aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ",pgEe"
زبان میں فی لفظ ایک انچ اضافہ ہو رہا ہےپہلے بھی تو یہ کاندھوں پر پڑی تھیتمہیں میری مشکل کا اندازہ ہو رہا ہےتم جو مجھ سے بات کرنے پر اڑی تھیں
دس روپے فی بوتل پانیہکا بکا رہ گئی نانیاپنا بچپن یاد کیا توارزانی سی تھی ارزانیبارہ آنے سیر اصلی گھیگیارہ آنے تولہ چاندیکیلے تھے دو پیسے درجنچاول پانچ آنے پنسیریبائیسکوپ ٹکٹ ایک آنہایک اٹھنی کا پاجامہاسکولوں میں فیس نہیں تھیکالج دو روپے ماہانہنانا کی تنخواہ جو پوچھیکل پینتالیس روپیہ نکلیپینتالیس ہزار کے لگ بھگپاتے ہیں ابو اور امی
ہاتھی کان گلا ہے جس کااستر ادھڑا دامن کھسکاآخر تم کیا دو گے اس کااتنے کم سلوائی دے دوپانچ نہیں تو ڈھائی دے دوفی سلوٹ نو پائی دے دویہ لو گھنڈی کیسے والاآگے پیچھے گڑبڑ جھالاجاہل ہے نا ہندی کالابڈھا تو کیا سوچ رہا ہےمونچھوں کو کیوں نوچ رہا ہےشاید جاڑا کوچ رہا ہےآ سردی سے پنڈ کٹا لےکوئی اونی کوٹ چکا لےاس دن کو بھگوان اٹھا لےجس دن یہ پہناوا چھوڑوںجنم کے ساتھی سے منہ موڑوںناسمجھوں سے کیا سر پھوڑوںرسی جس تہذیب کی ڈھیلیبوتل ہو جس چاک میں گیلیسب جلتی ہے سوکھی گیلییہ جس کی بھی اترن ہوگییا بھنگن یا کنچن ہوگیبیوہ بانجھ گرھستن ہوگیجرمن عورت کا ہر دامنجب جھٹکا کھائے کا کندنبلکیں گے بے گنتی جیونمیری یہ کھدر کی پنڈیاون سے اونچی روئی کی منڈیان کوٹوں کو کالی جھنڈی
اس کا مطلب تو یہ ہواکہ صرف شاعر ہوناآپ کے لیےکوئی اہمیت ہی نہیں رکھتاشاید ایسا ہی ہولیکن آپ ناراض نہ ہوںاگر شاعر ہیں تب بھیہمارے لیےشاعر ہونا یا نہ ہوناسب برابر ہےہمیں تو یہ بھی نہیں معلومکہ شاعر اور پولس والے میں سےکون زیادہ حساس ہےجس شہر میں شاعروں کی آبادیفی مربع کلو میٹر سب سے زیادہ ہووہاں پولس والےشاعروں سے زیادہ حساس ہو سکتے ہیںاور پھرپولس والوں کی جان کو خطرہ بھی زیادہ ہےشاعر تو صرفاپنے خوابوں ہی کو روتے رہتے ہیںانہیں کسی بات کی پروا نہیںمگر آپ یہ سب کچھ کیوں پوچھ رہے ہیںکون ہیں آپکیا کرتے ہیںکہاں رہتے ہیں
نا بیٹا انمول ہے پانیپانچ روپے فی ڈول ہے پانینو گھنٹے سے گول ہے پانی
کہا ہے کتنی نگاہوں نے فی امان اللہہوئے ہیں ساکت و مبہوت کتنے بام و دراٹھے ہیں بہر دعا کتنے کانپتے ہوئے ہاتھکس اہتمام سے باندھا گیا ہے رخت سفر
دس روپے فی بوتل پانیہکا بکا رہ گئی نانیاپنا بچپن یاد کیا توارزانی سی تھی ارزانی
میرے جسم میں اداسی کی مقدار بڑھ چکی ہےاب میں کسی ماہر احساسات کیتلاش میں ہوں جو مجھے بتائے کہکتنے ڈیسیبل زور سے چیخوںتاکہ میری آواز اس تک پہنچ سکےکتنے کلو میٹر فی گھنٹے کیرفتار سے رویا جائےتاکہ میرے آنسو اس تک پہنچ سکیںبازاروں میں رش ہے مگر میں اکیلا ہوںلوگ بہرے ہو چکے ہیں کیوں کہ یہمیری چیخیں نہیں سن پا رہےنیند کی گولیاں مجھ سے اکتا چکی ہیںاب بستر مجھے بے رحم نظروں سے دیکھتا ہےمجھے خود سے کوئی ہمدردی نہیں رہیمیری ڈائری میں لکھا ایک ایک جملہمیرے خون تھوکنے کے بعد وجود میں آیا ہےاس سے پہلے کہ میں خود کو نوچ کھاؤںمیری لاش کو دفنا دو
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books