aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "khauf-e-khudaa"
زلزلے میں بندگی خوف خدا اپنی جگہہر کوئی کم ظرف تھا چھوٹا بڑا اپنی جگہ
ہوس مٹتی نہیں خوف خدا پامال رکھتا ہےعجب سرکش ہے دل میرا کہ حسب حال رکھتا ہے
دل میں بندوں کے بہت خوف خدا تھا پہلےیہ زمانہ کبھی اتنا نہ برا تھا پہلے
اصغرؔ کی کچھ نہ پوچھو مے خانہ میں پڑا ہےاس بندۂ خدا کو خوف خدا نہیں ہے
صاحب صدق ہوں میں خوف خدا رکھتا ہوںاپنے ہونٹوں پہ سدا حق کی صدا رکھتا ہوں
دل میں اپنے جو سدا خوف خدا رکھتا ہوںبت کدے والوں کو ہر آن خفا رکھتا ہوں
وہ بتوں نے ڈالے ہیں وسوسے کہ دلوں سے خوف خدا گیاوہ پڑی ہیں روز قیامتیں کہ خیال روز جزا گیا
دل میں شرمندہ ہیں احساس خطا رکھتے ہیںہم گنہ گار ہیں پر خوف خدا رکھتے ہیں
سوز شعور عشق عطا ہو تو بات کرتیرے بھی دل میں خوف خدا ہو تو بات کر
خوف خدا میں عمر گزاری تو کیا ملاکچھ دن جئیں گے خوف خدا کے بغیر بھی
خوف خدا سے دنیا میں ہر احتیاط ہےخوف خدا نہیں تو کوئی خوف بھی نہیں
دیکھ اخترؔ تو ذرا آئینۂ خوف خدااب تو تیری روح کا سنگار ہونا چاہیئے
مجھ کو دکھلا دو روئے غوث خدااور کوئی مرا علاج نہیں
جلوۂ حسن خدا داد دکھا کر دلبرمثل آئینہ کیا آپ نے حیراں مجھ کو
جلوۂ نور سے جلا تھا کوہدل مکان خدا ہے طور نہیں
غیر ممکن ہے دخل غیر اس میںدل کو جب خانۂ خدا جانا
جلوہ دکھا دے خواب میں بہر خدا مجھےآنکھیں ترس گئیں ترے دیدار کے لیے
ہوگا پر نور سیہ خانہ ہمارے دل کااس میں تم غوث خدا کو ذرا آ جانے دو
داغ بن کر تو رہا دامن قاتل پہ مگربوئے خوں بہر خدا بوئے وفا ہو جانا
یہ عشق جمیلہؔ کا اے خضر رہ الفتمحبوب کے جلوہ کو اسرار خدا جانا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books