aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ".adf"
تعفن سے پر نیم روشن یہ گلیاںیہ مسلی ہوئی ادھ کھلی زرد کلیاں
کٹیا میں ترا پیچھا غربت نے نہیں چھوڑااور محل سرا میں بھی زردار نے دل توڑااف تجھ پہ زمانے نے کیا کیا نہ ستم ڈھایابازار ہے وہ اب تک جس میں تجھے نچوایا
دیکھنا جذب محبت کا اثر آج کی راتمیرے شانے پہ ہے اس شوخ کا سر آج کی راتاور کیا چاہئے اب اے دل مجروح تجھےاس نے دیکھا تو بہ انداز دگر آج کی راتپھول کیا خار بھی ہیں آج گلستاں بہ کنارسنگریزے ہیں نگاہوں میں گہر آج کی راتمحو گلگشت ہے یہ کون مرے دوش بدوشکہکشاں بن گئی ہر راہ گزر آج کی راتپھوٹ نکلا در و دیوار سے سیلاب نشاطاللہ اللہ مرا کیف نظر آج کی راتشبنمستان تجلی کا فسوں کیا کہیےچاند نے پھینک دیا رخت سفر آج کی راتنور ہی نور ہے کس سمت اٹھاؤں آنکھیںحسن ہی حسن ہے تا حد نظر آج کی راتقصر گیتی میں امنڈ آیا ہے طوفان حیاتموت لرزاں ہے پس پردۂ در آج کی راتاللہ اللہ وہ پیشانیٔ سیمیں کا جمالرہ گئی جم کے ستاروں کی نظر آج کی راتعارض گرم پہ وہ رنگ شفق کی لہریںوہ مری شوخ نگاہی کا اثر آج کی راتنرگس ناز میں وہ نیند کا ہلکا سا خماروہ مرے نغمۂ شیریں کا اثر آج کی راتنغمہ و مے کا یہ طوفان طرب کیا کہیےگھر مرا بن گیا خیامؔ کا گھر آج کی راتمیری ہر سانس پہ وہ ان کی توجہ کیا خوبمیری ہر بات پہ وہ جنبش سر آج کی راتوہ تبسم ہی تبسم کا جمال پیہموہ محبت ہی محبت کی نظر آج کی راتاف وہ وارفتگئ شوق میں اک وہم لطیفکپکپائے ہوئے ہونٹوں پہ نظر آج کی راتمذہب عشق میں جائز ہے یقیناً جائزچوم لوں میں لب لعلیں بھی اگر آج کی راتاپنی رفعت پہ جو نازاں ہیں تو نازاں ہی رہیںکہہ دو انجم سے کہ دیکھیں نہ ادھر آج کی راتان کے الطاف کا اتنا ہی فسوں کافی ہےکم ہے پہلے سے بہت درد جگر آج کی رات
اف یہ شبنم سے چھلکتے ہوئے پھولوں کے ایاغاس چمن میں ہیں ابھی دیدۂ پر نم کتنے
۱یہ شام اک آئینۂ نیلگوں یہ نم یہ مہکیہ منظروں کی جھلک کھیت باغ دریا گاؤںوہ کچھ سلگتے ہوئے کچھ سلگنے والے الاؤسیاہیوں کا دبے پاؤں آسماں سے نزوللٹوں کو کھول دے جس طرح شام کی دیویپرانے وقت کے برگد کی یہ اداس جٹائیںقریب و دور یہ گو دھول کی ابھرتی گھٹائیںیہ کائنات کا ٹھہراؤ یہ اتھاہ سکوتیہ نیم تیرہ فضا روز گرم کا تابوتدھواں دھواں سی زمیں ہے گھلا گھلا سا فلک۲یہ چاندنی یہ ہوائیں یہ شاخ گل کی لچکیہ دور بادہ یہ ساز خموش فطرت کےسنائی دینے لگی جگمگاتے سینوں میںدلوں کے نازک و شفاف آبگینوں میںترے خیال کی پڑتی ہوئی کرن کی کھنک۳یہ رات چھنتی ہواؤں کی سوندھی سوندھی مہکیہ کھیت کرتی ہوئی چاندنی کی نرم دمکسگندھ رات کی رانی کی جب مچلتی ہےفضا میں روح طرب کروٹیں بدلتی ہےیہ روپ سر سے قدم تک حسین جیسے گناہیہ عارضوں کی دمک یہ فسون چشم سیاہیہ دھج نہ دے جو اجنتا کی صنعتوں کو پناہیہ سینہ پڑ ہی گئی دیو لوک کی بھی نگاہیہ سر زمین سے آکاش کی پرستش گاہاتارتے ہیں تری آرتی ستارہ و ماہسجل بدن کی بیاں کس طرح ہو کیفیتسرسوتی کے بجاتے ہوئے ستار کی گتجمال یار ترے گلستاں کی رہ رہ کےجبین ناز تری کہکشاں کی رہ رہ کےدلوں میں آئینہ در آئینہ سہانی جھلک۴یہ چھب یہ روپ یہ جوبن یہ سج یہ دھج یہ لہکچمکتے تاروں کی کرنوں کی نرم نرم پھواریہ رسمساتے بدن کا اٹھان اور یہ ابھارفضا کے آئینہ میں جیسے لہلہائے بہاریہ بے قرار یہ بے اختیار جوش نمودکہ جیسے نور کا فوارہ ہو شفق آلودیہ جلوے پیکر شب-تاب کے یہ بزم شہودیہ مستیاں کہ مئے صاف و درد سب بے بودخجل ہو لعل یمن عضو عضو کی وہ ڈلک۵بس اک ستارۂ شنگرف کی جبیں پہ جھمکوہ چال جس سے لبالب گلابیاں چھلکیںسکوں نما خم ابرو یہ ادھ کھلیں پلکیںہر اک نگاہ سے ایمن کی بجلیاں لپکیںیہ آنکھ جس میں کئی آسماں دکھائی پڑیںاڑا دیں ہوش وہ کانوں کی سادہ سادہ لویںگھٹائیں وجد میں آئیں یہ گیسوؤں کی لٹک۶یہ کیف و رنگ نظارہ یہ بجلیوں کی لپککہ جیسے کرشن سے رادھا کی آنکھ اشارے کرےوہ شوخ اشارے کہ ربانیت بھی جائے جھپکجمال سر سے قدم تک تمام شعلہ ہےسکون جنبش و رم تک تمام شعلہ ہےمگر وہ شعلہ کہ آنکھوں میں ڈال دے ٹھنڈک۷یہ رات نیند میں ڈوبے ہوئے سے ہیں دیپکفضا میں بجھ گئے اڑ اڑ کے جگنوؤں کے شرارکچھ اور تاروں کی آنکھوں کا بڑھ چلا ہے خمارفسردہ چھٹکی ہوئی چاندنی کا دھندلا غباریہ بھیگی بھیگی اداہٹ یہ بھیگا بھیگا نورکہ جیسے چشمۂ ظلمات میں جلے کافوریہ ڈھلتی رات ستاروں کے قلب کا یہ گدازخنک فضا میں ترا شبنمی تبسم نازجھلک جمال کی تعبیر خواب آئینہ سازجہاں سے جسم کو دیکھیں تمام ناز و نیازجہاں نگاہ ٹھہر جائے راز اندر رازسکوت نیم شبی لہلہے بدن کا نکھارکہ جیسے نیند کی وادی میں جاگتا سنسارہے بزم ماہ کہ پرچھائیوں کی بستی ہےفضا کی اوٹ سے وہ خامشی برستی ہےکہ بوند بوند سے پیدا ہو گوش و دل میں کھنک۸کسی خیال میں ہے غرق چاندنی کی چمکہوائیں نیند کے کھیتوں سے جیسے آتی ہوںحیات و موت میں سرگوشیاں سی ہوتی ہیںکروڑوں سال کے جاگے ستارے نم دیدہسیاہ گیسوؤں کے سانپ نیم خوابیدہیہ پچھلی رات یہ رگ رگ میں نرم نرم کسک
یہ ہوس یہ چور بازاری یہ مہنگائی یہ بھاؤرائی کی قیمت ہو جب پربت تو کیوں نہ آئے تاؤاپنی تنخواہوں کے نالے میں ہے پانی آدھ پاؤاور لاکھوں ٹن کی بھاری اپنے جیون کی ہے ناؤ
ہواصبح دم اس کی آہستہ آہستہ کھلتی ہوئی آنکھ سےخواب کی سیپیاں چننے جائے تو کہناکہ ہم جاگتے ہیںہوا اس سے کہناکہ جو ہجر کی آگ پیتی رتوں کی طنابیںرگوں سے الجھتی ہوئی سانس کے ساتھ کس دیںانہیں رات کے سرمئی ہاتھ خیرات میں نیند کب دے سکے ہیںہوا اس کے بازو پہ لکھا ہوا کوئی تعویذ باندھے تو کہناکہ آوارگی اوڑھ کر سانس لیتے مسافرتجھے کھوجتے کھوجتے تھک گئے ہیںہوا اس سے کہناکہ ہم نے تجھے کھوجنے کی سبھی خواہشوں کواداسی کی دیوار میں چن دیا ہےہوا اس سے کہناکہ وحشی درندوں کی بستی کو جاتے ہوئے راستوں پرترے نقش پا دیکھ کرہم نے دل میں ترے نام کے ہر طرفاک سیہ ماتمی حاشیہ بن دیا ہےہوا اس سے کہناہوا کچھ نہ کہناہوا کچھ نہ کہنا
بہت دنوں سےوہ شاخ مہتاب کٹ چکی ہےکہ جس پہ تم نے گرفت وعدہ کی ریشمی شال کے ستارے سجا دیئے تھےبہت دنوں سےوہ گرد احساس چھٹ چکی ہےکہ جس کے ذروں پہ تم نےپلکوں کی جھالروں کے تمام نیلم لٹا دیئے تھےاور اب تو یوں ہے کہ جیسےلب بستہ ہجرتوں کا ہر ایک لمحہطویل صدیوں کو اوڑھ کر سانس لے رہا ہےاور اب تو یوں ہے کہ جیسے تم نےپہاڑ راتوں کومیری اندھی اجاڑ آنکھوں میںریزہ ریزہ بسا دیا ہےکہ جیسے میں نےفگار دل کا ہنر اثاثہکہیں چھپا کر بھلا دیا ہےاور اب تو یوں ہے کہاپنی آنکھوں پہ ہاتھ رکھ کرمرے بدن پر سجے ہوئے آبلوں سے بہتا لہو نہ دیکھومجھے کبھی سرخ رو نہ دیکھونہ میری یادوں کے جلتے بجھتے نشاں کریدونہ میرے مقتل کی خاک دیکھواور اب تو یوں ہے کہاپنی آنکھوں کے خواباپنے دریدہ دامن کے چاک دیکھوکہ گرد احساس چھٹ چکی ہےکہ شاخ مہتاب کٹ چکی ہے
اور جب وہ دہکتا انگارہچھن سے ساگر میں ڈوب جاتا ہےتیرگی اوڑھ لیتی ہے دنیاکشتیاں کچھ کنارے آتی ہیںبھنگ گانجا، چرس شراب، افیونجو بھی لائیں جہاں سے بھی لائیںدوڑتے ہیں ادھر سے کچھ سایےاور سب کچھ اتار لاتے ہیںگاڑی جاتی ہے عدل کی میزانجس کا حصہ اسی کو ملتا ہےیہاں خطرہ نہیں خیانت کاتم یہاں کیوں کھڑے ہو مدت سےیہ تمہاری تھکی تھکی بھیڑیںرات جن کو زمیں کے سینے پرصبح ہوتے انڈیل دیتی ہےمنڈیوں ،دفتروں ملوں کی طرفہانک دیتی دھکیل دیتی ہےراستے میں یہ رک نہیں سکتیںتوڑ کے گھٹنے جھک نہیں سکتیںان سے تم کیا توقع رکھتے ہوبھیڑیا ان کے ساتھ چلتا ہے
ہے میری رات میں اب نیند تیریہم اک دوجے میں یوں کھوئے ہوئے ہیںہمارے خواب بھی اک دوسرے کےبدن کو اوڑھ کر سوئے ہوئے ہیںمرے تکیے میں تیری خوشبوئیں ہیںمری چادر پہ تیری سلوٹیں ہیںتو رہتی ہے مرے پہلو میں ہر دممرے بستر پہ تیری کروٹیں ہیںہو شامیں روز راتیں یا سحر ہوکوئی بھی وقت ہو کوئی پہر ہوتصور میں ترے ڈوبا رہوں میںتجھے خود سے الگ کیسے کروں میں
منی تیرے دانت کہاں ہیںدانت تھے میں نے دودھ پلا کر سات برس میں پالےآ کر ان کو لے گئے چوہے لمبی مونچھوں والےگڑ کا ان کو ماٹ ملا تھا میٹھا اور مزے دارلاکھ خوشامد کر کے مجھ سے لے لئے دانت ادھارمنی تیرے دانت کہاں ہیںبلی تھی اک مامی موسی چپکے چپکے آئیپنجوں پر تھی دیگ کی کھرچن ہونٹوں پر بالائیبولی گڑ کے ماٹ پہ میں نے چوہے دیکھے چارحصہ آدھوں آدھ رہے گا دے دو دانت ادھارمنی تیرے دانت کہاں ہیںبعد میں بوڑھا موتی آیا رونی شکل بنائےبولا بی بی اس بلی کا کچھ تو کریں اپائےدودھ نہ چھوڑے گوشت نہ چھوڑے ہیں بڈھا لاچاراس کو کروں شکار جو مجھ کو دے دو دانت ادھاراچھی منی تم نے اپنے اتنے دانت گنوائےکچھ چوہوں نے کچھ بلی نے کچھ موتی نے پائےباقی جو دو چار رہے ہیں وہ ہم کو دلواؤاک دعوت میں آج ملیں گے تکے اور پلاؤمرغی کے پائے کا سالن بیگن کا آچاردو گی یا کسی اور سے مانگوںہاں دیے ادھاربابا ہاں ہاں دیے ادھارمنی تیرے دانت کہاں ہیں
اپنی سوئی ہوئی دنیا کو جگا لوں تو چلوںاپنے غم خانے میں اک دھوم مچا لوں تو چلوںاور اک جام مئے تلخ چڑھا لوں تو چلوںابھی چلتا ہوں ذرا خود کو سنبھالوں تو چلوںجانے کب پی تھی ابھی تک ہے مئے غم کا خماردھندلا دھندلا نظر آتا ہے جہان بیدارآندھیاں چلتی ہیں، دنیا ہوئی جاتی ہے غبارآنکھ تو مل لوں ذرا ہوش میں آ لوں تو چلوںوہ مرا سحر وہ اعجاز کہاں ہے لانامیری کھوئی ہوئی آواز کہاں ہے لانامرا ٹوٹا ہوا وہ ساز کہاں ہے لانااک ذرا گیت بھی اس ساز پہ گا لوں تو چلوںمیں تھکا ہارا تھا، اتنے میں جو آئے بادلکسی متوالے نے چپکے سے بڑھا دی بوتلاف وہ رنگین پر اسرار خیالوں کے محلایسے دو چار محل اور بنا لوں تو چلوںمجھ سے کچھ کہنے کو آئی ہے مرے دل کی جلنکیا کیا میں نے زمانے میں نہیں جس کا چلنآنسوؤ تم نے تو بے کار بھگویا دامناپنے بھیگے ہوئے دامن کو سکھا لوں تو چلوںمیری آنکھوں میں ابھی تک ہے محبت کا غرورمیرے ہونٹوں کو ابھی تک ہے صداقت کا غرورمیرے ماتھے پہ ابھی تک ہے شرافت کا غرورایسے وہموں سے ذرا خود کو نکالوں تو چلوں
اف یہ ناداری مرے سینے سے اٹھتا ہے دھواںآہ اے افلاس کے مارے ہوئے ہندوستاں!
صابن کی بھینی خوشبو سے مہک گیا دالاناف ان بھیگی بھیگی آنکھوں میں دل کے ارمانموتیوں جیسے دانتوں میں وہ گہری سرخ زباندیکھ کے گال پہ ناخن کا مدھم سا لال نشانکوئی بھی ہوتا میری جگہ پر ہو جاتا حیران
میری تخئیل کی جھنکار کو ساکت پا کر!چوڑیاں تیری کلائی میں کھنک اٹھتی تھیںاف مری تشنہ لبی تشنہ لبی تشنہ لبی!کچی کلیاں ترے ہونٹوں کی مہک اٹھتی تھیں
اے مجاز اے ترانہ بار مجاززندہ پیغمبر بہار مجازاے بروۓ سمن وشاں گل پوشاے بہ کوۓ مغاں تمام خروشاے پرستار مہ رخان جہاںاے کماں دار شاعران جواںتجھ سے تاباں جبین مستقبلاے مرے سینۂ امید کے دلاے مجاز اے مبصر خد و خالاے شعور جمال و شمع خیالاے ثریا فریب و زہرہ نوازشاعر مست و رند شاہد بازناقد عشوۂ شباب ہے توصبح فردا کا آفتاب ہے توتجھ کو آیا ہوں آج سمجھانےحیف ہے تو اگر برا مانےخود کو غرق شراب ناب نہ کردیکھ اپنے کو یوں خراب نہ کرشاعری کو تری ضرورت ہےدور فردا کی تو امانت ہےصرف تیری بھلائی کو اے جاںبن کے آیا ہوں ناصح ناداںایک ٹھہراؤ اک تکان ہے تودیکھ کس درجہ دھان پان ہے توننگ ہے محض استخواں ہوناسخت اہانت ہے ناتواں ہونااستخوانی بدن دخانی پوستایک سنگین جرم ہے اے دوستشرم کی بات ہے وجود سقیمناتوانی ہے اک گناہ عظیمجسم اور علم طرفہ طاقت ہےیہی انسان کی نبوت ہےجو ضعیف و علیل ہوتا ہےعشق میں بھی ذلیل ہوتا ہےہر ہنر کو جو ایک دولت ہےعلم اور جسم کی ضرورت ہےکثرت بادہ رنگ لاتی ہےآدمی کو لہو رلاتی ہےخوش دلوں کو رلا کے ہنستی ہےشمع اختر بجھا کے ہنستی ہےاور جب آفت جگر پہ لاتی ہےرند کو مولوی بناتی ہےمے سے ہوتا ہے مقصد دل فوتمے ہے بنیاد مولویت و موتکان میں سن یہ بات ہے نشترمولویت ہے موت سے بد تراس سے ہوتا ہے کار عمر تماماس سے ہوتا ہے عقل کو سرساماس میں انساں کی جان جاتی ہےاس میں شاعر کی آن جاتی ہےیہ زمین آسمان کیا شے ہےآن جائے تو جان کیا شے ہےگوہر شاہ وار چن پیارےمجھ سے اک گر کی بات سن پیارےغم تو بنتا ہے چار دن میں نشاطشادمانی سے رہ بہت محتاطغم کے مارے تو جی رہے ہیں ہزارنہیں بچتے ہیں عیش کے بیمارآن میں دل کے پار ہوتی ہےپنکھڑی میں وہ دھار ہوتی ہےجوئے عشرت میں غم کے دھارے ہیںیخ و شبنم میں بھی شرارے ہیںہاں سنبھل کر لطافتوں کو برتٹوٹ جائے کہیں نہ کوئی پرتدیکھ کر شیشۂ نشاط اٹھایہ ورق ہے ورق ہے سونے کاکاغذ باد یہ نگینہ ہےبلکہ اے دوست آبگینہ ہےساغر شبنم خوش آب ہے یہآبگینہ نہیں حباب ہے یہروک لے سانس جو قریب آئےٹھیس اس کو کہیں نہ لگ جائےتیغ مستی کو احتیاط سے چھوورنہ ٹپکے گا انگلیوں سے لہومستیوں میں ہے تاب جلوۂ ماہاور سیہ مستیاں خدا کی پناہخوب ہے ایک حد پہ قائم نشہہلکا پھلکا سبک ملائم نشہہاں ادب سے اٹھا ادب سے جامتاکہ آب حلال ہو نہ حرامجام پر جام جو چڑھاتے ہیںاونٹ کی طرح بلبلاتے ہیںزندگی کی ہوس میں مرتے ہیںمے کو رسوائے دہر کرتے ہیںیاد ہے جب جگرؔ چڑھاتے تھےکیا الف ہو کے ہن ہناتے تھےمیری گردن میں بھر کے چند آہیںپاؤں سے ڈالتے تھے وہ بانہیںعقل کی موت علم کی پستیالاماں لعنت سیہ مستیاف گھٹا ٹوپ نشے کا طوفانبھوت عفریت دیو جن شیطانلات گھونسہ چھڑی چھری چاقولب لباہٹ لعاب کف بدبوطنز آوازہ برہمی افسادطعن تشنیع مضحکہ ایرادشور ہو حق ابے تبے ہے ہےاوکھیاں گالیاں دھماکے قےمس مساہٹ غشی تپش چکرسوز سیلاب سنسنی صرصرچل چخے چیخ چناں چنیں چنگھاڑچخ چخے چاؤں چاؤں چیل چلھاڑلپا ڈکی لتام لام لڑائیہول ہیجان ہانک ہاتھا پائیکھلبلی کاؤں کاؤں کھٹ منڈلہونک ہنگامہ ہمہمہ ہلچلالجھن آوارگی ادھم اینٹھنبھونک بھوں بھوں بھنن بھنن بھن بھندھول دھپا دھکڑ پکڑ دھتکارتہلکہ تو تڑاق تف تکراربو بھبھک بھیے بکس برر بھونچالدبدبے دندناہٹیں دھمالگاہ نرمی و لطف و مہر و سلامگاہ تلخی و ترشی و دشنامعقل کی موت علم کی پستیالاماں لعنت سیہ مستیصرف نشے کی بھیگنے دے مسیںان کو بننے نہ دے کبھی مونچھیںالاماں خوفناک کالا نشہاوہ ریش و بروت والا نشہاژدر مرگ او دیو خوں خواریالاماں نشۂ ''جٹادھاری''نشے کا جھٹ پٹا ہے نور حیاتجھٹپٹے کو بنا نہ کالی راتنشے کی تیز روشنی بھی غلطچودھویں کی سی چاندنی بھی غلطذہن انساں کو بخشتا ہے جمالنشہ ہو جب یہ قدر نور ہلالغرفۂ عقل بھیڑ تو اکثرپر اسے کچ کچا کے بند نہ کررات کو لطف جام ہے پیارےدن کا پینا حرام ہے پیارےدن ہے عفریت آز کی کھنکارات پازیب نازکی جھنکاردن ہے خاشاک خاک دھول دھواںرات آئینہ انجمن افشاںدن مسلح دواں کمر بستہرات طاق و رواق و گلدستہدن ہے فولاد سنگ تیغ علمرات کمخواب پنکھڑی شبنمدن ہے شیون دہائیاں دکھڑےرات مست انکھڑیاں جواں مکھڑےدن کڑی دھوپ کی بد آہنگیرات پچھلے پہر کی سارنگیدن بہادر کا بان بیر کی رتھرات چمپاکلی انگوٹھی نتھدن ہے طوفان جنبش و رفتاررات میزان کاکل و رخسارآفتاب و شراب ہیں بیریبوتلیں دن کو ہیں پچھل پیریکر نہ پامال حرمت اوقاترات کو دن بنا نہ دن کو راتپی مگر صرف شام کے ہنگاماور وہ بھی بہ قدر یک دو جاموہی انساں ہے خرم و خورسندجو ہے مقدار و وقت کا پابندمیرے پینے ہی پر نہ جا مری جاںمجھ سے جینا بھی سیکھ ہیں قرباںاس کے پینے میں رنگ آتا ہےجس کو جینے کا ڈھنگ آتا ہےیہ نصائح بہت ہیں بیش بہاجلد سو جلد جاگ جلد نہاباغ میں جا طلوع سے پہلےتا نگار سحر سے دل بہلےسرو و شمشاد کو گلے سے لگاہر چمن زاد کو گلے سے لگامنہ اندھیرے فضائے گلشن دیکھساحل و سبزہ زار و سوسن دیکھگاہ آوارہ ابر پارے دیکھان کی رفتار میں ستارے دیکھجیسے کہرے میں تاب روئے نکوجیسے جنگل میں رات کو جگنوگل کا منہ چوم اک ترنم سےنہر کو گدگدا تبسم سےجسم کو کر عرق سے نم آلودتاکہ شبنم پڑھے لہک کے درودپھینک سنجیدگی کا سر سے بارناچ اچھل دندنا چھلانگیں ماردیکھ آب رواں کا آئینہدوڑ ساحل پہ تان کر سینہمست چڑیوں کا چہچہانا سنموج نو مشق کا ترانہ سنبوستاں میں صبا کا چلنا دیکھسبزہ و سرو کا مچلنا دیکھشبنم آلود کر سخن کا لباسچکھ دھندلکے میں بوئے گل کی مٹھاسشاعری کو کھلا ہوائے سحراس کا نفقہ ہے تیری گردن پررقص کی لہر میں ہو گم لب نہریوں ادا کر عروس شعر کا مہرجذب کر بوستاں کے نقش و نگارذہن میں کھول مصر کا بازارنرم جھونکوں کا آب حیواں پیبوئے گل رنگ شبنمستاں پیگن گنا کر نظر اٹھا کر پیصبح کا شیر دغدغہ کر پیتاکہ مجرے کو آئیں کل برکاتدولت جسم و علم و عقل و حیاتیہ نہ طعنہ نہ یہ الہنا ہےایک نکتہ بس اور کہنا ہےغیبت نور ہو کہ کثرت نورظلمت تام ہو کہ شعلۂ طورایک سا ہے وبال دونوں کاتیرگی ہے مآل دونوں کادرخور صاحب مآل نہیںہر وہ شے جس میں اعتدال نہیںشادمانی سے پی نہیں سکتاجس کو ہوکا ہو جی نہیں سکتااے پسر اے برادر اے ہم رازبن نہ اس طرح دور کی آوازکوئی بیمار تن نہیں سکتاخادم خلق بن نہیں سکتاخدمت خلق فرض ہے تجھ پردور ماضی کا قرض ہے تجھ پرعصر حاضر کے شاعر خوددارقرض داری کی موت سے ہشیارذہن انسانیت ابھار کے جازندگانی کا قرض اتار کے جاتجھ پہ ہندوستان ناز کرےعمر تیری خدا دراز کرے
مار و کژدم کے ٹھکانے جس کی دیواروں کے چاکاف یہ رخنے کس قدر تاریک کتنے ہول ناک
میں کب سے زمیں پر زمیں کی طرح چل رہا ہوںیہ دیوانہ اندھا سفر کب کہاں جا کے چھوڑے گا مجھ کو؟میں اس زندگی کی بہت سی بہاریں غذا کی طرح کھا چکا ہوںپہن اوڑھ کر پیرہن کی طرح پھاڑ دی ہیںمیں ریشم کا کیڑا ہوں کویے میں چھپ جاتا ہوں ڈر کے مارےاسی کویے کو کھاتا رہتا ہوں اور کاٹ کر اس سے آتا ہوں باہراور اپنے جینے کا مقصد سبب جاننا چاہتا ہوںمرا دل خدا کی رضا ڈھونڈھتا پھر رہا ہےمرا جسم لذات کی جستجو میں لگا ہےگزر گاہ شام و سحر پر کہیں ایک دن میں اگا تھانباتات کی طرح جیتا ہوں اس کارگاہ جہاں میںنہ احساس ایمان ایقان کوئینہ دنیا میں شامل نہ خود اپنی پہچان کوئیگنہ اور جہنم ثواب اور جنت؟یہ کیوں ہے کہ بے مزد کچھ بھی نہیں مل سکا ہےنہ کل مل سکے گااساطیر فرماں رواؤں کے احکام اور صوفیا کی کرامت کے قصےپیمبر کی دل سوزیوں کے مظاہرقلم بند ہیں سب!انہیں ہم نے تعویذ کی طرح اپنے گلوں میں حمائل کیا ہےانہیں ہم نے تہہ خانوں کی کوٹھری میں مقفل کیا ہےجہاں لڑکھڑاتے ہیں ان کی مدد لے کے چلتے ہیں آگےمگر راستوں کا تعین نہیں ہے!
دن بھر کافی ہاؤس میں بیٹھے کچھ دبلے پتلے نقادبحث یہی کرتے رہتے ہیں سست ادب کی ہے رفتارصرف ادب کے غم میں غلطاں چلنے پھرنے سے لاچارچہروں سے ظاہر ہوتا ہے جیسے برسوں کے بیماراردو ادب میں ڈھائی ہیں شاعر میرؔ و غالبؔ آدھا جوشؔیا اک آدھ کسی کا مصرعہ یا اقبالؔ کے چند اشعاریا پھر نظم ہے اک چوہے پر حامد مدنیؔ کا شہکارکوئی نہیں ہے اچھا شاعر کوئی نہیں افسانہ نگارمنٹوؔ کرشنؔ ندیمؔ اور بیدیؔ ان میں جان تو ہے لیکنعیب یہ ہے ان کے ہاتھوں میں کند زباں کی ہے تلوارعالؔی افسر انشاؔ بابو ناصرؔ میرؔ کے بر خوردارفیضؔ نے جو اب تک لکھا ہے کیا لکھا ہے سب بیکاران کو ادب کی صحت کا غم مجھ کو ان کی صحت کایہ بے چارے دکھ کے مارے جینے سے ہیں کیوں بے زارحسن سے وحشت عشق سے نفرت اپنی ہی صورت سے پیارخندۂ گل پر ایک تبسم گریۂ شبنم سے انکار
ادھ کھلے ہونٹ نیم وا آنکھیںبے نوا ہونٹ بے صدا آنکھیںایسی خاموشی ایسی تنہائیخود تماشا ہے خود تماشائیخود ہی تصویر خود مصور ہےخود غزل اور خود ہی شاعر ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books