aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "zainab"
کیوں سکینہ اور زینب اس قدر خاموش ہیںدور تک صحرا میں دیکھو خامشی ہے کربلا
کوئی اتنا بے سہارا کیسے ہو سکتا ہے یارایک منظر پر گزارا کیسے ہو سکتا ہے یار
چادر دوں اپنے عہد کی زینب کو اور بڑھوںنیزوں پہ جو سجے ہیں سبھی سر سمیٹ لوں
اب کہاں وہ وقت کے بے لوث یاری چاہیئےعمر کے اس دور میں اب ذمہ داری چاہیئے
ایک خطبہ جو دیا حضرت زینب نے خیالؔآج تک ڈال رہا ہے کسی دربار پہ خاک
یوں جونؔ پڑھ کر لہو اگلنے کی مجھ سے شرطیں نہ باندھ لیناغرض کے بے جا گمان پر تم یقیں کی گرہیں نہ باندھ لینا
ہم کو اتنا ہی بس غنیمت ہےنا سہی عشق پر عنایت ہے
مجھے سوال کی شرمندگی سے الجھن تھیوہ میرے پوچھے بنا ہر جواب رکھتا تھا
چاند تو تاروں سے سوا ہی تھاپھر ہزاروں میں بھی جدا ہی تھا
جلتی رتوں میں عمر گزرنے کے بعد ابسرشار ایک سایۂ رحمت نے کر دیا
کلام کرتی ہوں زینب کے لہجے میں بشریٰؔمیں دیں کی راہ میں بیٹے نثار کرتی ہوں
ہو چکا کھیل یہ اسباب اٹھاؤ جاؤکوئی امید نہ اب مجھ کو بندھاؤ جاؤ
خطبہ زینب نے دیا جب سر دربار یزیدنا سمجھ تب کہیں سادات کا مطلب سمجھے
پلکوں کی نوک سے اترتے رہےاس قدر اشک خواب گرتے رہے
کبھی مقدر جو یہ عنایت کرے تو کیا ہوبچھڑ کے مجھ سے وہ میری چاہت کرے تو کیا ہو
گرد باد سفر سے ڈر جاتےرائیگاں عمروں کے سفر جاتے
آؤ ہر یار گزشتہ کو بلایا جائےدل کی حالت کا تماشہ سا بنایا جائے
شوق اب تکمیل کو پہنچا مرادیکھ کیسا زرد ہے چہرہ مرا
وہ کون زوج زینب بنت رسول کابو العاص وہ جو صاحب عز و وقار تھا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books