aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "numaa.ish"
روز تاروں کو نمائش میں خلل پڑتا ہےچاند پاگل ہے اندھیرے میں نکل پڑتا ہے
ہم کہ دکھ اوڑھ کے خلوت میں پڑے رہتے ہیںہم نے بازار میں زخموں کی نمائش نہیں کی
ہستی اپنی حباب کی سی ہےیہ نمائش سراب کی سی ہے
شمع جس آگ میں جلتی ہے نمائش کے لیےہم اسی آگ میں گمنام سے جل جاتے ہیں
کیسی آداب نمائش نے لگائیں شرطیںپھول ہونا ہی نہیں پھول نظر آنا بھی
ہاتھ میں سونے کا کاسہ لے کے آئے ہیں فقیراس نمائش میں ترا دست طلب دیکھے گا کون
کل نمائش میں ملا وہ چیتھڑے پہنے ہوئےمیں نے پوچھا نام تو بولا کہ ہندستان ہے
میں تو مر کر بھی نہ بیچوں گا کبھی یار کا نامآپ تاجر ہیں نمائش کو عبادت سمجھیں
نابود کے سراغ کی صورت نکالیےموجود کی نمود و نمائش فضول ہے
جگمگا اٹھے تارےبات تھی نمائش کی
نمائش ہزاروں نگاہوں نے دیکھیمگر پھول پہلے سے بڑھ کر اکیلے
کوئی صنعت نہیں مجھ میں تو پھر کیوںنمائش گاہ میں لایا گیا ہوں
تم آؤ گے نمائش سامان دیکھ کرکیوں کاروبار چھوڑ دوں نقصان دیکھ کر
آئے ہو نمائش میں ذرا دھیان بھی رکھناہر شے جو چمکتی ہے چمکدار نہیں ہے
سب تمنائیں ہوں پوری کوئی خواہش بھی رہےچاہتا وہ ہے محبت میں نمائش بھی رہے
نمائش باپ کی دولت کی کر کے سوچتا تھا میںکہ شاید امتحان عشق پیسوں سے نکل جائے
لوگ واپس ہو گئے ساجدؔ نمائش گاہ سےاور میں کھویا رہا اک محشر رعنائی میں
آپ بیتاب نمائش نہ کریں جلووں کوہم نے دیدار قیامت پہ اٹھا رکھا ہے
نہیں ہوتا ہے محتاج نمائش فیض شبنم کااندھیری رات میں موتی لٹا جاتی ہے گلشن میں
اوب جاتا ہوں ذہانت کی نمائش سے تو پھرلطف دیتا ہے یہ لہجہ مجھے بازاری بھی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books