aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ",0Opp"
آپ کو علم ہے وہ آج نہیں آئی ہیں؟میری ہر دوست سے اس نے یہی پوچھا ہوگاکیوں نہیں آئی وہ کیا بات ہوئی ہے آخرخود سے اس بات پہ سو بار وہ الجھا ہوگاکل وہ آئے گی تو میں اس سے نہیں بولوں گاآپ ہی آپ کئی بار وہ روٹھا ہوگاوہ نہیں ہے تو بلندی کا سفر کتنا کٹھنسیڑھیاں چڑھتے ہوئے اس نے یہ سوچا ہوگاراہداری میں ہرے لان میں پھولوں کے قریباس نے ہر سمت مجھے آن کے ڈھونڈا ہوگا
کچھ ایسا ہے یہ میں جو ہوں یہ میں اپنے سوا ہوں ''میں''سو اپنے آپ میں شاید نہیں واقع ہوا ہوں میںجو ہونے میں ہو وہ ہر لمحہ اپنا غیر ہوتا ہےکہ ہونے کو تو ہونے سے عجب کچھ بیر ہوتا ہےیوں ہی بس یوں ہی زینوؔ نے یکایک خودکشی کر لیعجب حس ظرافت کے تھے مالک یہ رواقی بھی
اس لئے اے شریف انسانوجنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہےآپ اور ہم سبھی کے آنگن میںشمع جلتی رہے تو بہتر ہے
ہوا بھی خوش گوار ہےگلوں پہ بھی نکھار ہےترنم ہزار ہےبہار پر بہار ہےکہاں چلا ہے ساقیاادھر تو لوٹ ادھر تو آارے یہ دیکھتا ہے کیااٹھا سبو سبو اٹھاسبو اٹھا پیالہ بھرپیالہ بھر کے دے ادھرچمن کی سمت کر نظرسماں تو دیکھ بے خبروہ کالی کالی بدلیاںافق پہ ہو گئیں عیاںوہ اک ہجوم مے کشاںہے سوئے مے کدہ رواںیہ کیا گماں ہے بد گماںسمجھ نہ مجھ کو ناتواںخیال زہد ابھی کہاںابھی تو میں جوان ہوںعبادتوں کا ذکر ہےنجات کی بھی فکر ہےجنون ہے ثواب کاخیال ہے عذاب کامگر سنو تو شیخ جیعجیب شے ہیں آپ بھیبھلا شباب و عاشقیالگ ہوئے بھی ہیں کبھیحسین جلوہ ریز ہوںادائیں فتنہ خیز ہوںہوائیں عطر بیز ہوںتو شوق کیوں نہ تیز ہوںنگار ہائے فتنہ گرکوئی ادھر کوئی ادھرابھارتے ہوں عیش پرتو کیا کرے کوئی بشرچلو جی قصہ مختصرتمہارا نقطۂ نظردرست ہے تو ہو مگرابھی تو میں جوان ہوںیہ گشت کوہسار کییہ سیر جوئے بار کییہ بلبلوں کے چہچہےیہ گل رخوں کے قہقہےکسی سے میل ہو گیاتو رنج و فکر کھو گیاکبھی جو بخت سو گیایہ ہنس گیا وہ رو گیایہ عشق کی کہانیاںیہ رس بھری جوانیاںادھر سے مہربانیاںادھر سے لن ترانیاںیہ آسمان یہ زمیںنظارہ ہائے دل نشیںانہیں حیات آفریںبھلا میں چھوڑ دوں یہیںہے موت اس قدر قریںمجھے نہ آئے گا یقیںنہیں نہیں ابھی نہیںابھی تو میں جوان ہوںنہ غم کشود و بست کابلند کا نہ پست کانہ بود کا نہ ہست کانہ وعدۂ الست کاامید اور یاس گمحواس گم قیاس گمنظر سے آس پاس گمہمہ بجز گلاس گمنہ مے میں کچھ کمی رہےقدح سے ہمدمی رہےنشست یہ جمی رہےیہی ہما ہمی رہےوہ راگ چھیڑ مطرباطرب فزا، الم ربااثر صدائے ساز کاجگر میں آگ دے لگاہر ایک لب پہ ہو صدانہ ہاتھ روک ساقیاپلائے جا پلائے جاابھی تو میں جوان ہوں
یہ بات عجیب سناتے ہو وہ دنیا سے بے آس ہوئےاک نام سنا اور غش کھایا اک ذکر پہ آپ اداس ہوئےوہ علم میں افلاطون سنے وہ شعر میں تلسی داس ہوئےوہ تیس برس کے ہوتے ہیں وہ بی اے ایم اے پاس ہوئےیہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں یہ لوگوں نے پھیلائی ہیںتم انشاؔ جی کا نام نہ لو کیا انشاؔ جی سودائی ہیں
اس نار میں ایسا روپ نہ تھا جس روپ سے دن کی دھوپ دبےاس شہر میں کیا کیا گوری ہے مہتاب رخے گلنار لبےکچھ بات تھی اس کی باتوں میں کچھ بھید تھے اس کی چتون میںوہی بھید کہ جوت جگاتے ہیں کسی چاہنے والے کے من میںاسے اپنا بنانے کی دھن میں ہوا آپ ہی آپ سے بیگانہاس بستی کے اک کوچے میں اک انشاؔ نام کا دیوانا
چھوٹا سا اک گاؤں تھا جس میںدیئے تھے کم اور بہت اندھیرابہت شجر تھے تھوڑے گھر تھےجن کو تھا دوری نے گھیرااتنی بڑی تنہائی تھی جس میںجاگتا رہتا تھا دل میرابہت قدیم فراق تھا جس میںایک مقرر حد سے آگےسوچ نہ سکتا تھا دل میراایسی صورت میں پھر دل کودھیان آتا کس خواب میں تیراراز جو حد سے باہر میں تھااپنا آپ دکھاتا کیسےسپنے کی بھی حد تھی آخرسپنا آگے جاتا کیسے
برتر از اندیشۂ سود و زیاں ہے زندگیہے کبھی جاں اور کبھی تسليم جاں ہے زندگیتو اسے پیمانۂ امروز و فردا سے نہ ناپجاوداں پیہم دواں ہر دم جواں ہے زندگیاپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہےسر آدم ہے ضمیر کن فکاں ہے زندگیزندگانی کی حقیقت کوہ کن کے دل سے پوچھجوئے شير و تيشہ و سنگ گراں ہے زندگیبندگی میں گھٹ کے رہ جاتی ہے اک جوئے کم آباور آزادی میں بحر بیکراں ہے زندگیآشکارا ہے یہ اپنی قوت تسخیر سےگرچہ اک مٹی کے پیکر میں نہاں ہے زندگیقلزم ہستی سے تو ابھرا ہے مانند حباباس زیاں خانے میں تیرا امتحاں ہے زندگیخام ہے جب تک تو ہے مٹی کا اک انبار توپختہ ہو جائے تو ہے شمشير بے زنہار توہو صداقت کے لیے جس دل میں مرنے کی تڑپپہلے اپنے پیکر خاکی میں جاں پیدا کرےپھونک ڈالے یہ زمین و آسمان مستعاراور خاکستر سے آپ اپنا جہاں پیدا کرےزندگی کی قوت پنہاں کو کر دے آشکارتا یہ چنگاری فروغ جاوداں پیدا کرےخاک مشرق پر چمک جائے مثال آفتابتا بدخشاں پھر وہی لعل گراں پیدا کرےسوئے گردوں نالۂ شبگیر کا بھیجے صفیررات کے تاروں میں اپنے رازداں پیدا کرےیہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصۂ محشر میں ہےپیش کر غافل عمل کوئی اگر دفتر میں ہےسلطنت
گل ہوئی جاتی ہے افسردہ سلگتی ہوئی شامدھل کے نکلے گی ابھی چشمۂ مہتاب سے راتاور مشتاق نگاہوں کی سنی جائے گیاور ان ہاتھوں سے مس ہوں گے یہ ترسے ہوئے ہاتان کا آنچل ہے کہ رخسار کہ پیراہن ہےکچھ تو ہے جس سے ہوئی جاتی ہے چلمن رنگیںجانے اس زلف کی موہوم گھنی چھاؤں میںٹمٹماتا ہے وہ آویزہ ابھی تک کہ نہیںآج پھر حسن دل آرا کی وہی دھج ہوگیوہی خوابیدہ سی آنکھیں وہی کاجل کی لکیررنگ رخسار پہ ہلکا سا وہ غازے کا غبارصندلی ہاتھ پہ دھندھلی سی حنا کی تحریراپنے افکار کی اشعار کی دنیا ہے یہیجان مضموں ہے یہی شاہد معنی ہے یہیآج تک سرخ و سیہ صدیوں کے سائے کے تلےآدم و حوا کی اولاد پہ کیا گزری ہے؟موت اور زیست کی روزانہ صف آرائی میںہم پہ کیا گزرے گی اجداد پہ کیا گزری ہے؟ان دمکتے ہوئے شہروں کی فراواں مخلوقکیوں فقط مرنے کی حسرت میں جیا کرتی ہےیہ حسیں کھیت پھٹا پڑتا ہے جوبن جن کا!کس لیے ان میں فقط بھوک اگا کرتی ہےیہ ہر اک سمت پر اسرار کڑی دیواریںجل بجھے جن میں ہزاروں کی جوانی کے چراغیہ ہر اک گام پہ ان خوابوں کی مقتل گاہیںجن کے پرتو سے چراغاں ہیں ہزاروں کے دماغیہ بھی ہیں ایسے کئی اور بھی مضموں ہوں گےلیکن اس شوخ کے آہستہ سے کھلتے ہوئے ہونٹہائے اس جسم کے کمبخت دل آویز خطوطآپ ہی کہیے کہیں ایسے بھی افسوں ہوں گے
نہیں منت کش تاب شنیدن داستاں میریخموشی گفتگو ہے بے زبانی ہے زباں میرییہ دستور زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میںیہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میریاٹھائے کچھ ورق لالے نے کچھ نرگس نے کچھ گل نےچمن میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں میریاڑا لی قمریوں نے طوطیوں نے عندلیبوں نےچمن والوں نے مل کر لوٹ لی طرز فغاں میریٹپک اے شمع آنسو بن کے پروانے کی آنکھوں سےسراپا درد ہوں حسرت بھری ہے داستاں میریالٰہی پھر مزہ کیا ہے یہاں دنیا میں رہنے کاحیات جاوداں میری نہ مرگ ناگہاں میریمرا رونا نہیں رونا ہے یہ سارے گلستاں کاوہ گل ہوں میں خزاں ہر گل کی ہے گویا خزاں میریدریں حسرت سرا عمریست افسون جرس دارمز فیض دل طپیدن ہا خروش بے نفس دارمریاض دہر میں نا آشنائے بزم عشرت ہوںخوشی روتی ہے جس کو میں وہ محروم مسرت ہوںمری بگڑی ہوئی تقدیر کو روتی ہے گویائیمیں حرف زیر لب شرمندۂ گوش سماعت ہوںپریشاں ہوں میں مشت خاک لیکن کچھ نہیں کھلتاسکندر ہوں کہ آئینہ ہوں یا گرد کدورت ہوںیہ سب کچھ ہے مگر ہستی مری مقصد ہے قدرت کاسراپا نور ہو جس کی حقیقت میں وہ ظلمت ہوںخزینہ ہوں چھپایا مجھ کو مشت خاک صحرا نےکسی کو کیا خبر ہے میں کہاں ہوں کس کی دولت ہوںنظر میری نہیں ممنون سیر عرصۂ ہستیمیں وہ چھوٹی سی دنیا ہوں کہ آپ اپنی ولایت ہوںنہ صہبا ہوں نہ ساقی ہوں نہ مستی ہوں نہ پیمانہمیں اس مے خانۂ ہستی میں ہر شے کی حقیقت ہوںمجھے راز دو عالم دل کا آئینہ دکھاتا ہےوہی کہتا ہوں جو کچھ سامنے آنکھوں کے آتا ہےعطا ایسا بیاں مجھ کو ہوا رنگیں بیانوں میںکہ بام عرش کے طائر ہیں میرے ہم زبانوں میںاثر یہ بھی ہے اک میرے جنون فتنہ ساماں کامرا آئینۂ دل ہے قضا کے راز دانوں میںرلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوکہ عبرت خیز ہے تیرا فسانہ سب فسانوں میںدیا رونا مجھے ایسا کہ سب کچھ دے دیا گویالکھا کلک ازل نے مجھ کو تیرے نوحہ خوانوں میںنشان برگ گل تک بھی نہ چھوڑ اس باغ میں گلچیںتری قسمت سے رزم آرائیاں ہیں باغبانوں میںچھپا کر آستیں میں بجلیاں رکھی ہیں گردوں نےعنادل باغ کے غافل نہ بیٹھیں آشیانوں میںسن اے غافل صدا میری یہ ایسی چیز ہے جس کووظیفہ جان کر پڑھتے ہیں طائر بوستانوں میںوطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہےتری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میںذرا دیکھ اس کو جو کچھ ہو رہا ہے ہونے والا ہےدھرا کیا ہے بھلا عہد کہن کی داستانوں میںیہ خاموشی کہاں تک لذت فریاد پیدا کرزمیں پر تو ہو اور تیری صدا ہو آسمانوں میںنہ سمجھوگے تو مٹ جاؤگے اے ہندوستاں والوتمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میںیہی آئین قدرت ہے یہی اسلوب فطرت ہےجو ہے راہ عمل میں گامزن محبوب فطرت ہےہویدا آج اپنے زخم پنہاں کر کے چھوڑوں گالہو رو رو کے محفل کو گلستاں کر کے چھوڑوں گاجلانا ہے مجھے ہر شمع دل کو سوز پنہاں سےتری تاریک راتوں میں چراغاں کر کے چھوڑوں گامگر غنچوں کی صورت ہوں دل درد آشنا پیداچمن میں مشت خاک اپنی پریشاں کر کے چھوڑوں گاپرونا ایک ہی تسبیح میں ان بکھرے دانوں کوجو مشکل ہے تو اس مشکل کو آساں کر کے چھوڑوں گامجھے اے ہم نشیں رہنے دے شغل سینہ کاوی میںکہ میں داغ محبت کو نمایاں کر کے چھوڑوں گادکھا دوں گا جہاں کو جو مری آنکھوں نے دیکھا ہےتجھے بھی صورت آئینہ حیراں کر کے چھوڑوں گاجو ہے پردوں میں پنہاں چشم بینا دیکھ لیتی ہےزمانے کی طبیعت کا تقاضا دیکھ لیتی ہےکیا رفعت کی لذت سے نہ دل کو آشنا تو نےگزاری عمر پستی میں مثال نقش پا تو نےرہا دل بستۂ محفل مگر اپنی نگاہوں کوکیا بیرون محفل سے نہ حیرت آشنا تو نےفدا کرتا رہا دل کو حسینوں کی اداؤں پرمگر دیکھی نہ اس آئینے میں اپنی ادا تو نےتعصب چھوڑ ناداں دہر کے آئینہ خانے میںیہ تصویریں ہیں تیری جن کو سمجھا ہے برا تو نےسراپا نالۂ بیدار سوز زندگی ہو جاسپند آسا گرہ میں باندھ رکھی ہے صدا تو نےصفائے دل کو کیا آرائش رنگ تعلق سےکف آئینہ پر باندھی ہے او ناداں حنا تو نےزمیں کیا آسماں بھی تیری کج بینی پہ روتا ہےغضب ہے سطر قرآں کو چلیپا کر دیا تو نےزباں سے گر کیا توحید کا دعویٰ تو کیا حاصلبنایا ہے بت پندار کو اپنا خدا تو نےکنویں میں تو نے یوسف کو جو دیکھا بھی تو کیا دیکھاارے غافل جو مطلق تھا مقید کر دیا تو نےہوس بالائے منبر ہے تجھے رنگیں بیانی کینصیحت بھی تری صورت ہے اک افسانہ خوانی کیدکھا وہ حسن عالم سوز اپنی چشم پر نم کوجو تڑپاتا ہے پروانے کو رلواتا ہے شبنم کوذرا نظارہ ہی اے بو الہوس مقصد نہیں اس کابنایا ہے کسی نے کچھ سمجھ کر چشم آدم کواگر دیکھا بھی اس نے سارے عالم کو تو کیا دیکھانظر آئی نہ کچھ اپنی حقیقت جام سے جم کوشجر ہے فرقہ آرائی تعصب ہے ثمر اس کایہ وہ پھل ہے کہ جنت سے نکلواتا ہے آدم کونہ اٹھا جذبۂ خورشید سے اک برگ گل تک بھییہ رفعت کی تمنا ہے کہ لے اڑتی ہے شبنم کوپھرا کرتے نہیں مجروح الفت فکر درماں میںیہ زخمی آپ کر لیتے ہیں پیدا اپنے مرہم کومحبت کے شرر سے دل سراپا نور ہوتا ہےذرا سے بیج سے پیدا ریاض طور ہوتا ہےدوا ہر دکھ کی ہے مجروح تیغ آرزو رہناعلاج زخم ہے آزاد احسان رفو رہناشراب بے خودی سے تا فلک پرواز ہے میریشکست رنگ سے سیکھا ہے میں نے بن کے بو رہناتھمے کیا دیدۂ گریاں وطن کی نوحہ خوانی میںعبادت چشم شاعر کی ہے ہر دم با وضو رہنابنائیں کیا سمجھ کر شاخ گل پر آشیاں اپناچمن میں آہ کیا رہنا جو ہو بے آبرو رہناجو تو سمجھے تو آزادی ہے پوشیدہ محبت میںغلامی ہے اسیر امتیاز ما و تو رہنایہ استغنا ہے پانی میں نگوں رکھتا ہے ساغر کوتجھے بھی چاہیئے مثل حباب آبجو رہنانہ رہ اپنوں سے بے پروا اسی میں خیر ہے تیریاگر منظور ہے دنیا میں او بیگانہ خو رہناشراب روح پرور ہے محبت نوع انساں کیسکھایا اس نے مجھ کو مست بے جام و سبو رہنامحبت ہی سے پائی ہے شفا بیمار قوموں نےکیا ہے اپنے بخت خفتہ کو بیدار قوموں نےبیابان محبت دشت غربت بھی وطن بھی ہےیہ ویرانہ قفس بھی آشیانہ بھی چمن بھی ہےمحبت ہی وہ منزل ہے کہ منزل بھی ہے صحرا بھیجرس بھی کارواں بھی راہبر بھی راہزن بھی ہےمرض کہتے ہیں سب اس کو یہ ہے لیکن مرض ایساچھپا جس میں علاج گردش چرخ کہن بھی ہےجلانا دل کا ہے گویا سراپا نور ہو جانایہ پروانہ جو سوزاں ہو تو شمع انجمن بھی ہےوہی اک حسن ہے لیکن نظر آتا ہے ہر شے میںیہ شیریں بھی ہے گویا بے ستوں بھی کوہ کن بھی ہےاجاڑا ہے تمیز ملت و آئیں نے قوموں کومرے اہل وطن کے دل میں کچھ فکر وطن بھی ہےسکوت آموز طول داستان درد ہے ورنہزباں بھی ہے ہمارے منہ میں اور تاب سخن بھی ہےنمیگردید کو تہ رشتۂ معنی رہا کردمحکایت بود بے پایاں بخاموشی ادا کردم
تمہارے نام تمہارے نشاں سے بے سروکارتمہاری یاد کے موسم گزرتے جاتے ہیںبس ایک منظر بے ہجر و وصل ہے جس میںہم اپنے آپ ہی کچھ رنگ بھرتے جاتے ہیں
بہت میں نے سنی ہے آپ کی تقریر مولانامگر بدلی نہیں اب تک مری تقدیر مولاناخدارا شکر کی تلقین اپنے پاس ہی رکھیںیہ لگتی ہے مرے سینے پہ بن کر تیر مولانانہیں میں بول سکتا جھوٹ اس درجہ ڈھٹائی سےیہی ہے جرم میرا اور یہی تقصیر مولاناحقیقت کیا ہے یہ تو آپ جانیں یا خدا جانےسنا ہے جمی کارٹر آپ کا ہے پیر مولانازمینیں ہوں وڈیروں کی مشینیں ہوں لٹیروں کیخدا نے لکھ کے دی ہے یہ تمہیں تحریر مولاناکروڑوں کیوں نہیں مل کر فلسطیں کے لیے لڑتےدعا ہی سے فقط کٹتی نہیں زنجیر مولانا
چند قدموں کے نشاں ہاں کبھی ملتے ہیں کہیںساتھ چلتے ہیں جو کچھ دور فقط چند قدماور پھر ٹوٹ کے گر جاتے ہیں یہ کہتے ہوئےاپنی تنہائی لیے آپ چلو، تنہا اکیلےساتھ آئے جو یہاں کوئی نہیں، کوئی نہیں
ہاں کس کے لیے سب اس کے لیےوہ جس کے لب پر ٹیسو ہیںوہ جس کے نیناں آہو ہیںجو خار بھی ہے اور خوشبو بھیجو درد بھی ہے اور دارو بھیوہ الہڑ سی وہ چنچل سیوہ شاعر سی وہ پاگل سیلوگ آپ ہی آپ سمجھ جائیںہم نام نہ اس کا بتلائیںاے دیکھنے والو تم نے بھیاس نار کی پیت کی آنچوں میںاس دل کا تینا دیکھا ہے؟کل ہم نے سپنا دیکھا ہے
زمانہ آیا ہے بے حجابی کا عام دیدار یار ہوگاسکوت تھا پردہ دار جس کا وہ راز اب آشکار ہوگاگزر گیا اب وہ دور ساقی کہ چھپ کے پیتے تھے پینے والےبنے گا سارا جہان مے خانہ ہر کوئی بادہ خوار ہوگاکبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گےبرہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خارزار ہوگاسنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخرجو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگانکل کے صحرا سے جس نے روما کی سلطنت کو الٹ دیا تھاسنا ہے یہ قدسیوں سے میں نے وہ شیر پھر ہوشیار ہوگاکیا مرا تذکرہ جو ساقی نے بادہ خواروں کی انجمن میںتو پیر مے خانہ سن کے کہنے لگا کہ منہ پھٹ ہے خوار ہوگادیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہےکھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگاتمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گیجو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگاسفینۂ برگ گل بنا لے گا قافلہ مور ناتواں کاہزار موجوں کی ہو کشاکش مگر یہ دریا سے پار ہوگاچمن میں لالہ دکھاتا پھرتا ہے داغ اپنا کلی کلی کویہ جانتا ہے کہ اس دکھاوے سے دل جلوں میں شمار ہوگاجو ایک تھا اے نگاہ تو نے ہزار کر کے ہمیں دکھایایہی اگر کیفیت ہے تیری تو پھر کسے اعتبار ہوگاکہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیںتو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگاخدا کے عاشق تو ہیں ہزاروں بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارےمیں اس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہوگایہ رسم بزم فنا ہے اے دل گناہ ہے جنبش نظر بھیرہے گی کیا آبرو ہماری جو تو یہاں بے قرار ہوگامیں ظلمت شب میں لے کے نکلوں گا اپنے در ماندہ کارواں کوشرر فشاں ہوگی آہ میری نفس مرا شعلہ بار ہوگانہیں ہے غیر از نمود کچھ بھی جو مدعا تیری زندگی کاتو اک نفس میں جہاں سے مٹنا تجھے مثال شرار ہوگانہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانا ابھی وہی کیفیت ہے اس کیکہیں سر راہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا
رات بھر دیدۂ نمناک میں لہراتے رہےسانس کی طرح سے آپ آتے رہے جاتے رہےخوش تھے ہم اپنی تمناؤں کا خواب آئے گااپنا ارمان برافگندہ نقاب آئے گانظریں نیچی کیے شرمائے ہوئے آئے گاکاکلیں چہرے پہ بکھرائے ہوئے آئے گاآ گئی تھی دل مضطر میں شکیبائی سیبج رہی تھی مرے غم خانے میں شہنائی سیپتیاں کھڑکیں تو سمجھا کہ لو آپ آ ہی گئےسجدے مسرور کہ معبود کو ہم پا ہی گئےشب کے جاگے ہوئے تاروں کو بھی نیند آنے لگیآپ کے آنے کی اک آس تھی اب جانے لگیصبح نے سیج سے اٹھتے ہوئے لی انگڑائیاو صبا! تو بھی جو آئی تو اکیلی آئیمیرے محبوب مری نیند اڑانے والےمیرے مسجود مری روح پہ چھانے والےآ بھی جا، تاکہ مرے سجدوں کا ارماں نکلےآ بھی جا، کہ ترے قدموں پہ مری جاں نکلے
رہنے کو سدا دہر میں آتا نہیں کوئیتم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئیڈرتا ہوں کہیں خشک نہ ہو جائے سمندرراکھ اپنی کبھی آپ بہاتا نہیں کوئیاک بار تو خود موت بھی گھبرا گئی ہوگییوں موت کو سینے سے لگاتا نہیں کوئیمانا کہ اجالوں نے تمہیں داغ دئے تھےبے رات ڈھلے شمع بجھاتا نہیں کوئیساقی سے گلا تھا تمہیں مے خانے سے شکوہاب زہر سے بھی پیاس بجھاتا نہیں کوئیہر صبح ہلا دیتا تھا زنجیر زمانہکیوں آج دوانے کو جگاتا نہیں کوئیارتھی تو اٹھا لیتے ہیں سب اشک بہا کےناز دل بیتاب اٹھاتا نہیں کوئی
سچ ہے ہمیں کو آپ کے شکوے بجا نہ تھےبے شک ستم جناب کے سب دوستانہ تھے
حضور آپ اور نصف شب مرے مکان پرحضور کی تمام تر بلائیں میری جان پرحضور خیریت تو ہے حضور کیوں خموش ہیںحضور بولئے کہ وسوسے وبال ہوش ہیںحضور ہونٹ اس طرح سے کپکپا رہے ہیں کیوںحضور آپ ہر قدم پہ لڑ کھڑا رہے ہیں کیوںحضور آپ کی نظر میں نیند کا خمار ہےحضور شاید آج دشمنوں کو کچھ بخار ہےحضور مسکرا رہے ہیں میری بات بات پرحضور کو نہ جانے کیا گماں ہے میری ذات پرحضور منہ سے بہ رہی ہے پیک صاف کیجئےحضور آپ تو نشے میں ہیں معاف کیجئےحضور کیا کہا میں آپ کو بہت عزیز ہوںحضور کا کرم ہے ورنہ میں بھی کوئی چیز ہوںحضور چھوڑیئے ہمیں ہزار اور روگ ہیںحضور جائیے کہ ہم بہت غریب لوگ ہیں
یہ تو اک دنیا کو چاہیںان کو کس نے اپنا جانااور تو سب لوگوں کے ٹھکانےاب بھٹکیں تو آپ ہی بھٹکیںچھوڑا دنیا کو بھٹکاناگیت کبت اور نظمیں غزلیںیہ سب ان کا مال پراناجھوٹی باتیں سچی باتیںبیتی باتیں کیا دہرانااب تو گوری نئے سرے سےاندھیاروں میں دیپ جلانامجبوری؟ کیسی مجبوریآنا ہو تو لاکھ بہانا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books