aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "khapte"
منع کیوں کرتے ہو عشق بت شیریں لب سےکیا مزے کا ہے یہ غم دوستو غم کھانے دو
شور سینوں میں اٹھ اٹھ کے دبتے رہے دل جگر دور گردوں میں کھپتے رہےہاتھ کتنے تھے یاں جو قلم ہو گئے ساز کیا کیا تھے جو بے صدا ہو گئے
یوں ہی کھپتے نہ جائیں روز و شب میں ہمکبھی تو بات بے موسم بھی کی جائے
کہنے کو رہتے ہو دل میںپھر بھی کتنے دور کھڑے ہو
اوڑھے ہوئے تاروں کی چمکتی ہوئی چادرندی کوئی بل کھائے تو لگتا ہے کہ تم ہو
لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میںتم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں
یوں تو آپس میں بگڑتے ہیں خفا ہوتے ہیںملنے والے کہیں الفت میں جدا ہوتے ہیں
غم عشق میں مزا تھا جو اسے سمجھ کے کھاتےیہ وہ زہر ہے کہ آخر مے خوش گوار ہوتا
سنا ہے اس کو محبت دعائیں دیتی ہےجو دل پہ چوٹ تو کھائے مگر گلہ نہ کرے
وہ جس کو دیکھے تو دکھ کا لشکر بھی لڑکھڑائے شکست کھائےلبوں پہ اپنے وہ مسکراہٹ سجا کے رکھنا کمال یہ ہے
راہگیروں نے رہ بدلنی ہےپیڑ اپنی جگہ کھڑے رہے ہیں
زخم جھیلے داغ بھی کھائے بہتدل لگا کر ہم تو پچھتائے بہت
گئے موسم میں جو کھلتے تھے گلابوں کی طرحدل پہ اتریں گے وہی خواب عذابوں کی طرح
شوق ہے اس دل درندہ کوآپ کے ہونٹ کاٹ کھانے کا
کیوں نہیں لیتا ہماری تو خبر اے بے خبرکیا ترے عاشق ہوئے تھے درد و غم کھانے کو ہم
لوگ کہتے ہیں کہ تو اب بھی خفا ہے مجھ سےتیری آنکھوں نے تو کچھ اور کہا ہے مجھ سے
اب تو یہ آرزو ہے کہ وہ زخم کھائیےتا زندگی یہ دل نہ کوئی آرزو کرے
مجروحؔ لکھ رہے ہیں وہ اہل وفا کا نامہم بھی کھڑے ہوئے ہیں گنہ گار کی طرح
ہر آن اک جدائی ہے خود اپنے آپ سےہر آن کا ہے زخم جو ہر آن کھائیے
خفا ہونا ذرا سی بات پر تلوار ہو جانامگر پھر خود بہ خود وہ آپ کا گلنار ہو جانا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books