aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ",aMNK"
تپش اندوز ہے اس نام سے پارے کی طرحغوطہ زن نور میں ہے آنکھ کے تارے کی طرح
اٹھ رہی ہے کہیں قربت سے تری سانس کی آنچاپنی خوشبو میں سلگتی ہوئی مدھم مدھم
یاد کر کے مجھے نم ہو گئی ہوں گی پلکیں''آنکھ میں پڑ گیا کچھ'' کہہ کے یہ ٹالا ہوگا
جنگ مشرق میں ہو کہ مغرب میںامن عالم كا خون ہے آخر
اس پر کبھی کوئی آنچ بھی نہ آئےوزیر ہی کو ہے بس اجازت
دنیا امن اور خوشحالی کے پھولوں سے سجائی جائے گیوہ صبح ہمیں سے آئے گی
گو آگ سے چھاتی جلتی تھی گو آنکھ سے دریا بہتا تھاہر ایک سے دکھ نہیں کہتا تھا چپ رہتا تھا غم سہتا تھا
کب تلک آنکھ نہ کھولے گا زمانے کا ضمیرظلم اور جبر کی یہ ریت چلے گی کب تک
پوچھتا رہتا تھا تجھ سے کہ بتا کیا دکھ ہےاور مری آنکھ میں آنسو بھی نہیں ہوتے تھے
نہ کھل سکے کسی جانب محبتوں کے گلابنہ شاخ امن لئے فاختہ کوئی آئی
خودی کا نشیمن ترے دل میں ہےفلک جس طرح آنکھ کے تل میں ہے
ہم امن چاہتے ہیں مگر ظلم کے خلافگر جنگ لازمی ہے تو پھر جنگ ہی سہی
تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیںتم آ رہی ہو زمانے کی آنکھ سے بچ کر
گلی کے موڑ پہ سونا سا کوئی دروازہترستی آنکھ میں رستہ کسی کا دیکھے گا
یہ پچھلے عشق کی باتیں ہیںجب آنکھ میں خواب دمکتے تھے
تو امن کا اور صلح کا ارمان بنے گاانسان کی اولاد ہے انسان بنے گا
رات کی سرد خموشی میں ہر اک جھونکے سےتیرے انفاس ترے جسم کی آنچ آتی ہے
لاکھ فضا میں گیت سے گونجےلیکن میں نے آنکھ نہ کھولی
جو ہاتھ بڑھے یاور ہے یہاںجو آنکھ اٹھے وہ بختاور
آج آنکھ نے دیکھا تو وہ عالم ہوا ثابتمیں جس کو سمجھتا تھا کلیسا کے خرافات
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books