aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ",DIj7"
اب یہ باتیں رہنے دیجےجس عمر میں قصے بنتے تھے
خوب حق کے آستاں پر اور جھکے اپنی جبیںجائیے رہنے بھی دیجے ناصح گردوں نشیںتوبہ توبہ ہم بھڑی میں آ کے اور دیکھیں زمیںآنکھ کے اندھے نہیں ہیں گانٹھ کے پورے نہیں
اخباروں میںمغرب کے چکلوں کی خبریں اور تصویریں چھپتی ہیںمجھ کو چگی داڑھی والے اکبرؔ کی کھسیانی ہنسی پر.....رحم آتا ہےاقبال کی باتیں (گستاخی ہوتی ہے)مجذوب کی بڑ ہیںوارثؔ شاہ اور بلھےؔ شاہ اور بابا فریدؔ؟چلیے جانے دیجے ان باتوں میں کیا رکھا ہے
مصاحب شاہ سے کہو کہفقیہہ اعظم بھی آج تصدیق کر گئے ہیںکہ فصل پھر سے گناہ گاروں کی پک گئی ہےحضور کی جنبش نظر کےتمام جلاد منتظر ہیںکہ کون سی حد جناب جاری کریںتو تعمیل بندگی ہوکہاں پہ سر اور کہاں پہ دستار اتارنا احسن العمل ہےکہاں پہ ہاتھوں کہاں زبانوں کو قطع کیجئےکہاں پہ دروازہ رزق کا بند کرنا ہوگاکہاں پہ آسائشوں کی بھوکوں کو مار دیجےکہاں بٹے گی لعان کی چھوٹاور کہاں پررجم کے احکام جاری ہوں گےکہاں پہ نو سالہ بچیاں چہل سالہ مردوں کے ساتھسنگین میں پرونے کا حکم ہوگاکہاں پہ اقبالی ملزموں کوکسی طرح شک کا فائدہ ہو
اس قدر پہنچے ہوئے شاعر کا یہ کردار ہےشعر کہنا چھوڑ دیجے شاعری بیکار ہے
بچھڑے ہوؤں کو بچھڑے ہوؤں سے ملائے ہےہر سمت عید جشن محبت منائے ہےانسانیت کی پینگ محبت بڑھائے ہےموسم ہر اک امید کو جھولا جھلائے ہےبارش میں کھیت ایسی طرح سے نہائے ہےرونق ہر اک کسان کے چہرے پہ آئے ہےہم سب کو اپنے گھیرے میں لینے کے واسطےچاروں طرف سے گھر کے گھٹا آج آئے ہےحیوانیت نے خون کے دھبے جنم دیےبرسات آ کے خون کے دھبے چھڑائے ہےشہزادئ بہار کی آمد ہے باغ میںہر ایک پھول راہ میں آنکھیں بچھائے ہےہے کتنی پیاری پیار بھری عید کی ادااپنا سمجھ کے سب کو گلے سے لگائے ہےسچ پوچھیے تو یہ بھی محبت کا ہے ثبوتجو رائے آپ کی ہے وہی میری رائے ہےبوچھاریں آ کے دیتی ہیں اس کو سلامیاںبنسی بجا بجا کے جو میلہ لگائے ہےمیں جاؤں گا تو پھر کبھی واپس نہ آؤں گاکالی گھٹا تو ہر برس آئے ہے جائے ہےعید الفطر کی وجہ شرافت تو دیکھیےہر سال آ کے سب کو گلے سے لگائے ہےدیجے دعائیں عید کی تیوہار کو نذیرؔاک بھیڑ آج آپ سے ملنے کو آئے ہے
میں یہ کہتی ہوں چکا دیجے جو پچھلا قرض ہےآپ اپنی دھن میں کہتے ہیں کہ مطلع عرض ہے
یقیں کا ذکر ہی کیا ہے کہ اب گماں بھی نہیںمقام درد نہیں منزل فغاں بھی نہیںوہ بے حسی ہے کہ جو قابل بیاں بھی نہیںکوئی ترنگ ہی باقی رہی نہ کوئی امنگجبین شوق نہیں سنگ آستاں بھی نہیںرقیب جیت گئے ختم ہو چکی ہے جنگدلوں میں شعلۂ غم بجھ گیا ہے کیا کیجےکوئی حسین نہیں کس سے اب وفا کیجےسوائے اس کے کہ قاتل ہی کو دعا دیجے
تیر الفت کے چلیں گولی چلے احسان کیختم کر دیجے رعونت اس طرح انسان کیچپے چپے پر جہاں میں ایسے ایٹم بم پھٹیںاس جہالت کے اندھیرے میں اجالا جو کریںراکٹوں میں ہو مدد لاکھوں غریبوں کے لئےاور اگن بوٹوں میں خوشیاں بد نصیبوں کے لئےبھوکے بچوں پر فلک سے روٹیاں برسائیےموزے جوتے کچھ قمیضیں نیکریں پھکوائیےجنگ کی بارود میں ضائع نہ کیجے مال و زرمسکرا کر ڈالیے لاکھوں غریبوں پر نظرجو غریبی کی تھکن سے ہو رہے ہیں چور چوران کی جیبیں فالتو نوٹوں سے بھر دیجے حضورپیار کا الفت کا ہر زخمی کو مرہم دیجئےاپنی خوشیاں دے کے دکھ والوں کے دکھ لے لیجئےجو بھلائی میں مزہ ہے وہ برائی میں نہیںبندگی میں جو مزہ ہے وہ خدائی میں نہیںیہ جہاں پیارا جہاں کیوں جنگ میں برباد ہواس زمیں پر کیوں نہ جنت پیار کی آباد ہوجوڑ کر ہم ہاتھ ننھے خط کو کرتے ہیں تمامآپ کے بچوں کو سب دنیا کے بچوں کو سلام
نام جب لیتا ہوں ہونٹوں پر زباں کو پھیرتا ہوں کیوں کہاس کے نام میں اس کی زباں اس کے لبوں کا ذائقہ ہےجب بدن وہ نام لیتا ہے تو ایسے جھنجھناتا ہے کہ جیسےاس کی زہری انگلیوں نے چھو لیا ہونام اس کا اس کے اپنے بازوؤں کے دائرے کی طرحشوریدہ بدن کو گھیرتا ہےنام اس کا پانیوں میں گھول کر پی لو زباں لکنت زدہہو جائے ہے، آنکھیں الگ چڑھ جائیں ہیں، جی کچھ کہےلب کچھ کہے ہے،نام اس کا زانوئے ناکتخدائی پر لکھے سے چھاتیوںمیں دودھ چھلکانے لگے ہیںنام اس کا سیاہیوں میں گھولنے سے شعر لافانی لکھے ہےنام بنجر دھرتیوں میں تھوڑا تھوڑا سا چھڑک دینے سےہر پل بیل بوٹے کھینچ دے ہےنام اس ہرجائی کا لینے سے ہر سانکل کھلے ہےاس کو اس کے نام سے آواز دے دیجے تو چاروں سمتجو کوئی سنے ہے اس کے لاکھوں نام دہرانے لگے ہے
میں کون ہوں بتائیے کیا میرا نام ہےآیا ہوں میں کہاں سے کہاں میرا قیام ہےہمدرد ہوں رفیق ہوں یہ جان لیجئےمیں ہوں ضمیر آپ کا پہچان لیجئےاٹھے غلط قدم تو بتاتا ہوں آپ کوہر غلط عمل پہ جتاتا ہوں آپ کومیں جاگتا ہوں خود بھی جگاتا ہوں آپ کوجو کچھ میں کہہ رہا ہوں اسے مان لیجئےمیں ہوں ضمیر آپ کا پہچان لیجئےجب بولتے ہیں آپ کبھی جھوٹ برملاٹوکتا ہوں میں کہ یہ عمل نہیں بھلااس وقت گھونٹتے ہیں مرا آپ ہی گلاجو کچھ میں کہہ رہا ہوں اسے مان لیجئےمیں ہوں ضمیر آپ کا پہچان لیجئےکرتے ہیں آپ نقل اگر امتحان میںاس ڈھنگ سے کہ آئے نہ شان و گمان میںمیں ٹوکتا ہوں آپ کو دل کی زبان میںجو کچھ میں کہہ رہا ہوں اسے مان لیجئےمیں ہوں ضمیر آپ کا پہچان لیجئےکرتے ہیں دوستوں سے اگر آپ گفتگورکھتے ہیں دوسروں کی کہاں پاس آبروغیبت کی خو کو آج ہی کر دیجے آخ تھوجو کچھ میں کہہ رہا ہوں اسے مان لیجئےمیں ہوں ضمیر آپ کا پہچان لیجئے
اگر میں کہتا ہوں جینا ہے قید تنہائیتو زندگانی کی قیمت پہ حرف کیوں آئےاگر نہ آیا مجھے سازگار وصل حبیبتو اعتماد محبت پہ حرف کیوں آئےاگر ملے مجھے ورثے میں کچھ شکستہ کھنڈرتو کائنات کی وسعت پہ حرف کیوں آئےاگر دکھائی دئے مجھ کو آدمی آسیبتو عصر نو کی بصیرت پہ حرف کیوں آئےاگر نہ راہ یقیں پا سکی مری تشکیکتو فکر و فن کی شرافت پہ حرف کیوں آئےاگر خزاں ہی ملی مجھ کو آنکھ کھلنے پرتو فصل گل کی امانت پہ حرف کیوں آئےاگر مرے غم بے نام ہمیں ملی وحشتتو بزم جشن مسرت پہ حرف کیوں آئےمیں اپنے عہد کا ہوں نوحہ خواں نہ دیجے دادقصیدہ خواں کی روایت پہ حرف کیوں آئےاگر ہنر ہے مرا جنس کم عیار تو ہوضمیر و دل کی تجارت پہ حرف کیوں آئےمیں اپنے خوابوں کا بھٹکا ہوا مسافر ہوںاگر مجھے نہ ملی منزل نجات تو کیامیں اپنی روح کی تنہائیوں کا شعلہ ہوںہوائے دہر میں حاصل نہیں ثبات تو کیامیں اپنی طرفگی طبع کا تو پی لوں زہرجو دسترس میں نہیں چشمۂ حیات تو کیامیں اپنی ذات کی خلوت کا حیرتی ہی سہیجو مجھ پہ کھل نہ سکا راز کائنات تو کیامیں اپنے خوں کے چراغوں کو روشنی دے دوںسحر نصیب نہ ہو پائے میری رات تو کیامیں آپ سے نہ کہوں گا کہ ہے زیاں جاں کاخیال شیشۂ دل سنگ آزما نہ کرےمیں آپ سے نہیں چاہوں گا داد جاں بازیدعا ہے آپ کو غم درد آشنا نہ کرےمیں آپ سے نہیں مانگوں گا خوں بہائے وفاکوئی تو ترک رہ و رسم عاشقانہ کرےمیں آپ کو نہ دکھاؤں گا اپنے زخمی خوابخلل ہو آپ کے آرام میں خدا نہ کرے
اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہےیعنی اردوئے معلیٰ کا مآل اچھا ہےبات کڑوی سہی لیکن ہمیں کہنے دیجےدل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہےجشن غالب نے جو بخشی ہے ذرا سی رونقوہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے
ہم اسکول جائیں گے کچھ لیٹ ہو کرابھی نو بجے ہیں ابھی دیجے سونے
یہ خم نیا ہےعلم نیا ہےنئے سوالوں کی بات کیجےجواب دیجےکہ آنے والے سمے کا آئینہآپ کو بھیاسی طرح منعکس کرے گا
دل پژمردہ کو گلزار کر لوںمحبت کو گلے کا ہار کر لوںجوانی حسن سے سرشار کر لوںاجازت ہو تو تم کو پیار کر لوںمجھے دنیا کی دولت دے رہا ہےیہ پیغام مسرت دے رہا ہےتمہارا حسن دعوت دے رہا ہےاجازت ہو تو تم کو پیار کر لوںتمناؤں کے بادل چھا رہے ہیںجوانی کو مری تڑپا رہے ہیںمرے جذبات امڈے آ رہے ہیںاجازت ہو تو تم کو پیار کر لوںگلابی آنکھ میں ڈورے پڑے ہیںپپوٹے بھی تو بوجھل ہو رہے ہیںپتا دل کا تمہارے دے رہے ہیںاجازت ہو تو تم کو پیار کر لوںہے میری جان تشنہ دل ہے پیاسامجھے دیکھو گے یوں کب تک تڑپتاکرم اب تو کرم مجھ پر خدارااجازت ہو تو تم کو پیار کر لوںاٹھا دیجے بس اب پردہ حیا کاہے دل کا یہ تقاضے پر تقاضاذرا سی ہاں سے بن جائے گی دنیااجازت ہو تو تم کو پیار کر لوںتمہارے حسن میں تابندگی ہےستاروں جیسی اس میں روشنی ہےکشش ہے اور اس میں دل کشی ہےاجازت ہو تو تم کو پیار کر لوںملی ہے مدتوں میں مجھ کو خلوتبڑے عرصے میں جاگی ہے یہ قسمتبنا دو میرے غم کو اب تو راحتاجازت ہو تو تم کو پیار کر لوںمری بے حد طبیعت چاہتی ہےہمیشہ کی یہ دولت چاہتی ہےتمہاری بس اجازت چاہتی ہےاجازت ہو تو تم کو پیار کر لوںتمہارا روپ آفت ڈھا رہا ہےیہ اک ارمان بنتا جا رہا ہےمرے پہلو میں دل للچا رہا ہےاجازت ہو تو تم کو پیار کر لوںمحبت نے مچا دی دل میں ہلچلکیا ہے ضبط نے بیتاب بیکلبس اے روح روان شوق افضلؔاجازت ہو تو تم کو پیار کر لوں
آفرینش سمے ڈال دیجے خدایابدن میں تنوع کی حیرت گریمیری موروثیت کی جڑوں میں ہر اک سانس لیتی اکائی کے خلیوں کی مٹی بنےریڑھ کی مرکزی جالیوں میں عجائب کدوں کا خزانہ چھپےمیرے ہاتھوں پہ بھٹکے ہوئے راہ گیروں کی منزل کا نقشہ بنےاور آنکھوں کی ان پتلیوں میں طلسمی چراغوں کا جنگل بسےاپنی آنکھوں کی اس روشنی سے زمیں کی تہوں کو فروزاں کروںاور فاقہ کشوں کی زمینوں میں گیہوں کی صورت اگوںبے وطن کشتیوں کے مہاجر قبیلوں کا مانجھی بنوںسرد پربت کی تیکھی ہواؤں کو سہتے مکینوں کا سورج بنوںاور ازل سے گپھاؤں کے تاریک منظر میں پہلی شعاعوں کا مژدہ بنوںہڈیاں نوچ کھاتے ہوئے دیوتاؤں کے سینوں میں پلتی ہوس کا صفایا کروںکھردرے پاؤں والوں کے پاؤں تلےمخملیں سبز سپنے بچھاتی ہوئی گھاس کا ایک رستہ بنوںیہ جو ممکن نہ ہو تو مری خاک سے چند گرتے مکانوں کی دیوار کو ہی اٹھا دیجیےمیری مٹی سے مسکن بنا دیجیے
قتل گل قتل صبا قتل سحر کی تقریبمنعقد ہوتی رہی بارہا ایوانوں میںقلعۂ جبر و تشدد میںقصر ظلمت میںخلوت شب میںگاہے گاہے سر راہےاور اس بار یہ تقریب بڑی شان کے ساتھمنعقد اہل ہوس کے ہاتھوںرہ گزاروں پہ ہوئیبر سر بازار ہوئیکوچۂ شہر نگاراں میں ہوئیدشت و صحرا میں ہوئیکوہساروں میں ہوئینام گل نام صبا نام سحر ورد زباںہر نفس گام بہ گاممحترم ہے روش مکر و فریب پیہمشیوۂ راہزنی کی خیرپیشۂ قتل کی عظمت کی دہائی دیجےدست قاتل کے تقدس کی قسم کھائی گئیساتھیو چلتے رہوہم روایات شکاگو کے امیںخون فیوچک کے تقدس کے امیںعظمت خون لوممبا کے امیںخون ناصر کے امیںنذر خوں دیتے رہے ہیںسر محفل سر زنداں سر مقتل سر دارنذر خوں دیتے رہیں گے ہم لوگ
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books