aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ".hers"
وہ ہیئت داں وہ عالم ناف شب میں چھت پہ جاتا تھارصد کا رشتہ سیاروں سے رکھتا تھا نبھاتا تھااسے خواہش تھی شہرت کی نہ کوئی حرص دولت تھیبڑے سے قطر کی اک دوربین اس کی ضرورت تھیمری ماں کی تمناؤں کا قاتل تھا وہ قلامہمری ماں میری محبوبہ قیامت کی حسینہ تھیستم یہ ہے یہ کہنے سے جھجکتا تھا وہ فہامہتھا بے حد اشتعال انگیز بد قسمت او علامہخلف اس کے خذف اور بے نہایت نا خلف نکلےہم اس کے سارے بیٹے انتہائی بے شرف نکلےمیں اس عالم ترین دہر کی فکرت کا منکر تھامیں فسطائی تھا جاہل تھا اور منطق کا ماہر تھاپر اب میری یہ شہرت ہے کہ میں بس اک شرابی ہوںمیں اپنے دودمان علم کی خانہ خرابی ہوںسگان خوک زاد برزن و بازار بےمغزیمری جانب اب اپنے تھوبڑے شاہانہ کرتے ہیںزنا زادے مری عزت بھی گستاخانہ کرتے ہیںکمینے شرم بھی اب مجھ سے بے شرمانہ کرتے تھے
سو یہ جواب ہے میرا مرے عدو کے لیےکہ مجھ کو حرص کرم ہے نہ خوف خمیازہاسے ہے سطوت شمشیر پر گھمنڈ بہتاسے شکوہ قلم کا نہیں ہے اندازہ
ٹک حرص و ہوا کو چھوڑ میاں مت دیس بدیس پھرے ماراقزاق اجل کا لوٹے ہے دن رات بجا کر نقاراکیا بدھیا بھینسا بیل شتر کیا گونیں پلا سر بھاراکیا گیہوں چانول موٹھ مٹر کیا آگ دھواں اور انگاراسب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا
عجب گھڑی تھیکتاب کیچڑ میں گر پڑی تھیچمکتے لفظوں کی میلی آنکھوں میں الجھے آنسو بلا رہے تھےمگر مجھے ہوش ہی کہاں تھانظر میں اک اور ہی جہاں تھانئے نئے منظروں کی خواہش میں اپنے منظر سے کٹ گیا ہوںنئے نئے دائروں کی گردش میں اپنے محور سے ہٹ گیا ہوںصلہ جزا خوف ناامیدیامید امکان بے یقینیہزار خانوں میں بٹ گیا ہوںاب اس سے پہلے کہ رات اپنی کمند ڈالے یہ چاہتا ہوں کہ لوٹ جاؤںعجب نہیں وہ کتاب اب بھی وہیں پڑی ہوعجب نہیں آج بھی مری راہ دیکھتی ہوچمکتے لفظوں کی میلی آنکھوں میں الجھے آنسوعجب نہیں میرے لفظ مجھ کو معاف کر دیںہوا و حرص و ہوس کی سب گرد صاف کر دیںعجب گھڑی تھیکتاب کیچڑ میں گر پڑی تھی
وہ شام کے وقت خوں میں لت پتسڑک کے کنارے پڑا ہوا تھاگزرنے والوں سے کہہ رہا تھاہمیں ہمارے محافظوں سےنجات کا راستہ بتاؤوہ خواہش اقتدار و دولت میںہم کو نیلام کر رہے ہیںاخوت و اتحاد کا درد دینے والےخود اپنے بچوں کے خوں سےحرص و ہوس کی شمعیں جلا رہے ہیںہماری اقدارآج متروک فیشنوں کے لباس کی طرحان کی نظروں سے گر چکی ہیںاب ان کی اولاد ان کی ریشہ دوانیوں سے پناہتازہ بتازہ نشوں میں ڈھونڈتی ہےانہی کی شہ پا کے نسل نواپنی پیاس اک دوسرے کے خوں سے بجھا رہی ہےیہ سنگ دل جشن مرگ انبوہ بے گناہاں منا رہے ہیںکوئی ہمیں ان نجیب صورتحریص بے مہر کرگوں سےنجات کا راستہ بتاؤ
اس نازک لمحے میں میں نےحرص و ہوس کو رقصاں دیکھازد میں نظام زرداری کیروح بشر کو لرزاں دیکھامجبوری کو عریاں دیکھا
سچ بتا تو بھی ہے کیا اے کشتۂ صد حرص و آزراز دان کاکل شب رنگ و چشم نیم باز
اس مدارات پہ شوہر کو بھی حرص آتی ہےاپنے ہاتھوں سے وہ بلڈاگ کو نہلاتی ہے
آئینۂ خلوص و محبت یہاں تھے رامامن اور شانتی کی ضمانت یہاں تھے رامسچائیوں کی ایک علامت یہاں تھے رامیعنی دل و نگاہ کی چاہت یہاں تھے رامقدموں سے رام کے یہ زمیں سرفراز ہےہندوستاں کو ان کی شجاعت پہ ناز ہےان کے لئے گناہ تھا یہ ظلم و انتشارایثار ان کا سارے جہاں پر ہے آشکاردامن نہیں تھا ان کا تعصب سے داغدارحرص و ہوس سے دور تھے وہ صاحب وقاربے شک انہیں کے نام سے روشن ہے نام ہنداقبال نے بھی ان کو کہا ہے امام ہندلعل و گہر کی کوئی نہیں تھی طلب انہیںعزت کے ساتھ دل میں بساتے تھے سب انہیںبچپن سے نا پسند تھے غیظ و غضب انہیںلوگوں کا دل دکھانا گوارا تھا کب انہیںوہ ظالموں پہ قہر غریبوں کی ڈھال تھےکردار و اعتبار کی روشن مثال تھےان کو تھا اپنی رسم اخوت پہ اعتمادخود کھا کے جوٹھے بیر دیا درس اتحادفرض آشنا تھے فرض کو رکھا ہمیشہ یادکہنے پہ اپنی ماں کے کہا گھر کو خیربادرخصت ہوئے تو لب پہ نہ تھے شکوہ و فغاںیہ حوصلہ نصیب ہوا ہے کسے یہاںبن باس پر بھی لب پہ نہ تھا ان کا احتجاجبھائی کے حق میں چھوڑ دیا اپنا تخت و تاجکرتے رہے وہ چودہ برس تک دلوں پہ راجہندوستاں میں ہے کوئی ان کی مثال آجراہ وفا پہ چل کے دکھایا ہے رام نےکہتے ہیں کس کو تیاگ بتایا ہے رام نےرہبر یہ شر پسند کہاں اور کہاں وہ راموہ بے نیاز عیش و طرب زر کے یہ غلاموہ پیکر وفا یہ ریاکار و بد کلاموہ امن کے نقیب یہ شمشیر بے نیامرسم و رواج رام سے عاری ہیں شر پسندراون کی نیتیوں کے پجاری ہیں شر پسند
مری جھکی ہوئی آنکھیں تلاش کرتی رہیںکوئی ضمیر کا لہجہ کوئی اصول کی باتگزر گئی مری پلکوں پہ جاگتی ہوئی راتندامتوں کا پسینہ جبیں پہ پھوٹ گیامری زباں پہ ترا نام آ کے ٹوٹ گیاقبول کر یہ ندامت کہ اس پسینے کیہر ایک بوند میں چنگاریوں کے سانچے ہیںقبول کر مرے چہرے کی جھریاں جن میںکہیں جنوں کہیں تہذیب کے طمانچے ہیںسنبھال میرا سبک ہدیۂ غم ادراکجو مجھ کو سات سمندر کا زہر پی کے ملاثقافتوں کے ہر آتش فشاں میں جی کے ملاطلب کیا مجھے یونان کے خداؤں نےجنم لیا مرے سینے میں دیوتاؤں نےفریب و حرص کے ہر راستے سے موڑ دیااور اس کے بعد سپر مارکٹ پہ چھوڑ دیاجہاں بس ایک ہی معیار آدمیت تھاہجوم مرد و زناں محو سیر و وحشت تھاگھڑی کا حسن نئے ریڈیو کی زیبائیپلاسٹک کے کنول نائلان کی ٹائیاطالیہ کے نئے بوٹ ہانگ کانگ کے ہارکرائسلر کی نئی رینج، ٹوکیو کے سنگارہر ایک جسم کو آسودگی کی خواہش تھیہر ایک آنکھ میں اسباب کی پرستش تھییہ انہماک قیادت میں بھی نہیں ملتایہ سوئے نفس عبادت میں بھی نہیں ملتا
اب گوارا ہوئی کیوں غیر کی صحبت تجھ کوکیوں پسند آ گئی نا جنس کی شرکت تجھ کواوج تقدیس کو پستی کی ادا بھا گئی کیوںتیری تنہائی کی جنت پہ خزاں چھا گئی کیوںشعر و رومان کے وہ خواب کہاں ہیں تیرےوہ نقوش گل و مہتاب کہاں ہیں تیرےکون سی طرفہ ادا بھا گئی اس دنیا میںخلد کو چھوڑ کے کیوں آ گئی اس دنیا میںہو گئی عام تو نور مہ تاباں کی طرحآہ کیوں جل نہ بجھی شمع شبستاں کی طرحاپنی دوشیزہ بہاروں کو نہ کھونا تھا کبھیوہ کلی تھی تو جسے پھول نہ ہونا تھا کبھیعفتیں مٹ کے جوانی کو مٹا جاتی ہیںپھول کمھلاتے ہیں کلیاں کہیں کمھلاتی ہیںبلبل مست نوا دشت میں کیوں رہنے لگینغمۂ تر کی جگہ مرثیہ کیوں کہنے لگیہوس آلودہ ہوئی پاک جوانی تیریغیر کی رات ہے اب اور کہانی تیریکس کو معلوم تھا تو اس قدر ارزاں ہوگیزینت محفل و پامال شبستاں ہوگیجذب عفت کا میسر تھا جو عرفاں تجھ کوکیوں نہ مرغوب ہوا شیوۂ جاناں تجھ کوتیرگی حرص کی حوروں کو بھی بہکا ہی گئیتیرے بستر پہ بھی آخر کو شکن آ ہی گئیاب نہیں تجھ میں وہ حوروں کی سی عفت باقیحور تھی تجھ میں، گئی، رہ گئی عورت باقیہاں وہ عورت جسے بچوں کا فسانہ کہئےبربط نفس کا اک فحش ترانہ کہئےجس میں ہے زہر عفونت کا وہ پیمانہ کہیںاک گناہوں کا بھبھکتا ہوا مے خانہ کہیںنوحہ خواں اپنی جواں موت کا ہونے دے مجھےمسکرا تو مگر اس حال پہ رونے دے مجھے
تو نے اک بار کہا تھا مجھے تنہائی میںپیار دولت کا پرستار نہیں ہو سکتازندگی حرص کے پہلو میں نہیں سو سکتیجسم رسوا سر بازار نہیں ہو سکتاولولے روح کے نیلام نہیں ہو سکتےحسن ذلت کا پرستار نہیں ہو سکتامصلحت آج مگر جیت چکی ہے تجھ کوکوئی کس منہ سے کہے مونس و غم خوار تجھےکوئی کس دل سے کہے پیار کی رانی تجھ کوکوئی کس طرح کہے پیکر ایثار تجھےتو نے بیچی ہے سر عام جوانی اپنیگدگداتی ہے زر و سیم کی جھنکار تجھے
ترے جمال سے اے آفتاب ننکانہنکھر نکھر گیا حسن شعور رندانہکچھ ایسے رنگ سے چھیڑا رباب مستانہکہ جھومنے لگا روحانیت کا مے خانہتری شراب سے مدہوش ہو گئے مے خواردوئی مٹا کے ہم آغوش ہو گئے مے خوارترا پیام تھا ڈوبا ہوا تبسم میںبھری تھی روح لطافت ترے تکلم میںنوائے حق کی کشش تھی ترے ترنم میںیقیں کی شمع جلائی شب توہم میںدلوں کو حق سے ہم آہنگ کر دیا تو نےگلوں کو گوندھ کے یک رنگ کر دیا تو نےتری نوا نے دیا نور آدمیت کومٹا کے رکھ دیا حرص و ہوا کی ظلمت کودلوں سے دور کیا سیم و زر کی رغبت کوکہ پا لیا تھا ترے دل نے حق کی دولت کوہجوم ظلمت باطل میں حق پناہی کیفقیر ہو کے بھی دنیا میں بادشاہی کیتری نگاہ میں قرآن و دید کا عالمترا خیال تھا راز حیات کا محرمہر ایک گل پہ ٹپکتی تھی پیار کی شبنمکہ بس گیا تھا نظر میں بہشت کا موسمنفس نفس میں کلی رنگ و بو کی ڈھلتی تھینسیم تھی کہ فرشتوں کی سانس چلتی تھیتری شراب سے بابا فرید تھے سرشارترے خلوص سے بے خود تھے صوفیان کبارکہاں کہاں نہیں پہنچی ترے قدم کی بہارترے عمل نے سنوارے جہان کے کردارتری نگاہ نے صہبائے آگہی دے دیبشر کے ہاتھ میں قندیل زندگی دے دیترے پیام سے ایسی کی تھی مسیحائیترے سخن میں حبیب خدا کی رعنائیترے کلام میں گوتم کا نور دانائیترے ترانے میں مرلی کا لحن یکتائیہر ایک نور نظر آیا تیرے پیکر میںتمام نکہتیں سمٹی ہیں اک گل تر میںجہاں جہاں بھی گیا تو نے آگہی بانٹیاندھیری رات میں چاہت کی روشنی بانٹیعطا کیا دل بیدار زندگی بانٹیفساد و جنگ کی دنیا میں شانتی بانٹیبہار آئی کھلی پیار کی کلی ہر سوترے نفس سے نسیم سحر چلی ہر سورضائے حق کو نجات بشر کہا تو نےتعینات خودی کو ضرر کہا تو نےوفا نگر کو حقیقت نگر کہا تو نےظہور عشق کو سچی سحر کہا تو نےجہان عشق میں کچھ بیش و کم کا فرق نہ تھاتری نگاہ میں دیر و حرم کا فرق نہ تھابتایا تو نے کہ عرفاں سے آشنا ہوناکبھی نہ عاشق دنیائے بے وفا ہونابدی سے شام و سحر جنگ آزما ہوناخدا سے دور نہ اے بندۂ خدا ہونانشے میں دولت و زر کے نہ چور ہو جاناقریب آئے جو دنیا تو دور ہو جاناجو روح بن کے سما جائے ہر رگ و پے میںتو پھر نہ شہد میں لذت نہ ساغر مے میںوہی ہے ساز کے پردے میں لحن میں لے میںاسی کی ذات کی پرچھائیاں ہر اک شے میںنہ موج ہے نہ ستاروں کی آب ہے کوئیتجلیوں کے ادھر آفتاب ہے کوئیابد کا نور فراہم کیا سحر کے لئےدیا پیام بہاروں کا دشت و در کے لئےدیے جلا دئے تاریک رہ گزر کے لئےجیا بشر کے لئے جان دی بشر کے لیےدعا یہ ہے کہ رہے عشق حشر تک تیرازمیں پہ عام ہو یہ درد مشترک تیراخدا کرے کہ زمانہ سنے تری آوازہر اک جبیں کو میسر ہو تیرا عکس نیازجہاں میں عام ہو تیرے ہی پیار کا اندازخلوص دل سے ہو پوجا خلوص دل سے نمازترے پیام کی برکت سے نیک ہو جائیںیہ امتیاز مٹیں لوگ ایک ہو جائیں
مکدر ہے فضائے عالم امکاں سیاست سےبہت بے آبرو ہے آج کل انساں سیاست سےضمیر و ظرف کی اس کے یہاں قیمت نہیں کوئیجہاں میں در بدر ہیں صاحب ایماں سیاست سےیہ احساسات تہذیب و تمدن کو مٹاتی ہےسیاست آج کل کی کیسے کیسے گل کھلاتی ہےنہیں شیوہ سیاست کا محبت اور رواداریسکھاتی ہے پرستاروں کو اپنے یہ ریا کارینہ اس کا کوئی مسلک ہے نہ اس کا کوئی مذہب ہےدل حرس و ہوس میں بن کے رہتی ہے یہ چنگاریکسی کا گھر گراتی ہے کسی کا گھر سجاتی ہےسیاست آج کل کی کیسے کیسے گل کھلاتی ہےلڑاتی ہے یہی اک دوسرے کو ذات و مذہب پراسی کی شہہ پہ قتل عام ہوتا ہے یہاں اکثررعونت یہ سکھاتی ہے منافق حکمرانوں کواسی کے بطن سے ہوتے ہیں پیدا جبر و ظلم و شریہ اپنے محسنوں کا خون پی کر مسکراتی ہےسیاست آج کل کی کیسے کیسے گل کھلاتی ہےسدا یہ اتحاد باہمی پر وار کرتی ہےتعصب کو ہوا دیتی ہے دل بیزار کرتی ہےکہیں تعمیر کرتی ہے عبادت گاہ فتنوں سےکہیں خود ہی عبادت گاہ کو مسمار کرتی ہےفریب و مکر سے اپنے یہ ہر سو قہر ڈھاتی ہےسیاست آج کل کی کیسے کیسے گل کھلاتی ہےاسی کے دم سے فصلیں لہلہاتی ہیں فسادوں کییہی تکمیل کرتی ہے حکومت کے ارادوں کیاسی کی مصلحت سے بغض کے پودے پنپتے ہیںگرا دیتی ہے یہ دیوار باہم اعتمادوں کیہوا دے کر یہ بد عنوانیوں کی لو بڑھاتی ہےسیاست آج کل کی کیسے کیسے گل کھلاتی ہےاشارے پر اسی کے شہر قصبے گاؤں جلتے ہیںاسی کی آستیں میں سازشوں کے ناگ پلتے ہیںستم گاروں پہ کرتی ہے یہ سایہ اپنے آنچل کااسی کی آڑ میں اشرار و قاتل بچ نکلتے ہیںیہ قانون و عدالت کو بھی اب آنکھیں دکھاتی ہےسیاست آج کل کی کیسے کیسے گل کھلاتی ہےجسارت کو یہی دہشت گری کا نام دیتی ہےیہ ہم سایے کو خود ہی جنگ کا پیغام دیتی ہےبدلتی ہے یہی تقدیر ارباب قیادت کییہ اپنے وارثوں کو سر خوشی کا جام دیتی ہےیہ وعدوں کے گھروندے ریگزاروں میں بناتی ہےسیاست آج کل کی کیسے کیسے گل کھلاتی ہے
ترا جہان ہے بالا جہان انساں سےکہ بے نیاز ہے تو حادثات امکاں سےترا فروغ فروغ جمال جاناں ہےترا نشاط نشاط گل و گلستاں ہےتری حیات کا مقصد ہی دوست داری ہےترا معاملہ سود و زیاں سے عاری ہےازل کے دن سے ہے محو جمال جانانہرہے گی تا بہ ابد ماسوا سے بیگانہتجھے کس آگ نے حرص و ہوا سے پاک کیاتمام خرمن ہستی جلا کے خاک کیا
زندگی کی لگن نہیں ہم کوزندگی کی ہمیں تھکن بھی نہیںہم کہ ہیرو نہیں ولن بھی نہیں
شروع شروع میں اچنبھے اچھے لگتے تھےشوق بھی تھا اور دن بھی بھلے تھےاچھے لوگوں سے ملنے کا شوق جنون کی حد تکہر لمحہ بیتاب لیے پھرتا تھاجب کوئی اپنا ہیرواپنے آدرش کا پیکر سامنے آتاجی یہ چاہتاآنکھیں بچھائیں دل میں بٹھائیںباتیں سنیں اتنی باتیںسیل زماں سے اونچی باتیںدل کے گہرے غم کی باتیںدوری اور نزدیکیلفظ بہت چھوٹے ہیںان لفظوں کو پرکھو توانسان اور بھی چھوٹے نکلتے ہیںپاس بلا کر جسے دیکھواس کا چہرہ فق بے رنگبھبھوت کی صورت کالا کالاکیا سورج بہت نیچے آ گیا ہےکیا ماؤں نے بچے جن کردودھ پلانا چھوڑ دیا ہےگولیاں کھا کے دودھ کے سوتےخشک کرنے والی ماؤںپلاسٹک کے بیگز میں رات رات بھربچوں کا پیشاب جذب کرنے والی ماؤںنیند تمہاری بہت میٹھی ہےٹھیک ہے تم بھی بے بس ہومرد گھروں سے غائب ہوں توماں کی مامتا بلک بلک کرنیند کی گولی کے آنگن میں سو ہی جایا کرتی ہےخواب آور گولییہ بھی تو آج کی اہم ضرورت ہےمصنوعی پلکیں آنکھوں سے اتار کےاصلی چہرہ مت دیکھوگولیاں کھاؤ سو جاؤ آرام کروصبح تمہارے سر کے اوپر سورج کیاور بھی گرم شعاعیں رقص کریں گیاچھے لوگ صبح کو کچھ اور شام کو کچھاور رات کو ان کے خون کی طغیانی میںان کے ہاتھ اور ان کی آنکھیںبالکل جنگلی چوہے جیسی معلوم ہوںپہلے پہل یہ اچنبھا تھاخوف کی تہ میں انجانے کو جاننے کی خواہشمکڑی کے جالے کی مانند پھیلیپہلے پہل پستانوں میں درد کی ٹیسیں بہت اٹھیںپھر یاد نہیںمصنوعی پلکیں اتنی لمبی ہیںمیں اپنے پیر کے نقش کے آگے دیکھ نہیں سکتی ہوںکہتے ہیں کہ ہوا چلی ہےکھیپ نئے لوگوں کیجن کو اچھا کہنے والے ساتھ ساتھ ہیںپہنچ گئے ہیں شہر کنارےسورج اب تو اتنا نیچے آ پہنچا ہےاس کو اٹھا کے دور کسی کونے میں دفن کرورات کی چادر اوڑھنے سے پہچان کا رشتہشکر خدایا ٹوٹ تو جاتا ہےاے رب تو والیٔ کون و مکاںتو سب کے دلوں کے حال سے واقف ہےتو ہم کو بتا ہم کیا سوچیںہم نے خواہشوں کے سارے پرندے اڑا دئے ہیں
کہا میرے ہیرو ذرا ناچیےوہ فلمی کتھائیں ذرا بانچیے
ماں پاپا بہت خوش تھے میرے آنے پرنہ جانے کیوں پھر دادہ دادی کا چہرہ نہیں کھلا تھاجب میرے حق میں پاپا نے انہیں سمجھایاتبھی تو مجھے میرا ہیرو ملا تھا
ارے ہیرو!اداکاری نہ کر چل اٹھکہ لاکھوں دل تری آنکھوں سے دھڑکن لینے آئے ہیںچلو مانا تری آنکھیں کچھ ایسی تھیںکہ اس بے کار سیارے پہ ان کا دیر تک رہنانہ بنتا تھامگر پیارے!تری آنکھوں کی رخصت روشنی کی ہار ہی تو ہےتو کیوں خاموش ہے کچھ کہہکہ تیری بے کراں آواز میں تو لاکھوں صدیوں کی صدائیں تھیںترے چہرے کا ہر گہرا تأثر ایسا چرخہ تھاکہ جس پر اپنے جذبے کاڑھتے تھے ہمسو اس چرخے کی کوک اب کس لیے چپ ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books