aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ".kdmo"
اسے واسطہ کیا کم و بیش سےنشیب و فراز و پس و پیش سے
دشت کے کام و دہن کو دن کی تلخی سے فراغدور دریا کے کنارے دھندلے دھندلے سے چراغ
خبر نہ برد بہ رستم کسے کہ سہرابمنہ پوچھ عالم کام و دہن ندیم مرے
یہ صداؤں کے خم و پیچ یہ رنگوں کی زباںچمنیوں سے یہ نکلتا ہوا پر پیچ دھواں
چشموں کے شیریں آب سےلذت کشاں کام و دہن
بند گلیوں کے خم و پیچ میں چکراتے رہےاپنے ہونے کی تب و تاب میں لہراتے رہے
جس پھول کو چومو کھلتا تھاجس شے کو دیکھو ہنستی تھی
میں تجھے شمع کہوں اور کہوں پروانوآؤ اس شمع کے ہونٹوں کو خوشی سے چومو
تبھی سے اس پھل کا یہ کسیلا ذائقہآدمی کے کام و دہن میں ہر پھر کے آ رہا ہے
نظم بناقصۂ کام و دہن کا غم مطلوب بنا
ابھی دو چار گلیاں طے نہ ہو پائیںخم و پیچ اس کی رہ میں آئے
کیوں زمانے کے خم و پیچ میں الجھا ہے تودل میں احساس تباہی و ضرر پیدا کر
قاضئ شہر کا ماتھا چوموجس کے قلم میں زہر ہلاہل جس کے سخن میں لحن ہلاہل
ہم وفا کیش بنیںخدمت قوم و وطن اپنا سلیقہ بن جائے
راہ ہستی کے خم و پیچ سنور جانے دو
کھنڈر کی بوسیدگی میں چھپ کرپرانی یادوں کے ہونٹ چومو
آؤ اب اس وصل کی ساعت کو چومومر گئی تھی جیتے جی میں
بولا کہ زمانے نے دیا نوش کبھی نیشصدیاں مجھے گزری ہیں یہاں تین کم و بیش
شعاع درد کو چومو گلے لگاؤ نعیمؔسر وجود جھکائے سنا کیا سب کچھ
نیناں میں بھی تو ہی جچے ہوسر سے پا تا چومو مجھ کو
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books