aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ",Bud"
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہےپر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہےقدسی الاصل ہے رفعت پہ نظر رکھتی ہےخاک سے اٹھتی ہے گردوں پہ گزر رکھتی ہےعشق تھا فتنہ گر و سرکش و چالاک مراآسماں چیر گیا نالۂ بیباک مراپیر گردوں نے کہا سن کے کہیں ہے کوئیبولے سیارے سر عرش بریں ہے کوئیچاند کہتا تھا نہیں اہل زمیں ہے کوئیکہکشاں کہتی تھی پوشیدہ یہیں ہے کوئیکچھ جو سمجھا مرے شکوے کو تو رضواں سمجھامجھ کو جنت سے نکالا ہوا انساں سمجھاتھی فرشتوں کو بھی حیرت کہ یہ آواز ہے کیاعرش والوں پہ بھی کھلتا نہیں یہ راز ہے کیاتا سر عرش بھی انساں کی تگ و تاز ہے کیاآ گئی خاک کی چٹکی کو بھی پرواز ہے کیاغافل آداب سے سکان زمیں کیسے ہیںشوخ و گستاخ یہ پستی کے مکیں کیسے ہیںاس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی برہم ہےتھا جو مسجود ملائک یہ وہی آدم ہےعالم کیف ہے دانائے رموز کم ہےہاں مگر عجز کے اسرار سے نامحرم ہےناز ہے طاقت گفتار پہ انسانوں کوبات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کوآئی آواز غم انگیز ہے افسانہ ترااشک بیتاب سے لبریز ہے پیمانہ تراآسماں گیر ہوا نعرۂ مستانہ تراکس قدر شوخ زباں ہے دل دیوانہ تراشکر شکوے کو کیا حسن ادا سے تو نےہم سخن کر دیا بندوں کو خدا سے تو نےہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیںراہ دکھلائیں کسے رہرو منزل ہی نہیںتربیت عام تو ہے جوہر قابل ہی نہیںجس سے تعمیر ہو آدم کی یہ وہ گل ہی نہیںکوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیںڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیںہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیںامتی باعث رسوائی پیغمبر ہیںبت شکن اٹھ گئے باقی جو رہے بت گر ہیںتھا براہیم پدر اور پسر آزر ہیںبادہ آشام نئے بادہ نیا خم بھی نئےحرم کعبہ نیا بت بھی نئے تم بھی نئےوہ بھی دن تھے کہ یہی مایۂ رعنائی تھانازش موسم گل لالۂ صحرائی تھاجو مسلمان تھا اللہ کا سودائی تھاکبھی محبوب تمہارا یہی ہرجائی تھاکسی یکجائی سے اب عہد غلامی کر لوملت احمد مرسل کو مقامی کر لوکس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہےہم سے کب پیار ہے ہاں نیند تمہیں پیاری ہےطبع آزاد پہ قید رمضاں بھاری ہےتمہیں کہہ دو یہی آئین وفاداری ہےقوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیںجذب باہم جو نہیں محفل انجم بھی نہیںجن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن تم ہونہیں جس قوم کو پروائے نشیمن تم ہوبجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہوبیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ہوہو نکو نام جو قبروں کی تجارت کر کےکیا نہ بیچوگے جو مل جائیں صنم پتھر کےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا کس نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا کس نےمیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا کس نےمیرے قرآن کو سینوں سے لگایا کس نےتھے تو آبا وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہوہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہوکیا کہا بہر مسلماں ہے فقط وعدۂ حورشکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعورعدل ہے فاطر ہستی کا ازل سے دستورمسلم آئیں ہوا کافر تو ملے حور و قصورتم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیںجلوۂ طور تو موجود ہے موسیٰ ہی نہیںمنفعت ایک ہے اس قوم کا نقصان بھی ایکایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایکحرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایککچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایکفرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیںکیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیںکون ہے تارک آئین رسول مختارمصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیارکس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعار اغیارہو گئی کس کی نگہ طرز سلف سے بے زارقلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیںکچھ بھی پیغام محمد کا تمہیں پاس نہیںجا کے ہوتے ہیں مساجد میں صف آرا تو غریبزحمت روزہ جو کرتے ہیں گوارا تو غریبنام لیتا ہے اگر کوئی ہمارا تو غریبپردہ رکھتا ہے اگر کوئی تمہارا تو غریبامرا نشۂ دولت میں ہیں غافل ہم سےزندہ ہے ملت بیضا غربا کے دم سےواعظ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہیبرق طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہیرہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہیفلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہیمسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہےیعنی وہ صاحب اوصاف حجازی نہ رہےشور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابودہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجودوضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنودیہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہودیوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہوتم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہودم تقریر تھی مسلم کی صداقت بیباکعدل اس کا تھا قوی لوث مراعات سے پاکشجر فطرت مسلم تھا حیا سے نمناکتھا شجاعت میں وہ اک ہستی فوق الادراکخود گدازی نم کیفیت صہبایش بودخالی از خویش شدن صورت مینا یش بودہر مسلماں رگ باطل کے لیے نشتر تھااس کے آئینۂ ہستی میں عمل جوہر تھاجو بھروسا تھا اسے قوت بازو پر تھاہے تمہیں موت کا ڈر اس کو خدا کا ڈر تھاباپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہوپھر پسر قابل میراث پدر کیونکر ہوہر کوئی مست مئے ذوق تن آسانی ہےتم مسلماں ہو یہ انداز مسلمانی ہےحیدری فقر ہے نے دولت عثمانی ہےتم کو اسلاف سے کیا نسبت روحانی ہےوہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کراور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کرتم ہو آپس میں غضب ناک وہ آپس میں رحیمتم خطا کار و خطا بیں وہ خطا پوش و کریمچاہتے سب ہیں کہ ہوں اوج ثریا پہ مقیمپہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلب سلیمتخت فغفور بھی ان کا تھا سریر کے بھییوں ہی باتیں ہیں کہ تم میں وہ حمیت ہے بھیخودکشی شیوہ تمہارا وہ غیور و خوددارتم اخوت سے گریزاں وہ اخوت پہ نثارتم ہو گفتار سراپا وہ سراپا کردارتم ترستے ہو کلی کو وہ گلستاں بکناراب تلک یاد ہے قوموں کو حکایت ان کینقش ہے صفحۂ ہستی پہ صداقت ان کیمثل انجم افق قوم پہ روشن بھی ہوئےبت ہندی کی محبت میں برہمن بھی ہوئےشوق پرواز میں مہجور نشیمن بھی ہوئےبے عمل تھے ہی جواں دین سے بدظن بھی ہوئےان کو تہذیب نے ہر بند سے آزاد کیالا کے کعبے سے صنم خانے میں آباد کیاقیس زحمت کش تنہائی صحرا نہ رہےشہر کی کھائے ہوا بادیہ پیما نہ رہےوہ تو دیوانہ ہے بستی میں رہے یا نہ رہےیہ ضروری ہے حجاب رخ لیلا نہ رہےگلۂ جور نہ ہو شکوۂ بیداد نہ ہوعشق آزاد ہے کیوں حسن بھی آزاد نہ ہوعہد نو برق ہے آتش زن ہر خرمن ہےایمن اس سے کوئی صحرا نہ کوئی گلشن ہےاس نئی آگ کا اقوام کہن ایندھن ہےملت ختم رسل شعلہ بہ پیراہن ہےآج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیداآگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدادیکھ کر رنگ چمن ہو نہ پریشاں مالیکوکب غنچہ سے شاخیں ہیں چمکنے والیخس و خاشاک سے ہوتا ہے گلستاں خالیگل بر انداز ہے خون شہدا کی لالیرنگ گردوں کا ذرا دیکھ تو عنابی ہےیہ نکلتے ہوئے سورج کی افق تابی ہےامتیں گلشن ہستی میں ثمر چیدہ بھی ہیںاور محروم ثمر بھی ہیں خزاں دیدہ بھی ہیںسیکڑوں نخل ہیں کاہیدہ بھی بالیدہ بھی ہیںسیکڑوں بطن چمن میں ابھی پوشیدہ بھی ہیںنخل اسلام نمونہ ہے برومندی کاپھل ہے یہ سیکڑوں صدیوں کی چمن بندی کاپاک ہے گرد وطن سے سر داماں تیراتو وہ یوسف ہے کہ ہر مصر ہے کنعاں تیراقافلہ ہو نہ سکے گا کبھی ویراں تیراغیر یک بانگ درا کچھ نہیں ساماں تیرانخل شمع استی و در شعلہ دو ریشۂ توعاقبت سوز بود سایۂ اندیشۂ توتو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سےنشۂ مے کو تعلق نہیں پیمانے سےہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سےپاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سےکشتئ حق کا زمانے میں سہارا تو ہےعصر نو رات ہے دھندلا سا ستارا تو ہےہے جو ہنگامہ بپا یورش بلغاری کاغافلوں کے لیے پیغام ہے بیداری کاتو سمجھتا ہے یہ ساماں ہے دل آزاری کاامتحاں ہے ترے ایثار کا خودداری کاکیوں ہراساں ہے صہیل فرس اعدا سےنور حق بجھ نہ سکے گا نفس اعدا سےچشم اقوام سے مخفی ہے حقیقت تیریہے ابھی محفل ہستی کو ضرورت تیریزندہ رکھتی ہے زمانے کو حرارت تیریکوکب قسمت امکاں ہے خلافت تیریوقت فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہےنور توحید کا اتمام ابھی باقی ہےمثل بو قید ہے غنچے میں پریشاں ہو جارخت بر دوش ہوائے چمنستاں ہو جاہے تنک مایہ تو ذرے سے بیاباں ہو جانغمۂ موج ہے ہنگامۂ طوفاں ہو جاقوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دےدہر میں اسم محمد سے اجالا کر دےہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہوچمن دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہویہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو خم بھی نہ ہوبزم توحید بھی دنیا میں نہ ہو تم بھی نہ ہوخیمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہےنبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہےدشت میں دامن کہسار میں میدان میں ہےبحر میں موج کی آغوش میں طوفان میں ہےچین کے شہر مراقش کے بیابان میں ہےاور پوشیدہ مسلمان کے ایمان میں ہےچشم اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھےرفعت شان رفعنا لک ذکرک دیکھےمردم چشم زمیں یعنی وہ کالی دنیاوہ تمہارے شہدا پالنے والی دنیاگرمی مہر کی پروردہ ہلالی دنیاعشق والے جسے کہتے ہیں بلالی دنیاتپش اندوز ہے اس نام سے پارے کی طرحغوطہ زن نور میں ہے آنکھ کے تارے کی طرحعقل ہے تیری سپر عشق ہے شمشیر تریمرے درویش خلافت ہے جہانگیر تریما سوا اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تریتو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تریکی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیںیہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
ہوا بھی خوش گوار ہےگلوں پہ بھی نکھار ہےترنم ہزار ہےبہار پر بہار ہےکہاں چلا ہے ساقیاادھر تو لوٹ ادھر تو آارے یہ دیکھتا ہے کیااٹھا سبو سبو اٹھاسبو اٹھا پیالہ بھرپیالہ بھر کے دے ادھرچمن کی سمت کر نظرسماں تو دیکھ بے خبروہ کالی کالی بدلیاںافق پہ ہو گئیں عیاںوہ اک ہجوم مے کشاںہے سوئے مے کدہ رواںیہ کیا گماں ہے بد گماںسمجھ نہ مجھ کو ناتواںخیال زہد ابھی کہاںابھی تو میں جوان ہوںعبادتوں کا ذکر ہےنجات کی بھی فکر ہےجنون ہے ثواب کاخیال ہے عذاب کامگر سنو تو شیخ جیعجیب شے ہیں آپ بھیبھلا شباب و عاشقیالگ ہوئے بھی ہیں کبھیحسین جلوہ ریز ہوںادائیں فتنہ خیز ہوںہوائیں عطر بیز ہوںتو شوق کیوں نہ تیز ہوںنگار ہائے فتنہ گرکوئی ادھر کوئی ادھرابھارتے ہوں عیش پرتو کیا کرے کوئی بشرچلو جی قصہ مختصرتمہارا نقطۂ نظردرست ہے تو ہو مگرابھی تو میں جوان ہوںیہ گشت کوہسار کییہ سیر جوئے بار کییہ بلبلوں کے چہچہےیہ گل رخوں کے قہقہےکسی سے میل ہو گیاتو رنج و فکر کھو گیاکبھی جو بخت سو گیایہ ہنس گیا وہ رو گیایہ عشق کی کہانیاںیہ رس بھری جوانیاںادھر سے مہربانیاںادھر سے لن ترانیاںیہ آسمان یہ زمیںنظارہ ہائے دل نشیںانہیں حیات آفریںبھلا میں چھوڑ دوں یہیںہے موت اس قدر قریںمجھے نہ آئے گا یقیںنہیں نہیں ابھی نہیںابھی تو میں جوان ہوںنہ غم کشود و بست کابلند کا نہ پست کانہ بود کا نہ ہست کانہ وعدۂ الست کاامید اور یاس گمحواس گم قیاس گمنظر سے آس پاس گمہمہ بجز گلاس گمنہ مے میں کچھ کمی رہےقدح سے ہمدمی رہےنشست یہ جمی رہےیہی ہما ہمی رہےوہ راگ چھیڑ مطرباطرب فزا، الم ربااثر صدائے ساز کاجگر میں آگ دے لگاہر ایک لب پہ ہو صدانہ ہاتھ روک ساقیاپلائے جا پلائے جاابھی تو میں جوان ہوں
سلسلۂ روز و شب نقش گر حادثاتسلسلۂ روز و شب اصل حیات و مماتسلسلۂ روز و شب تار حریر دو رنگجس سے بناتی ہے ذات اپنی قبائے صفاتسلسلۂ روز و شب ساز ازل کی فغاںجس سے دکھاتی ہے ذات زیر و بم ممکناتتجھ کو پرکھتا ہے یہ مجھ کو پرکھتا ہے یہسلسلۂ روز و شب صیرفی کائناتتو ہو اگر کم عیار میں ہوں اگر کم عیارموت ہے تیری برات موت ہے میری براتتیرے شب و روز کی اور حقیقت ہے کیاایک زمانے کی رو جس میں نہ دن ہے نہ راتآنی و فانی تمام معجزہ ہائے ہنرکار جہاں بے ثبات کار جہاں بے ثباتاول و آخر فنا باطن و ظاہر فنانقش کہن ہو کہ نو منزل آخر فناہے مگر اس نقش میں رنگ ثبات دوامجس کو کیا ہو کسی مرد خدا نے تماممرد خدا کا عمل عشق سے صاحب فروغعشق ہے اصل حیات موت ہے اس پر حرامتند و سبک سیر ہے گرچہ زمانے کی روعشق خود اک سیل ہے سیل کو لیتا ہے تھامعشق کی تقویم میں عصر رواں کے سوااور زمانے بھی ہیں جن کا نہیں کوئی نامعشق دم جبرئیل عشق دل مصطفیعشق خدا کا رسول عشق خدا کا کلامعشق کی مستی سے ہے پیکر گل تابناکعشق ہے صہبائے خام عشق ہے کاس الکرامعشق فقیہہ حرام عشق امیر جنودعشق ہے ابن السبیل اس کے ہزاروں مقامعشق کے مضراب سے نغمۂ تار حیاتعشق سے نور حیات عشق سے نار حیاتاے حرم قرطبہ عشق سے تیرا وجودعشق سراپا دوام جس میں نہیں رفت و بودرنگ ہو یا خشت و سنگ چنگ ہو یا حرف و صوتمعجزۂ فن کی ہے خون جگر سے نمودقطرۂ خون جگر سل کو بناتا ہے دلخون جگر سے صدا سوز و سرور و سرودتیری فضا دل فروز میری نوا سینہ سوزتجھ سے دلوں کا حضور مجھ سے دلوں کی کشودعرش معلی سے کم سینۂ آدم نہیںگرچہ کف خاک کی حد ہے سپہر کبودپیکر نوری کو ہے سجدہ میسر تو کیااس کو میسر نہیں سوز و گداز سجودکافر ہندی ہوں میں دیکھ مرا ذوق و شوقدل میں صلوٰۃ و درود لب پہ صلوٰۃ و درودشوق مری لے میں ہے شوق مری نے میں ہےنغمۂ اللہ ہو میرے رگ و پے میں ہےتیرا جلال و جمال مرد خدا کی دلیلوہ بھی جلیل و جمیل تو بھی جلیل و جمیلتیری بنا پائیدار تیرے ستوں بے شمارشام کے صحرا میں ہو جیسے ہجوم نخیلتیرے در و بام پر وادی ایمن کا نورتیرا منار بلند جلوہ گہ جبرئیلمٹ نہیں سکتا کبھی مرد مسلماں کہ ہےاس کی اذانوں سے فاش سر کلیم و خلیلاس کی زمیں بے حدود اس کا افق بے ثغوراس کے سمندر کی موج دجلہ و دنیوب و نیلاس کے زمانے عجیب اس کے فسانے غریبعہد کہن کو دیا اس نے پیام رحیلساقی ارباب ذوق فارس میدان شوقبادہ ہے اس کا رحیق تیغ ہے اس کی اصیلمرد سپاہی ہے وہ اس کی زرہ لا الہسایۂ شمشیر میں اس کی پنہ لا الہتجھ سے ہوا آشکار بندۂ مومن کا رازاس کے دنوں کی تپش اس کی شبوں کا گدازاس کا مقام بلند اس کا خیال عظیماس کا سرور اس کا شوق اس کا نیاز اس کا نازہاتھ ہے اللہ کا بندۂ مومن کا ہاتھغالب و کار آفریں کار کشا کارسازخاکی و نوری نہاد بندۂ مولا صفاتہر دو جہاں سے غنی اس کا دل بے نیازاس کی امیدیں قلیل اس کے مقاصد جلیلاس کی ادا دل فریب اس کی نگہ دل نوازآج بھی اس دیس میں عام ہے چشم غزالاور نگاہوں کے تیر آج بھی ہیں دل نشیںبوئے یمن آج بھی اس کی ہواؤں میں ہےرنگ حجاز آج بھی اس کی نواؤں میں ہےدیدۂ انجم میں ہے تیری زمیں آسماںآہ کہ صدیوں سے ہے تیری فضا بے اذاںکون سی وادی میں ہے کون سی منزل میں ہےعشق بلا خیز کا قافلۂ سخت جاںدیکھ چکا المنی شورش اصلاح دیںجس نے نہ چھوڑے کہیں نقش کہن کے نشاںحرف غلط بن گئی عصمت پیر کنشتاور ہوئی فکر کی کشتئ نازک رواںچشم فرانسیس بھی دیکھ چکی انقلابجس سے دگر گوں ہوا مغربیوں کا جہاںملت رومی نژاد کہنہ پرستی سے پیرلذت تجدیدہ سے وہ بھی ہوئی پھر جواںروح مسلماں میں ہے آج وہی اضطرابراز خدائی ہے یہ کہہ نہیں سکتی زباںنرم دم گفتگو گرم دم جستجورزم ہو یا بزم ہو پاک دل و پاک بازنقطۂ پرکار حق مرد خدا کا یقیںاور یہ عالم تمام وہم و طلسم و مجازعقل کی منزل ہے وہ عشق کا حاصل ہے وہحلقۂ آفاق میں گرمئ محفل ہے وہکعبۂ ارباب فن سطوت دین مبیںتجھ سے حرم مرتبت اندلسیوں کی زمیںہے تہ گردوں اگر حسن میں تیری نظیرقلب مسلماں میں ہے اور نہیں ہے کہیںآہ وہ مردان حق وہ عربی شہسوارحامل خلق عظیم صاحب صدق و یقیںجن کی حکومت سے ہے فاش یہ رمز غریبسلطنت اہل دل فقر ہے شاہی نہیںجن کی نگاہوں نے کی تربیت شرق و غربظلمت یورپ میں تھی جن کی خرد راہ بیںجن کے لہو کے طفیل آج بھی ہیں اندلسیخوش دل و گرم اختلاط سادہ و روشن جبیںدیکھیے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیاگنبد نیلوفری رنگ بدلتا ہے کیاوادی کہسار میں غرق شفق ہے سحابلعل بدخشاں کے ڈھیر چھوڑ گیا آفتابسادہ و پرسوز ہے دختر دہقاں کا گیتکشتئ دل کے لیے سیل ہے عہد شبابآب روان کبیر تیرے کنارے کوئیدیکھ رہا ہے کسی اور زمانے کا خوابعالم نو ہے ابھی پردۂ تقدیر میںمیری نگاہوں میں ہے اس کی سحر بے حجابپردہ اٹھا دوں اگر چہرۂ افکار سےلا نہ سکے گا فرنگ میری نواؤں کی تابجس میں نہ ہو انقلاب موت ہے وہ زندگیروح امم کی حیات کشمکش انقلابصورت شمشیر ہے دست قضا میں وہ قومکرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حسابنقش ہیں سب ناتمام خون جگر کے بغیرنغمہ ہے سودائے خام خون جگر کے بغیر
نہیں منت کش تاب شنیدن داستاں میریخموشی گفتگو ہے بے زبانی ہے زباں میرییہ دستور زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میںیہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میریاٹھائے کچھ ورق لالے نے کچھ نرگس نے کچھ گل نےچمن میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں میریاڑا لی قمریوں نے طوطیوں نے عندلیبوں نےچمن والوں نے مل کر لوٹ لی طرز فغاں میریٹپک اے شمع آنسو بن کے پروانے کی آنکھوں سےسراپا درد ہوں حسرت بھری ہے داستاں میریالٰہی پھر مزہ کیا ہے یہاں دنیا میں رہنے کاحیات جاوداں میری نہ مرگ ناگہاں میریمرا رونا نہیں رونا ہے یہ سارے گلستاں کاوہ گل ہوں میں خزاں ہر گل کی ہے گویا خزاں میریدریں حسرت سرا عمریست افسون جرس دارمز فیض دل طپیدن ہا خروش بے نفس دارمریاض دہر میں نا آشنائے بزم عشرت ہوںخوشی روتی ہے جس کو میں وہ محروم مسرت ہوںمری بگڑی ہوئی تقدیر کو روتی ہے گویائیمیں حرف زیر لب شرمندۂ گوش سماعت ہوںپریشاں ہوں میں مشت خاک لیکن کچھ نہیں کھلتاسکندر ہوں کہ آئینہ ہوں یا گرد کدورت ہوںیہ سب کچھ ہے مگر ہستی مری مقصد ہے قدرت کاسراپا نور ہو جس کی حقیقت میں وہ ظلمت ہوںخزینہ ہوں چھپایا مجھ کو مشت خاک صحرا نےکسی کو کیا خبر ہے میں کہاں ہوں کس کی دولت ہوںنظر میری نہیں ممنون سیر عرصۂ ہستیمیں وہ چھوٹی سی دنیا ہوں کہ آپ اپنی ولایت ہوںنہ صہبا ہوں نہ ساقی ہوں نہ مستی ہوں نہ پیمانہمیں اس مے خانۂ ہستی میں ہر شے کی حقیقت ہوںمجھے راز دو عالم دل کا آئینہ دکھاتا ہےوہی کہتا ہوں جو کچھ سامنے آنکھوں کے آتا ہےعطا ایسا بیاں مجھ کو ہوا رنگیں بیانوں میںکہ بام عرش کے طائر ہیں میرے ہم زبانوں میںاثر یہ بھی ہے اک میرے جنون فتنہ ساماں کامرا آئینۂ دل ہے قضا کے راز دانوں میںرلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوکہ عبرت خیز ہے تیرا فسانہ سب فسانوں میںدیا رونا مجھے ایسا کہ سب کچھ دے دیا گویالکھا کلک ازل نے مجھ کو تیرے نوحہ خوانوں میںنشان برگ گل تک بھی نہ چھوڑ اس باغ میں گلچیںتری قسمت سے رزم آرائیاں ہیں باغبانوں میںچھپا کر آستیں میں بجلیاں رکھی ہیں گردوں نےعنادل باغ کے غافل نہ بیٹھیں آشیانوں میںسن اے غافل صدا میری یہ ایسی چیز ہے جس کووظیفہ جان کر پڑھتے ہیں طائر بوستانوں میںوطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہےتری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میںذرا دیکھ اس کو جو کچھ ہو رہا ہے ہونے والا ہےدھرا کیا ہے بھلا عہد کہن کی داستانوں میںیہ خاموشی کہاں تک لذت فریاد پیدا کرزمیں پر تو ہو اور تیری صدا ہو آسمانوں میںنہ سمجھوگے تو مٹ جاؤگے اے ہندوستاں والوتمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میںیہی آئین قدرت ہے یہی اسلوب فطرت ہےجو ہے راہ عمل میں گامزن محبوب فطرت ہےہویدا آج اپنے زخم پنہاں کر کے چھوڑوں گالہو رو رو کے محفل کو گلستاں کر کے چھوڑوں گاجلانا ہے مجھے ہر شمع دل کو سوز پنہاں سےتری تاریک راتوں میں چراغاں کر کے چھوڑوں گامگر غنچوں کی صورت ہوں دل درد آشنا پیداچمن میں مشت خاک اپنی پریشاں کر کے چھوڑوں گاپرونا ایک ہی تسبیح میں ان بکھرے دانوں کوجو مشکل ہے تو اس مشکل کو آساں کر کے چھوڑوں گامجھے اے ہم نشیں رہنے دے شغل سینہ کاوی میںکہ میں داغ محبت کو نمایاں کر کے چھوڑوں گادکھا دوں گا جہاں کو جو مری آنکھوں نے دیکھا ہےتجھے بھی صورت آئینہ حیراں کر کے چھوڑوں گاجو ہے پردوں میں پنہاں چشم بینا دیکھ لیتی ہےزمانے کی طبیعت کا تقاضا دیکھ لیتی ہےکیا رفعت کی لذت سے نہ دل کو آشنا تو نےگزاری عمر پستی میں مثال نقش پا تو نےرہا دل بستۂ محفل مگر اپنی نگاہوں کوکیا بیرون محفل سے نہ حیرت آشنا تو نےفدا کرتا رہا دل کو حسینوں کی اداؤں پرمگر دیکھی نہ اس آئینے میں اپنی ادا تو نےتعصب چھوڑ ناداں دہر کے آئینہ خانے میںیہ تصویریں ہیں تیری جن کو سمجھا ہے برا تو نےسراپا نالۂ بیدار سوز زندگی ہو جاسپند آسا گرہ میں باندھ رکھی ہے صدا تو نےصفائے دل کو کیا آرائش رنگ تعلق سےکف آئینہ پر باندھی ہے او ناداں حنا تو نےزمیں کیا آسماں بھی تیری کج بینی پہ روتا ہےغضب ہے سطر قرآں کو چلیپا کر دیا تو نےزباں سے گر کیا توحید کا دعویٰ تو کیا حاصلبنایا ہے بت پندار کو اپنا خدا تو نےکنویں میں تو نے یوسف کو جو دیکھا بھی تو کیا دیکھاارے غافل جو مطلق تھا مقید کر دیا تو نےہوس بالائے منبر ہے تجھے رنگیں بیانی کینصیحت بھی تری صورت ہے اک افسانہ خوانی کیدکھا وہ حسن عالم سوز اپنی چشم پر نم کوجو تڑپاتا ہے پروانے کو رلواتا ہے شبنم کوذرا نظارہ ہی اے بو الہوس مقصد نہیں اس کابنایا ہے کسی نے کچھ سمجھ کر چشم آدم کواگر دیکھا بھی اس نے سارے عالم کو تو کیا دیکھانظر آئی نہ کچھ اپنی حقیقت جام سے جم کوشجر ہے فرقہ آرائی تعصب ہے ثمر اس کایہ وہ پھل ہے کہ جنت سے نکلواتا ہے آدم کونہ اٹھا جذبۂ خورشید سے اک برگ گل تک بھییہ رفعت کی تمنا ہے کہ لے اڑتی ہے شبنم کوپھرا کرتے نہیں مجروح الفت فکر درماں میںیہ زخمی آپ کر لیتے ہیں پیدا اپنے مرہم کومحبت کے شرر سے دل سراپا نور ہوتا ہےذرا سے بیج سے پیدا ریاض طور ہوتا ہےدوا ہر دکھ کی ہے مجروح تیغ آرزو رہناعلاج زخم ہے آزاد احسان رفو رہناشراب بے خودی سے تا فلک پرواز ہے میریشکست رنگ سے سیکھا ہے میں نے بن کے بو رہناتھمے کیا دیدۂ گریاں وطن کی نوحہ خوانی میںعبادت چشم شاعر کی ہے ہر دم با وضو رہنابنائیں کیا سمجھ کر شاخ گل پر آشیاں اپناچمن میں آہ کیا رہنا جو ہو بے آبرو رہناجو تو سمجھے تو آزادی ہے پوشیدہ محبت میںغلامی ہے اسیر امتیاز ما و تو رہنایہ استغنا ہے پانی میں نگوں رکھتا ہے ساغر کوتجھے بھی چاہیئے مثل حباب آبجو رہنانہ رہ اپنوں سے بے پروا اسی میں خیر ہے تیریاگر منظور ہے دنیا میں او بیگانہ خو رہناشراب روح پرور ہے محبت نوع انساں کیسکھایا اس نے مجھ کو مست بے جام و سبو رہنامحبت ہی سے پائی ہے شفا بیمار قوموں نےکیا ہے اپنے بخت خفتہ کو بیدار قوموں نےبیابان محبت دشت غربت بھی وطن بھی ہےیہ ویرانہ قفس بھی آشیانہ بھی چمن بھی ہےمحبت ہی وہ منزل ہے کہ منزل بھی ہے صحرا بھیجرس بھی کارواں بھی راہبر بھی راہزن بھی ہےمرض کہتے ہیں سب اس کو یہ ہے لیکن مرض ایساچھپا جس میں علاج گردش چرخ کہن بھی ہےجلانا دل کا ہے گویا سراپا نور ہو جانایہ پروانہ جو سوزاں ہو تو شمع انجمن بھی ہےوہی اک حسن ہے لیکن نظر آتا ہے ہر شے میںیہ شیریں بھی ہے گویا بے ستوں بھی کوہ کن بھی ہےاجاڑا ہے تمیز ملت و آئیں نے قوموں کومرے اہل وطن کے دل میں کچھ فکر وطن بھی ہےسکوت آموز طول داستان درد ہے ورنہزباں بھی ہے ہمارے منہ میں اور تاب سخن بھی ہےنمیگردید کو تہ رشتۂ معنی رہا کردمحکایت بود بے پایاں بخاموشی ادا کردم
۱یہ شام اک آئینۂ نیلگوں یہ نم یہ مہکیہ منظروں کی جھلک کھیت باغ دریا گاؤںوہ کچھ سلگتے ہوئے کچھ سلگنے والے الاؤسیاہیوں کا دبے پاؤں آسماں سے نزوللٹوں کو کھول دے جس طرح شام کی دیویپرانے وقت کے برگد کی یہ اداس جٹائیںقریب و دور یہ گو دھول کی ابھرتی گھٹائیںیہ کائنات کا ٹھہراؤ یہ اتھاہ سکوتیہ نیم تیرہ فضا روز گرم کا تابوتدھواں دھواں سی زمیں ہے گھلا گھلا سا فلک۲یہ چاندنی یہ ہوائیں یہ شاخ گل کی لچکیہ دور بادہ یہ ساز خموش فطرت کےسنائی دینے لگی جگمگاتے سینوں میںدلوں کے نازک و شفاف آبگینوں میںترے خیال کی پڑتی ہوئی کرن کی کھنک۳یہ رات چھنتی ہواؤں کی سوندھی سوندھی مہکیہ کھیت کرتی ہوئی چاندنی کی نرم دمکسگندھ رات کی رانی کی جب مچلتی ہےفضا میں روح طرب کروٹیں بدلتی ہےیہ روپ سر سے قدم تک حسین جیسے گناہیہ عارضوں کی دمک یہ فسون چشم سیاہیہ دھج نہ دے جو اجنتا کی صنعتوں کو پناہیہ سینہ پڑ ہی گئی دیو لوک کی بھی نگاہیہ سر زمین سے آکاش کی پرستش گاہاتارتے ہیں تری آرتی ستارہ و ماہسجل بدن کی بیاں کس طرح ہو کیفیتسرسوتی کے بجاتے ہوئے ستار کی گتجمال یار ترے گلستاں کی رہ رہ کےجبین ناز تری کہکشاں کی رہ رہ کےدلوں میں آئینہ در آئینہ سہانی جھلک۴یہ چھب یہ روپ یہ جوبن یہ سج یہ دھج یہ لہکچمکتے تاروں کی کرنوں کی نرم نرم پھواریہ رسمساتے بدن کا اٹھان اور یہ ابھارفضا کے آئینہ میں جیسے لہلہائے بہاریہ بے قرار یہ بے اختیار جوش نمودکہ جیسے نور کا فوارہ ہو شفق آلودیہ جلوے پیکر شب-تاب کے یہ بزم شہودیہ مستیاں کہ مئے صاف و درد سب بے بودخجل ہو لعل یمن عضو عضو کی وہ ڈلک۵بس اک ستارۂ شنگرف کی جبیں پہ جھمکوہ چال جس سے لبالب گلابیاں چھلکیںسکوں نما خم ابرو یہ ادھ کھلیں پلکیںہر اک نگاہ سے ایمن کی بجلیاں لپکیںیہ آنکھ جس میں کئی آسماں دکھائی پڑیںاڑا دیں ہوش وہ کانوں کی سادہ سادہ لویںگھٹائیں وجد میں آئیں یہ گیسوؤں کی لٹک۶یہ کیف و رنگ نظارہ یہ بجلیوں کی لپککہ جیسے کرشن سے رادھا کی آنکھ اشارے کرےوہ شوخ اشارے کہ ربانیت بھی جائے جھپکجمال سر سے قدم تک تمام شعلہ ہےسکون جنبش و رم تک تمام شعلہ ہےمگر وہ شعلہ کہ آنکھوں میں ڈال دے ٹھنڈک۷یہ رات نیند میں ڈوبے ہوئے سے ہیں دیپکفضا میں بجھ گئے اڑ اڑ کے جگنوؤں کے شرارکچھ اور تاروں کی آنکھوں کا بڑھ چلا ہے خمارفسردہ چھٹکی ہوئی چاندنی کا دھندلا غباریہ بھیگی بھیگی اداہٹ یہ بھیگا بھیگا نورکہ جیسے چشمۂ ظلمات میں جلے کافوریہ ڈھلتی رات ستاروں کے قلب کا یہ گدازخنک فضا میں ترا شبنمی تبسم نازجھلک جمال کی تعبیر خواب آئینہ سازجہاں سے جسم کو دیکھیں تمام ناز و نیازجہاں نگاہ ٹھہر جائے راز اندر رازسکوت نیم شبی لہلہے بدن کا نکھارکہ جیسے نیند کی وادی میں جاگتا سنسارہے بزم ماہ کہ پرچھائیوں کی بستی ہےفضا کی اوٹ سے وہ خامشی برستی ہےکہ بوند بوند سے پیدا ہو گوش و دل میں کھنک۸کسی خیال میں ہے غرق چاندنی کی چمکہوائیں نیند کے کھیتوں سے جیسے آتی ہوںحیات و موت میں سرگوشیاں سی ہوتی ہیںکروڑوں سال کے جاگے ستارے نم دیدہسیاہ گیسوؤں کے سانپ نیم خوابیدہیہ پچھلی رات یہ رگ رگ میں نرم نرم کسک
یہ برہنگی جسے دیکھ کر بڑھیں دست و پا نہ کھلے زباںنہ خیال ہی میں رہے تواںتو وہ ریگ زار کہ جیسے رہزن پیر ہوجسے تاب راہزنی نہ ہوکہ مثال طائر نیم جاںجسے یاد بال و پری نہ ہوکسی راہرو سے امید رحم و کرم لیےمیں بھرا ہوا ہوں سمندروں کے جلال سےچلا آ رہا ہوں میں ساحلوں کا حشم لیےہے ابھی انہی کی طرف مرا در دل کھلاکہ نسیم خندہ کو رہ ملےمری تیرگی کو نگہ ملےوہ سرور و سوز صدف ابھی مجھے یاد ہےابھی چاٹتی ہے سمندروں کی زباں مجھےمرے پاؤں چھو کے نکل گئی کوئی موج ساز بکف ابھیوہ حلاوتیں مرے ہست و بود میں بھر گئیںوہ جزیرے جن کے افق ہجوم سحر سے دید بہار تھےوہ پرندے اپنی طلب میں جو سر کار تھےوہ پرندے جن کی صفیر میں تھیں رسالتیںابھی اس صفیر کی جلوتیں مرے خوں میں ہیںابھی ذہن ہے وہ صنم لیےجو سمندروں کے فسوں میں ہیںچلا آ رہا ہوں سمندروں کے جمال سےصدف و کنار کا غم لیے
مرگ اسرافیل پر آنسو بہاؤوہ خداؤں کا مقرب وہ خداوند کلامصوت انسانی کی روح جاوداںآسمانوں کی ندائے بیکراںآج ساکت مثل حرف ناتماممرگ اسرافیل پر آنسو بہاؤآؤ اسرافیل کے اس خواب بے ہنگام پر آنسو بہائیںآرمیدہ ہے وہ یوں قرنا کے پاسجیسے طوفاں نے کنارے پر اگل ڈالا اسےریگ ساحل پر چمکتی دھوپ میں چپ چاپاپنے صور کے پہلو میں وہ خوابیدہ ہےاس کی دستار اس کے گیسو اس کی ریشکیسے خاک آلودہ ہیںتھے کبھی جن کی تہیں بود و نبودکیسے اس کا صور اس کے لب سے دوراپنی چیخوں اپنی فریادوں میں گمجھلملا اٹھتے تھے جس سے دیر و زودمرگ اسرافیل پر آنسو بہاؤوہ مجسم ہمہمہ تھا وہ مجسم زمزمہوہ ازل سے تا ابد پھیلی ہوئی غیبی صداؤں کا نشاںمرگ اسرافیل سےحلقہ در حلقہ فرشتے نوحہ گرابن آدم زلف در خاک و نزارحضرت یزداں کی آنکھیں غم سے تارآسمانوں کی صفیر آتی نہیںعالم لاہوت سے کوئی نفیر آتی نہیںمرگ اسرافیل سےاس جہاں پر بند آوازوں کا رزقمطربوں کا رزق اور سازوں کا رزقاب مغنی کس طرح گائے گا اور گائے گا کیاسننے والوں کے دلوں کے تار چپاب کوئی رقاص کیا تھرکے گا لہرائے گا کیابزم کے فرش و در و دیوار چپاب خطیب شہر فرمائے گا کیامسجدوں کے آستان و گنبد و مینار چپفکر کا صیاد اپنا دام پھیلائے گا کیاطائران منزل و کہسار چپمرگ اسرافیل ہےگوش شنوا کی لب گویا کی موتچشم بینا کی دل دانا کی موتتھی اسی کے دم سے درویشوں کی ساری ہاؤ ہواہل دل کی اہل دل سے گفتگواہل دل جو آج گوشہ گیر و سرمہ در گلواب تنا تا ہو بھی غائب اور یارب ہا بھی گماب گلی کوچوں کی ہر آوا بھی گمیہ ہمارا آخری ملجا بھی گممرگ اسرافیل سےاس جہاں کا وقت جیسے سو گیا پتھرا گیاجیسے کوئی ساری آوازوں کو یکسر کھا گیاایسی تنہائی کہ حسن تام یاد آتا نہیںایسا سناٹا کہ اپنا نام یاد آتا نہیںمرگ اسرافیل سےدیکھتے رہ جائیں گے دنیا کے آمر بھیزباں بندی کے خوابجس میں مجبوروں کی سرگوشی تو ہواس خداوندی کے خواب
نیم شب چاند خود فراموشیمحفل ہست و بود ویراں ہےپیکر التجا ہے خاموشیبزم انجم فسردہ ساماں ہےآبشار سکوت جاری ہےچار سو بے خودی سی طاری ہےزندگی جزو خواب ہے گویاساری دنیا سراب ہے گویاسو رہی ہے گھنے درختوں پر!چاندنی کی تھکی ہوئی آوازکہکشاں نیم وا نگاہوں سےکہہ رہی ہے حدیث شوق نیازساز دل کے خموش تاروں سےچھن رہا ہے خمار کیف آگیںآرزو خواب تیرا روئے حسیں
اے آفتاب روح و روان جہاں ہے توشیرازہ بند دفتر کون و مکاں ہے توباعث ہے تو وجود و عدم کی نمود کاہے سبز تیرے دم سے چمن ہست و بود کاقائم یہ عنصروں کا تماشا تجھی سے ہےہر شے میں زندگی کا تقاضا تجھی سے ہےہر شے کو تیری جلوہ گری سے ثبات ہےتیرا یے سوز و ساز سراپا حیات ہےوہ آفتاب جس سے زمانے میں نور ہےدل ہے خرد ہے روح رواں ہے شعور ہےاے آفتاب ہم کو ضيائے شعور دےچشم خرد کو اپنی تجلی سے نور دےہے محفل وجود کا ساماں طراز تويزدان ساکنان نشيب و فراز توتیرا کمال ہستی ہر جان دار میںتیری نمود سلسلہ کوہسار میںہر چیز کی حیات کا پروردگار توزائيدگان نور کا ہے تاجدار تونے ابتدا کوئی نہ کوئی انتہا تریآزاد قيد اول و آخر ضیا تری
پھولوں پہ رقص اور نہ بہاروں پہ رقص کرگلزار ہست و بود میں خاروں پہ رقص کرہو کر جمود گلشن جنت سے بے نیازدوزخ کے بے پناہ شراروں پہ رقص کرشمع سحر فسون تبسم، حیات گلفطرت کے ان عجیب نظاروں پہ رقص کرتنظیم کائنات جنوں کی ہنسی اڑااجڑے ہوئے چمن کی بہاروں پہ رقص کرسہمی ہوئی صدائے دل ناتواں نہ سنبہکی ہوئی نظر کے اشاروں پر رقص کرجو مر کے جی رہے تھے تجھے ان سے کیا غرضتو اپنے عاشقوں کے مزاروں پہ رقص کرہر ہر ادا ہو روح کی گہرائیوں میں گمیوں رنگ و بو کی راہ گزاروں پہ رقص کرتو اپنی دھن میں مست ہے تجھ کو بتائے کونتیری زمیں فلک ہے ستاروں پر رقص کراس طرح رقص کر کہ سراپا اثر ہو توکوئی نظر اٹھائے تو پیش نظر ہو تو
صحن جہاں میں رقص کناں ہیں تباہیاںآقائے ہست و بود کی صنعت گری کی خیر
چمن میں لائی ہے پھولوں کی آرزو تجھ کوملا کہاں سے یہ احساس رنگ و بو تجھ کوتری طرح کوئی سرگشتۂ جمال نہیںگلوں میں محو ہے کانٹوں کا کچھ خیال نہیںخزاں کا خوف نہ ہے باغباں کا ڈر تجھ کومآل کار کا بھی کچھ خطر نہیں تجھ کوخوش اعتقاد و خوش آہنگ خوش نوا بلبلجگر کے داغ کو پر نور کر دیا کس نےتجھے اس آگ سے معمور کر دیا کس نےیہ دل یہ درد یہ سودا کہاں سے لائی ہےکہاں کی تو نے یہ طرز فغاں اڑائی ہے
عندلیبوں کو ملی آہ و بکا کی تعلیماور پروانوں کو دی سوز وفا کی تعلیمجب ہر اک چیز کو قدرت نے عطا کی تعلیمآئی حصے میں ترے ذوق فنا کی تعلیمنرم و نازک تجھے اعضا دیئے جلنے کے لیےدل دیا آگ کے شعلوں پہ پگھلنے کے لیےرنگ تصویر کے پردے میں جو چمکا تیراخود بہ خود لوٹ گیا جلوۂ رعنا تیراڈھال کر کالبد نور میں پتلا تیراید قدرت نے بنایا جو سراپا تیرابھر دیا کوٹ کے سوز غم شوہر دل میںرکھ دیا چیر کے اک شعلۂ مضطر دل میںتو وہ تھی شمع کہ پروانہ بنایا تجھ کوتو وہ لیلیٰ تھی کہ دیوانہ بنایا تجھ کورونق خلوت شاہانہ بنایا تجھ کونازش ہمت مردانہ بنایا تجھ کوناز آیا ترے حصے میں ادا بھی آئیجاں فروشی بھی، محبت بھی، وفا بھی آئیآئی دنیا میں جو تو حسن میں یکتا بن کرچمن دہر میں پھولی گل رعنا بن کررہی ماں باپ کی آنکھوں کا جو تارا بن کردل شوہر میں رہی خال سویدا بن کرحسن خدمت سے شگفتہ دل شوہر رکھاکہ قدم جادۂ طاعت سے نہ باہر رکھاتیری فطرت میں مروت بھی تھی غم خواری بھیتیری صورت میں ادا بھی طرح داری بھیجلوۂ حسن میں شامل تھی نکو کاری بھیدرد آیا ترے حصے میں، تو خودداری بھیآگ پر بھی نہ تجھے آہ مچلتے دیکھاتپش حسن کو پہلو نہ بدلتے دیکھاتو وہ عصمت کی تھی او آئینہ سیما تصویرحسن سیرت سے تھی تیری متجلا تصویرلاکھ تصویروں سے تھی اک تری زیبا تصویرتجھ کو قدرت نے بنایا تھا سراپا تصویرنور ہی نور ترے جلوۂ مستور میں تھاانجم ناز کا جھرمٹ رخ پر نور میں تھالب میں اعجاز حیا چشم فسوں ساز میں تھیکہ قیامت کی ادا تیرے ہر انداز میں تھیشکل پھرتی جو تری دیدۂ غماز میں تھیبرق بے تاب تری جلوہ گاہ ناز میں تھییہ وہ بجلی تھی قیامت کی تڑپ تھی جس میںشعلۂ نار عقوبت کی تڑپ تھی جس میںیہ وہ بجلی تھی جو تیغ شرر افشاں ہو کرکوند اٹھی قلعہ چتورؔ میں جولاں ہو کریہ وہ بجلی تھی جو سوز غم حرماں ہو کرخاک سی لوٹ گئی تیری پشیماں ہو کریہ وہ بجلی تھی، تجھے جس کے اثر نے پھونکارفتہ رفتہ تپش سوز جگر نے پھونکاآہ و عشوہ و انداز و ادا کی دیویآہ او ہند کے ناموس وفا کی دیویآہ او پرتو انوار صفا کی دیویاو زیارت کدۂ شرم و حیا کی دیویتیری تقدیس کا قائل ہے زمانہ اب تکتیری عفت کا زباں پر ہے فسانہ اب تکآفریں ہے تری جاں بازی و ہمت کے لیےآفریں ہے تری عفت تری عصمت کے لیےکیا مٹائے گا زمانہ تری شہرت کے لیےکہ چلی آتی ہے اک خلق زیارت کے لیےنقش اب تک تری عظمت کا ہے بیٹھا دل میںتو وہ دیوی ہے، ترا لگتا ہے میلہ دل میں
فارسی ہندی کی آمیزش سے ہے اس کا وجودیادگار اتحاد اہل اسلام و ہنوددھوپ چھاں کے رنگ کی ہے وہ قبائے ہست و بودکارگاہ ہند سے منسوب جس کے تار و پودسفت و سنگیں یا لباس عاریت باریک ہےجامہ زیبی سے قد موزوں پر اس کے ٹھیک ہے
حسین خواب سے چونکے تھے رسمسائے ہوئےمچل رہی تھی ہواؤں میں بوئے عنبر و بود
صبح سویرےوہ بستر سے سائے جیسی اٹھتی ہےپھر چولھے میں رات کی ٹھنڈی آگ کوروشن کرتی ہےاتنے میں دن چڑھ جاتا ہےجلدی جلدی چائے بنا کر شوہر کو رخصت کرتی ہےسیارے گردش کرتے ہیںشہر میں صحرا صحراؤں میں چٹیل میداںکہساروں کے نشیب و فراز بنا کرتے ہیںسارے گھر کو دھوتی ہےکپڑے تولیے ٹوتھ برش بستر کی چادرکوئی کتاب اٹھاتی ہے رکھ دیتی ہےریڈیو آن کیا پھر روکا آن کیاپھر کوئی پرانا خط پڑھتی ہے(گھنٹی بجی)''مریم! آ جاؤ''''تم کیسی؟ ہو وہ کیسے ہیں''''کیا اس کا کوئی خط آیا؟''(تھوڑی خاموشی کا وقفہ)''تم کیسی ہو''''تم سے مطلب؟ سچ کہہ دوں تو کیا کر لو گی''دیکھو سب کی سب بیٹھی ہوں''اچھا''''اچھا''(دروازہ پھر بند ہو گیا)''اب کیا کرنا!گھر تو بالکل صاف پڑا ہےکوئی شکن بستر پہ نہیں ہےدیوار و در دھلے دھلائےکوئی دھبہ یا مکڑی کا جالا تنکاکہیں کچھ نہیںکیا کرنا ہے!اف! وہ کلنڈرکتنے برس ہو گئے پھر بھیآئیں تو ان سے کہتی ہوںبالکل نیا کلنڈر لائیںکچھ بھوک نہیںاب کیا کرنا ہےلیٹ رہوں؟ لیکن کیا لیٹوںجانے کتنا لیٹ چکی ہوںکھڑی رہوںہاں کھڑی رہوںپر میں تو کب سے کھڑی ہوئی ہوںکھڑکی کا پردہ ہی کھولوںدھوپ کہاں تک آ پہنچی ہےلاؤ اپنا البم دیکھوںنیر شبنم شفق صبوحی اختر جوہیکیسے ہوں گےآں! یہ میں ہوںاتی پیاری پیاری تھی میںمیں بالکل ہی بھول گئی تھیسب کتنا اچھا لگتا تھاابا، اماں، بھیا، اپیسب زندہ تھےسایہ نانی گلشن آپاہاں اور وہ گوریا باباآنسو نغمے شور ٹھہاکے سارے اک سر میں ہوتے تھےساری دنیا گھر لگتی تھیاماں ادھر بلایا کرتیںابا ادھر پکارا کرتےبھیا ڈانٹتےاپی ڈھیروں پیار جتاتیںکھانا، پینا، سونا، جاگنا، ہنسنا، روٹھنا، منناڈور بندھی تھیایک میں ایک پرویا ہوا تھاکل نمو کے گھر شادی ہےپاس ہی کوئی موت ہوئی ہےکالج کی چھٹی کب ہوگیعید پھر اب کی تیس کی ہوگیہم بھی لیل قدر جاگیں گےشہلا کی منگنی کیوں ٹوٹی؟کیا اقبال کوئی شاعر تھا؟چپ بڑکے ابا سن لیں گےسائے دوڑ رہے ہیں گھر میںہر گوشے میں اوپر نیچے اندر باہر دوڑ رہے ہیںلمبے چھوٹے سبز و زرد ہزاروں سائےباہر شہر میں کوئی نہیں ہےدھوپ سیہ پڑتی جاتی ہےقد آدم آئینے میںاس کا ننگا جسم کھڑا ہےجسم کے اندر سورج کا غنچہ مہکا ہےسیارے گردش کرتے ہیںسب انجانے سیاروں میں بھولے بسرے گھر روشن ہیںکس لمحے کا ہے یہ تماشہہست و بود کے سناٹے میںلا موجود کی تاریکی میںصرف یہی آئینہ روشنصرف اک عکس گزشتہ روشنبچھڑے گھر کا سایہ روشن
بحر موجود کے مرکز سےاک موج تلاطم خیز اٹھیاک درد کی لہر اٹھی دل کے روزن سےجس میں سمٹ گئےدونوں عالم کے رنج و طرباور ہست و بود کے محور پررنج و راحت ہم رقص ہوئے
رستگار از پنجۂ بے دردیٔ لیل و نہاربند آنکھوں کے نگر میںکیف عالمگیر کا ارماں ملاجس سے واویلا نشیبوں کا نہ ٹکرایا کبھیوہ اوج بامسرسری اس سے گزر جانے میں پنہاں عافیتاے رہ نورداے نظر ور اے دل آساروزن ظلمات ہست و بوداے پيک جہاں پيما خضر
اک شہر تھا اک باغ تھااک شہر تھایا تازہ میووں سے لدا اک باغ تھااک باغ تھایا شوخ رنگوں سے بھرا بازار تھابازار تھا یا جگنوؤں کی روشنی سے کھیلتی اک رات تھیاک رات تھییا گنگناتی جھومتینغمات کی بارش میں بھیگیوصل کی سوغات تھیاک شہر تھا اک باغ تھا اک رات تھیاور ان کے دامن میںبہار وصل کی سوغات تھیاک روز رنگ و نور کے موسم کوباد شرط اڑا کر لے گئیاک موج خوں کہئے اسےاس شہر کے اس باغ کےنام و نشاں سارے بہا کر لے گئیاے نوحہ گراے راقم افسانۂ زیر و زبراے چشم حیرت چشم ترعبرت کی جا ہے کس قدراب یاد کا ہے ایک افسردہ نگراس شہر میںکچھ دیر کو ٹھہریں ذرانوحہ کریںقصہ لکھیںتاریخ کے اوراق میںاک باب کھولیں یاد کاتقدیر ہست و بود کامغموم افسانہ لکھیں
ذہن جب تک ہےخیالات کی زنجیر کہاں کٹتی ہےہونٹ جب تک ہیںسوالات کی زنجیر کہاں کٹتی ہےبحث کرتے رہو لکھتے رہو نظمیں غزلیںذہن پر صدیوں سے طاری ہے جو مجلس کی فضااس خنک آنچ سے کیا پگھلے گیسوچ لینے ہی سے حالات کی زنجیر کہاں کٹتی ہےنیند میں ڈوبی ہوئی آنکھوں سے وابستہ خوابتیز کرنوں کی سنانوں پہ ہی رسوا سر عامیہ شہید اپنی صلیبوں سے پلٹ آتے ہیں دل میں ہر شامصبح ہوتی ہے مگر رات کی زنجیر کہاں کٹتی ہےدن گزر جاتا ہے بے فیض کد و کاوش میںایک ان دیکھے جہنم کی تب و تابش میںجسم اور جاں کی تگ و تاز کی ہر پرسش میںدرد و غم حسرت و محرومی کی ہر کاہش میںطلب و ترک طلب سلسلۂ بے پایاںمرگ ہی زیست کا عنوان ہے ہر خون شدہ خواہش میںغم سے بھاگیں بھی تو فریاد و شکایات کی زنجیر کہاں کٹتی ہےوقت وہ دولت نایاب ہے آتا نہیں ہاتھہم مشینوں کی طرح جیتے ہیں پابندئ اوقات کے ساتھوقت بیکار گزرتا ہی چلا جاتا ہےکرسیوں میزوں سے بے معنی ملاقاتوں میںسینکڑوں بار کی اگلی ہوئی دہرائی ہوئی باتوں میںمندگی رہنے کی تمنا کی مداراتوں میںشکم و جاں کی عبادات کی زنجیر کہاں کٹتی ہےصبح سے شام تلک اتنے خدا ملتے ہیں ہر کافر کوسجدۂ شکر سے انکار کی مہلت نہیں ملنے پاتیسینکڑوں لاکھوں خداؤں کی نظر سے چھپ کرخود سے مل لینے کی رخصت نہیں ملنے پاتیخود پرستوں سے بھی طاعات کی زنجیر کہاں کٹتی ہےرات آتی ہے تو دل کہتا ہے ہم اپنے ہیںخلوت خواب میں دنیا سے کنارا کر لیںکل بھی دینا ہے لہو اپنا دل و دیدہ کی جھولی بھر لیںجسم کے شور سے اور روح کی فریاد سے دم گھٹتا ہےدن کے بیکار خیالات کی زنجیر کہاں کٹتی ہےبے نیازانہ بھی جینا ہے فقط ایک گماںفکر موجود کو چھوڑیں تو غم نا موجودساتھ ہر سانس کے ہے سلسلۂ ہست و بودغم آفاق کو ٹھکرائیں کریں ترک جہاںپھر بھی یہ فکر کہ جینے کا ہو کوئی عنواںبے نیازی سے غم ذات کی زنجیر کہاں کٹتی ہےذہن میں اندھے عقیدوں کی سیاہی بھر لوتاکہ اس نگری میںکبھی افکار کے شعلوں کا گزر ہو نہ سکےجبر کا حکم سنوہونٹوں کو اپنے سی لوتاکہ ان راہوں سےکبھی لفظوں کا سفر ہو نہ سکےذہن و لب پھر بھی نہیں چپ ہوتےان کے خاموش سوالات کیپیچ در پیچ خیالات کیزنجیر کہاں کٹتی ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books