aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "Dole"
پڑھنا لکھنا سکھائےاچھی راہ بتائےبد سے ہمیں بچائےاچھا بچہ بنائےبھیا پیارا پیاراگھنٹی خوب بجائےبستہ بھی لٹکائےمکتب لے کر جائےجلدی سے پہنچائےرکشا پیارا پیاراپھولوں پر اترائےخوشبو بھی بکھرائےگھر آنگن مہکائےہریالی بھی لائےگملا پیارا پیارابھیا لے کر جائےسرکس بھی دکھلائےلڈو بھی کھلوائےجو چاہو مل جائےمیلہ پیارا پیاراجب جب یہ لہرائےسب کی شان بڑھائےجس کے ہاتھ یہ آئےآگے بڑھتا جائےجھنڈا پیارا پیاراتاریکی میں آئےبستر تک پہنچائےلوری بھی سنوائےسپنے بھی دکھلائےسونا پیارا پیاراسب کو مار بھگائےجو دیکھے ڈر جائےالٹی شامت لائےدشمن کوئی آئےڈنڈا پیارا پیارابارش میں کام آئےباہر لے کر جائےخود تو بھیگا جائےلیکن ہمیں بچائےچھاتا پیارا پیاراجگ مگ روپ دکھائےچندا ریجھا جائےرستہ بھی بتلائےلیکن ہاتھ نہ آئےتارا پیارا پیاراتل کر منا کھائےخاگینہ بنوائےسالن میں پک جائےمنی کو للچائےانڈا پیارا پیاراجب یہ موسم آئےصحت خوب بنائےڈھیروں کپڑے لائےپھر بھی دور نہ جائےجاڑا پیارا پیاراکھانا جب بھی آئےآگے بڑھ کر لائےہم کو سب کھلوائےخود بھوکا رہ جائےچمچہ پیارا پیارابازاروں میں نکلےہاتھ میں سب کے لٹکےجو کچھ بھی یہ دیکھےاپنے پیٹ میں رکھےتھیلا پیارا پیارامیٹھا میٹھا کھاؤمنا بولے لاؤجلدی سے پکواؤسارا چٹ کر جاؤحلوہ پیارا پیاراچاہے کوئی بلائےسب کی گود میں جائےدیکھے تو للچائےٹافی بسکٹ چائےننھا پیارا پیاراپانی ٹھنڈا کر دےسر پہ کٹورا رکھےدوڑے آئیں پیارےجو چاہے وہ پی لےمٹکا پیارا پیاراصورت رنگ برنگیحالت بھی ہے اچھیبستر کا ہے ساتھیعادت میں ہے نرمیتکیہ پیارا پیاراگرمی دور بھگائےٹھنڈا موسم لائےتھوڑی بجلی کھائےبہتر کام بنائےپنکھا پیارا پیاراچم چم چمکا جائےبجلی سا لہرائےجلدی جلدی آئےساتھ میں چلتا جائےجوتا پیارا پیاراسب سے پہلے جاگےپیڑ پہ چڑھ کے بیٹھےدیواروں پر بھاگےککڑوں ککڑوں چیخےمرغا پیارا پیاراگھر میں دوڑ لگائےباہر بھاگ کے جائےبلی پر غرائےننھے کو بہلائےکتا پیارا پیاراپیٹھ پہ ہمیں بٹھائےسرپٹ دوڑ کے جائےمنزل پر پہنچائےتب جا کر سستائےگھوڑا پیارا پیاراجلدی سے اٹھ جائےچیخے اور چلائےدانہ پتے کھائےپھر بھوکا رہ جائےبکرا پیارا پیاراپنجرے میں پر تولےٹھمک ٹھمک کر ڈولےجب بھی منہ کو کھولےمیٹھی بولی بولےطوطا پیارے پیاراروئی کو لپٹائےدھاگا بنتا جائےہاتھوں میں بل کھائےبل کھا کر لہرائےتکلا پیارا پیاراچوروں سے لڑ جائےڈاکو سے ٹکرائےجو بھی چابی لائےاس کے بس میں آئےتالا پیارا پیاراسڑکیں بھی دکھلائےگلیوں میں لے جائےکون کدھر کو جائےبھید یہ سب بتلائےنقشہ پیارا پیاراکلیوں پر منڈ لائےپھولوں سے بتلائےناچے جھومے گائےمستی میں لہرائےبھونرا پیارا پیاراشب کو منہ دکھلائےسورج سے شرمائےبادل میں چھپ جائےرات ہوتے ہی آئےچندا پیارا پیاراجھیل کے پاس ہی بیٹھےچھوٹی مچھلی پکڑےہنس ہو کوئی جیسےموتی کھانے آئےبگلا پیارا پیاراآنکھوں سے لگ جائےراحت ہی پہنچائےکالے کالے شیشےابر کے ٹکڑوں جیسےچشمہ پیارا پیارامیرا ہمدم ساتھیایسا نہ ہوگا کوئیصورت بھی ہے پیاریسیرت بھی ہے اچھیبستہ پیارا پیاراوقت پہ سو کر اٹھےوقت پہ اپنے کھیلےوقت پہ پڑھنے جائےاول نمبر آئےبچہ پیارا پیارا
آنکھیں جب چمکاتے ہوجان کو بس آ جاتے ہوکلیوں کو بھی مرجھاتے ہوکتنے گندے بن جاتے ہوبس بھئی سورج بسکتا کیسا کانپ رہا ہےزباں نکالے ہانپ رہا ہےکونے میں خود کو ڈھانپ رہا ہےاس کو کتنا ستاتے ہوبس بھئی سورج بسسر کو جھکائے چڑیاں ساریدھوپ کی ماری ڈر کی ماریچپکی بیٹھیں سب بے چاریچڑیوں کو دھمکاتے ہوبس بھئی سورج بسبادل چھائے مینڈک بولےآم کی ڈالی رم جھم ڈولےدنیا ساری آنکھیں کھولےاب گھر کیوں نہیں جاتے ہوبس بھئی سورج
کبھی کھل کے جب کھلکھلاتی ہے انشافضاؤں میں سرگم بجاتی ہے انشاہر اک لب پہ تتلی بٹھاتی ہے انشاجھڑی قہقہوں کی لگاتی ہے انشامسرت کی دنیا بساتی ہے انشامرے گھر کو جنت بناتی ہے انشاکبھی مائشہ کو ہنساتی ہے انشاکبھی مائشہ کو رلاتی ہے انشاکبھی پاس اس کو بلاتی ہے انشاکبھی دور اس کو بھگاتی ہے انشابہن سے تو کثرت کراتی ہے انشامرے گھر کو جنت بناتی ہے انشاکہانی سناتی ہے نانی کو انشاادائیں دکھاتی ہے نانی کو انشامسرت دلاتی ہے نانی کو انشادوانہ بناتی ہے نانی کو انشاجوانی بڑھاپے میں لاتی ہے انشامرے گھر کو جنت بناتی ہے انشاکبھی ڈھونڈ لاتی ہے نانو کا چشمہکبھی پھینک آتی ہے نانو کا چشمہکبھی خود لگاتی ہے نانو کا چشمہکہیں سے بھی پاتی ہے نانو کا چشمہتو آواز فوراً لگاتی ہے انشامرے گھر کو جنت بناتی ہے انشاموبائل پر اس طرح انگلی گھمائےکہ جیسے کوئی شخص جادو چلائےموبائل کے پردے پہ حیرت اگائےہزاروں طرح کے کرشمے دکھائےدکھا کر کرشمے رجھاتی ہے انشامرے گھر کو جنت بناتی ہے انشاکبھی کوئی کھانے کا منظر دکھائےکبھی اپنی انگلی سے پزا بنائےکبھی تو مزے دار مرغا پکائےسلادوں سے کھانے کی تھالی سجائےکبھی چائے کافی پلاتی ہے انشامرے گھر کو جنت بناتی ہے انشافلک پاس جا کر کبھی مسکراتیکبھی چھیڑتی تو کبھی گدگداتیمہک کو کبھی اپنا کرتب دکھاتیکبھی بے بی ننا کو پوئم سناتیہر اک آدمی کو لبھاتی ہے انشامرے گھر کو جنت بناتی ہے انشاملاحت میں اس کی چمک ہے غضب کیسراپے میں اس کے لچک ہے غضب کیصداؤں میں اس کی کھنک ہے غضب کیاداؤں میں اس کی چہک ہے غضب کیغضب کا نظارا دکھاتی ہے انشامرے گھر کو جنت بناتی ہے انشاچہیتی کسی کی کسی کی دلاریکسی کو لگے سارے دنیا سے نیاریکسی کو ہو محسوس پھولوں سے بھاریسنی کو تو ہے جان و دل سے بھی پیاریبہت آمنہ کو بھی بھاتی ہے انشامرے گھر کو جنت بناتی ہے انشاموبائل پہ ابا کو دیکھے تو ڈولےچہک کر لپک کر زباں اپنی کھولےمسرت سے لبریز الفاظ بولےشہد کان میں اپنے ابا کے گھولےقطر تک محبت لٹاتی ہے انشامرے گھر کو جنت بناتی ہے انشاموبائل پہ فرحان خاں کی زبانیہر اک رات سنتی ہے وہ اک کہانیکہانی میں آتی ہے جب کوئی رانیتو بچی سے بن جاتی ہے وہ سیانیبہت داد ابا سے پاتی ہے انشامرے گھر کو جنت بناتی ہے انشاکبھی اپنے گھوڑے سے بھوں بھوں کرائےکبھی شیر چیتے کو بکری بنائےکبھی سر پہ بلی کے ہاتھی بٹھائےکبھی ڈوری مان کو بھی پٹی پڑھائےانوکھے تماشے دکھاتی ہے انشامرے گھر کو جنت بناتی ہے انشامگر کھانے پینے سے جی ہے چراتیذرا دیر میں منہ میں لقمہ گراتیبہت اپنی اماں سے کثرت کراتیکبھی ناچ تگڑی کا بھی وہ نچاتیکھلانے میں پاگل بناتی ہے انشامرے گھر کو جنت بناتی ہے انشا
ابر کے ٹکڑے نٹ کھٹ لڑکوں جیسے گھوم رہے ہیںپانی کی بوچھاریں کھا کر پودے جھوم رہے ہیںبرکھا رانی بڑی سیانی بادل بادل ڈولےپی ہو پی ہو پنکھ پسارے بن میں کوئل بولےدھیرے دھیرے مینڈک اپنا ساز بجاتے نکلےبھیگی بھیگی شانت فضا میں شور مچاتے نکلےمینڈک راگ سنا تو جھینگر دوڑے دوڑے آئیںرنگ منچ پر آنے سے وہ پیچھے کیوں رہ جائیںہر نغمے کی لے پر جھومے پیڑوں کی ہریالیپون سہانے گیت سنائے مہکے ڈالی ڈالیڈالی ڈالی سندر کومل پھولوں کی مہکاررستہ رستہ گونجے جیسے تازہ گیت بہارجب دھرتی پر برکھا رانی چھم چھم کرتی آئےیوں لگتا ہے ساری دھرتی نکھری نکھری جائےجھرجھر کرتا جھرنا بولے سب کی پیاس بجھاؤرمتے جوگی بہتا پانی نشترؔ جی بن جاؤ
رات اندھیری کالا بادل دور تلک ویرانیایک اکیلی کشتی جس کے نیچے گہرا پانیلہروں کی پھنکار کے آگے کشتی کا من ڈولےشوا سمندر کے سینے پہ برکھا موتی رولےدور کسی ویران جزیرے اوپر الو بولےالو کی آواز کو سن کے جاگ اٹھی پروائیرات کا دیسی شالا اوڑھے پیڑ سے ملنے آئیشاخ پہ اٹکی ڈال پہ مٹکی پتوں پہ لہرائیبات نہیں تھی اتنی جتنی پھیل گئی رسوائی
سانجھ سویرے موج میں اپنیبہتا جائے وقت کا دھاراجیسے ساگر گہراجانے کہاں ہے منزل اس کیجانے کہاں کناراوقت کے اس گہرے ساگر میںڈول رہی ہے جیون ناؤپیچھے بھی منجدھار ہے اس کےآگے بھی منجدھار ہے اس کےاور اس ناؤ میں بیٹھا ہے اک سنسارجانے کو اس پاراور یہ ناؤ پل کے پل میںیوں کھائے ہچکولےشام کے بڑھتے اندھیاروں میںبنا پریتم جیسےطاری کا من ڈولےناؤ میں بیٹھے سارے مسافرہیں اک گہری سوچ میں گملیکن سب کے دل میں کھلے ہیںکچھ آشا کے پھولجن پر جمتی جائے پل پلایک نراش کی دھولجس کے کارن ہو جاتا ہے جیونبھاگ بھاگ میں لکھی بھوللیکن کون یہ جانےکس کے بھاگ میں لکھے ہیںکس کس کے دکھ سکھ کے بھیدکس کے ہاتھ کی ریکھاؤں میںپیاس لکھی ہےکس کی قسمت میں پیمانےکون یہ جانےاور اگر کچھ جان بھی جائے کوئیاپنی ریکھاؤں میں لکھی پیاس نہ کوئی مانےلیکن چاہے کوئی مانے، چاہے کوئی نہ مانےسانجھ سویرے موج میں اپنیبہتا جائے وقت کا دھارااور اس دھارے سنگ چلی ہےڈگ مگ ڈگ مگ جیون ناؤ
تم بن میرا جیون پھیکامن کی نیا ڈگ مگ ڈولےجیون لیتا ہے ہچکولےاس مورکھ سنسار میں پیتمدل کی خبریں کون ہے جو لے
ہاتھی ڈولےانگلش بولے
سچے کی ہو جے جے کارجھوٹے کا جیون بے کارڈولے ڈگ مگ جھوٹ کی ناؤسچائی کا بیڑا پارنقلی سکہ چل نہ پائےاصلی کی گھر گھر جھنکارمشکل پیدا کر دے جھوٹسچ ڈھ جائے ہر دیوارسچ ہے ننھا منا پھولجھوٹ ہے چبھنے والا خارجھوٹی بات سے بدبو آئےسچی بات ہے خوشبو دارسچ سچائی پر مٹ جائےہر پیغمبر ہر اوتار
چلے ہوا تو ڈالی ڈالی لچک لچک بل کھائےرکے ہوا تو سادھو بن کر دھیان کا دیپ جلائےجھکڑ کے ہر وار پہ ڈولے چیخ چیخ رہ جائے
چڑ چڑ چڑیا اڑتی ہےنیل گگن سے جڑتی ہےحقہ گڑ گڑ کرتا ہےدادا کا دم بھرتا ہےمرغا ککڑوں کوں بولےمرغی انڈوں پر ڈولےبطخیں کہتیں کیں قیں قیںہم تو پانی پر تیریںمیں میں میں بکرے کی سنگھوڑے میں ہیں اچھے گنگائے سویرے چلائےسارا چارا چر جائےبندر اچھلیں ڈالی پرآفت ٹوٹے مالی پربچے کھیلیں کھیلسب دنیا سے رکھیں میل
آؤ پیارے بھاگ چلیں آکاش کے پلے پارجگ کی راہیں کٹھن ہیں پیتم جیون ہے اک بھوگبھوگ بھی کیسا جس کو دنیا کہتی ہے اک روگمن کی نیا ڈگ مگ ڈولے بیچ پڑے منجدھارپیارے بیچ پڑے منجدھار
برہی منوا ڈولے کیوںبھید پریت کا کھولے کیوں
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہےپر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہےقدسی الاصل ہے رفعت پہ نظر رکھتی ہےخاک سے اٹھتی ہے گردوں پہ گزر رکھتی ہےعشق تھا فتنہ گر و سرکش و چالاک مراآسماں چیر گیا نالۂ بیباک مراپیر گردوں نے کہا سن کے کہیں ہے کوئیبولے سیارے سر عرش بریں ہے کوئیچاند کہتا تھا نہیں اہل زمیں ہے کوئیکہکشاں کہتی تھی پوشیدہ یہیں ہے کوئیکچھ جو سمجھا مرے شکوے کو تو رضواں سمجھامجھ کو جنت سے نکالا ہوا انساں سمجھاتھی فرشتوں کو بھی حیرت کہ یہ آواز ہے کیاعرش والوں پہ بھی کھلتا نہیں یہ راز ہے کیاتا سر عرش بھی انساں کی تگ و تاز ہے کیاآ گئی خاک کی چٹکی کو بھی پرواز ہے کیاغافل آداب سے سکان زمیں کیسے ہیںشوخ و گستاخ یہ پستی کے مکیں کیسے ہیںاس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی برہم ہےتھا جو مسجود ملائک یہ وہی آدم ہےعالم کیف ہے دانائے رموز کم ہےہاں مگر عجز کے اسرار سے نامحرم ہےناز ہے طاقت گفتار پہ انسانوں کوبات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کوآئی آواز غم انگیز ہے افسانہ ترااشک بیتاب سے لبریز ہے پیمانہ تراآسماں گیر ہوا نعرۂ مستانہ تراکس قدر شوخ زباں ہے دل دیوانہ تراشکر شکوے کو کیا حسن ادا سے تو نےہم سخن کر دیا بندوں کو خدا سے تو نےہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیںراہ دکھلائیں کسے رہرو منزل ہی نہیںتربیت عام تو ہے جوہر قابل ہی نہیںجس سے تعمیر ہو آدم کی یہ وہ گل ہی نہیںکوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیںڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیںہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیںامتی باعث رسوائی پیغمبر ہیںبت شکن اٹھ گئے باقی جو رہے بت گر ہیںتھا براہیم پدر اور پسر آزر ہیںبادہ آشام نئے بادہ نیا خم بھی نئےحرم کعبہ نیا بت بھی نئے تم بھی نئےوہ بھی دن تھے کہ یہی مایۂ رعنائی تھانازش موسم گل لالۂ صحرائی تھاجو مسلمان تھا اللہ کا سودائی تھاکبھی محبوب تمہارا یہی ہرجائی تھاکسی یکجائی سے اب عہد غلامی کر لوملت احمد مرسل کو مقامی کر لوکس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہےہم سے کب پیار ہے ہاں نیند تمہیں پیاری ہےطبع آزاد پہ قید رمضاں بھاری ہےتمہیں کہہ دو یہی آئین وفاداری ہےقوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیںجذب باہم جو نہیں محفل انجم بھی نہیںجن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن تم ہونہیں جس قوم کو پروائے نشیمن تم ہوبجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہوبیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ہوہو نکو نام جو قبروں کی تجارت کر کےکیا نہ بیچوگے جو مل جائیں صنم پتھر کےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا کس نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا کس نےمیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا کس نےمیرے قرآن کو سینوں سے لگایا کس نےتھے تو آبا وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہوہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہوکیا کہا بہر مسلماں ہے فقط وعدۂ حورشکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعورعدل ہے فاطر ہستی کا ازل سے دستورمسلم آئیں ہوا کافر تو ملے حور و قصورتم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیںجلوۂ طور تو موجود ہے موسیٰ ہی نہیںمنفعت ایک ہے اس قوم کا نقصان بھی ایکایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایکحرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایککچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایکفرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیںکیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیںکون ہے تارک آئین رسول مختارمصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیارکس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعار اغیارہو گئی کس کی نگہ طرز سلف سے بے زارقلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیںکچھ بھی پیغام محمد کا تمہیں پاس نہیںجا کے ہوتے ہیں مساجد میں صف آرا تو غریبزحمت روزہ جو کرتے ہیں گوارا تو غریبنام لیتا ہے اگر کوئی ہمارا تو غریبپردہ رکھتا ہے اگر کوئی تمہارا تو غریبامرا نشۂ دولت میں ہیں غافل ہم سےزندہ ہے ملت بیضا غربا کے دم سےواعظ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہیبرق طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہیرہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہیفلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہیمسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہےیعنی وہ صاحب اوصاف حجازی نہ رہےشور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابودہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجودوضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنودیہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہودیوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہوتم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہودم تقریر تھی مسلم کی صداقت بیباکعدل اس کا تھا قوی لوث مراعات سے پاکشجر فطرت مسلم تھا حیا سے نمناکتھا شجاعت میں وہ اک ہستی فوق الادراکخود گدازی نم کیفیت صہبایش بودخالی از خویش شدن صورت مینا یش بودہر مسلماں رگ باطل کے لیے نشتر تھااس کے آئینۂ ہستی میں عمل جوہر تھاجو بھروسا تھا اسے قوت بازو پر تھاہے تمہیں موت کا ڈر اس کو خدا کا ڈر تھاباپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہوپھر پسر قابل میراث پدر کیونکر ہوہر کوئی مست مئے ذوق تن آسانی ہےتم مسلماں ہو یہ انداز مسلمانی ہےحیدری فقر ہے نے دولت عثمانی ہےتم کو اسلاف سے کیا نسبت روحانی ہےوہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کراور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کرتم ہو آپس میں غضب ناک وہ آپس میں رحیمتم خطا کار و خطا بیں وہ خطا پوش و کریمچاہتے سب ہیں کہ ہوں اوج ثریا پہ مقیمپہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلب سلیمتخت فغفور بھی ان کا تھا سریر کے بھییوں ہی باتیں ہیں کہ تم میں وہ حمیت ہے بھیخودکشی شیوہ تمہارا وہ غیور و خوددارتم اخوت سے گریزاں وہ اخوت پہ نثارتم ہو گفتار سراپا وہ سراپا کردارتم ترستے ہو کلی کو وہ گلستاں بکناراب تلک یاد ہے قوموں کو حکایت ان کینقش ہے صفحۂ ہستی پہ صداقت ان کیمثل انجم افق قوم پہ روشن بھی ہوئےبت ہندی کی محبت میں برہمن بھی ہوئےشوق پرواز میں مہجور نشیمن بھی ہوئےبے عمل تھے ہی جواں دین سے بدظن بھی ہوئےان کو تہذیب نے ہر بند سے آزاد کیالا کے کعبے سے صنم خانے میں آباد کیاقیس زحمت کش تنہائی صحرا نہ رہےشہر کی کھائے ہوا بادیہ پیما نہ رہےوہ تو دیوانہ ہے بستی میں رہے یا نہ رہےیہ ضروری ہے حجاب رخ لیلا نہ رہےگلۂ جور نہ ہو شکوۂ بیداد نہ ہوعشق آزاد ہے کیوں حسن بھی آزاد نہ ہوعہد نو برق ہے آتش زن ہر خرمن ہےایمن اس سے کوئی صحرا نہ کوئی گلشن ہےاس نئی آگ کا اقوام کہن ایندھن ہےملت ختم رسل شعلہ بہ پیراہن ہےآج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیداآگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدادیکھ کر رنگ چمن ہو نہ پریشاں مالیکوکب غنچہ سے شاخیں ہیں چمکنے والیخس و خاشاک سے ہوتا ہے گلستاں خالیگل بر انداز ہے خون شہدا کی لالیرنگ گردوں کا ذرا دیکھ تو عنابی ہےیہ نکلتے ہوئے سورج کی افق تابی ہےامتیں گلشن ہستی میں ثمر چیدہ بھی ہیںاور محروم ثمر بھی ہیں خزاں دیدہ بھی ہیںسیکڑوں نخل ہیں کاہیدہ بھی بالیدہ بھی ہیںسیکڑوں بطن چمن میں ابھی پوشیدہ بھی ہیںنخل اسلام نمونہ ہے برومندی کاپھل ہے یہ سیکڑوں صدیوں کی چمن بندی کاپاک ہے گرد وطن سے سر داماں تیراتو وہ یوسف ہے کہ ہر مصر ہے کنعاں تیراقافلہ ہو نہ سکے گا کبھی ویراں تیراغیر یک بانگ درا کچھ نہیں ساماں تیرانخل شمع استی و در شعلہ دو ریشۂ توعاقبت سوز بود سایۂ اندیشۂ توتو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سےنشۂ مے کو تعلق نہیں پیمانے سےہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سےپاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سےکشتئ حق کا زمانے میں سہارا تو ہےعصر نو رات ہے دھندلا سا ستارا تو ہےہے جو ہنگامہ بپا یورش بلغاری کاغافلوں کے لیے پیغام ہے بیداری کاتو سمجھتا ہے یہ ساماں ہے دل آزاری کاامتحاں ہے ترے ایثار کا خودداری کاکیوں ہراساں ہے صہیل فرس اعدا سےنور حق بجھ نہ سکے گا نفس اعدا سےچشم اقوام سے مخفی ہے حقیقت تیریہے ابھی محفل ہستی کو ضرورت تیریزندہ رکھتی ہے زمانے کو حرارت تیریکوکب قسمت امکاں ہے خلافت تیریوقت فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہےنور توحید کا اتمام ابھی باقی ہےمثل بو قید ہے غنچے میں پریشاں ہو جارخت بر دوش ہوائے چمنستاں ہو جاہے تنک مایہ تو ذرے سے بیاباں ہو جانغمۂ موج ہے ہنگامۂ طوفاں ہو جاقوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دےدہر میں اسم محمد سے اجالا کر دےہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہوچمن دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہویہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو خم بھی نہ ہوبزم توحید بھی دنیا میں نہ ہو تم بھی نہ ہوخیمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہےنبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہےدشت میں دامن کہسار میں میدان میں ہےبحر میں موج کی آغوش میں طوفان میں ہےچین کے شہر مراقش کے بیابان میں ہےاور پوشیدہ مسلمان کے ایمان میں ہےچشم اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھےرفعت شان رفعنا لک ذکرک دیکھےمردم چشم زمیں یعنی وہ کالی دنیاوہ تمہارے شہدا پالنے والی دنیاگرمی مہر کی پروردہ ہلالی دنیاعشق والے جسے کہتے ہیں بلالی دنیاتپش اندوز ہے اس نام سے پارے کی طرحغوطہ زن نور میں ہے آنکھ کے تارے کی طرحعقل ہے تیری سپر عشق ہے شمشیر تریمرے درویش خلافت ہے جہانگیر تریما سوا اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تریتو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تریکی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیںیہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
پھر کوئی آیا دل زار نہیں کوئی نہیںراہرو ہوگا کہیں اور چلا جائے گاڈھل چکی رات بکھرنے لگا تاروں کا غبارلڑکھڑانے لگے ایوانوں میں خوابیدہ چراغسو گئی راستہ تک تک کے ہر اک راہ گزاراجنبی خاک نے دھندلا دیئے قدموں کے سراغگل کرو شمعیں بڑھا دو مے و مینا و ایاغاپنے بے خواب کواڑوں کو مقفل کر لواب یہاں کوئی نہیں کوئی نہیں آئے گا
ستارے جو دمکتے ہیںکسی کی چشم حیراں میںملاقاتیں جو ہوتی ہیںجمال ابر و باراں میںیہ نا آباد وقتوں میںدل ناشاد میں ہوگیمحبت اب نہیں ہوگییہ کچھ دن بعد میں ہوگیگزر جائیں گے جب یہ دنیہ ان کی یاد میں ہوگی
نہیں معلوم زریونؔ اب تمہاری عمر کیا ہوگیمرے خود سے گزرنے کے زمانے سے سوا ہوگیمرے قامت سے اب قامت تمہارا کچھ فزوں ہوگامرا فردا مرے دیروز سے بھی خوش نموں ہوگاحساب ماہ و سال اب تک کبھی رکھا نہیں میں نےکسی بھی فصل کا اب تک مزہ چکھا نہیں میں نےمیں اپنے آپ میں کب رہ سکا کب رہ سکا آخرکبھی اک پل کو بھی اپنے لیے سوچا نہیں میں نےحساب ماہ و سال و روز و شب وہ سوختہ بودشمسلسل جاں کنی کے حال میں رکھتا بھی تو کیسےجسے یہ بھی نہ ہو معلوم وہ ہے بھی تو کیوں کر ہےکوئی حالت دل پامال میں رکھتا بھی تو کیسےکوئی نسبت بھی اب تو ذات سے باہر نہیں میریکوئی بستر نہیں میرا کوئی چادر نہیں میری
کوئی یہ کیسے بتائے کہ وہ تنہا کیوں ہےوہ جو اپنا تھا وہی اور کسی کا کیوں ہےیہی دنیا ہے تو پھر ایسی یہ دنیا کیوں ہےیہی ہوتا ہے تو آخر یہی ہوتا کیوں ہےاک ذرا ہاتھ بڑھا دیں تو پکڑ لیں دامنان کے سینے میں سما جائے ہماری دھڑکناتنی قربت ہے تو پھر فاصلہ اتنا کیوں ہےدل برباد سے نکلا نہیں اب تک کوئیاس لٹے گھر پہ دیا کرتا ہے دستک کوئیآس جو ٹوٹ گئی پھر سے بندھاتا کیوں ہےتم مسرت کا کہو یا اسے غم کا رشتہکہتے ہیں پیار کا رشتہ ہے جنم کا رشتہہے جنم کا جو یہ رشتہ تو بدلتا کیوں ہے
دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کرنیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کرخدا اگر دل فطرت شناس دے تجھ کوسکوت لالہ و گل سے کلام پیدا کراٹھا نہ شیشہ گران فرنگ کے احساںسفال ہند سے مینا و جام پیدا کرمیں شاخ تاک ہوں میری غزل ہے میرا ثمرمرے ثمر سے مے لالہ فام پیدا کرمرا طریق امیری نہیں فقیری ہےخودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر
وہ گداز دل مرحوم کہاں سے لاؤںاب میں وہ جذبۂ معصوم کہاں سے لاؤں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books