کار سمجھتے ہیں طاہرؔاصل میں شاعر ایک ادارہ ہوتا ہے
بے وفاؤں سے بھری تنظیم میںبا وفاؤں کا ادارہ تھا کبھی
وجہ کافی ہے یہ اک شخص کی بربادی کونفس پر اس کے کسی لت کا اجارا ہونا
کسی کی دخل اندازی نہیں ہےیہ عشق ایسا ادارہ ہے ہمارا
خلا میں پیش رفتی کی طرف پہلا اشارہ ہےکرن کا داغ ہم نے اپنے دامن پر اتارا ہے
فنا ہو گئی مجھ میں اک خانقاہکبھی ایک روشن ادارہ تھا میں
میٹھی میٹھی چھیڑ کر باتیں نرالی پیار کیذکر دشمن کا وہ باتوں میں اڑانا یاد ہے
میں زندگی کا ساتھ نبھاتا چلا گیاہر فکر کو دھوئیں میں اڑاتا چلا گیا
کیا ہی شکار فریبی پر مغرور ہے وہ صیاد بچہطائر اڑتے ہوا میں سارے اپنے اساریٰ جانے ہے
تجھ کو خبر نہیں کہ ترا کرب دیکھ کراکثر ترا مذاق اڑاتا رہا ہوں میں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books