aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "aahat"
نام بھولے سے جو میرا کہیں آیا ہوگاغیر محسوس طریقے سے وہ چونکا ہوگاایک جملے کو کئی بار سنایا ہوگابات کرتے ہوئے سو بار وہ بھولا ہوگایہ جو لڑکی نئی آئی ہے کہیں وہ تو نہیںاس نے ہر چہرہ یہی سوچ کے دیکھا ہوگاجان محفل ہے مگر آج فقط میرے بغیرہائے کس درجہ وہی بزم میں تنہا ہوگاکبھی سناٹوں سے وحشت جو ہوئی ہوگی اسےاس نے بے ساختہ پھر مجھ کو پکارا ہوگاچلتے چلتے کوئی مانوس سی آہٹ پا کردوستوں کو بھی کس عذر سے روکا ہوگایاد کر کے مجھے نم ہو گئی ہوں گی پلکیں''آنکھ میں پڑ گیا کچھ'' کہہ کے یہ ٹالا ہوگااور گھبرا کے کتابوں میں جو لی ہوگی پناہہر سطر میں مرا چہرہ ابھر آیا ہوگاجب ملی ہوگی اسے میری علالت کی خبراس نے آہستہ سے دیوار کو تھاما ہوگاسوچ کر یہ کہ بہل جائے پریشانی دلیوں ہی بے وجہ کسی شخص کو روکا ہوگا!
سانس لینا بھی کیسی عادت ہےجئے جانا بھی کیا روایت ہےکوئی آہٹ نہیں بدن میں کہیںکوئی سایہ نہیں ہے آنکھوں میںپاؤں بے حس ہیں چلتے جاتے ہیںاک سفر ہے جو بہتا رہتا ہےکتنے برسوں سے کتنی صدیوں سےجئے جاتے ہیں جئے جاتے ہیں
نظر جھکائے ہوئے اور بدن چرائے ہوئےخود اپنے قدموں کی آہٹ سے جھینپتی ڈرتی
کس قدر سیدھا، سہل، صاف ہے رستہ دیکھونہ کسی شاخ کا سایہ ہے، نہ دیوار کی ٹیکنہ کسی آنکھ کی آہٹ، نہ کسی چہرے کا شوردور تک کوئی نہیں، کوئی نہیں، کوئی نہیں
میز پر پھول سجاتے ہوئے دیکھا ہے کئی باراور بستر سے کئی بار جگایا بھی ہے تجھ کوچلتے پھرتے ترے قدموں کی وہ آہٹ بھی سنی ہے
ابھی مرا نہیں زندہ ہے آدمی شایدیہیں کہیں اسے ڈھونڈو یہیں کہیں ہوگابدن کی اندھی گپھا میں چھپا ہوا ہوگابڑھا کے ہاتھہر اک روشنی کو گل کر دوہوائیں تیز ہیں جھنڈے لپیٹ کر رکھ دوجو ہو سکے تو ان آنکھوں پہ پٹیاں کس دونہ کوئی پاؤں کی آہٹنہ سانسوں کی آوازڈرا ہوا ہے وہکچھ اور بھی نہ ڈر جائےبدن کی اندھی گپھا سے نہ کوچ کر جائےیہیں کہیں اسے ڈھونڈووہ آج صدیوں بعداداس اداس ہےخاموش ہےاکیلا ہےنہ جانے کب کوئی پسلی پھڑک اٹھے اس کییہیں کہیں اسے ڈھونڈو یہیں کہیں ہوگابرہنہ ہو تو اسے پھر لباس پہنا دواندھیری آنکھوں میں سورج کی آگ دہکا دوبہت بڑی ہے یہ بستی کہیں بھی دفنا دوابھی مرا نہیںزندہ ہے آدمی شاید
اے دل بے خبرجو ہوا جا چکی اب نہیں آئے گیجو شجر ٹوٹ جاتا ہے پھلتا نہیںواپسی موسموں کا مقدر تو ہےجو سماں بیت جائے پلٹتا نہیںجانے والے نہیں لوٹتے عمر بھراب کسے ڈھونڈھتا ہے سر رہ گزراے دل کم نظر اے مرے بے خبر اے مرے ہم سفروہ تو خوشبو تھا اگلے نگر جا چکاچاندنی تھا ہوا صرف رنگ قمرخواب تھا آنکھ کھلتے ہی اوجھل ہواپیڑ تھا رت بدلتے ہوا بے ثمراے دل بے اثر اے مرے چارہ گریہ ہے کس کو خبر!کب ہوائے سفر کا اشارہ ملے!کب کھلیں ساحلوں پر سفینوں کے پرکون جانے کہاں منزل موج ہے!کس جزیرے پہ ہے شاہ زادی کا گھر اے مرے چارہ گراے دل بے خبر کم نظر معتبرتو کہ مدت سے ہے زیر بار سفربے قرار سفرریل کی بے ہنر پٹریوں کی طرحآس کے بے ثمر موسموں کی طرحبے جہت منزلوں کی مسافت میں ہےرستہ بھولے ہوئے رہرووں کی طرحچوب نار سفراعتبار نظر کس گماں پر کریںاے دل بے بصریہ تو ساحل پہ بھی دیکھتی ہے بھنورریت میں کشت کرتی ہے آب بقاکھولتی ہے ہواؤں میں باب اثرتجھ کو رکھتی ہے یہ زیب دار سفر بے قرار سفراے دل بے ہنرگرم سانسوں کی وہ خوشبوئیں بھول جاوہ چہکتی ہوئی دھڑکنیں بھول جابھول جا نرم ہونٹوں کی شادابیاںحرف اقرار کی لذتیں بھول جابھول جا وہ ہوا بھول جا وہ نگرکون جانے کہاں روشنی کھو گئیلٹ گیا ہے کہاں کاروان سحراب کہاں گیسوؤں کے وہ سائے کہاںاس کی آہٹ سے چمکے ہوئے بام و در اے دل بے بصررنگ آسودگی کے تماشے کہاںجھٹپٹا ہے یہاں رہ گزر رہ گزروہ تو خوشبو تھا اگلے نگر جا چکااب کسے ڈھونڈھتا ہے ارے بے خبرجانے والے نہیں لوٹتے عمر بھراے دل کم نظر اے مرے چارہ گر اے مرے ہم سفر
۱سیاہ پیڑ ہیں اب آپ اپنی پرچھائیںزمیں سے تا مہ و انجم سکوت کے مینارجدھر نگاہ کریں اک اتھاہ گم شدگیاک ایک کر کے فسردہ چراغوں کی پلکیںجھپک گئیں جو کھلی ہیں جھپکنے والی ہیںجھلک رہا ہے پڑا چاندنی کے درپن میںرسیلے کیف بھرے منظروں کا جاگتا خوابفلک پہ تاروں کو پہلی جماہیاں آئیں۲تمولیوں کی دوکانیں کہیں کہیں ہیں کھلیکچھ اونگھتی ہوئی بڑھتی ہیں شاہراہوں پرسواریوں کے بڑے گھنگھروؤں کی جھنکاریںکھڑا ہے اوس میں چپ چاپ ہر سنگار کا پیڑدلہن ہو جیسے حیا کی سگندھ سے بوجھلیہ موج نور یہ بھرپور یہ کھلی ہوئی راتکہ جیسے کھلتا چلا جائے اک سفید کنولسپاہ روس ہے اب کتنی دور برلن سےجگا رہا ہے کوئی آدھی رات کا جادوچھلک رہی ہے خم غیب سے شراب وجودفضائے نیم شبی نرگس خمار آلودکنول کی چٹکیوں میں بند ہے ندی کا سہاگ۳یہ رس کا سیج یہ سکمار یہ سکومل گاتنین کمل کی جھپک کام روپ کا جادویہ رسمسائی پلک کی گھنی گھنی پرچھائیںفلک پہ بکھرے ہوئے چاند اور ستاروں کیچمکتی انگلیوں سے چھڑ کے ساز فطرت کےترانے جاگنے والے ہیں تم بھی جاگ اٹھو۴شعاع مہر نے یوں ان کو چوم چوم لیاندی کے بیچ کمدنی کے پھول کھل اٹھےنہ مفلسی ہو تو کتنی حسین ہے دنیایہ جھائیں جھائیں سی رہ رہ کے ایک جھینگر کیحنا کی ٹیٹو میں نرم سرسراہٹ سیفضا کے سینے میں خاموش سنسناہٹ سییہ کائنات اب اک نیند لے چکی ہوگی۵یہ محو خواب ہیں رنگین مچھلیاں تہہ آبکہ حوض صحن میں اب ان کی چشمکیں بھی نہیںیہ سرنگوں ہیں سر شاخ پھول گڑہل کےکہ جیسے بے بجھے انگارے ٹھنڈے پڑ جائیںیہ چاندنی ہے کہ امڈا ہوا ہے رس ساگراک آدمی ہے کہ اتنا دکھی ہے دنیا میں۶قریب چاند کے منڈلا رہی ہے اک چڑیابھنور میں نور کے کروٹ سے جیسے ناؤ چلےکہ جیسے سینۂ شاعر میں کوئی خواب پلےوہ خواب سانچے میں جس کے نئی حیات ڈھلےوہ خواب جس سے پرانا نظام غم بدلےکہاں سے آتی ہے مدمالتی لتا کی لپٹکہ جیسے سیکڑوں پریاں گلابیاں چھڑکائیںکہ جیسے سیکڑوں بن دیویوں نے جھولے پرادائے خاص سے اک ساتھ بال کھول دیئےلگے ہیں کان ستاروں کے جس کی آہٹ پراس انقلاب کی کوئی خبر نہیں آتیدل نجوم دھڑکتے ہیں کان بجتے ہیں۷یہ سانس لیتی ہوئی کائنات یہ شب ماہیہ پر سکوں یہ پراسرار یہ اداس سماںیہ نرم نرم ہواؤں کے نیلگوں جھونکےفضا کی اوٹ میں مردوں کی گنگناہٹ ہےیہ رات موت کی بے رنگ مسکراہٹ ہےدھواں دھواں سے مناظر تمام نم دیدہخنک دھندلکے کی آنکھیں بھی نیم خوابیدہستارے ہیں کہ جہاں پر ہے آنسوؤں کا کفنحیات پردۂ شب میں بدلتی ہے پہلوکچھ اور جاگ اٹھا آدھی رات کا جادوزمانہ کتنا لڑائی کو رہ گیا ہوگامرے خیال میں اب ایک بج رہا ہوگا۸گلوں نے چادر شبنم میں منہ لپیٹ لیالبوں پہ سو گئی کلیوں کی مسکراہٹ بھیذرا بھی سنبل ترکی لٹیں نہیں ہلتیںسکوت نیم شبی کی حدیں نہیں ملتیںاب انقلاب میں شاید زیادہ دیر نہیںگزر رہے ہیں کئی کارواں دھندلکے میںسکوت نیم شبی ہے انہیں کے پاؤں کی چاپکچھ اور جاگ اٹھا آدھی رات کا جادو۹نئی زمین نیا آسماں نئی دنیانئے ستارے نئی گردشیں نئے دن راتزمیں سے تا بہ فلک انتظار کا عالمفضائے زرد میں دھندلے غبار کا عالمحیات موت نما انتشار کا عالمہے موج دود کہ دھندلی فضا کی نبضیں ہیںتمام خستگی و ماندگی یہ دور حیاتتھکے تھکے سے یہ تارے تھکی تھکی سی یہ راتیہ سرد سرد یہ بے جان پھیکی پھیکی چمکنظام ثانیہ کی موت کا پسینا ہےخود اپنے آپ میں یہ کائنات ڈوب گئیخود اپنی کوکھ سے پھر جگمگا کے ابھرے گیبدل کے کیچلی جس طرح ناگ لہرائے۱۰خنک فضاؤں میں رقصاں ہیں چاند کی کرنیںکہ آبگینوں پہ پڑتی ہے نرم نرم پھواریہ موج غفلت معصوم یہ خمار بدنیہ سانس نیند میں ڈوبی یہ آنکھ مدماتیاب آؤ میرے کلیجے سے لگ کے سو جاؤیہ پلکیں بند کرو اور مجھ میں کھو جاؤ
میں گھومتا پھرتا تھا سر شہر اکیلادروازوں پہ آواز لگاتا تھا، کوئی ہے؟ہر موڑ پہ رک جاتا تھا شاید کوئی آئےلیکن کوئی آہٹ، کوئی سایہ بھی نہ آیا
فنا کے آہنی وحشت اثر قدموں کی آہٹ ہےدھویں کی بدلیاں ہیں گولیوں کی سنسناہٹ ہےاجل کے قہقہے ہیں زلزلوں کی گڑگڑاہٹ ہےمگر میں اپنی منزل کی طرف بڑھتا ہی جاتا ہوں
اے مری امید میری جاں نوازاے مری دل سوز میری کارسازمیری سپر اور مرے دل کی پناہدرد و مصیبت میں مری تکیہ گاہعیش میں اور رنج میں میری شفیقکوہ میں اور دشت میں میری رفیقکاٹنے والی غم ایام کیتھامنے والی دل ناکام کیدل پہ پڑا آن کے جب کوئی دکھتیرے دلاسے سے ملا ہم کو سکھتو نے نہ چھوڑا کبھی غربت میں ساتھتو نے اٹھایا نہ کبھی سر سے ہاتھجی کو ہو کبھی اگر عسرت کا رنجکھول دیے تو نے قناعت کے گنجتجھ سے ہے محتاج کا دل بے ہراستجھ سے ہے بیمار کو جینے کی آسخاطر رنجور کا درماں ہے توعاشق مہجور کا ایماں ہے تونوح کی کشتی کا سہارا تھی توچاہ میں یوسف کی دل آرا تھی تورام کے ہمراہ چڑھی رن میں توپانڈو کے بھی ساتھ پھری بن میں توتو نے سدا قیس کا بہلایا دلتھام لیا جب کبھی گھبرایا دلہو گیا فرہاد کا قصہ تمامپر ترے فقروں پہ رہا خوش مدامتو نے ہی رانجھے کی یہ بندھوائی آسہیر تھی فرقت میں بھی گویا کہ پاسہوتی ہے تو پشت پہ ہمت کی جبمشکلیں آساں نظر آتی ہیں سبہاتھ میں جب آ کے لیا تو نے ہاتسات سمندر سے گزرنا ہے باتساتھ ملا جس کو ترا دو قدمکہتا ہے وہ یہ ہے عرب اور عجمگھوڑے کی لی اپنے جہاں تو نے باگسامنے ہے تیرے گیا اور پراگعزم کو جب دیتی ہے تو میل جستگنبد گردوں نظر آتا ہے پستتو نے دیا آ کے ابھارا جہاںسمجھے کہ مٹھی میں ہے سارا جہاںذرے کو خورشید میں دے کھپابندے کو اللہ سے دے تو ملادونوں جہاں کی ہے بندھی تجھ سے لڑدین کی تو اصل ہے دنیا کی جڑنیکیوں کی تجھ سے ہے قائم اساستو نہ ہو تو جائیں نہ نیکی کے پاسدین کی تجھ بن کہیں پرسش نہ ہوتو نہ ہو تو حق کی پرستش نہ ہوخشک تھا بن تیرے درخت عملتو نے لگائے ہیں یہ سب پھول پھلدل کو لبھاتی ہے کبھی بن کے حورگاہ دکھاتی ہے شراب طہورنام ہے سدرہ کبھی طوبیٰ تراروز نرالا ہے تماشا تراکوثر و تسنیم ہے یا سلسبیلجلوے ہیں سب تیرے یہ بے قال و قیلروپ ہیں ہر پنتھ میں تیرے الگہے کہیں فردوس کہیں ہے سورگچھوٹ گئے سارے قریب اور بعیدایک نہ چھوٹی تو نہ چھوٹی امیدتیرے ہی دم سے کٹے جو دن تھے سختتیرے ہی صدقے سے ملا تاج و تختخاکیوں کی تجھ سے ہے ہمت بلندتو نہ ہو تو کام ہوں دنیا کے بندتجھ سے ہی آباد ہے کون و مکاںتو نہ ہو تو ہے بھی برہم جہاںکوئی پڑتا پھرتا ہے بہر معاشہے کوئی اکسیر کو کرتا تلاشاک تمنا میں ہے اولاد کیایک کو دل دار کی ہے لو لگیایک کو ہے دھن جو کچھ ہاتھ آئےدھوم سے اولاد کی شادی رچائےایک کو کچھ آج اگر مل گیاکل کی ہے یہ فکر کہ کھائیں گے کیاقوم کی بہبود کا بھوکا ہے ایکجن میں ہو ان کے لیے انجام نیکایک کو ہے تشنگیٔ قرب حقجس نے کیا دل سے جگر تک ہے شقجو ہے غرض اس کی نئی جستجولاکھ اگر دل ہیں تو لاکھ آرزوتجھ سے ہیں دل سب کے مگر باغ باغگل کوئی ہونے نہیں پاتا چراغسب یہ سمجھتے ہیں کہ پائی مرادکہتی ہے جب تو کہ اب آئی مرادوعدہ ترا راست ہو یا ہو دروغتو نے دیے ہیں اسے کیا کیا فروغوعدے وفا کرتی ہے گو چند تورکھتی ہے ہر ایک کو خورسند توبھاتی ہے سب کو تری لیت و لعلتو نے کہاں سیکھی ہے یہ آج کلتلخ کو تو چاہے تو شیریں کرےبزم عزا کو طرب آگیں کرےآنے نہ دے رنج کو مفلس کے پاسرکھے غنی اس کو رہے جس کے پاسیاس کا پاتی ہے جو تو کچھ لگاؤسیکڑوں کرتی ہے اتار اور چڑھاؤآنے نہیں دیتی دلوں پر ہراسٹوٹنے دیتی نہیں طالب کی آسجن کو میسر نہ ہو کملی پھٹیخوش ہیں توقع پہ وہ زر بفت کیچٹنی سے روٹی کا ہے جن کی بناؤبیٹھے پکاتے ہیں خیالی پلاؤپاؤں میں جوتی نہیں پر ہے یہ ذوقگھوڑا جو سبزہ ہو تو نیلا ہو طوقفیض کے کھولے ہیں جہاں تو نے بابدیکھتے ہیں جھونپڑے محلوں کے خوابتیرے کرشمے ہیں غضب دل فریبدل میں نہیں چھوڑتے صبر و شکیبتجھ سے مہوس نے جو شوریٰ لیاپھونک دیا کان میں کیا جانے کیادل سے بھلایا زن و فرزند کولگ گیا گھن نخل برومند کوکھانے سے پینے سے ہوا سرد جیایسی کچھ اکسیر کی ہے لو لگیدین کی ہے فکر نہ دنیا سے کامدھن ہے یہی رات دن اور صبح شامدھونکنی ہے بیٹھ کے جب دھونکناشہہ کو سمجھتا ہے اک ادنیٰ گداپیسے کو جب تاؤ پہ دیتا ہے تاؤپوچھتا یاروں سے ہے سونے کا بھاؤکہتا ہے جب ہنستے ہیں سب دیکھ کررہ گئی اک آنچ کی باقی کسرہے اسی دھند میں وہ آسودہ حالتو نے دیا عقل پہ پردہ سا ڈالتول کر گر دیکھیے اس کی خوشیکوئی خوشی اس کو نہ پہنچے کبھیپھرتے ہیں محتاج کئی تیرہ بختجن کے پیروں میں تھا کبھی تاج و تختآج جو برتن ہیں تو کل گھر کروملتی ہے مشکل سے انہیں نان جوتیرے سوا خاک نہیں ان کے پاسساری خدائی میں ہے لے دے کے آسپھولے سماتے نہیں اس آس پرصاحب عالم انہیں کہیے اگرکھاتے ہیں اس آس پہ قسمیں عجیبجھوٹے کو ہو تخت نہ یارب نصیبہوتا ہے نومیدیوں کا جب ہجومآتی ہے حسرت کی گھٹا جھوم جھوملگتی ہے ہمت کی کمر ٹوٹنےحوصلہ کا لگتا ہے جی چھوٹنےہوتی ہے بے صبری و طاقت میں جنگعرصۂ عالم نظر آتا ہے تنگجی میں یہ آتا ہے کہ سم کھائیےپھاڑ کے یا کپڑے نکل جائیےبیٹھنے لگتا ہے دل آوے کی طرحیاس ڈراتی ہے چھلاوے کی طرحہوتا ہے شکوہ کبھی تقدیر کااڑتا ہے خاکہ کبھی تدبیر کاٹھنتی ہے گردوں سے لڑائی کبھیہوتی ہے قسمت کی ہنسائی کبھیجاتا ہے قابو سے آخر دل نکلکرتی ہے ان مشکلوں کو تو ہی حلکان میں پہنچی تری آہٹ جو ہیںرخت سفر یاس نے باندھا وہیںساتھ گئی یاس کے پژمردگیہو گئی کافور سب افسردگیتجھ میں چھپا راحت جاں کا ہے بھیدچھوڑیو حالیؔ کا نہ ساتھ اے امید
چند تتلائے ہوئے بولوں میں آہٹ بھی سنیدودھ کا دانت گرا تھا تو وہاں بھی دیکھابوسکی بیٹی مری چکنی سی ریشم کی ڈلیلپٹی لپٹائی ہوئی ریشمی تانگوں میں پڑی تھیمجھ کو احساس نہیں تھا کہ وہاں وقت پڑا ہےپالنا کھول کے جب میں نے اتارا تھا اسے بستر پرلوری کے بولوں سے اک بار چھوا تھا اس کوبڑھتے ناخونوں میں ہر بار تراشا بھی تھا
اب تک میرے گیتوں میں امید بھی تھی پسپائی بھیموت کے قدموں کی آہٹ بھی جیون کی انگڑائی بھیمستقبل کی کرنیں بھی تھیں حال کی بوجھل ظلمت بھیطوفانوں کا شور بھی تھا اور خوابوں کی شہنائی بھی
خدا علی گڑھ کے مدرسے کو تمام امراض سے شفا دےبھرے ہوئے ہیں رئیس زادے امیر زادے شریف زادےلطیف و خوش وضع چست و چالاک و صاف و پاکیزہ شاد و خرمطبیعتوں میں ہے ان کی جودت دلوں میں ان کے ہیں نیک ارادےکمال محنت سے پڑھ رہے ہیں کمال غیرت سے پڑھ رہے ہیںسوار مشرق راہ میں ہیں تو مغربی راہ میں پیادےہر اک ہے ان میں کا بے شک ایسا کہ آپ اسے چاہتے ہیں جیسادکھاوے محفل میں قد رعنا جو آپ آئیں تو سر جھکا دےفقیر مانگے تو صاف کہہ دیں کہ تو ہے مضبوط جا کما کھاقبول فرمائیں آپ دعوت تو اپنا سرمایہ کل کھلا دےبتوں سے ان کو نہیں لگاوٹ مسوں کی لیتے نہیں وہ آہٹتمام قوت ہے صرف خواندن نظر کے بھولے ہیں دل کے سادےنظر بھی آئے جو زلف پیچاں تو سمجھیں یہ کوئی پالیسی ہےالکٹرک لائٹ اس کو سمجھیں جو برق وش کوئی کودےنکلتے ہیں کر کے غول بندی بنام تہذیب و درد مندییہ کہہ کے لیتے ہیں سب سے چندے جو تم ہمیں دو تمہیں خدا دےانہیں اسی بات پر یقیں ہے کہ بس یہی اصل کار دیں ہےاسی سے ہوگا فروغ قومی اسی سے چمکیں گے باپ دادےمکان کالج کے سب مکیں ہیں ابھی انہیں تجربے نہیں ہیںخبر نہیں ہے کہ آگے چل کر ہے کیسی منزل ہیں کیسے جادےدلوں میں ان کے ہیں نور ایماں قوی نہیں ہے مگر نگہباںہوائے منطق ادائے طفلی یہ شمع ایسا نہ ہو بجھا دےفریب دے کر نکالے مطلب سکھائے تحقیر دین و مذہبمٹا دے آخر کو دین و مذہب نمود ذاتی کو گو بڑھا دےیہی بس اکبرؔ کی التجا ہے جناب باری میں یہ دعا ہےعلوم و حکمت کا درس ان کو پروفیسر دیں سمجھ خدا دے
دم بخود خامشی میں دھیرے سےزرد پتے قدم اٹھاتے ہیںیاد کے کارواں اندھیرے میںخواب کی طرح سرسراتے ہیںکھڑکیوں کے ڈرے ہوئے چہرےاپنی آہٹ سے کانپ جاتے ہیں
یہ سچ ہے تو پھر کیوںکوئی ایسی صورت، کوئی ایسا حیلہ نہ تھاجس سے ہم آنے والے زمانے کی آہٹ کو سن کروہیں اس کی یورش کو سپنوں پہ یوں روک لیتےکہ ہم تیری منزل نہیں، تیرا ملجا و ماویٰ نہیں ہیں؟
خالی آنکھوں کا مکان مہنگا ہےمجھے مٹی کی لکیر بن جانے دوخدا بہت سے انسان بنانا بھول گیا ہےمیری سنسان آنکھوں میں آہٹ رہنے دوآگ کا ذائقہ چراغ ہےاور نیند کا ذائقہ انسانمجھے پتھروں جتنا کس دوکہ میری بے زبانی مشہور نہ ہومیں خدا کی زبان منہ میں رکھےکبھی پھول بن جاتی ہوں اور کبھی کانٹازنجیروں کی رہائی دوکہ انسان ان سے زیادہ قید ہےمجھے تنہا مرنا ہےسو یہ آنکھیں یہ دلکسی خالی انسان کو دے دینا
اندھاری رات کے آنگن میں یہ صبح کے قدموں کی آہٹیہ بھیگی بھیگی سرد ہوا یہ ہلکی ہلکی دھندلاہٹگاڑی میں ہوں تنہا محو سفر اور نیند نہیں ہے آنکھوں میںبھولے بسرے ارمانوں کے خوابوں کی زمیں ہے آنکھوں میںاگلے دن ہاتھ ہلاتے ہیں پچھلی پیتیں یاد آتی ہیںگم گشتہ خوشیاں آنکھوں میں آنسو بن کر لہراتی ہیںسینے کے ویراں گوشوں میں اک ٹیس سی کروٹ لیتی ہےناکام امنگیں روتی ہیں امید سہارے دیتی ہےوہ راہیں ذہن میں گھومتی ہیں جن راہوں سے آج آیا ہوںکتنی امید سے پہنچا تھا کتنی مایوسی لایا ہوں
اٹھ بیٹھے انگڑائی لے کر جو غفلت کا متوالا ہےآکاش کے تیور کہتے ہیں، طوفان پھر آنے والا ہےاک ابر کا ٹکڑا آتا ہے، اک ابر کا ٹکڑا جاتا ہےیا خواب پریشاں دنیا کا بالائے فضا منڈلاتا ہےچلتی ہے زمانہ میں آندھی شاعر کے تند خیالوں کیاس تیز ہوا میں خیر نہیں ہے اونچی پگڑی والوں کیاحساس خودی مظلوموں کا اب چونک کے کروٹ لیتا ہےجو وقت کہ آنے والا ہے دل اس کی آہٹ لیتا ہےطوفاں کی لہریں جاگ اٹھیں سو کر اپنے گہوارے سےکچھ تنکے شوخی کرتے ہیں سیلاب کے سرکش دھارے سےمندیل سروں سے گرتی ہے اور پاؤں سے روندی جاتی ہےسینہ میں گھٹاؤں کی بجلی، بے چین ہے کوندی جاتی ہےمنظر کی کدورت دھو دے گی دھرتی کی پیاس بجھائے گیموسم کے اشارے کہتے ہیں یہ بدلی کچھ برسائے گییہ ابر جو گھر کر آتا ہے، گر آج نہیں کل برسے گاسب کھیت ہرے ہو جائیں گے جب ٹوٹ کے بادل برسے گا
وہ دیکھو اٹھی کالی کالی گھٹاہے چاروں طرف چھانے والی گھٹاگھٹا کے جو آنے کی آہٹ ہوئیہوا میں بھی اک سنسناہٹ ہوئیگھٹا آن کر مینہ جو برسا گئیتو بے جان مٹی میں جان آ گئیزمیں سبزے سے لہلہانے لگیکسانوں کی محنت ٹھکانے لگیجڑی بوٹیاں پیڑ آئے نکلعجب بیل پتے عجب پھول پھلہر اک پیڑ کا یک نیا ڈھنگ ہےہر اک پھول کا اک نیا رنگ ہےیہ دو دن میں کیا ماجرا ہو گیاکہ جنگل کا جنگل ہرا ہو گیاجہاں کل تھا میدان چٹیل پڑاوہاں آج ہے گھاس کا بن پڑاہزاروں پھدکنے لگے جانورنکل آئے گویا کہ مٹی کے پر
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books