aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "abdaal"
دنیا میں پادشہ ہے سو ہے وہ بھی آدمیاور مفلس و گدا ہے سو ہے وہ بھی آدمیزردار بے نوا ہے سو ہے وہ بھی آدمینعمت جو کھا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمیٹکڑے چبا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمیابدال، قطب و غوث، ولی آدمی ہوئےمنکر بھی آدمی ہوئے اور کفر کے بھرےکیا کیا کرشمے کشف و کرامات کے لیےحتٰی کہ اپنے زہد و ریاضت کے زور سےخالق سے جا ملا ہے سو ہے وہ بھی آدمیفرعون نے کیا تھا جو دعویٰ خدائی کاشداد بھی بہشت بنا کر ہوا خدانمرود بھی خدا ہی کہاتا تھا برملایہ بات ہے سمجھنے کی آگے کہوں میں کیایاں تک جو ہو چکا ہے سو ہے وہ بھی آدمیکل آدمی کا حسن و قبح میں ہے یاں ظہورشیطاں بھی آدمی ہے جو کرتا ہے مکر و زوراور ہادی رہنما ہے سو ہے وہ بھی آدمیمسجد بھی آدمی نے بنائی ہے یاں میاںبنتے ہیں آدمی ہی امام اور خطبہ خواںپڑھتے ہیں آدمی ہی قرآن اور نمازیاںاور آدمی ہی ان کی چراتے ہیں جوتیاںجو ان کو تاڑتا ہے سو ہے وہ بھی آدمییاں آدمی پہ جان کو وارے ہے آدمیاور آدمی پہ تیغ کو مارے ہے آدمیپگڑی بھی آدمی کی اتارے ہے آدمیچلا کے آدمی کو پکارے ہے آدمیاور سن کے دوڑتا ہے سو ہے وہ بھی آدمیچلتا ہے آدمی ہی مسافر ہو لے کے مالاور آدمی ہی مارے ہے پھانسی گلے میں ڈالیاں آدمی ہی صید ہے اور آدمی ہی جالسچا بھی آدمی ہی نکلتا ہے میرے لالاور جھوٹ کا بھرا ہے سو ہے وہ بھی آدمییاں آدمی ہی شادی ہے اور آدمی بیاہقاضی وکیل آدمی اور آدمی گواہتاشے بجاتے آدمی چلتے ہیں خواہ مخواہدوڑے ہیں آدمی ہی تو مشعل جلا کے راہاور بیاہنے چڑھا ہے سو ہے وہ بھی آدمییاں آدمی نقیب ہو بولے ہے بار باراور آدمی ہی پیادے ہیں اور آدمی سوارحقہ صراحی جوتیاں دوڑیں بغل میں مارکاندھے پہ رکھ کے پالکی ہیں دوڑتے کہاراور اس میں جو پڑا ہے سو ہے وہ بھی آدمیبیٹھے ہیں آدمی ہی دکانیں لگا لگااور آدمی ہی پھرتے ہیں رکھ سر پہ خونچاکہتا ہے کوئی لو کوئی کہتا ہے لا رے لاکس کس طرح کی بیچیں ہیں چیزیں بنا بنااور مول لے رہا ہے سو ہے وہ آدمیطبلے مجیرے دائرے سارنگیاں بجاگاتے ہیں آدمی ہی ہر اک طرح جا بجارنڈی بھی آدمی ہی نچاتے ہیں گت لگااور آدمی ہی ناچے ہیں اور دیکھ پھر مزاجو ناچ دیکھتا ہے سو ہے وہ بھی آدمییاں آدمی ہی لعل و جواہر میں بے بہااور آدمی ہی خاک سے بد تر ہے ہو گیاکالا بھی آدمی ہے کہ الٹا ہے جوں تواگورا بھی آدمی ہے کہ ٹکڑا ہے چاند سابد شکل بد نما ہے سو ہے وہ بھی آدمیاک آدمی ہیں جن کے یہ کچھ زرق برق ہیںروپے کے جن کے پاؤں ہیں سونے کے فرق ہیںجھمکے تمام غرب سے لے تا بہ شرق ہیںکم خواب تاش شال دو شالوں میں غرق ہیںاور چیتھڑوں لگا ہے سو ہے وہ بھی آدمیحیراں ہوں یارو دیکھو تو کیا یہ سوانگ ہےاور آدمی ہی چور ہے اور آپی تھانگ ہےہے چھینا جھپٹی اور بانگ تانگ ہےدیکھا تو آدمی ہی یہاں مثل رانگ ہےفولاد سے گڑھا ہے سو ہے وہ بھی آدمیمرنے میں آدمی ہی کفن کرتے ہیں تیارنہلا دھلا اٹھاتے ہیں کاندھے پہ کر سوارکلمہ بھی پڑھتے جاتے ہیں روتے ہیں زارزارسب آدمی ہی کرتے ہیں مردے کے کاروباراور وہ جو مر گیا ہے سو ہے وہ بھی آدمیاشراف اور کمینے سے لے شاہ تا وزیریہ آدمی ہی کرتے ہیں سب کار دل پذیریاں آدمی مرید ہے اور آدمی ہی پیراچھا بھی آدمی ہی کہاتا ہے اے نظیرؔاور سب میں جو برا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
کہ جسم و جاں میں ابال آئےنہ خواب زاروں میں روشنی تھی
بہار آئی تو جیسے یک بارلوٹ آئے ہیں پھر عدم سےوہ خواب سارے شباب سارےجو تیرے ہونٹوں پہ مر مٹے تھےجو مٹ کے ہر بار پھر جئے تھےنکھر گئے ہیں گلاب سارےجو تیری یادوں سے مشکبو ہیںجو تیرے عشاق کا لہو ہیںابل پڑے ہیں عذاب سارےملال احوال دوستاں بھیخمار آغوش مہ وشاں بھیغبار خاطر کے باب سارےترے ہمارےسوال سارے جواب سارےبہار آئی تو کھل گئے ہیںنئے سرے سے حساب سارے
فکر انساں پر تری ہستی سے یہ روشن ہواہے پر مرغ تخیل کی رسائی تا کجاتھا سراپا روح تو بزم سخن پیکر ترازیب محفل بھی رہا محفل سے پنہاں بھی رہادید تیری آنکھ کو اس حسن کی منظور ہےبن کے سوز زندگی ہر شے میں جو مستور ہےمحفل ہستی تری بربط سے ہے سرمایہ دارجس طرح ندی کے نغموں سے سکوت کوہسارتیرے فردوس تخیل سے ہے قدرت کی بہارتیری کشت فکر سے اگتے ہیں عالم سبزہ وارزندگی مضمر ہے تیری شوخی تحریر میںتاب گویائی سے جنبش ہے لب تصویر میںنطق کو سو ناز ہیں تیرے لب اعجاز پرمحو حیرت ہے ثریا رفعت پرواز پرشاہد مضموں تصدق ہے ترے انداز پرخندہ زن ہے غنچۂ دلی گل شیراز پرآہ تو اجڑی ہوئی دلی میں آرامیدہ ہےگلشن ویمر میں تیرا ہم نوا خوابیدہ ہےلطف گویائی میں تیری ہم سری ممکن نہیںہو تخیل کا نہ جب تک فکر کامل ہم نشیںہائے اب کیا ہو گئی ہندوستاں کی سر زمیںآہ اے نظارہ آموز نگاہ نکتہ بیںگیسوئے اردو ابھی منت پزیر شانہ ہےشمع یہ سودائی دل سوزئ پروانہ ہےاے جہان آباد اے گہوارۂ علم و ہنرہیں سراپا نالۂ خاموش تیرے بام درذرے ذرے میں ترے خوابیدہ ہیں شمس و قمریوں تو پوشیدہ ہیں تیری خاک میں لاکھوں گہردفن تجھ میں کوئی فخر روزگار ایسا بھی ہےتجھ میں پنہاں کوئی موتی آبدار ایسا بھی ہے
در ہائے آب دار و شرر ہائے دل نشیںشب ہائے تلخ و ترش و سحر ہائے شکریںعقل نشاط خیز و جنون غم آفریںدولت وہ کون ہے جو مری جیب میں نہیںٹکرائی جب بھی مجھ سے خجل سروری ہوئییوں ہے ترے فقیر کی جھولی بھری ہوئی
بے محل چھیڑ پہ جذبات ابل آئے ہوں گےغم پشیمان تبسم میں ڈھل آئے ہوں گےنام پر میرے جب آنسو نکل آئے ہوں گےسر نہ کاندھے سے سہیلی کے اٹھایا ہوگا
یہ کیسی باد بہار ہے جس میں شاخ اردو نہ پھل سکے گیوہ کیسا روئے نگار ہوگا نہ زلف جس پر مچل سکے گیہمیں وہ آزادی چاہیئے جس میں دل کی مینا ابل سکے گی
یہ دھڑکتا ہوا گنبد میں دل شاہجہاںیہ در و بام پہ ہنستا ہوا ملکہ کا شبابجگمگاتا ہے ہر اک تہ سے مذاق تفریقاور تاریخ اڑھاتی ہے محبت کی نقابچاندنی اور یہ محل عالم حیرت کی قسمدودھ کی نہر میں جس طرح ابال آ جائےایسے سیاح کی نظروں میں کھپے کیا یہ سماںجس کو فرہاد کی قسمت کا خیال آ جائےدوست میں دیکھ چکا تاج محل۔۔۔۔۔واپس چل
عجیب قصہ ہےجب یہ دنیا سمجھ رہی تھیتم اپنی دنیا میں جی رہی ہومیں اپنی دنیا میں جی رہا ہوںتو ہم نے ساری نگاہوں سے دورایک دنیا بسائی تھیجو کہ میری بھی تھیتمہاری بھی تھیجہاں فضاؤں میںدونوں کے خواب جاگتے تھےجہاں ہواؤں میںدونوں کی سرگوشیاں گھلی تھیںجہاں کے پھولوں میںدونوں کی آرزو کے سب رنگکھل رہے تھےجہاں پہ دونوں کی جرأتوں کےہزار چشمے ابل رہے تھےنہ وسوسے تھے نہ رنج و غم تھےسکون کا گہرا اک سمندر تھااور ہم تھے
وہ کب کے آئے بھی اور گئے بھی نظر میں اب تک سما رہے ہیںیہ چل رہے ہیں، وہ پھر رہے ہیں، یہ آ رہے ہیں وہ جا رہے ہیںوہی قیامت ہے قد بالا وہی ہے صورت، وہی سراپالبوں کو جنبش، نگہ کو لرزش، کھڑے ہیں اور مسکرا رہے ہیںوہی لطافت، وہی نزاکت، وہی تبسم، وہی ترنممیں نقش حرماں بنا ہوا تھا وہ نقش حیرت بنا رہے ہیںخرام رنگیں، نظام رنگیں، کلام رنگیں، پیام رنگیںقدم قدم پر، روش روش پر نئے نئے گل کھلا رہے ہیںشباب رنگیں، جمال رنگیں، وہ سر سے پا تک تمام رنگیںتمام رنگیں بنے ہوئے ہیں، تمام رنگیں بنا رہے ہیںتمام رعنائیوں کے مظہر، تمام رنگینیوں کے منظرسنبھل سنبھل کر سمٹ سمٹ کر سب ایک مرکز پر آ رہے ہیںبہار رنگ و شباب ہی کیا ستارہ و ماہتاب ہی کیاتمام ہستی جھکی ہوئی ہے، جدھر وہ نظریں جھکا رہے ہیںطیور سرشار ساغر مل ہلاک تنویر لالہ و گلسب اپنی اپنی دھنوں میں مل کر عجب عجب گیت گا رہے ہیںشراب آنکھوں سے ڈھل رہی ہے، نظر سے مستی ابل رہی ہےچھلک رہی ہے اچھل رہی ہے، پئے ہوئے ہیں پلا رہے ہیںخود اپنے نشے میں جھومتے ہیں، وہ اپنا منہ آپ چومتے ہیںخراب مستی بنے ہوئے ہیں، ہلاک مستی بنا رہے ہیںفضا سے نشہ برس رہا ہے، دماغ پھولوں میں بس رہا ہےوہ کون ہے جو ترس رہا ہے؟ سبھی کو میکش پلا رہے ہیںزمین نشہ، زمان نشہ، جہان نشہ، مکان نشہمکان کیا؟ لا مکان نشہ، ڈبو رہے ہیں پلا رہے ہیںوہ روئے رنگیں و موجۂ یم، کہ جیسے دامان گل پہ شبنمیہ گرمیٔ حسن کا ہے عالم، عرق عرق میں نہا رہے ہیںیہ مست بلبل بہک رہے ہیں، قریب عارض چہک رہے ہےگلوں کی چھاتی دھڑک رہی ہے، وہ دست رنگیں بڑھا رہے ہیںیہ موج و دریا، یہ ریگ و صحرا یہ غنچہ و گل، یہ ماہ و انجمذرا جو وہ مسکرا دیئے ہیں وہ سب کے سب مسکرا رہے ہیںفضا یہ نغموں سے بھر گئی ہے کہ موج دریا ٹھہر گئی ہےسکوت نغمہ بنا ہوا ہے، وہ جیسے کچھ گنگنا رہے ہیںاب آگے جو کچھ بھی ہو مقدر، رہے گا لیکن یہ نقش دل پرہم ان کا دامن پکڑ رہے ہیں، وہ اپنا دامن چھڑا رہے ہیںیہ اشک جو بہہ رہے ہیں پیہم، اگرچہ سب ہیں یہ حاصل غممگر یہ معلوم ہو رہا ہے، کہ یہ بھی کچھ مسکرا رہے ہیںذرا جو دم بھر کو آنکھ جھپکی، یہ دیکھتا ہوں نئی تجلیطلسم صورت مٹا رہے ہیں، جمال معنی بنا رہے ہیںخوشی سے لبریز شش جہت ہے، زبان پر شور تہنیت ہےیہ وقت وہ ہے جگرؔ کے دل کو وہ اپنے دل سے ملا رہے ہیں
کن خیالات میں یوں رہتی ہو کھوئی کھوئیچائے کا پانی پتیلی میں ابل جاتا ہےراکھ کو ہاتھ لگاتی ہو تو جل جاتا ہےایک بھی کام سلیقے سے نہیں ہو پاتاایک بھی بات محبت سے نہیں کہتی ہواپنی ہر ایک سہیلی سے خفا رہتی ہورات بھر ناولیں پڑھتی ہو نہ جانے کس کیایک جمپر نہیں سی پائی ہو کتنے دن سےبھائی کا ہاتھ بھی غصے سے جھٹک دیتی ہومیز پر یوں ہی کتابوں کو پٹک دیتی ہوکن خیالات میں یوں رہتی ہو کھوئی کھوئی
لڑکپن کی رفیق اے ہم نوائے نغمۂ طفلیہماری گیارہ سالہ زندگی کی دل نشیں وادیہمارے ذہن کی تخئیل کی احساس کی ساتھیہمارے ذوق کی رہبر ہماری عقل کی ہادی
مہیب پھاٹکوں کے ڈولتے کواڑ چیخ اٹھےابل پڑے الجھتے بازوؤں چٹختی پسلیوں کے پر ہراس قافلےگرے بڑھے مڑے بھنور ہجوم کے
زندگی محبوب ہے پھر بھی دعائیں موت کیمانگتا ہے دل مرا دن رات کیوںقسمت غم گیں کے ہونٹوں پر کبھیآ نہیں سکتی خوشی کی بات کیوںکیوں نگاہوں پر مری چھائے ہیں آنسو کے نقاباس سوال مستقل کا کیوں نہیں ملتا جوابکیا خودی کی الجھنیں میرے ارادے توڑ کرکر رہی ہیں مجھ کو اس دنیا میں ناکام حیاتکیوں نہیں آتی وہ راتجس کی خرم تر سحرآرزو ہے مجھ سے ہو اب ہم کلامراحتیں معدوم ہیں میرے تخیل سے تمامراستہ مجھ کو نظر آتا نہیںراستہ مجھ کو خوشی کا کیوں نظر آتا نہیںچل مرے دل آج اس محدود خلوت سے نکلہاں سنبھل قعر خموشی میں نہ گر ہاں اب سنبھلبے خودی مسلک بنا لے بھول جا سب آج کلچھوڑ دے مرکز کی چاہت مضطرب ہو اور مچلسینۂ آتش فشاں کی طرح گرمی سے ابلچل مرے دل راستہ خوشیوں کا دیکھاور شعلہ عیش کے لمحوں کا دیکھدل گرفتہ آنسوؤں کو خشک کردیکھ رستہ آنسوؤں کو خشک کرچھوڑ دے مرکز کی چاہت مضطرب ہو اور مچلچل مرے دل آج اس محدود خلوت سے نکل
آتا ہے یاد مجھ کو بچپن کا وہ زمانہرہتا تھا ساتھ میرے خوشیوں کا جب خزانہہر روز گھر میں ملتے عمدہ لذیذ کھانےبے محنت و مشقت حاصل تھا آب و دانہبچوں کے ساتھ رہنا خوشیوں کے گیت گانادل میں نہ تھی کدورت تھا سب سے دوستانہمہندی کے پتے لانا اور پیس کر لگاناپھر سرخ ہاتھ اپنے ہر ایک کو دکھاناآواز ڈگڈگی کی جوں ہی سنائی دیتیاس کی طرف لپکنا بچوں کا والہانہہر سال پیارے ابو لاتے تھے ایک بکراچارہ اسے کھلانا میدان میں گھماناوہ دور جا چکا ہے آتا نہیں پلٹ کربچپن کا وہ زمانہ لگتا ہے اک فسانہدادی کو میں نے اک دن یہ مشورہ دیا تھاچہرے کی جھریوں کو آسان ہے مٹاناچہرے پہ آپ کے ہیں جو بے شمار شکنیںآیا مری سمجھ میں ان سے نجات پاناکپڑے کی ساری شکنیں مٹتی ہیں استری سےآسان سا عمل ہے یہ استری چلانااک گرم استری کو چہرے پہ آپ پھیریںعمدہ ہے میرا نسخہ ہے شرط آزمانااک روز والدہ سے جا کر کہا کچن میںاب چھوڑیئے گا امی یہ روٹیاں پکانااک پیڑ روٹیوں کا دالان میں لگائیںاس پیڑ کو کہیں گے روٹی کا کارخانہشاخوں سے تازہ تازہ پھر روٹیاں ملیں گیتوڑیں گے روٹیاں ہم کھائیں گے گھر میں کھاناکیسی عجیب باتیں آتی تھیں میرے لب پرآج ان کو کہہ رہا ہوں باتیں ہیں احمقانہوہ پیاری پیاری باتیں اب یاد آ رہی ہیںبچپن کا وہ زمانہ کیا خواب تھا سہانا
سویرے سویرے جگاتی ہیں امیمرے ہاتھ منہ پھر دھلاتی ہیں امی
کانپتی ہیں ہونٹوں پرکتنی ان کہی باتیںگونجتے ہیں کانوں میںکتنے ان سنے نغمےجھانکتے ہیں پلکوں سےانگلیوں کے پوروں تکخواب کتنے ان دیکھےلمس ان چھوئے کتنے
پھوٹی لب نازک سے وہ اک شوخ سی لالیتھوڑی سی شفق عارض تاباں نے چرا لیپھر بام کی جانب اٹھے ابروئے ہلالی
فرد فرد مست ہےپندرہ اگست ہےجوش ہے ابال ہےرنگ ہے گلال ہےگلی گلی ہیں رونقیںعجیب سی ہیں رونقیںہم کبھی غلام تھےبھارتی غلام تھےزندگی کی شام تھیسانس تک غلام تھیفرنگیوں کے جور سےبھارتی نڈھال تھےظلم جب بہت ہوااپنی حد سے بڑھ گیابھارتی بپھر گئےہم سبھی بپھر گئےجان و مال تج دیاگھر عیال تج دیاایک ہو گئے جو ہمدور ہو گیا المحریت ملی ہمیںعافیت ملی ہمیںفرد فرد مست ہےپندرہ اگست ہے
میری ایک خواہش ہےکوئی ایک نقطہ ہوجو وجود کی ساریسرحدوں سے باہر ہوجس پہ جا کے میں اپناایک جائزہ لے لوںاپنے آپ سے ہٹ کراپنے آپ کو دیکھوں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books