aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "sajte"
پیٹ پہ پتھر باندھ نہ لےہاتھ میں سجتے ہیں پتھر
گھروں کے طاقوں میں گلدستے یوں نہیں سجتےجہاں ہیں پھول وہیں آس پاس خار بھی رکھ
روز اب شہر میں سجتے ہیں تجارت میلےلوگ صحنوں کو بھی بازار کئے جاتے ہیں
سجتے ہیں اس شوخ بدن پر سارے رنگہر کنگن اس ہاتھ میں اچھا لگتا ہے
مرے دل کی یہ خواہش ہے بنوں میں آپ کی دلہنکہ دل میں آپ رہتے ہیں مرے ہونٹوں پہ سجتے ہیں
ہاتھوں میں سجتے ہیں چھالے جیسی تیری مرضیسکھ داتا دکھ دینے والے جیسی تیری مرضی
جب کسی جسم پہ سجتے ہوئے دیکھا ہے لباستیری خوش قامتی خوش پیرہنی یاد آئی
شہر سجتے ہیں گذر گاہیں چمک اٹھتی ہیںاپنے ہی خون میں ڈوبوں تو سنور جاتا ہوں
خواب پلکوں پہ اب نہیں سجتےاب تو ان پر ٹھہر رہی ہے رات
ہمیں پہ سجتے ہیں یارو شراب بھی غم بھیخدا کے واسطے اب کوئی مشورہ بھی نہ دے
شہر سجتے رہے مگر ہاتفؔبزم سونی پڑی رہی دل کی
یہ اور ہیں دن وقت گیا بت شکنی کاسجتے ہوئے پتھر کے صنم دیکھ رہے ہیں
کرتے ہو قید کیوں انہیں اے وقت کے یزیدسجتے ہیں صرف دار پہ توحید کے دیے
پھول سجتے ہیں یہاں گیسوئے روشن میں فقطگل بدن کے لیے گلدان نہیں ہوتے ہیں
لاکھ چاہا کہ غم و فکر جہاں سے چھوٹیںجامۂ دل پہ یہ سجتے رہے پیوند اپنے
گر نہ تھی تقدیر میں شاخ چمن اتنا تو تھابن کے تازہ پھول گل دانوں میں ہم سجتے رہے
آسماں کے طاق پر سجتے رہے اک اک چراغمیں زمیں کا چاند اپنے ہی خلا میں قید تھا
حرف اس کے قامت تحسیں پہ سجتے ہی گئےشاہدؔ ان کو اس طرح حرف ہنر میں نے کیا
ایک فرسودہ روایت کے سوا کچھ بھی نہیںپیار کے نام پہ سجتے ہیں جو بازار بہت
میں جانتا ہوں زخم بھی سجتے ہیں بدن پرمعلوم ہے مجھ کو بھی سنورنے كا سلیقہ
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books