aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "par-fashaan-e-sokhtan"
شام غم میں سوز عشق آتش رخسار سےپر فشان سوختن ہیں صورت پروانہ ہم
میرے سنگ مزار پر فرہادرکھ کے تیشہ کہے ہے یا استاد
امید تھی کہ مسرت کے گیت گائیں گےمگر ہنوز زباں پر فسانۂ غم ہے
دل میں ہو درد عشق لبوں پر فغاں نہ ہوممکن نہیں کہ آگ لگے اور دھواں نہ ہو
دل سوز غم سے جلتا ہے لب پر فغاں نہیںیہ آگ بھی نئی ہے کہ جس میں دھواں نہیں
دمک رہا ہے جبین دوام پر فرہادشرار تیشہ فروزاں ہے مشعلوں کی طرح
بزم یاراں ہو کہ مے نغمہ کے فیضان سخنسب ہیں سازش میں شریک اس کی مرے دل کے خلاف
کسی کو جس کی کوئی ابتدا نہ مل پائےاسی فسانۂ ہستی کا اختتام ہیں ہم
تری نگاہ محبت کا آسرا پا کرفسانۂ ستم روزگار کہتا ہوں
تمہی پہ کیا کہ ہم اب خود پہ بھی نہیں کھلتےتو کیا یہ کم ہے کہ ہم پر کھلا فسانۂ عشق
راہ گم کردہ ہیں قدموں کے نشاں ہوتے ہوئےبے گھری کا درد سہتے ہیں مکاں ہوتے ہوئے
وہ رہ و رسم نہ وہ ربط نہاں باقی ہےپھر بھی اس دل کو محبت کا گماں باقی ہے
وہی ضد ان کو ہے وہی ہے ہٹان کی چاہی نہیں ہے یہ جھنجھٹ
مری عمر رواں ہے اور میں ہوںیہ جنس رائیگاں ہے اور میں ہوں
عدوئے بد گماں کی داستاں کچھ اور کہتی ہےمگر تیری نگاہ خوش بیاں کچھ اور کہتی ہے
چاک پر کوزہ گر ہے محو سخنگل کھلے جا رہے ہیں دشت و دمن
جیتے جی خود سے محبت میں گزرنا ہے مجھےصورت موجۂ رواں مٹ کے ابھرنا ہے مجھے
مژدہ اے ساکنان شہر سخنفرحتؔ احساس شعر کہنے لگے
عقل و جذبات کو رکھ تابع فرماں اپنےاس کو سر پر نہ چڑھا اور انہیں آزاد نہ کر
جہاں فیضان آبادی بہت ہےوہاں پر بھی گھنے جنگل رہے تھے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books