aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "nasheb"
اک تم کہ تم کو فکر نشیب و فراز ہےاک ہم کہ چل پڑے تو بہرحال چل پڑے
جو رہ عشق میں قدم رکھیںوہ نشیب و فراز کیا جانیں
نشیب ہستی سے افسوس ہم ابھر نہ سکےفراز دار سے پیغام آئے ہیں کیا کیا
نشیب شہر تھا یوں روز افزوںمیان شہر زینہ بن رہا تھا
بڑے بڑوں کے نشیب و فراز دیکھے ہیںکوئی ملے تو سہی جس کا سر جھکا ہی نہ ہو
نہ ہو بہ ہرزہ بیاباں نورد وہم وجودہنوز تیرے تصور میں ہے نشیب و فراز
جب میں نشیب رنگ و بو میں اترا اس کی یاد کے ساتھاوس میں بھیگی دھوپ لگی ہے نرم ہری لچکیلی سی
تری خدائی میں شامل اگر نشیب بھی ہیںتو پھر کلیم سر طور کیوں بلائے گئے
نشیب شاعری میں ہے ہماری ذات سے رونقیہی پتھر ہے جس کو رات دن لڑھکائے رکھتے ہیں
یہ حکم ہے کہ اندھیرے کو روشنی سمجھوملے نشیب تو کوہ و دمن کی بات کرو
پلٹ پڑا ہوں شعاعوں کے چیتھڑے اوڑھےنشیب زینۂ ایام پر عصا رکھتا
کمان شاخ سے گل کس ہدف کو جاتے ہیںنشیب خاک میں جا کر مجھے خیال آیا
نشیب وہم فراز گریز پا کے لیےحصار خاک ہے حد پر ہر انتہا کے لیے
گزر رہی تھی زندگی گزر رہی ہے زندگینشیب کے بغیر بھی فراز کے بغیر بھی
راہ الفت نہ جس نے طے کی ہووہ نشیب و فراز کیا جانے
زوال ایسا کہ سارے فراز پست ہوئےنشیب وہم بہت تھا حد گمان کے بعد
دانشؔ کئی نشیب نظر سے گزر گئےہر رند آئنے کی طرح میکدے میں تھا
وہ کیا سمجھ سکیں گے نشیب و فراز دہرجو چل رہے ہیں راہ کو ہموار دیکھ کر
قد بالا و دامن کوتاہمنزل عشق کے نشیب و فراز
مری کمتری کی بساط ہی تری برتری کی دلیل ہےمیں نشیب میں نہ رہوں اگر تو فراز تیرا دبا رہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books