aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "Dere"
کٹتے بھی چلو، بڑھتے بھی چلو، بازو بھی بہت ہیں سر بھی بہتچلتے بھی چلو کہ اب ڈیرے منزل ہی پہ ڈالے جائیں گے
دیار شرق کی آبادیوں کے اونچے ٹیلوں پرکبھی آموں کے باغوں میں کبھی کھیتوں کی مینڈوں پرکبھی جھیلوں کے پانی میں کبھی بستی کی گلیوں میںکبھی کچھ نیم عریاں کم سنوں کی رنگ رلیوں میںسحر دم جھٹپٹے کے وقت راتوں کے اندھیرے میںکبھی میلوں میں ناٹک ٹولیوں میں ان کے ڈیرے میںتعاقب میں کبھی گم تتلیوں کے سونی راہوں میںکبھی ننھے پرندوں کی نہفتہ خواب گاہوں میںبرہنہ پاؤں جلتی ریت یخ بستہ ہواؤں میںگریزاں بستیوں سے مدرسوں سے خانقاہوں میںکبھی ہم سن حسینوں میں بہت خوش کام و دل رفتہکبھی پیچاں بگولہ ساں کبھی جیوں چشم خوں بستہہوا میں تیرتا خوابوں میں بادل کی طرح اڑتاپرندوں کی طرح شاخوں میں چھپ کر جھولتا مڑتامجھے اک لڑکا آوارہ منش آزاد سیلانیمجھے اک لڑکا جیسے تند چشموں کا رواں پانینظر آتا ہے یوں لگتا ہے جیسے یہ بلائے جاںمرا ہم زاد ہے ہر گام پر ہر موڑ پر جولاںاسے ہم راہ پاتا ہوں یہ سائے کی طرح میراتعاقب کر رہا ہے جیسے میں مفرور ملزم ہوںیہ مجھ سے پوچھتا ہے اخترالایمان تم ہی ہو
ہم بنجارے دل والے ہیںاور پینٹھ میں ڈیرے ڈالے ہیںتم دھوکا دینے والی ہو؟ہم دھوکا کھانے والے ہیںاس میں تو نہیں شرماؤ گی؟کیا دھوکا دینے آؤگی؟
کیا بچے سلجھے ہوتے ہیںجب گیند سے الجھے ہوتے ہیںوہ اس لیے مجھ کو بھاتے ہیںدن بیتے یاد دلاتے ہیںوہ کتنے حسین بسیرے تھےجب دور غموں سے ڈیرے تھےجو کھیل میں حائل ہوتا تھانفرین کے قابل ہوتا تھاہر اک سے الجھ کر رہ جانارک رک کے بہت کچھ کہہ جاناہنس دینا باتوں باتوں پربرسات کی کالی راتوں پربادل کی سبک رفتاری پربلبل کی آہ و زاری پراور شمع کی لو کی گرمی پرپروانوں کی ہٹ دھرمی پردنیا کے دھندے کیا جانیںآزاد یہ پھندے کیا جانیںمعصوم فضا میں رہتے تھےہم تو یہ سمجھ ہی بیٹھے تھےخوشیوں کا الم انجام نہیںدنیا میں خزاں کا نام نہیںماحول نے کھایا پھر پلٹاناگاہ تغیر آ جھپٹااور اس کی کرم فرمائی سےحالات کی اک انگڑائی سےآ پہنچے ایسے بیڑوں میںجو لے گئے ہمیں تھپیڑوں میںبچپن کے سہانے سائے تھےسائے میں ذرا سستائے تھےوہ دور مقدس بیت گیایہ وقت ہی بازی جیت گیااب ویسے مرے حالات نہیںوہ چیز نہیں وہ بات نہیںجینے کا سفر اب دوبھر ہےہر گام پہ سو سو ٹھوکر ہےوہ دل جو روح قرینہ تھاآشاؤں کا ایک خزینہ تھااس دل میں نہاں اب نالے ہیںتاروں سے زیادہ چھالے ہیںجو ہنسنا ہنسانا ہوتا ہےرونے کو چھپانا ہوتا ہےکوئی غنچہ دل میں کھلتا ہےتھوڑا سا سکوں جب ملتا ہےغم تیز قدم پھر بھرتا ہےخوشیوں کا تعاقب کرتا ہےمیں سوچتا رہتا ہوں یوں ہیآخر یہ تفاوت کیا معنییہ سوچ عجب تڑپاتی ہےآنکھوں میں نمی بھر جاتی ہےپھر مجھ سے دل یہ کہتا ہےماضی کو تو روتا رہتا ہےکچھ آہیں دبی سی رہنے دےکچھ آنسو باقی رہنے دےیہ حال بھی ماضی ہونا ہےاس پر بھی تجھے کچھ رونا ہے
شہر کے مکانوں کےسرد سائبانوں کےدل ربا تھکے سائےخواہشوں سے گھبرائےرہرووں سے کہتے ہیںرات کتنی ویراں ہےموت بال افشاں ہےاس گھنے اندھیرے میںخواہشوں کے ڈیرے میںدل کے چور بستے ہیںان کے پاس جانے کےلاکھ چور رستے ہیں
یہ ماضی جو مری تنہائیوں کے ساتھ رہتا ہےیہ اک نادان بچے کی طرح تنہائی کواشارہ کرتا ہے ٹھوڑی پکڑ کر اور کہتا ہےوہ دیکھو گاؤں کے سینے پہ سر رکھے ہوئے سرسوںتمہاری کمسنی کھیلی ہے جس کی گود میں برسوںنقوش پا سے اب تک ہر گلی کی مانگ روشن ہےابھی تک گود پھیلائے ہوئے ڈیرے کا آنگن ہےرسیلی جامنوں کے پیڑ کی کمزور شاخوں نےتمہاری انگلیوں کا ہر نشاں محفوظ رکھا ہےلبوں پر جھیل کی گہرائیوں کے ہے بس اک شکوہکہ جب سے تم گئے ہو کوئی بھی ہم تک نہیں پہنچاکنارے جھیل کے وہ پیڑ اب تک منتظر سا ہےکب آؤ گے یہاں کپڑے اترو گے نہاؤ گےیہ ماضی جو مری تنہائیوں کے ساتھ رہتا ہےیہ اک نادان بچے کی طرح تنہائی کواشارہ کرتا ہے ٹھوڑی پکڑ کر اور کہتا ہےوہ دیکھو گاؤں کے کھلیانوں میں سویا ہوا جادونشیلی رات کی رانی وہ لو دیتی ہوئی خوشبودیوں کا دھیمی دھیمی روشنی دینا دھواں دیناشکستہ جھونپڑوں کا زندگی کو لوریاں دیناکھنکتی ہیں رسوئی گھر میں الھڑ چوڑیاں اب تکبھرا کی پولیاں لاتی ہیں سر پر بوڑھیاں اب تککے کنارے کچی اینٹوں سے بنا مندرسلگتے کنڈوں سے اٹھتی دھوئیں کی ملگجی چادرہرے کھیتوں کی مینڈوں پر سلگتے جسم کے سائےلرزتے ہونٹھ گھبرائی ہوئی سانسوں کے افسانےلچکتی آم کی شاخوں پہ بل کھائے ہوئے جھولےکسی کا بھاگنا یہ کہہ کے کوئی ہے ہمیں چھو لےیہ دیکھو زندگی کتنی حسیں ہے کتنی بھولی ہےاسی آغوش میں آ جاؤ جس میں آنکھ کھولی ہےیہ ماضی جو مری تنہائیوں کے ساتھ رہتا ہےیہ کہتا ہے کہ میں گزری ہوئی باتوں میں کھو جاؤںتمہاری زلف سے مہکی ہوئی راتوں میں کھو جاؤںاسے میں کیسے سمجھاؤں کہ اب یہ سانس کا ڈورااک ایسی دھار کی تلوار ہے جس پر گزرنا ہےمجھے اور زندگی کے زخم کو ٹانکے لگانا ہیںاسے میں کیسے سمجھاؤں کہ یہ ماضی کی تصویریںاب اک ایسی امانت ہیں جسے میں رکھ نہیں سکتہاگر رکھوں تو ناکارہ نکما کہہ کے یہ دنیامجھے ٹھوکر لگا دے اور خود آگے کو بڑھ جائےمری پس ماندگی پر ہر نذر اٹھے ترس کھائےمجھے مردہ عجائب گھر کی ایسی مورتی سمجھےجو سب کو اس لیے پیاری ہے کہ کافی پرانی ہےیہ ماضی جو مری تنہائیوں کے ساتھ رہتا ہےاسے میں کیسے سمجھاؤں کہ یہ ماضی کی تصویریںاب اک ایسی امانت ہیں جسے میں رکھ نہیں سکتہ
عجب کردار تھا عثمان بابا کاہر اک بچہ تھا اس کا سر چڑھا وہ چاہے جس کا ہوسکینہ ماروی سے لے کےوہ گلیوں میں جھاڑو دینے والےاپنے جوزف داس کا لڑکا تلک اس کا چہیتا تھاعجب فہرست تھی اس کی کہ اس فہرست میں کوئینہ گورا تھا نہ کالا تھا نہ اونچا تھا نہ نیچا تھا
چل یار چلیں الفاظ کی دنیا سے باہرجہاں خاموشی کے ڈیرے ہوںجہاں لب پر چپ کے تالے ہوںجہاں آنکھ زباں کا کام کرےجہاں انگڑائی میں باتیں ہوںجہاں حرف فقط بے معنی ہوںجہاں عشق کا رنگ روحانی ہوجہاں روحیں جسم تبدیل کریںجہاں گھنگھور گھٹا ہو ساون کیجہاں بھادوں برکھا چھاتی ہوجہاں نہریں روپ کی بہتی ہوںجہاں ٹھنڈی دھوپ کی چادر ہوجہاں حسن ہو تخت نشیں صنمچل یار چلیں اس پار چلیںیہ دنیا اب نہیں راس ہمیں
نئے نئے لفظ شور کرتےبڑھے چلے آ رہے ہیںفکر و خیال کی رہ گزر آباد ہو رہی ہےزباں بہت سی پرانی حد بندیوں سے آزاد ہو رہی ہےکئی فسانے جو ان کہے تھے کئی تصور جو بے زباں تھےہزار عالم نشاط و غم کے جو پہلے نا قابل بیاں تھےوہ دھڑکنیں خامشی ہی جن کے خروش پنہاں کی ترجماں تھیوہ نغمگی جو خموشیوں کے سیاہ زنداں میں پر فشاں تھیاسے اب آخر کھلی فضاؤں میں اذن پرواز مل گیا ہےکہ اک نیا رشتہ خیال و آواز مل گیا ہےمگر مجھے چپ سی لگ گئی ہےنئے نئے لفظ شور کرتے بڑھے چلے آ رہے ہیںاور میںہجوم پر شور میں اکیلاپرانے لفظوں کو ڈھونڈتا ہوںیہ دیکھتا ہوںجہاں جہاں کل پرانے لفظوں نے ڈال رکھے تھے اپنے ڈیرےوہاں نئے لفظ آ کے آباد ہو گئے ہیںمکاں اگرچہ اجڑ نہ پائے مکین برباد ہو گئے ہیںنئے نئے لفظ شور کرتے بڑھے چلے آ رہے ہیںلیکنپرانے لفظوں کی پائمالی نے دم بہ خود کر دیا ہے مجھ کوکسی نے سوچا نہیں ہے شاید مگر میں اکثر یہ سوچتا ہوںپرانے لفظوں کے ساتھ ہی اک پرانی دنیا بھی کھو گئی ہےخاموشیوں کے سیاہ زنداں میں جا کے روپوش ہو گئی ہے
میرا من اک خواب نگر ہےمیرے من میںدرویشوں کا ڈیرا بھی ہےاس ڈیرے پرشاعر، صوفی، پاپی، دانا سب آتے ہیںکچھ سپنے وہ لے جاتے ہیںکچھ سپنے وہ دے جاتے ہیںان سپنوں کی دھرتی سے جبغزلوں، نظموں، گیتوں کے کچھپھول کھلیں تو برسوں پھر وہخواب نگر کو مہکاتے ہیں
یار پرندے! یہیں کہیں تھا نیم کے پیڑ کا دیارمٹی کی کچی دیواریں چاندی جیسے یاریسو پنجو ہار کبوتر، کنچے ونچے، تاشجیتنے والے نالاں، ہارنے والے تھے خوش باشالٹے توے کی روٹی ساتھ میں کھٹا میٹھا ساگمکھن کی ڈلیوں میں جیسے ماں کے پیار کا راگدو کمروں کے گھر میں اتنے گھنے گھنیرے لوگنیم کی چھاؤں بانٹنے آتے گاؤں بھر کے لوگگھر کا دروازہ تھا سانجھا جیسے گھر کی ماںصحن میں اتنی وسعت ہوتی جیسے ایک جہاںیار پرندے! گاؤں وہی ہے ویسا نیم کا پیڑدیواروں پر کانچ جڑے ہیں دروازوں پر قفلشام ڈھلے ہی چوپالیں ہو جاتی ہیں سنسانچنگیروں کی باسی روٹی اور ڈبے کا دودھہوا ہوئیں مکھن کی ڈلیاں ہوا ہوا وہ پیاریار پرندے! نیم کے پیڑ کی باتوں میں مت آپاس کے جنگل میں زاغوں کے ڈیرے پر سو جا
اندھیر ہے کیسا دنیا میں اس کے قانون نرالے ہیںیا رب یہ کیسی دنیا ہے کیسے یہ دنیا والے ہیںکم ظرف کمینے لوگوں نے ہر جانب ڈیرے ڈالے ہیںباہر سے تو یہ سب اچھے ہیں لیکن اندر سے کالے ہیں
کونے میں کترے میں کچرے کے ڈھیرےسڑی تنگ گلیوں میں بدبو کے ڈیرےدھسکتی دیواروں کے پر خوف گھیرےتھکی زرد آنکھوں کے بیمار چہرےجن کو صدیاں ہوئیں مسکرائے ہوئےروشنی سے بھرا اک شہر
آنکھیں نیلی جھیل سی ہوںاور سرخ ہو جائیںاکیس سال کی عمر میںبال سفید ہو جائیںچہرے کی سرخی زردی میں بدلےجس آواز کے آنے سےدن تھک جاتا ہےکس کی ہےاس آواز کی کھوجپرائی سی لگتی ہےموسم بدل رہا ہےاور بہار کے ڈیرےمنظر منظر لگنے والے ہیںفصلیں بھی تیار کھڑی ہیںاور ہماری روح میں ہلچلسکھ کے کھوج میں ہر سو ہر پلدل کا حال خدا جانے ہےمیں آنکھوں کے زخم دکھانےتیرے در پر آ پہنچی ہوں
جنہیں چاہتے ہو پسند کرتے ہوان کی روحوں کو ٹٹولوسچائیوں کی گرہوں کو کھولووہاں بھی اندھیرے کھنڈر ہیںوہاں بھی ویران منظر ہیںوہاں بھی زخموں کے بسیرے ہیںوہاں بھی تنہائیوں کے ڈیرے ہیںوہ بس ہنستے ہیں نمائش کے لئےان کی زہر خند ہنسی کو سمجھوگوشۂ عافیت انہیں ملا ہےنہ تمہیں ملے گاکہ وہ بھی عاصی خواہشوں کےکہ تم بھی عاصی آرزؤں کےجنہیں چاہتے ہو پسند کرتے ہوان کی روحوں کو ٹٹولوسچائیوں کی گرہوں کو کھولو
میں تجھ سے ملنے کیضد پہ آتا تو مل بھی لیتانہ تیرے ڈیرے مریخ پر ہیںنہ چاند میرا حسین مسکنجناب دونوں ہیں خاک زادےجناب دونوں ہیں خاک زادےتو خاک زادوں میں کیا تکبرضدوں کی زد میں جہل میں لپٹےانا کے پہیے جب اپنی ذاتوں کے گرد گھومے تو جان پائےہم اپنی اپنی ضرورتوں کے حصار میں ہیںاٹھائے کشکول بے بسی کی قطار میں ہیںہماری طاقت کی مرکزیتہے ایک جھونکاہوا کا جھونکاجو سانس بن کر اٹک گیا تو زمیں کے اوپر سے نیچے جانے میں دیر کتنیبس ایک لمحہبس ایک لمحے کا کھیل ساراپھر اس کے بعد جناب عالیفقط خسارہ فقط خسارہ فقط خسارہ
کون بتلائے کسی کوکون غلطی پر تھا کس نے غم زدہ کس کو کیاکس نے گھیرا ڈال کر گھاؤ دیا برسات میںکس نے ڈیرے پر بلا کر برہنہ لاشہ کیاکچھ یاد ہےکس نے جنگوں کے سہارے پر گزاری زندگیزندگی کی ڈور سے الجھا ہوااندھا ستارابانٹتا ہے روشنیروشنی میں رات بھیگی جل اٹھیہم وطن کی کون دیکھے بے بسیبے بسی میں گم مہاجر ہو گئےپھول پر بھنورے کہیں سے آ گرےپھر بھی ہم سے پوچھتا کوئی نہیںکس نے اس دھرتی پہ کیوں آ کر سما رکھا ہے سینگسوچتا ہوں کیا مہاجر کی ہے شانجب کہ اپنے دیس میں ہر آدمیگریہ زاری کر رہا ہےیا خداوندیا مسیحاالامان
مگر مجھے چپ سی لگ گئی ہےنئے نئے لفظ شور کرتے بڑھے چلے آ رہے ہیںاور میںہجوم پر شور میں اکیلاپرانے لفظوں کو ڈھونڈھتا ہوںیہ دیکھتا ہوںجہاں جہاں کل پرانے لفظوں نے ڈال رکھے تھے اپنے ڈیرےوہاں نئے لفظ آ کے آباد ہو گئے ہیںمکاں اگرچہ اجڑ نہ پائے مکین برباد ہو گئے ہیں
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میںضروری بات کہنی ہو کوئی وعدہ نبھانا ہواسے آواز دینی ہو اسے واپس بلانا ہوہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میںمدد کرنی ہو اس کی یار کی ڈھارس بندھانا ہوبہت دیرینہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہوہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میںبدلتے موسموں کی سیر میں دل کو لگانا ہوکسی کو یاد رکھنا ہو کسی کو بھول جانا ہوہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میںکسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہوحقیقت اور تھی کچھ اس کو جا کے یہ بتانا ہوہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں۔۔۔۔۔
کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوںفکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوںنالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوںہم نوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوںجرأت آموز مری تاب سخن ہے مجھ کوشکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کوہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہمقصۂ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہمساز خاموش ہیں فریاد سے معمور ہیں ہمنالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہماے خدا شکوۂ ارباب وفا بھی سن لےخوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لےتھی تو موجود ازل سے ہی تری ذات قدیمپھول تھا زیب چمن پر نہ پریشاں تھی شمیمشرط انصاف ہے اے صاحب الطاف عمیمبوئے گل پھیلتی کس طرح جو ہوتی نہ نسیمہم کو جمعیت خاطر یہ پریشانی تھیورنہ امت ترے محبوب کی دیوانی تھیہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظرکہیں مسجود تھے پتھر کہیں معبود شجرخوگر پیکر محسوس تھی انساں کی نظرمانتا پھر کوئی ان دیکھے خدا کو کیونکرتجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام تراقوت بازوئے مسلم نے کیا کام ترابس رہے تھے یہیں سلجوق بھی تورانی بھیاہل چیں چین میں ایران میں ساسانی بھیاسی معمورے میں آباد تھے یونانی بھیاسی دنیا میں یہودی بھی تھے نصرانی بھیپر ترے نام پہ تلوار اٹھائی کس نےبات جو بگڑی ہوئی تھی وہ بنائی کس نےتھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میںخشکیوں میں کبھی لڑتے کبھی دریاؤں میںدیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میںکبھی ایفریقا کے تپتے ہوئے صحراؤں میںشان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہانداروں کیکلمہ پڑھتے تھے ہمیں چھاؤں میں تلواروں کیہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی مصیبت کے لیےاور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لیےتھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لیےسر بکف پھرتے تھے کیا دہر میں دولت کے لیےقوم اپنی جو زرو و مال جہاں پر مرتیبت فروشی کے عوض بت شکنی کیوں کرتیٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھےپاؤں شیروں کے بھی میداں سے اکھڑ جاتے تھےتجھ سے سرکش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھےتیغ کیا چیز ہے ہم توپ سے لڑ جاتے تھےنقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نےزیر خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نےتو ہی کہہ دے کہ اکھاڑا در خیبر کس نےشہر قیصر کا جو تھا اس کو کیا سر کس نےتوڑے مخلوق خدا وندوں کے پیکر کس نےکاٹ کر رکھ دئیے کفار کے لشکر کس نےکس نے ٹھنڈا کیا آتشکدۂ ایراں کوکس نے پھر زندہ کیا تذکرۂ یزداں کوکون سی قوم فقط تیری طلب گار ہوئیاور تیرے لیے زحمت کش پیکار ہوئیکس کی شمشیر جہانگیر جہاں دار ہوئیکس کی تکبیر سے دنیا تری بیدار ہوئیکس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھےمنہ کے بل گر کے ہو اللہ احد کہتے تھےآ گیا عین لڑائی میں اگر وقت نمازقبلہ رو ہو کے زمیں بوس ہوئی ہوئی قوم حجازایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایازنہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نوازبندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئےتیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئےمحفل کون و مکاں میں سحر و شام پھرےمئے توحید کو لے کر صفت جام پھرےکوہ میں دشت میں لے کر ترا پیغام پھرےاور معلوم ہے تجھ کو کبھی ناکام پھرےدشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نےبحر ظلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا ہم نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا ہم نےتیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا ہم نےتیرے قرآن کو سینوں سے لگایا ہم نےپھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ وفادار نہیںہم وفادار نہیں تو بھی تو دل دار نہیںامتیں اور بھی ہیں ان میں گنہ گار بھی ہیںعجز والے بھی ہیں مست مئے پندار بھی ہیںان میں کاہل بھی ہیں غافل بھی ہیں ہشیار بھی ہیںسیکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بے زار بھی ہیںرحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پربرق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پربت صنم خانوں میں کہتے ہیں مسلمان گئےہے خوشی ان کو کہ کعبے کے نگہبان گئےمنزل دہر سے اونٹوں کے حدی خوان گئےاپنی بغلوں میں دبائے ہوئے قرآن گئےخندہ زن کفر ہے احساس تجھے ہے کہ نہیںاپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیںیہ شکایت نہیں ہیں ان کے خزانے معمورنہیں محفل میں جنہیں بات بھی کرنے کا شعورقہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حور و قصوراور بے چارے مسلماں کو فقط وعدۂ حوراب وہ الطاف نہیں ہم پہ عنایات نہیںبات یہ کیا ہے کہ پہلی سی مدارات نہیںکیوں مسلمانوں میں ہے دولت دنیا نایابتیری قدرت تو ہے وہ جس کی نہ حد ہے نہ حسابتو جو چاہے تو اٹھے سینۂ صحرا سے حبابرہرو دشت ہو سیلی زدۂ موج سرابطعن اغیار ہے رسوائی ہے ناداری ہےکیا ترے نام پہ مرنے کا عوض خواری ہےبنی اغیار کی اب چاہنے والی دنیارہ گئی اپنے لیے ایک خیالی دنیاہم تو رخصت ہوئے اوروں نے سنبھالی دنیاپھر نہ کہنا ہوئی توحید سے خالی دنیاہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں ترا نام رہےکہیں ممکن ہے کہ ساقی نہ رہے جام رہےتیری محفل بھی گئی چاہنے والے بھی گئےشب کی آہیں بھی گئیں صبح کے نالے بھی گئےدل تجھے دے بھی گئے اپنا صلہ لے بھی گئےآ کے بیٹھے بھی نہ تھے اور نکالے بھی گئےآئے عشاق گئے وعدۂ فردا لے کراب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کردرد لیلیٰ بھی وہی قیس کا پہلو بھی وہینجد کے دشت و جبل میں رم آہو بھی وہیعشق کا دل بھی وہی حسن کا جادو بھی وہیامت احمد مرسل بھی وہی تو بھی وہیپھر یہ آرزدگئ غیر سبب کیا معنیاپنے شیداؤں پہ یہ چشم غضب کیا معنیتجھ کو چھوڑا کہ رسول عربی کو چھوڑابت گری پیشہ کیا بت شکنی کو چھوڑاعشق کو عشق کی آشفتہ سری کو چھوڑارسم سلمان و اویس قرنی کو چھوڑاآگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیںزندگی مثل بلال حبشی رکھتے ہیںعشق کی خیر وہ پہلی سی ادا بھی نہ سہیجادہ پیمائی تسلیم و رضا بھی نہ سہیمضطرب دل صفت قبلہ نما بھی نہ سہیاور پابندی آئین وفا بھی نہ سہیکبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہےبات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہرجائی ہےسر فاراں پہ کیا دین کو کامل تو نےاک اشارے میں ہزاروں کے لیے دل تو نےآتش اندوز کیا عشق کا حاصل تو نےپھونک دی گرمئ رخسار سے محفل تو نےآج کیوں سینے ہمارے شرر آباد نہیںہم وہی سوختہ ساماں ہیں تجھے یاد نہیںوادیٔ نجد میں وہ شور سلاسل نہ رہاقیس دیوانۂ نظارۂ محمل نہ رہاحوصلے وہ نہ رہے ہم نہ رہے دل نہ رہاگھر یہ اجڑا ہے کہ تو رونق محفل نہ رہااے خوشا آں روز کہ آئی و بصد ناز آئیبے حجابانہ سوئے محفل ما باز آئیبادہ کش غیر ہیں گلشن میں لب جو بیٹھےسنتے ہیں جام بکف نغمۂ کو کو بیٹھےدور ہنگامۂ گلزار سے یکسو بیٹھےتیرے دیوانے بھی ہیں منتظر ہو بیٹھےاپنے پروانوں کو پھر ذوق خود افروزی دےبرق دیرینہ کو فرمان جگر سوزی دےقوم آوارہ عناں تاب ہے پھر سوئے حجازلے اڑا بلبل بے پر کو مذاق پروازمضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے بوئے نیازتو ذرا چھیڑ تو دے تشنۂ مضراب ہے سازنغمے بیتاب ہیں تاروں سے نکلنے کے لیےطور مضطر ہے اسی آگ میں جلنے کے لیےمشکلیں امت مرحوم کی آساں کر دےمور بے مایہ کو ہمدوش سلیماں کر دےجنس نایاب محبت کو پھر ارزاں کر دےہند کے دیر نشینوں کو مسلماں کر دےجوئے خوں می چکد از حسرت دیرینۂ مامی تپد نالہ بہ نشتر کدۂ سینۂ مابوئے گل لے گئی بیرون چمن راز چمنکیا قیامت ہے کہ خود پھول ہیں غماز چمنعہد گل ختم ہوا ٹوٹ گیا ساز چمناڑ گئے ڈالیوں سے زمزمہ پرداز چمنایک بلبل ہے کہ ہے محو ترنم اب تکاس کے سینے میں ہے نغموں کا تلاطم اب تکقمریاں شاخ صنوبر سے گریزاں بھی ہوئیںپتیاں پھول کی جھڑ جھڑ کے پریشاں بھی ہوئیںوہ پرانی روشیں باغ کی ویراں بھی ہوئیںڈالیاں پیرہن برگ سے عریاں بھی ہوئیںقید موسم سے طبیعت رہی آزاد اس کیکاش گلشن میں سمجھتا کوئی فریاد اس کیلطف مرنے میں ہے باقی نہ مزہ جینے میںکچھ مزہ ہے تو یہی خون جگر پینے میںکتنے بیتاب ہیں جوہر مرے آئینے میںکس قدر جلوے تڑپتے ہیں مرے سینے میںاس گلستاں میں مگر دیکھنے والے ہی نہیںداغ جو سینے میں رکھتے ہوں وہ لالے ہی نہیںچاک اس بلبل تنہا کی نوا سے دل ہوںجاگنے والے اسی بانگ درا سے دل ہوںیعنی پھر زندہ نئے عہد وفا سے دل ہوںپھر اسی بادۂ دیرینہ کے پیاسے دل ہوںعجمی خم ہے تو کیا مے تو حجازی ہے مرینغمہ ہندی ہے تو کیا لے تو حجازی ہے مری
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books