aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ",UHyM"
اگر میں سمجھوںکے یہ جو مہرے ہیںصرف لکڑی کے ہیں کھلونےتو جیتنا کیا ہے ہارنا کیانہ یہ ضرورینہ وہ اہم ہےاگر خوشی ہے نہ جیتنے کینہ ہارنے کا ہی کوئی غم ہےتو کھیل کیا ہےمیں سوچتا ہوںجو کھیلنا ہےتو اپنے دل میں یقین کر لوںیہ مہرے سچ مچ کے بادشاہ و وزیرسچ مچ کے ہیں پیادےاور ان کے آگے ہےدشمنوں کی وہ فوجرکھتی ہے جو کہ مجھ کو تباہ کرنے کےسارے منصوبےسب ارادےمگر ایسا جو مان بھی لوںتو سوچتا ہوںیہ کھیل کب ہےیہ جنگ ہے جس کو جیتنا ہےیہ جنگ ہے جس میں سب ہے جائزکوئی یہ کہتا ہے جیسے مجھ سےیہ جنگ بھی ہےیہ کھیل بھی ہےیہ جنگ ہے پر کھلاڑیوں کییہ کھیل ہے جنگ کی طرح کامیں سوچتا ہوںجو کھیل ہےاس میں اس طرح کا اصول کیوں ہےکہ کوئی مہرہ رہے کہ جائےمگر جو ہے بادشاہاس پر کبھی کوئی آنچ بھی نہ آئےوزیر ہی کو ہے بس اجازتکہ جس طرف بھی وہ چاہے جائے
جہاں زاد اس دور میں روز ہر روزوہ سوختہ بخت آ کرمجھے دیکھتی چاک پر پا بہ گل سر بہ زانوتو شانوں سے مجھ کو ہلاتی(وہی چاک جو سال ہا سال جینے کا تنہا سہارا رہا تھا!)وہ شانوں سے مجھ کو ہلاتیحسن کوزہ گر ہوش میں آحسن اپنے ویران گھر پر نظر کریہ بچوں کے تنور کیونکر بھریں گےحسن اے محبت کے مارےمحبت امیروں کی بازیحسن اپنے دیوار و در پر نظر کرمرے کان میں یہ نوائے حزیں یوں تھی جیسےکسی ڈوبتے شخص کو زیر گرداب کوئی پکارے!وہ اشکوں کے انبار پھولوں کے انبار تھے ہاںمگر میں حسن کوزہ گر شہر اوہام کے انخرابوں کا مجذوب تھا جنمیں کوئی صدا کوئی جنبشکسی مرغ پراں کا سایہکسی زندگی کا نشاں تک نہیں تھا!
کچھ ایسا لگتا ہے جس نے بھی ڈائری لکھی ہےوہ شہر آیا ہے گاؤں میں چھوڑ کر کسی کوتلاش میں کام ہی کے شاید:''میں شہر کی اس مشین میں فٹ ہوں جیسے ڈھبری،ضروری ہے یہ ذرا سا پرزہاہم بھی ہے کیوں کہ روز کے روز تیل دے کراسے ذرا اور کس کے جاتا ہے چیف میراوہ روز کستا ہے،روز اک پیچ اور چڑھتا ہے جب نسوں پر،تو جی میں آتا ہے زہر کھا لوںیا بھاگ جاؤں''
اے عشق ازل گیر و ابد تابکچھ خواب کہ مدفون ہیں اجداد کے خود ساختہ اسمار کے نیچےاجڑے ہوئے مذہب کے بنا ریختہ اوہام کی دیوار کے نیچےشیراز کے مجذوب تنک جام کے افکار کے نیچےتہذیب نگوں سار کے آلام کے انبار کے نیچے
جانمجھے افسوس ہےتم سے ملنے شاید اس ہفتے بھی نہ آ سکوں گابڑی اہم مجبوری ہےجانتمہاری مجبوری کواب تو میں بھی سمجھنے لگی ہوںشاید اس ہفتے بھیتمہارے چیف کی بیوی تنہا ہوگی
ابھی تو کائنات اوہام کا اک کارخانہ ہےابھی دھوکا حقیقت ہے حقیقت اک فسانہ ہےابھی تو زندگی کو زندگی کر کے دکھانا ہےمجھے جانا ہے اک دن تیری بزم ناز سے آخر
میرے اجداد کا وطن یہ شہرمیری تعلیم کا جہاں یہ مقاممیرے بچپن کی دوست یہ گلیاںجن میں رسوا ہوا شباب کا نامیاد آتے ہیں ان فضاؤں میںکتنے نزدیک اور دور کے نامکتنے خوابوں کے ملگجے چہرےکتنی یادوں کے مرمریں اجسامکتنے ہنگامے کتنی تحریکیںکتنے نعرے جو تھے زباں زد عاممیں یہاں جب شعور کو پہنچااجنبی قوم کی تھی قوم غلامیونین جیک درس گاہ پہ تھااور وطن میں تھا سامراجی نظاماسی مٹی کو ہاتھ میں لے کرہم بنے تھے بغاوتوں کے امامیہیں جانچے تھے دھرم کے وشواسیہیں پرکھے تھے دین کے اوہامہیں منکر بنے روایت کےیہیں توڑے رواج کے اصنامیہیں نکھرا تھا ذوق نغمہ گرییہیں اترا تھا شعر کا الہاممیں جہاں بھی رہا یہیں کا رہامجھ کو بھولے نہیں ہیں یہ در و بامنام میرا جہاں جہاں پہنچاساتھ پہنچا ہے اس دیار کا ناممیں یہاں میزباں بھی مہماں بھیآپ جو چاہیں دیجیے مجھے نامنذر کرتا ہوں ان فضاؤں کیاپنا دل اپنی روح اپنا کلاماور فیضان علم جاری ہواور اونچا ہو اس دیار کا ناماور شاداب ہو یہ ارض حسیںاور مہکے یہ وادئ گلفاماور ابھریں صنم گری کے نقوشاور چھلکیں مے سخن کے جاماور نکلیں وہ بے نوا جن کواپنا سب کچھ کہیں وطن کے عوامقافلے آتے جاتے رہتے ہیںکب ہوا ہے یہاں کسی کا قیامنسل در نسل کام جاری ہےکار دنیا کبھی ہوا نہ تمامکل جہاں میں تھا آج تو ہے وہاںاے نئی نسل تجھ کو میرا سلام
مہر صدیوں سے چمکتا ہی رہا افلاک پررات ہی طاری رہی انسان کے ادراک پرعقل کے میدان میں ظلمت کا ڈیرا ہی رہادل میں تاریکی دماغوں میں اندھیرا ہی رہااک نہ اک مذہب کی سعیٔ خام بھی ہوتی رہیاہل دل پر بارش الہام بھی ہوتی رہیآسمانوں سے فرشتے بھی اترتے ہی رہےنیک بندے بھی خدا کا کام کرتے ہی رہےابن مریم بھی اٹھے موسی عمراں بھی اٹھےرام و گوتم بھی اٹھے فرعون و ہاماں بھی اٹھےاہل سیف اٹھتے رہے اہل کتاب آتے رہےایں جناب اٹھتے اور آنجناب آتے رہےحکمراں دل پر رہے صدیوں تلک اصنام بھیابر رحمت بن کے چھایا دہر پر اسلام بھیمسجدوں میں مولوی خطبے سناتے ہی رہےمندروں میں برہمن اشلوک گاتے ہی رہےآدمی منت کش ارباب عرفاں ہی رہادرد انسانی مگر محروم درماں ہی رہااک نہ اک در پر جبین شوق گھستی ہی رہیآدمیت ظلم کی چکی میں پستی ہی رہیرہبری جاری رہی پیغمبری جاری رہیدین کے پردے میں جنگ زرگری جاری رہیاہل باطن علم سے سینوں کو گرماتے رہےجہل کے تاریک سائے ہاتھ پھیلاتے رہےیہ مسلسل آفتیں یہ یورشیں یہ قتل عامآدمی کب تک رہے اوہام باطل کا غلامذہن انسانی نے اب اوہام کے ظلمات میںزندگی کی سخت طوفانی اندھیری رات میںکچھ نہیں تو کم سے کم خواب سحر دیکھا تو ہےجس طرف دیکھا نہ تھا اب تک ادھر دیکھا تو ہے
آؤ پرکھیں دین کے اوہام کوعلم موجودات کی باتیں کریں
حسن تو نے دیکھا کہ میںقید اوہام و بند روایات میںبوڑھے عطار یوسف کی دکان پراپنی آنکھیں تجھے نذر کرتی رہی
میں نے تنہا کبھی اس کو دیکھا نہیںپھر بھی جب اس کو دیکھا وہ تنہا ملاجیسے صحرا میں چشمہ کہیںیا سمندر میں مینار نوریا کوئی فکر اوہام میںفکر صدیوں اکیلی اکیلی رہیذہن صدیوں اکیلا اکیلا ملا
جہاں میں ہر طرف ہے علم ہی کی گرم بازاریزمیں سے آسماں تک بس اسی کا فیض ہے جارییہی سرچشمۂ اصلی ہے تہذیب و تمدن کابغیر اس کے بشر ہونا بھی ہے اک سخت بیماریبناتا ہے یہی انسان کو کامل ترین انساںسکھاتا ہے یہی اخلاق و ایثار و روا دارییہی قوموں کو پہنچاتا ہے بام اوج و رفعت پریہی ملکوں کے اندر پھونکتا ہے روح بیداریاسی کے نام کا چلتا ہے سکہ سارے عالم میںاسی کے سر پہ رہتا ہے ہمیشہ تاج سرداریاسی کے سب کرشمے یہ نظر آتے ہیں دنیا میںاسی کے دم سے رونق عالم امکاں کی ہے سارییہ لا سلکی، یہ ٹیلیفون یہ ریلیں، یہ طیارےیہ زیر آب و بالائے فلک انساں کی طراریحدود استوا قطبین سے یوں ہو گئے مدغمکہ ہے اب ربع مسکوں جیسے گھر کی چار دیواریسمندر ہو گئے پایاب صحرا بن گئے گلشنکیا سائنس نے بھی اعتراف عجز و ناچاریبخار و برق کا جرار لشکر ہے اب آمادہاگلوا لے زمین و آسماں کی دولتیں ساریغرض چاروں طرف اب علم ہی کی بادشاہی ہےکہ اس کے بازوؤں میں قوت دست الٰہی ہےنگاہ غور سے دیکھو اگر حالات انسانیتو ہو سکتا ہے حل یہ عقدۂ مشکل بہ آسانیوہی قومیں ترقی کے مدارج پر ہیں فائق ترکہ ہے جن میں تمدن اور سیاست کی فراوانیاسی کے زعم میں ہے جرمنی چرخ تفاخر پراسی کے زور پر مریخ کا ہمسر ہے جاپانیاسی کی قوت بازو پہ ہے مغرور امریکہاسی کے بل پر لڑکی ہو رہی ہے رستم ثانیاشارے پر اسی کے نقل و حرکت ہے سب اٹلی کیاسی کے تابع فرمان ہیں روسی و ایرانیاسی کے جنبش ابرو پہ ہے انگلینڈ کا غرہاسی کے ہیں سب آوردے فرانسیسی و البانیکوئی ملک اب نہیں جن میں یہ جوہر ہو نہ رخشندہنہ غافل اس سے چینی ہیں نہ شامی ہیں نہ افغانیبغیر اس کے جو رہنا چاہتے ہیں اس زمانے میںسمجھ رکھیں فنا ان کے لیے ہے حکم ربانیزمانہ پھینک دے گا خود انہیں قعر ہلاکت میںوہ اپنے ہاتھ سے ہوں گے خود اپنی قبر کے بانیزمانے میں جسے ہو صاحب فتح و ظفر ہوناضروری ہے اسے علم و ہنر سے بہرہ ور ہوناترقی کی کھلی ہیں شاہراہیں دہر میں ہر سونظر آتا ہے تہذیب و تمدن سے جہاں مملوچلے جاتے ہیں اڑتے شہسواران فلک پیماخراج تہنیت لیتے ہوئے کرتے ہوئے جادوگزرتے جا رہے ہیں دوسروں کو چھوڑتے پیچھےکبھی ہوتا ہے صحرا مستقر ان کا کبھی ٹاپوکمر باندھے ہوئے دن رات چلنے پر ہیں آمادہدماغ افکار سے اور دل وفور شوق سے ملولالگ رہ کر خیال زحمت و احساس راحت سےلگے ہیں اپنی اپنی فکر میں با خاطر یکسومگر ہم ہیں کہ اصلاً حس نہیں ہم کو کوئی اس کیہمارے پائے ہمت ان مراحل میں ہیں بے قابوجہاں پہلا قدم رکھا تھا روز اولیں ہم نےنہیں سرکے اس اپنے اصلی مرکز سے بقدر مویہ حالت ہے کہ ہم پر بند ہے ہر ایک دروازہنظر آتا نہیں ہرگز کوئی امید کا پہلومگر واحسرتا پھر بھی ہم اپنے زعم باطل میںسمجھتے ہیں زمانے بھر سے آگے خود کو منزل میںضرورت ہے کہ ہم میں روشنی ہو علم کی پیدانظر آئے ہمیں بھی تاکہ اصل حالت دنیاہمیں معلوم ہو حالات اب کیا ہیں زمانے کےہمارے ساتھ کا جو قافلہ تھا وہ کہاں پہنچاجو پستی میں تھے اب وہ جلوہ گر ہیں بام رفعت پرجو بالک بے نشاں تھے آج ہے ان کا علم برپاہماری خوبیاں سب دوسروں نے چھین لیں ہم سےزمانے نے ہمیں اتنا جھنجھوڑا کر دیا ننگاروا داری، اخوت، دوستی، ایثار ،ہمدردیخیال ملک و ملت، درد قوم، اندیشۂ فردایہ سب جوہر ہمارے تھے کبھی اے واۓ محرومیبنے ہیں خوبیٔ قسمت سے جو اب غیر کا حصااگر ہو جائیں راغب اب بھی ہم تعلیم کی جانبتو کر سکتے ہیں اب بھی ملک میں ہم زندگی پیدابہت کچھ وقت ہم نے کھو دیا ہے لیکن اس پر بھیاگر چاہیں تو کر دیں پیش رو کو اپنے ہم پسپانکما کر دیا ہے کاہلی نے گو ہمیں لیکنرگوں میں ہے ہماری خون ابھی تک دوڑتا پھرتاکوئی مخفی حرارت گر ہمارے دل کو گرما دےہمارے جسم میں پھر زندگی کی روح دوڑا دےوطن والو بہت غافل رہے اب ہوش میں آؤاٹھو بے دار ہو عقل و خرد کو کام میں لاؤتمہارے قوم کے بچوں میں ہے تعلیم کا فقداںیہ گتھی سخت پیچیدہ ہے اس کو جلد سلجھاؤیہی بچے بالآخر تم سبھوں کے جانشیں ہوں گےتم اپنے سامنے جیسا انہیں چاہو بنا جاؤبہت ہی رنج دہ ہو جائے گی اس وقت کی غفلتکہیں ایسا نہ ہو موقع نکل جانے پہ پچھتاؤیہ ہے کار اہم دو چار اس کو کر نہیں سکتےخدا را تم بھی اپنے فرض کا احساس فرماؤیہ بوجھ ایسا نہیں جس کو اٹھا لیں چار چھ مل کرسہارا دو، سہارا دوسروں سے اس میں دلواؤجو ذی احساس ہیں حاصل کرو تم خدمتیں ان کیجو ذی پروا ہیں ان کو جس طرح ہو اس طرف لاؤغرض جیسے بھی ہو جس شکل سے بھی ہو یہ لازم ہےتم اپنے قوم کے بچوں کو اب تعلیم دلواؤاگر تم مستعدی کو بنا لو گے شعار اپنایقیں جانو کہ مستقبل ہے بے حد شاندار اپناخداوندا! دعاؤں میں ہماری ہو اثر پیداشب غفلت ہماری پھر کرے نور سحر پیداہمارے سارے خوابیدہ قویٰ بے دار ہو جائیںسر نو ہو پھر ان میں زندگی کی کر و فر پیداہمیں احساس ہو ہم کون تھے اور آج ہم کیا ہیںکریں ماحول ملکی کے لیے گہری نظر پیداملا رکھا ہے اپنے جوہر کامل کو مٹی میںہم اب بھی خاک سے کر سکتے ہیں لعل و گہر پیدااگر چاہیں تو ہم مشکل وطن کی دم میں حل کر دیںہزاروں صورتیں کر سکتے ہیں ہم کارگر پیدابظاہر گو ہم اک تودہ ہیں بالکل راکھ کا لیکناگر چاہیں تو خاکستر سے کر دیں سو شرر پیداوطن کا نکبت و افلاس کھو دیں ہم اشارے میںجہاں ٹھوکر لگا دیں ہو وہیں سے کان زر پیداہم اس منزل کے آخر پر پہنچ کر بالیقیں دم لیںاگر کچھ تازہ دم ہو جائیں اپنے ہم سفر پیداجو کوشش متحد ہو کر کہیں اک بار ہو جائےیقیں ہے ملک کی قسمت کا بیڑا پار ہو جائے
شروع شروع میں اچنبھے اچھے لگتے تھےشوق بھی تھا اور دن بھی بھلے تھےاچھے لوگوں سے ملنے کا شوق جنون کی حد تکہر لمحہ بیتاب لیے پھرتا تھاجب کوئی اپنا ہیرواپنے آدرش کا پیکر سامنے آتاجی یہ چاہتاآنکھیں بچھائیں دل میں بٹھائیںباتیں سنیں اتنی باتیںسیل زماں سے اونچی باتیںدل کے گہرے غم کی باتیںدوری اور نزدیکیلفظ بہت چھوٹے ہیںان لفظوں کو پرکھو توانسان اور بھی چھوٹے نکلتے ہیںپاس بلا کر جسے دیکھواس کا چہرہ فق بے رنگبھبھوت کی صورت کالا کالاکیا سورج بہت نیچے آ گیا ہےکیا ماؤں نے بچے جن کردودھ پلانا چھوڑ دیا ہےگولیاں کھا کے دودھ کے سوتےخشک کرنے والی ماؤںپلاسٹک کے بیگز میں رات رات بھربچوں کا پیشاب جذب کرنے والی ماؤںنیند تمہاری بہت میٹھی ہےٹھیک ہے تم بھی بے بس ہومرد گھروں سے غائب ہوں توماں کی مامتا بلک بلک کرنیند کی گولی کے آنگن میں سو ہی جایا کرتی ہےخواب آور گولییہ بھی تو آج کی اہم ضرورت ہےمصنوعی پلکیں آنکھوں سے اتار کےاصلی چہرہ مت دیکھوگولیاں کھاؤ سو جاؤ آرام کروصبح تمہارے سر کے اوپر سورج کیاور بھی گرم شعاعیں رقص کریں گیاچھے لوگ صبح کو کچھ اور شام کو کچھاور رات کو ان کے خون کی طغیانی میںان کے ہاتھ اور ان کی آنکھیںبالکل جنگلی چوہے جیسی معلوم ہوںپہلے پہل یہ اچنبھا تھاخوف کی تہ میں انجانے کو جاننے کی خواہشمکڑی کے جالے کی مانند پھیلیپہلے پہل پستانوں میں درد کی ٹیسیں بہت اٹھیںپھر یاد نہیںمصنوعی پلکیں اتنی لمبی ہیںمیں اپنے پیر کے نقش کے آگے دیکھ نہیں سکتی ہوںکہتے ہیں کہ ہوا چلی ہےکھیپ نئے لوگوں کیجن کو اچھا کہنے والے ساتھ ساتھ ہیںپہنچ گئے ہیں شہر کنارےسورج اب تو اتنا نیچے آ پہنچا ہےاس کو اٹھا کے دور کسی کونے میں دفن کرورات کی چادر اوڑھنے سے پہچان کا رشتہشکر خدایا ٹوٹ تو جاتا ہےاے رب تو والیٔ کون و مکاںتو سب کے دلوں کے حال سے واقف ہےتو ہم کو بتا ہم کیا سوچیںہم نے خواہشوں کے سارے پرندے اڑا دئے ہیں
تمہیں جولائی کی انیسویں تپتی جھلستی دوپہر اب یاد کب ہوگیکہ جس کی حدتیں کتنے مہینوں بعد تکہم نے بدن کے ہر دریچے پر لکھی محسوس کی تھیںاور انہیں نظمیں سمجھ کر گنگنایا تھاتمہارے جسم کی پگڈنڈیوں پر چلتے چلتے ایک ایسا موڑ آیا تھاجہاں اوہام الہامی نظر آتے ہیںاور امکان ناکامی محبت ضبط آوازیں سمندر درد بن جاتے ہیںسارے خواب پلکوں کی ہری شاخوں سے جھولے لینے لگتے ہیںسمٹ آتے ہیں سارے ہجر آنکھوں میںوہیں اس موڑ پر پہلی دفعہ میں نے یہ سمجھاروح مادہ ہےکہ اس کی اک کمیت ہے حجم ہے بوجھ رکھتی ہےاور اس کا بھی بدن ہوتا ہےجس میں ننھے ننھے آئینے یاقوت کے مانند بنتے اور بگڑتے ہیں
اور پھر یوں ہواجو پرانی کتابیں، پرانے صحیفےبزرگوں سے ورثے میں ہم کو ملے تھےانہیں پڑھ کے ہم سب یہ محسوس کرنے لگےان کے الفاظ سےکوئی مطلب نکلتا نہیں ہےجو تعبیر و تفسیر اگلوں نے کی تھیمعانی و مفہوم جو ان پہ چسپاں کئے تھےاب ان کی حقیقت کسی واہمے سے زیادہ نہیں ہےاور پھر یوں ہواچند لوگوں نے یہ آ کے ہم کو بتایاکہ اب ان پرانی کتابوں کوتہہ کر کے رکھ دوہمارے وسیلے سےتم پر نئی کچھ کتابیں اتاری گئی ہیںانہیں تم پڑھو گےتو تم پرصداقت نئے طور سے منکشف ہوگیبوسیدہ و منجمد ذہن میں کھڑکیاں کھل سکیں گیتمہیں علم و عرفاناور آگہی کے خزینے ملیں گےاور پھر یوں ہواان کتابوں کو اپنی کتابیں سمجھ کرانہیں اپنے سینے سے ہم نے لگایاہر اک لفظ کا ورد کرتے رہےایک اک سطر کو گنگناتے رہےایک اک حرف کا رس پیااور ہمیں مل گیاجیسے معنی و مفہوم کا اک نیا سلسلہاور پھر یوں ہواان کتابوں سےاک دن یہ ہم کو بشارت ملیآنے والا ہے دنیا میں اب اک نیا آدمیلے کے اپنے جلو میں نئی زندگیہم اندھیری گپھاؤں سےاوہام کی تنگ گلیوں سے نکلیں گےہم کو ملے گی نئی روشنیاور پھر یوں ہوالانے والے کتابوں کےاور وہ بھی جو ان پہ ایمان لائے تھےسب اپنے اپنے گھروں سے نکل کرکسی سمت کو چل پڑےایسے اک راستے پرجدھر سے نیا آدمیآنے والا تھایا ہم کو اس کا یقین تھاکہ وہ آئے گااور اسی سمت سےبس اسی سمت سے آئے گااور پھر یوں ہوادیر تک ہم نئے آدمی کے رہے منتظردیر تک شوق دیدار کی اپنی آنکھوں میں مستی رہیدیر تک اس کی آمد کا ہم گیت گاتے رہےدیر تک اس کی تصویرذہنوں میں اپنے بناتے رہےدیر تک اس خرابے میں اک جشن ہوتا رہا
ابتدا سے کبھی نظم ہوتی نہیںاور کبھی ابتدا سے بھی پہلے کہیںنظم ہونے کے آثار ملتے ہیںجیسے کہیں قبل از زندگیزندگی کے تصور سے پہلےمگر زندگی سے بھی بہتربر آمد ہوئی کوئی تہذیبتہذیب ملتی تو ہےپر کبھی ابتدا اس کی ملتی نہیںابتدا سے بھی پہلےتلک ذہن جاتا نہیںاور تہذیب سے لینا دینا بھی کیانظم کی ابتدا نون سےنون لے گی نہیںیہ حروف تہجی کا اک رکن ہےجیم سے جسمچے سے چمکڈال سے ڈالڈاسین سے سین اوپر کے تینواؤ سے وہمجو کس قدر اہم ہےنظم کے وسط میںجو کہ ہوتا نہیںدائرہ تو نہیںٹرائی اینگل نہیںہیگزا گونل نہیںخط نہیں ویو ہےیعنی آواز جیسی کوئی چیز ہےمیگنٹ کی طرح کوئی شے ہےہوا سا کوئی معاملہ ہےکوئی کرنٹ ہےجس کے لگنے سے بھینظم مرتی نہیںنظم کی انتہا کیوں کہ ہوتی نہیںختم ہو جاتی ہے بیچ میں ہی کہیںجس طرح کچھ جواں مرگیا انتہا پر پہنچ کر بھی تشنہ ہی رہتی ہےجیسےوہ سب زندہ لاشیں کہ جو موت کی ڈیٹ کے بعد بھی جی رہی ہیںدوا اپنی مدت مکمل کیے ایک بیمار گاہک کی رہ دیکھتی ہےیہ پانی کی لالچ بہت بڑھ گئی ہے جو ٹینکی کو بھر کر لبالب بقایا دیواروں کی بنیاد میں چھوڑ دیتے ہیںبجلی کے آنے کا وقت آ بھی جائے مگر ان کی اپنی گھڑی ہےنجی دفتروں کے ملازم کی چھٹی کے اوقات ہوتے ہیں لیکن اسے دیر تک بیٹھنے اور بٹھانے میں کوئی قباحت نہیں ہےستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
تاریخ کے بنے ہوئے تھیلوں میں ہمیشہکوئی بے حد اہم چیز رہ جاتی ہےبے شک ہوائیں عظیم ترین صناع ہیںان خرابوں کی جو نقش ہیں بے رنگی کے ساتھایک پر اسرار غیر معروف اندھیرے کی دبیز دیواروں پرلیکن آنکھیںایسے پیچیدہ منظر کوصحت اور ثقاہت کے ساتھنقل نہیں کر سکتیںخواہ بینائی کی کسی بھی قبیل سےعلاقہ رکھتی ہوںاب بالکل نیا تناظر ضروری ہےاس نا دیدنی سے عہدہ برا ہونے کے لیےورنہ دیکھنا ایک احمقانہ تصور ہے جسےبس آنکھیں ہی مانتی ہیں
موت ایک اہم کام ہےاسے یکسو ہو کر کرنا چاہئےیا سارے کام نمٹا کر
اردو ہمارے دیش کی شیریں زبان ہےتہذیب کی ہے وضع شرافت کی جان ہےتعلیم و تربیت میں اہم اس کا ہے مقامشعر و سخن کی روح ادب کی یہ جان ہےچھوڑا ہے جب سے اس کو تلفظ بگڑ گیایہ ہر زباں کا جزو بیاں اور شان ہےپیدا ہوئی یہ ہند میں پروان بھی چڑھیپھر کس لیے کہو یہ ودیشی زبان ہےمقبول عام بھی ہے یہ ہر دل عزیز بھیسچ بات تو یہ ہے کہ یہ سب کی زبان ہےہم اس کے ذوق سے ہوئے افسوس منحرفآزادی کی تحریک کی اردو ہی جان ہےآزاد ہند میں نہ ملا اس کو کچھ مقامیہ مادر وطن کے شہیدوں کی جان ہےحالانکہ روزگار کا ذریعہ نہیں رہیاردو پڑھو پڑھاؤ یہ اپنی زبان ہے
ریلوے لائن پرمور سو رہا ہےتیز رفتار ٹرینیہاں سے مت گزرولائن مین سے کہوکانٹا بدل دےتمہارا راستہ تبدیل ہو جائے گایا پھر ایک سرخ لالٹینریلوے لائن کے ساتھ رکھ دےکسی نہ کسی طرحتمہیں روک لےریلوے لائن پر مور سو رہا ہےاسے اس کے خواب سے باہر مت نکالووہ اپنے خواب میںکسی نئے بادشاہ کی طرحپہلی بار گردن اٹھا کے چل چل رہا ہےاس کی سلطنتاس کے پروں کی طرح رنگوں سے بھریاور کھلی ہوئی ہےاسے بے رنگ مت کرواسے مت اجاڑواس کی بادشاہت کا خاتمہاتنی جلدی مت کرواگر ہمارے آنسوؤں کیکوئی قیمت نہیں ہےتب بھی ہمارے سارے آنسوہمیشہ کے لیے اپنے پاس رکھ لوہمارے مور کی نینداس کی بیش قیمت نینداس کے پروں کی یکجائیہمارے کتنی اہم ہےتمہیں نہیں معلومتیز رفتار ٹرینیہ سب کچھ ہم سے مت چھنیوریلوے لائن پر مور کو سونے دووہ ہمیشہ سویا نہیں رہے گارات بھر کے لیے اسے سونے دواگر تم نے اس کے پروں کوبکھیر دیاتو ہماری زندگی میں لوگوںاور چیزوں کی ترتیبختم ہو جائے گیہماری آنکھوں میں موجودمحبت کی آخری چمک ختم ہو جائے گیہمارے دلوں سے رنگ اڑ جائیں گےریلوے لائن پراس کے پروں کو مت بکھیروورنہ جو بھی انہیں اٹھائے گااس کی انگلیوں میں عمر بھرکانٹے چبھتے رہیں گےاس کی آنکھوں میں ہمیشہسوئیاں بھری رہیں گییہ پر ڈائری میں رکھنے کےیا لڑکیوں کے لیےپنکھے بنانے کے کام نہیں آتےاگر ایک بار مور کے پریا اس کی نیند بکھر جائےتو ہمیں اور تمہیں تیز رفتار ٹرینکوئی نہیں چلنے دے گازندہ بھی نہیں رہنے دے گاریلوے لائن پر نہیں سونے دے گا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books