aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "'umar'"
سنا ہے ایک عمر ہےمعاملات دل کی بھیوصال جاں فزا تو کیافراق جاں گسل کی بھی
یہ دھوپ کنارا شام ڈھلےملتے ہیں دونوں وقت جہاںجو رات نہ دن جو آج نہ کلپل بھر کو امر پل بھر میں دھواںاس دھوپ کنارے پل دو پلہونٹوں کی لپکبانہوں کی چھنکیہ میل ہمارا جھوٹ نہ سچکیوں رار کرو کیوں دوش دھروکس کارن جھوٹی بات کروجب تیری سمندر آنکھوں میںاس شام کا سورج ڈوبے گاسکھ سوئیں گے گھر در والےاور راہی اپنی رہ لے گا
آؤ کہ کوئی خواب بنیں کل کے واسطےورنہ یہ رات آج کے سنگین دور کیڈس لے گی جان و دل کو کچھ ایسے کہ جان و دلتا عمر پھر نہ کوئی حسیں خواب بن سکیں
آج کا دن کیسے گزرے گا کل گزرے گا کیسےکل جو پریشانی میں بیتا وہ بھولے گا کیسےکتنے دن ہم اور جییں گے کام ہیں کتنے باقیکتنے دکھ ہم کاٹ چکے ہیں اور ہیں کتنے باقیخاص طرح کی سوچ تھی جس میں سیدھی بات گنوا دیچھوٹے چھوٹے وہموں ہی میں ساری عمر بتا دی
میں اپنے بند کمرے میں پڑا ہوںاور اک دیوار پر نظریں جمائےمناظر کے عجوبے دیکھتا ہوںاسی دیوار میں کوئی خلا ہےمجھے جو غار جیسا لگ رہا ہےوہاں مکڑی نے جال بن لیا ہےاور اب اپنے ہی جال میں پھنسی ہےوہیں پر ایک مردہ چھپکلی ہےکئی صدیوں سے جو ساکت پڑی ہےاب اس پر کائی جمتی جا رہی ہےاور اس میں ایک جنگل دکھ رہا ہےدرختوں سے پرندے گر رہے ہیںکلہاڑی شاخ پر لٹکی ہوئی ہےلکڑہارے پہ گیدڑ ہنس رہےمسلسل تیز بارش ہو رہی ہےکسی پتے سے گر کر ایک قطرہاچانک ایک سمندر بن گیا ہےسمندر ناؤ سے لڑنے لگا ہےمچھیرا مچھلیوں میں گھر گیا ہےاور اب پتوار سینہ سے لگا کروو نیلے آسماں کو دیکھتا ہےجو یک دم زرد پڑتا جا رہا ہےوو کیسے ریت بنتا جا رہا ہےمجھے اب صرف صحرا دکھ رہا ہےاور اس میں دھوم کی چادر بچھی ہےمگر وو ایک جگہ سے پھٹ رہی ہےوہاں پر ایک سایہ ناچتا ہےجہاں بھی پیر دھرتا ہے وہاں پرسنہرے پھول کھلتے جا رہے ہےیے صحرا باغ بنتا جا رہا ہےاور اس میں تتلیاں دکھتی ہیںپروں میں جن کے نیلی روشنی ہےوہ ہر پل تیز ہوتی جا رہی ہےسو میری آنکھ میں چبھنے لگی ہےسو میں نے ہاتھ آنکھوں پر رکھے ہیںاور اب انگلی ہٹا کر دیکھتا ہوںکہ اپنے بند کمرے میں پڑا ہوںاور اک دیوار کے آگے کھڑا ہوں
سوچا نہ تھا کہ آئے گا یہ دن بھی پھر کبھیاک بار پھر ملے ہیں، ذرا مسکرا تو لیں!کیا جانے اب نہ الفت دیرینہ یاد آئےاس حسن اختیار پہ آنکھیں جھکا تو لیںبرسا لبوں سے پھول تری عمر ہو درازسنبھلے ہوئے تو ہیں پہ ذرا ڈگمگا تو لیں
میں ایک گریزاں لمحہ ہوںایام کے افسوں خانے میںمیں ایک تڑپتا قطرہ ہوںمصروف سفر جو رہتا ہےماضی کی صراحی کے دل سےمستقبل کے پیمانے میںمیں سوتا ہوں اور جاگتا ہوںاور جاگ کے پھر سو جاتا ہوںصدیوں کا پرانا کھیل ہوں میںمیں مر کے امر ہو جاتا ہوں
عمر بھر رینگتے رہنے سے کہیں بہتر ہےایک لمحہ جو تری روح میں وسعت بھر دےایک لمحہ جو ترے گیت کو شوخی دے دےایک لمحہ جو تری لے میں مسرت بھر دے
اک عمر کے بعد تم ملے ہواے میرے وطن کے خوش نواؤہر ہجر کا دن تھا حشر کا دندوزخ تھے فراق کے الاؤروؤں کہ ہنسوں سمجھ نہ آئےہاتھوں میں ہیں پھول دل میں گھاؤتم آئے تو ساتھ ہی تمہارےبچھڑے ہوئے یار یاد آئےاک زخم پہ تم نے ہاتھ رکھااور مجھ کو ہزار یاد آئےوہ سارے رفیق پا بجولاںسب کشتۂ دار یاد آئےہم سب کا ہے ایک ہی قبیلہاک دشت کے سارے ہم سفر ہیںکچھ وہ ہیں جو دوسروں کی خاطرآشفتہ نصیب و در بدر ہیںکچھ وہ ہیں جو خلعت و قبا سےایوان شہی میں معتبر ہیںسقراط و مسیح کے فسانےتم بھی تو بہت سنا رہے تھےمنصور و حسین سے عقیدتتم بھی تو بہت جتا رہے تھےکہتے تھے صداقتیں امر ہیںاوروں کو یہی بتا رہے تھےاور اب جو ہیں جا بجا صلیبیںتم بانسریاں بجا رہے ہواور اب جو ہے کربلا کا نقشہتم مدح یزید گا رہے ہوجب سچ تہ تیغ ہو رہا ہےتم سچ سے نظر چرا رہے ہوجی چاہتا ہے کہ تم سے پوچھوںکیا راز اس اجتناب میں ہےتم اتنے کٹھور تو نہیں تھےیہ بے حسی کسی حساب میں ہےتم چپ ہو تو کس طرح سے چپ ہوجب خلق خدا عذاب میں ہےسوچو تو تمہیں ملا بھی کیا ہےاک لقمۂ تر قلم کی قیمتغیرت کو فروخت کرنے والواک کاسۂ زر قلم کی قیمتپندار کے تاجرو بتاؤدربان کا در قلم کی قیمتناداں تو نہیں ہو تم کہ سمجھوںغفلت سے یہ زہر گھولتے ہوتھامے ہوئے مصلحت کی میزانہر شعر کا وزن تولتے ہوایسے میں سکوت، چشم پوشیایسا ہے کہ جھوٹ بولتے ہواک عمر سے عدل و صدق کی لاشغاصب کی صلیب پر جڑی ہےاس وقت بھی تم غزل سرا ہوجب ظلم کی ہر گھڑی کڑی ہےجنگل پہ لپک رہے ہیں شعلےطاؤس کو رقص کی پڑی ہےہے سب کو عزیز کوئے جاناںاس راہ میں سب جئے مرے ہیںہاں میری بیاض شعر میں بھیبربادئ دل کے مرثیے ہیںمیں نے بھی کیا ہے ٹوٹ کر عشقاور ایک نہیں کئی کیے ہیںلیکن غم عاشقی نہیں ہےایسا جو سبک سری سکھائےیہ غم تو وہ خوش مآل غم ہےجو کوہ سے جوئے شیر لائےتیشے کا ہنر قلم کو بخشےجو قیس کو کوہ کن بنائےاے حیلہ گران شہر شیریںآیا ہوں پہاڑ کاٹ کر میںہے بے وطنی گواہ میریہر چند پھرا ہوں در بدر میںبیچا نہ غرور نے نوازیایسا بھی نہ تھا سبک ہنر میںتم بھی کبھی ہم نوا تھے میرےپھر آج تمہیں یہ کیا ہوا ہےمٹی کے وقار کو نہ بیچویہ عہد ستم جہاد کا ہےدریوزہ گری کے مقبروں سےزنداں کی فصیل خوشنما ہےکب ایک ہی رت رہی ہمیشہیہ ظلم کی فصل بھی کٹے گیجب حرف کہے گا قم بہ اذنیمرتی ہوئی خاک جی اٹھے گیلیلائے وطن کے پیرہن میںبارود کی بو نہیں رہے گیپھر باندھیں گے ابرووں کے دوہےپھر مدح رخ و دہن کہیں گےٹھہرائیں گے ان لبوں کو مطلعجاناں کے لیے سخن کہیں گےافسانۂ یار و قصۂ دلپھر انجمن انجمن کہیں گے
معبود اس آخری سفر میںتنہائی کو سرخ رو ہی رکھناجز تیرے نہیں کوئی نگہ داراس دن بھی خیال تو ہی رکھناجس آنکھ نے عمر بھر رلایااس آنکھ کو بے وضو ہی رکھنا
یہ ہاتھ سلامت ہیں جب تک اس خوں میں حرارت ہے جب تکاس دل میں صداقت ہے جب تک اس نطق میں طاقت ہے جب تکان طوق و سلاسل کو ہم تم سکھلائیں گے شورش بربط و نےوہ شورش جس کے آگے زبوں ہنگامۂ طبل قیصر کےآزاد ہیں اپنے فکر و عمل بھرپور خزینہ ہمت کااک عمر ہے اپنی ہر ساعت امروز ہے اپنا ہر فردایہ شام و سحر یہ شمس و قمر یہ اختر و کوکب اپنے ہیںیہ لوح و قلم یہ طبل و علم یہ مال و حشم سب اپنے ہیں
میں اپنی بیماری بتانے سے معذور ہوںمجھے زبان کی عجیب بیماری ہو گئی ہےسو گفتگو سے پرہیز کرنے پر مجبور ہوںمیرا لہجہ کرخت اور آواز بھاری ہو گئی ہے
آج اندھیرا مری نس نس میں اتر جائے گاآنکھیں بجھ جائیں گی بجھ جائیں گے احساس و شعوراور یہ صدیوں سے جلتا سا سلگتا سا وجوداس سے پہلے کہ سحر ماتھے پہ شبنم چھڑکےاس سے پہلے کہ مری بیٹی کے وہ پھول سے ہاتھگرم رخسار کو ٹھنڈک بخشیںاس سے پہلے کہ مرے بیٹے کا مضبوط بدنتن مفلوج میں شکتی بھر دےاس سے پہلے کہ مری بیوی کے ہونٹمیرے ہونٹوں کی تپش پی جائیںراکھ ہو جائے گا جلتے جلتےاور پھر راکھ بکھر جائے گی
قوم کی بہتری کا چھوڑ خیالفکر تعمیر ملک دل سے نکالتیرا پرچم ہے تیرا دست سوالبے ضمیری کا اور کیا ہو مآلاب قلم سے ازار بند ہی ڈال
جبین وقت پر لکھی ہوئی سچائیاں روشن رہی ہیںتا ابد روشن رہیں گیخدا شاہد ہے اور وہ ذات شاہد ہے کہ جو وجہ اساس انفس و آفاق ہےاور خیر کی تاریخ کا وہ باب اول ہےابد تک جس کا فیضان کرم جاری رہے گایقیں کے آگہی کے روشنی کے قافلے ہر دور میں آتے رہے ہیںتا ابد آتے رہیں گےابوطالب کے بیٹے حفظ ناموس رسالت کی روایت کے امیں تھےجان دینا جانتے تھےوہ مسلم ہوں کہ وہ عباس ہوں عون و محمد ہوں علی اکبر ہوں قاسم ہوں علی اصغر ہوںحق پہچانتے تھےلشکر باطل کو کب گردانتے تھےابوطالب کے بیٹے سر بریدہ ہو کے بھی اعلان حق کرتے رہے ہیںابوطالب کے بیٹے پا بجولاں ہو کے بھی اعلان حق کرتے رہے ہیںابوطالب کے بیٹے صرف زنداں ہو کے بھی اعلان حق کرتے رہے ہیںمدینہ ہو نجف ہو کربلا ہو کاظمین و سامرہ ہو مشہد و بغداد ہوآل ابوطالب کے قدموں کے نشاںانسانیت کو اس کی منزل کا پتہ دیتے رہے ہیں تا ابد دیتے رہیں گےابوطالب کے بیٹوں اور غلامان علی ابن ابی طالب میں اک نسبت رہی ہےمحبت کی یہ نسبت عمر بھر قائم رہے گیتا ابد قائم رہے گی
اٹھاؤ ہاتھ کہ دست دعا بلند کریںہماری عمر کا اک اور دن تمام ہواخدا کا شکر بجا لائیں آج کے دن بھینہ کوئی واقعہ گزرا نہ ایسا کام ہوازباں سے کلمۂ حق راست کچھ کہا جاتاضمیر جاگتا اور اپنا امتحاں ہوتاخدا کا شکر بجا لائیں آج کا دن بھیاسی طرح سے کٹا منہ اندھیرے اٹھ بیٹھےپیالی چائے کی پی خبریں دیکھیں ناشتہ پرثبوت بیٹھے بصیرت کا اپنی دیتے رہےبخیر و خوبی پلٹ آئے جیسے شام ہوئیاور اگلے روز کا موہوم خوف دل میں لیےڈرے ڈرے سے ذرا بال پڑ نہ جائے کہیںلیے دیے یونہی بستر میں جا کے لیٹ گئے
ایک دن حضرت فاروقؓ نے منبر پہ کہاکیا تمہیں حکم جو کچھ دوں تو کرو گے منظورایک نے اٹھ کے کہا یہ کہ نہ مانیں گے کبھیکہ ترے عدل میں ہم کو نظر آتا ہے فتورچادریں مال غنیمت میں جو اب کے آئیںصحن مسجد میں وہ تقسیم ہوئیں سب کے حضوران میں ہر ایک کے حصہ میں فقط اک آئیتھا تمہارا بھی وہی حق کہ یہی ہے دستوراب جو یہ جسم پہ تیرے نظر آتا ہے لباسیہ اسی لوٹ کی چادر سے بنا ہوگا ضرورمختصر تھی وہ ردا اور ترا قد ہے درازایک چادر میں ترا جسم نہ ہوگا مستوراپنے حصہ سے زیادہ جو لیا تو نے تو ابتو خلافت کے نہ قابل ہے نہ ہم ہیں مامورگرچہ وہ حد مناسب سے بڑھا جاتا تھاسب کے سب مہر بہ لب تھے چہ اناث و چہ ذکورروک دے کوئی کسی کو یہ نہ رکھتا تھا مجالنشۂ عدل و مساوات سے سب تھے مخموراپنے فرزند سے فاروق معظم نے کہاتم کو ہے حالت اصلی کی حقیقت پہ عبورتمہیں دے سکتے ہو اس کا مری جانب سے جوابکہ نہ پکڑے مجھے محشر میں مرا رب غفوربولے یہ ابن عمرؓ سب سے مخاطب ہو کراس میں کچھ والد ماجد کا نہیں جرم و قصورایک چادر میں جو پورا نہ ہوا ان کا لباسکر سکی اس کو گوارا نہ مری طبع غیوراپنے حصہ کی بھی میں نے انہیں چادر دے دیواقعہ کی یہ حقیقت ہے کہ جو تھی مستورنکتہ چیں نے یہ کہا اٹھ کے کہ ہاں اے فاروقحکم دے ہم کو کہ اب ہم اسے مانیں گے ضرور
میں وہ شجر تھاکہ میرے سائے میں بیٹھنے اور شاخوں پہ جھولنے کی ہزاروں جسموں کو آرزو تھیزمیں کی آنکھیں درازیٔ عمر کی دعاؤں میں رو رہی تھیںاور سورج کے ہاتھ تھکتے نہیں تھے مجھ کو سنوارنے میںکہ میں اک آواز کا سفر تھاعجب شجر تھاکہ اس مسافر کا منتظر تھاجو میرے سائے میں آ کے بیٹھے تو پھر نہ اٹھےجو میری شاخوں پہ آئے جھولے تو سارے موسم یہیں گزارےمگر وہ پاگل ہوا کا جھونکا مگر وہ پاگل ہوا کا جھونکاعجب مسافر تھا رہ گزر کاجو چھوڑ آیا تھا کتنی شاخیںمگر لگا یوں کہ جیسے اب وہ شکستہ تر ہےوہ میرے خوابوں کا ہم سفر ہےسو میں نے سائے بچھا دئیے تھےتمام جھولے ہلا دئیے تھےمگر وہ پاگل ہوا کا جھونکا مگر وہ پاگل ہوا کا جھونکاعجب مسافر تھا رہ گزر تھاکہ لمحے بھر میں گزر چکا تھامیں بے نمو اور بے ثمر تھامگر میں آواز کا سفر تھاسو میری آواز کا اجر تھاعجب شجر تھاعجب شجر ہوںکہ آنے والے سہ کہہ رہا ہوںاے میرے دل میں اترنے والےاے مجھ کو شاداب کرنے والےتجھے مری روشنی مبارکتجھے مری زندگی مبارک
خیابان سعدی میںروسی کتابوں کی دکان پر ہم کھڑے تھےمجھے روس کے چیدہ صنعت گروں کےنئے کارناموں کی اک عمر سے تشنگی تھی!مجھے روسیوں کے سیاسی ''ہمہ اوست'' سے کوئی رغبت نہیں ہےمگر ذرے ذرے میںانساں کے جوہر کی تابندگی دیکھنے کی تمنا ہمیشہ رہی ہے!اور اس شام تو مرسدہ کی عروسی تھیاس شوخ دیوانی لڑکی کی خاطرمجھے ایک نازک سی سوغات کی جستجو تھی
چھلک کے آنسو گریں گے ان پراٹھا کے سارے بوسیدہ کاغذلگا کے دل سے گلاب سارےلپک کے بھاگو گی پھر گلی میںوہاں پہ بچے جو کھیلتے ہیںتم ان سے پوچھو گی جا کے میرایہاں پہ بستا تھا ایک شاعریہاں پہ رہتا تھا ایک صائمکہاں ہے وہ اب کدھر گیا ہےبچے حیرت سے تجھ کو دیکھیں گےتم ہو وہتم ہو وہجس سے الفت نبھا نبھا کروہ جس کے قصے سنا سنا کروفا کو کر کے امر گیا وہ
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books