aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ",QES7"
(1)کس طرح بیاں ہو ترا پیرایۂ تقریرگویا سر باطل پہ چمکنے لگی شمشیروہ زور ہے اک لفظ ادھر نطق سے نکلاواں سینۂ اغیار میں پیوست ہوئے تیرگرمی بھی ہے ٹھنڈک بھی روانی بھی سکوں بھیتاثیر کا کیا کہیے ہے تاثیر ہی تاثیراعجاز اسی کا ہے کہ ارباب ستم کیاب تک کوئی انجام کو پہنچی نہیں تدبیراطراف وطن میں ہوا حق بات کا شہرہہر ایک جگہ مکر و ریا کی ہوئی تشہیرروشن ہوئے امید سے رخ اہل وفا کےپیشانئ اعدا پہ سیاہی ہوئی تحریر(2)حریت آدم کی رہ سخت کے رہگیرخاطر میں نہیں لاتے خیال دم تعزیرکچھ ننگ نہیں رنج اسیری کہ پرانامردان صفا کیش سے ہے رشتۂ زنجیرکب دبدبۂ جبر سے دبتے ہیں کہ جن کےایمان و یقیں دل میں کیے رہتے ہیں تنویرمعلوم ہے ان کو کہ رہا ہوگی کسی دنظالم کے گراں ہاتھ سے مظلوم کی تقدیرآخر کو سرافراز ہوا کرتے ہیں احرارآخر کو گرا کرتی ہے ہر جور کی تعمیرہر دور میں سر ہوتے ہیں قصر جم و داراہر عہد میں دیوار ستم ہوتی ہے تسخیرہر دور میں ملعون شقاوت ہے شمرؔ کیہر عہد میں مسعود ہے قربانئ شبیر(3)کرتا ہے قلم اپنے لب و نطق کی تطہیرپہنچی ہے سر حرف دعا اب مری تحریرہر کام میں برکت ہو ہر اک قول میں قوتہر گام پہ ہو منزل مقصود قدم گیرہر لحظہ ترا طالع اقبال سوا ہوہر لحظہ مددگار ہو تدبیر کی تقدیرہر بات ہو مقبول، ہر اک بول ہو بالاکچھ اور بھی رونق میں بڑھے شعلۂ تقریرہر دن ہو ترا لطف زباں اور زیادہاللہ کرے زور بیاں اور زیادہ
کس دین کا مرشد ہے، کس کیش کا موجد ہےکس شہر کا شحنہ ہے کس دیس کا والی ہے؟
زندگی کون سی منزل پہ رکی ہے آ کرآگے چلتی بھی نہیںراہ بدلتی بھی نہیںسست رفتار ہے یہ دور عبوری کتناسخت و بے جان ہے وہ پیکر نوری کتناچاند اک خواب جو تھاشہر امید تہہ آب جو تھاحسن کے ماتھے کا ننھا ٹیکاپائے آدم کے تلے آتے ہیاترے چہرے کی طرح ہو گیا کتنا پھیکاہم جنوں کیش و طرح دار ہمیشہ کے جو تھےبھاگتے سایوں کے پیچھے دوڑےداہنے بائیں جو ڈالیں نظریںہو کے بے کیف ہٹا لیں نظریںموت افلاس جفا عیاریبھوت عفریت چڑیلیں خواریناچتی گاتی تھرکتی ہنستیقہقہے گالیاں لڑتی ڈستیہڈیاں چوستی یرقان زدہ لاشوں کیپنجوں میں تار کفنشعلہ دہنبستی کی بستیاں جھلساتی ہوئیشہر پہنچیں تو کھلے در پائےچڑھ گئیں سیڑھیوں پر کھٹ کھٹ کھٹبدن ہونے لگے پٹلے لیا دانتوں میں شریانوں کوویمپائر کی طرح
اب کہاں جمنا تری موجوں کی مستانہ وہ چالاب کہاں پانی کے جھرنے اور وہ لطف برشگالاب کہاں چھوٹا سا وہ رادھا کا کنج خوش گواراب کہاں وہ آہ متھرا تیرے پھولوں کی بہاراب کہاں وہ بنسی والے کی ادائے جاں نوازاب کہاں وہ آہ مرلی کی صدائے جاں نوازاب کہاں وہ خلوت راز و نیاز حسن و عشقبے صدا زیر زمیں ہیں آہ ساز حسن و عشقاو تلون کیش او کافر ادا اور دوں شعارتو نے بدلے رنگ لاکھوں آہ وضع روزگارخاک اٹھ کر آہ سر پر دامن ساحل اڑاٹکڑے ٹکڑے کر جگر کو پارہ ہائے دل اڑاسوزش غم سے پگھل جا آہ اے ریگ رواںذرے ذرے میں تیرے تصویر عبرت ہے نہاںاب کہاں وہ کنج دل کش اب کہاں رادھا کا عیشہے برنگ خندۂ گل بے بقا دنیا کا عیش
سر چشمۂ اخلاق وفا کیش و وفا کوشاے مشرق اشراق صفا ابر خطا پوشیوں تیرے دل صاف میں اشراق محبتجس طرح کہ لو صبح کو دے در نیا گوشمیں کون ہوں اک دل ہوں جسے ضبط نے ماراکر دے گی فنا مجھ کو مری کوشش خاموشوہ دل ہوں عبارت جو ہے نظم ابدی سےاک خون کا نقطہ ہوں میں پر معنی و پرجوشجبریل مرے ساتھ رہے روز ازل سےمیخانۂ عرفاں میں شب و روز قدح نوشکچھ منہ سے نکل جائیں نہ سمجھی ہوئی باتیںرہنے دو مجھے مجلس مے میں یونہی مدہوشسرسبز ہوں ظاہر میں مگر اے دل خوں گرمجس طرح حنا میں ہے نہاں آتش خاموشدل پر یہ ستم کیوں نہ ہو ہم جنس پہ تاثیرکعبہ اسی غم میں نظر آتا ہے سیہ پوشایوب نہیں ہوں کوئی معصوم نہیں ہوںتا چند مظالم پہ رہوں ساکت و خموشہیں جتنے اقارب وہ اقارب سے ہیں بد تراحباب ہیں وہ خود غرض و زود فراموشدل صاف نہیں سب ہیں سخن ساز و سخن چیںیہ مہر تو ہے زہر اگر نیش میں ہو نوشکہتے ہیں جسے دوست وہ اس دور میں عنقاسمجھے ہیں جسے مہر وہ اس عہد میں روپوشکس دور میں آئے ہیں ہم اے مجلس ساقیجب رند خرابات نشیں ہو گئے مدہوشدل کیا مری آنکھوں کا ہے ٹوٹا ہوا سوتاطوفان اٹھا دیں گے یہی چشمۂ خس پوشٹھوکر سے جلاتا ہوں مضامین کہن کوہے فتنۂ محشر مری اتری ہوئی پاپوشہم سنگ جواہر کبھی پتھر نہیں ہوتاہر چند تراشے کوئی صناع صفا کوشگو مجھ کو خدا داد طبیعت نے سنوارامجرم ہوں اگر ہوں کبھی احسان فراموشترکش میں مرے تیر بہت کم ہیں مگر ہیںایسے کہ اڑا دیں قدر انداز کے جو ہوشپندار خودی ہے عزیز ان کو تو ہمیں کیاہم عشق کے بندے ہیں وفا کیش و وفا کوش
وید ان کے دل حق کیش کی تصویریں ہیںجلوۂ قدرت معبود کی تفسیریں ہیں
زندگی راحت جاں درد دل زار بھی ہےبانجھ کھیتی بھی ہے اور کشت گہر بار بھی ہےزندگی ایک دھنکشوخ رنگوں سے بنیزندگی قرض بھی ہے فرض بھی ہےزندگی ایک سرابزندگی جام شرابزندگی حسن شبابزندگی بوئے گلابزندگی کیوں ہو عذابجس نے جس رنگ میں دیکھا یہ بنی ویسی ہیشاد ناشاد تو آباد ہیں برباد یہاںفقر ایک پھول بھی ہے دھول بھی ہےزندگی گہرا سمندر کوئیاس فلک بوس بلندی سے پرےلوگ جیتے ہیں کہ مرنا ہے انہیںذہن و ماحول کی تاریکی میںجس طرح ہوگا بہ ہر طور گزر کر لیں گےلوگ جینے سے بہت پہلے ہی مر جاتے ہیںاک تساہل کا بہانہ ہے یہ انداز ان کاآؤ ہم زیست سجائیں اپنیعظمت آدم و حوا نہ گھٹائیں ہرگزہم وفا کیش بنیںخدمت قوم و وطن اپنا سلیقہ بن جائےحسن کے پھول بکھیریں خوشبوپیار کے نور سے روشن ہوں فضائیں ساریدل میں نفرت نہ رہےدرد مٹ جائیں ملے صبر و قرارروشنی پائے حیاترات کی ظلمتیں مٹ جائیں کہیں کھو جائیںخوگر رنج بنیں وارث اورنگ نشاطسر خوشی پائے حیاتجینا جب تک ہے سلیقہ سے جئیںموت آئے تو قرینے سے مریںحسن تدبیر سے گلشن میں گہر باری ہوکام کچھ ایسے کریںزیست جاوید بنے
ہاں کس لیے خاموش ہے او تخت جگر ریشکس غم میں سیہ پوش ہے کیا سوگ ہے در پیشکملی ہے ترے دوش پہ کیوں صورت درویشجوگی ہے ترا پنتھ کہ صوفی ہے تیرا کیشبولا کہ زمانے نے دیا نوش کبھی نیشصدیاں مجھے گزری ہیں یہاں تین کم و بیش
اے نازش کونین ستم کیش و ستم گاراے خون رگ ابر رواں جان چمن زاراے ساز محبت کی مچلتی ہوئی جھنکارمیرا کوئی ساتھی ہے نہ ہمدم ہے نہ غم خوار
حلف اٹھانے کی رسم سے بے نیاز لمحےتمام مفلوج عدل گاہوں کی مصلحت کیش بے زبانیلہو فروشی کے کل دلائلدفاتر منصفی پر تحریر کر رہے ہیں
تحسین کے طالب نہیں اوصاف خدادادآفاق ہلا دیتی ہے حق کیش کی فریادآباد کہاں حلقۂ شعری کی فضا میںبت خانۂ مانی کہ صنم خانۂ بہزادمٹ جائے گا ایوان تفاخر کا تکلفیک شعلۂ جوالہ ہے آہ دل ناشادضرغام ہے روباہ کے زرین قفس میںآزاد ہیں پابند گرفتار ہیں آزادغازی نے کہا لوٹ لو بت خانۂ دولتصوفی نے کہا چھوڑ دو عشرت گہ شدادتیزاب سیاست میں خودی جس کی ہوئی غرقوہ کاغذی لعبت بنے کیا پیکر فولادحاجات کے بت خانۂ تزویر ہزاروںبندوں نے ترے نام پہ کر ڈالے ہیں ایجادلٹ جاتا ہے ہر گام پہ عصمت کا خزانہدل کش بہت ہے مانا کہ ہر رقص پری زادجمہور کی تہذیب سے اخلاص ہے معدومامروز نئی نسل کو اللہ نہیں یادجمہور کی برکت سے ہوئے آدمی ننگےسائنس نے سو فتنۂ محشر کئے ایجاد
صاحب ملک علم مالک راممالک ملک حلم مالک راممولد پاک پھالیہ کی زمیںہیر و رانجھا کی سر زمیں کے قریںشہر گجرات میں رہے ہے یہ مقیمارض لاہور میں ہوئی تعلیمنیکی و خیر و خلق میں فیاضدوستی کے بہت بڑے نباضکارواں کارگاہ حکمت کےلعل اک معدن محبت کےطلبا کے شفیق و یاور ہیںبحر تحقیق کے شناور ہیںاکمل و افضل و علیم و خطیباکرم و اعظم و شریف و نحیفصاحب فقر و بندۂ درویشدوستوں کے بڑے عقیدے کیشان کے مسلک میں بے ریائی ہےان کی رندی میں پارسائی ہےنثر میں ان کی نظم کی بو باسنظم کی انتہا کے رمز شناسکس قدر آن بان ہے ان کیبے نیازانہ شان ہے ان کیاب بھی چہرے پہ ہے شباب کا نورسربسر علم کی شراب کا نوربات کرنے میں پھول جھڑتے ہیںکبھی لڑتے نہ یہ جھگڑتے ہیںعلم کی جستجو پہ جان نثاربہر تحقیق روز و شب بیدارراہ تحقیق پہ چلے ہیں مدامچھان ڈالے عراق و مصر و شامجرمنی روس بلجیم لندنہر جگہ دیکھے علم کے معدنکارواں علم کا ہے تیز خراماور اس کے امیر مالک رامصاحب علم و صاحب اخلاقدوستی میں یہ فرد خلق میں طاقآشتی اور علم کا اک گنجان سے پہنچا نہیں کسی کو رنجرمز داں ہیں یہ فکر غالب کےہیں مصنف یہ ذکر غالب کےمحترم دوست عرش فرشی کےہیں مرتب یہ نذر عرشی کےہیں بہ ہر رنگ عالموں کے حبیبنذر ذاکر انہوں نے دی ترتیبعربی فارسی ہو یا اردوان کی باتوں میں سب کی ہے خوشبوان کی تصنیف عورت اور اسلامپائے گی دہر میں بقائے دوامخوب لکھا تلامذہ کا حالخاندان اسد کا حسن مقالگل رعنا ہے نسخۂ ارتنگیہ بھی با کیف ہے گل صد رنگبرتنا بم کہ ارمغاں بہ دہمبس غنیمت کہ قلب و جاں بدہمعلم را دادہ از نظر تمکیںرہنمائے براہ علم و یقیںذہن فرخندہ مغز تابندہباد در شہر علم پایندہرو راز حرص و آز و طمع و ہوسنیک خو نیک قلب و نیک نفسشہر نا مردمان و ہد آزادبس ہمیں مرد است خوش اطوارملک معنی کا بادشاہ ہے یہشہر انشا کا کج کلاہ ہے یہختم ہے عرش اب دعا پہ کلامیہ رہیں با مراد و شاد مدامحسن سیرت کی شمع جلتی رہےشاخ امید اور پھلتی رہےزندگی کو ملے نشاط تمامپر ہمیشہ رہے سرور کا جامنور خورشید کی طرح دمکےعلم و تحقیق کی ضیا چمکےعلم کی روشنی بڑھاتے رہیںہم کو بھی کچھ نہ کچھ سکھاتے رہیں
جفا شعار ستم کیش حریت دشمنڈرا رہا ہے تو آنکھیں یہ کیا دکھا کے مجھےمرے قدم کو ہو جنبش یہ غیر ممکن ہےپیام شوق سے دے درد و ابتلا کے مجھےکوئی مجھے رہ حق سے ہٹا نہیں سکتااگر یقین نہ ہو دیکھ لے ہٹا کے مجھےزباں پہ کلمۂ حق کے سوا جو حرف آ جائےتو پھونک دے مری غیرت ابھی جلا کے مجھےہے آشنا مرے کام و دہن سے تلخئ غمیہ زہر دیکھ لے سو مرتبہ پلا کے مجھےہے میرے واسطے معراج روح تختۂ دارتو خوش اگر ہے تو ہو دار پر چڑھا کے مجھےفنا ہے میرے لئے مژدۂ بقائے دوامسنا رہا ہے تو احکام کیا قضا کے مجھےسوا خدا کے کسی سے میں دب نہیں سکتانہ رکھ سکے گا تو ہرگز کبھی دبا کے مجھےترے خیال میں گر ہوں میں قابل تسخیرتو دیکھ لے غم و آلام میں پھنسا کے مجھےمری طرف سے اجازت ہے تجھ کو عام اس کیکہ دے سکے تو غم و رنج انتہا کے مجھےخوشی کے ساتھ ہوں راضی ہر ابتلا کے لئےتو منتخب مجھے کر تو سہی جفا کے لئے
شہید کا اسے دیتی ہے مرتبہ تاریخبہ کیش صدق و صفا ہے یہی بڑا انعام
حقیر و ناتواں تنکاہوا کے دوش پر پراںسمجھتا تھا کہ بحر و بر پہ میری حکمرانی ہےمگر جھونکا ہوا کا ایک البیلاتلون کیشبے پرواجب اس کے جی میں آئے رخ پلٹ جائےہوا آخر ہوا ہے کب کسی کا ساتھ دیتی ہےہوا تو بے وفا ہے کب کسی کا ساتھ دیتی ہےہوا پلٹیبلندی کا فسوں ٹوٹاحقیر و ناتواں تنکاپڑا ہے خاک پستی پرخدا جانے کوئی رہگیر بے پرواجب اپنے پاؤں سے اس کو مسلتا ہےتو اپنا خواب عظمت یاد کر کے اس کے دل پر کیا گزرتی ہے
وہ دن کتنے منور تھےکسی کو بازوؤں میں بے طرح بھرنے کی خواہش سےایاغ جسم و جاں اک بے خودی میں جب لبا لب تھاچناروں کے بدن میں سرخ رو مستی دہکتی تھیکچھ ایسا حال بیش و کم ہمارے دل کا بھی تب تھاوہ دن کتنے منور تھےکہ بچپن کی حسیں شاموں کے سائے بات کرتے تھےتو جیسے دور افق قلقل سے ہنستا تھا، جہاں رب تھاکہ ہر لذت زباں کو یاد کے نامے سناتی تھیکہ ہر خوشبو سے پیوستہ کوئی پچھلا جہاں جب تھامحبت دل کے خالی دشت میں جب سیر کرتی تھیسو اس تاراج کے آگے ہمیں کچھ ہوش ہی کب تھاخوشی کا نرم پر طائر بدن میں سرسراتا تھاتو آنسو بھی امڈتے تھے، خوشی کا یہ بھی اک ڈھب تھاوہ دن کتنے منور تھےتہی کیسہ زمانے سر خوشی سے جب چھلکتے تھےبھرے دن جس سے خالی ہیں تہی کیسوں میں وہ سب تھا
تیرے پچکے ہوئے رخسار یہ ویراں آنکھیںہونٹ پژمردہ کہیں ساری کہانی تیریایک بھونرے نے ترے حسن کا رس چوس لیااک ستم کیش نے لوٹی ہے جوانی تیری
سنو تم سے مجھے اک بات کہنی ہےتمہارا اس قدر بیزار سا رہناخفا برہم تغافل کیش کی عادتمجھے ادراک ہے اس کا یہ عنوان محبت ہےتمہارا ہر ستم مجھ کو عزیز از جان ہے لیکنتمہاری خامشی مجھ پر قیامت سی گزرتی ہےتبسم قہقہے شادابی رخسار و لب و مژگاں کی تابانیمرے شعر و سخن کے واسطے اکسیر اعظم ہےتقاضائے محبت تو یہی ہے تمتبسم سے تکلم سے وجود حسن طینت سےمرے فکر و تخیل کو کیا کرتے رہو معمورچلو ضد چھوڑ کر اپنیترستی منتظر نظروں کو تم یک لختتجلی سے عطا معراج کر دو
بیاں کیا تجھ سے ہو ہمدم کہ شاعر کون ہے کیا ہےوہ اس دنیا میں رہ کر اور ہی عالم میں رہتا ہےکبھی تخئیل کی پہنائیوں میں گم سا پھرتا ہےکبھی کون و مکاں کی وسعتوں میں ڈوب جاتا ہےاگر تفصیل ہو درکار جو شاعر کی فطرت کیہوئی ہے مختصر اشعار میں تفسیر شاعر کیتبسم کیش تسکیں دہ تمدن ساز ہوتا ہےحیات افروز ذوق دید کا دم ساز ہوتا ہےجہان ہوش کا سرمایۂ صد ناز ہوتا ہےہر اک انداز میں سرمستیوں کا راز ہوتا ہےشعور زندگی جس کے تفکر سے سنورتا ہےجہان رنگ و بو جس کی نگاہوں میں نکھرتا ہےیہ جلوے یہ بہاریں یہ گلستاں جس کے دم سے ہےحیات شوق کی تسکیں کا ساماں جس کے دم سے ہےیہ ہر ممکن بہار بزم امکاں جس کے دم سے ہےلب اعجاز سے ہستی غزل خواں جس کے دم سے ہےیہ سب سرگرمیٔ احساس ہے شاعر کی ہستی سےسرور و کیف کی سرمستیاں ہیں اس کی مستی سےبہر عالم سلیقہ عزم و ہمت کا سکھاتا ہےبہر صورت جمال عظمت ہستی دکھاتا ہےسرود زندگی پر زندگی کے گیت گاتا ہےجہاں دل سرد پڑ جاتے ہیں شاعر مسکراتا ہےنشان عظمت انسانیت کا نام ہے شاعرسراپا لطف و عزم و ہوش کا پیغام ہے شاعر
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books