aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "samaaj"
حکومتوں کو بدلنا تو کچھ محال نہیںحکومتیں جو بدلتا ہے وہ سماج بھی ہو
دکھی سماج میں آنسو بھرے زمانے میںاسے یہ کون بتائے کہ اشک بار نہ ہو
بڑی عجیب یہ مجبوریاں سماج کی ہیںمنافقوں سے تعلق نبھانا پڑتا ہے
قبول کرتا نہیں یہ دلوں کے رشتوں کوسماج تیرے مرے درمیان اونچا ہے
تم مرا درد کیا سمجھ پاتےتم نے تو شعر تک نہیں سمجھا
میں کیا کروں کہ مری سوچ مختلف ہے بہتمیں کیا کروں مجھے آیا نہیں سماج پسند
لوگ دل کی کہیں تو کیسے کہیںچاہتا ہے سماج سناٹا
کچھ آدمی سماج پہ بوجھل ہیں آج بھیرسی تو جل گئی ہے مگر بل ہیں آج بھی
مجھ کو تو وہ بھی ہے معلوم جو معلوم نہیںیہ سمجھ بوجھ نہیں ہے مری نادانی ہے
نہ دین پر ہیں عمل ہمارے نہ فکر کوئی سماج کی ہےطرح طرح کے جب آج ہم پر عذاب اترے تو لوگ سمجھے
دوستو وقت کی ضرورت ہےپھر بنائیں نیا سماج کوئی
فرحتؔ احساس کی تعظیم میں اٹھا تھا سماجاور وہ اس کی جگہ صورت فرد آ بیٹھے
ارماں کا خوں سماج کی تلوار نے کیامجبور مصلحت سے ہوا اختیار بھی
سمج سے نہ ہر کوئی مانع پرت کےنہیں فہم ہر کس کوں میں اے پچانی
مذہب کا صرف نام ہے ورنہ سماج پراب تک ہے مہر ثبت وہی ذات پات کی
گر گئی ہیں سماج کی قدریںچڑھ گیا آدمی بلندی پر
ہر رسم ہر رواج سے تنگ آ چکے ہیں ابہم اپنے ہی سماج سے تنگ آ چکے ہیں اب
ابھی ہے وقت سنبھالو سماج کو لوگوتمام قدروں کا ڈھہنا کوئی مذاق نہیں
جو وفا کا رواج رکھتے ہیںصاف ستھرا سماج رکھتے ہیں
ہمیشہ جس نے سماج میں کی تمہارے عیبوں کی پردہ پوشیاسی پہ تہمت لگا رہے ہو کوئی سنے گا تو کیا کہے گا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books