aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "abr-e-ashk"
حقیقت تلخ ہے اور تلخ تر ہیں اس کی تدبیریںڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتااگر اس بحر طوفانی میں ہونا ہی مقدر تھاتو اپنی کشتیٔ جذبات کا خود ناخدا ہوتاکبھی موجوں سے ٹکراتا کبھی لہروں پہ لہراتاہلاکت خیز گردابوں کا سینہ روندتا ہوتانسیم صبح بن کر شوخیاں کرتا گلستاں میںگلوں کو گدگداتا کونپلوں کو چھیڑتا ہوتاگھروں میں یاس کے کرتا امیدوں کے کنول روشنکسی بیمار غم کا مونس شام بلا ہوتااک ایسی بانسری ہوتا کہ جس کے کیف نغمہ سےجھپکتی آنکھ تاروں کی زمانہ جھومتا ہوتاقلوب سخت کی سنگین دیواروں سے ٹکراتاسکوت شب میں اک ٹوٹے ہوئے دل کی صدا ہوتاڈبو کر کشتیٔ سرمایہ داری قعر دریا میںمیں مغروروں کی حسرت کا تماشا دیکھتا ہوتاغریبوں کے محلوں میں چراغ رہگزر بن کراندھیرے جھونپڑوں کو بھیک اپنی دے رہا ہوتاچراغ رہ گزار بے کسی جس کے اجالے میںکسی مزدور فاقہ کش کا بچہ کھیلتا ہوتابہشت قیصر و فغفور کے سنسان کھنڈروں میںتباہی اور بغاوت کا ترانہ گا رہا ہوتاپتنگوں کو حرارت شمع کو سوزش عطا کرتااگر جلنا ہی تھا دل کو تو اک آتش کدہ ہوتامگر افسوس فطرت نے مجھے شاعر بنا ڈالانہیں تو اشکؔ اپنی آرزؤں کا خدا ہوتا
اگر اے شمع دل جلنا ہی تھا تجھ کو تو جلنا تھاکسی بیکس کی تربت پر چراغ نیم جاں ہو کریہ حسرت تھی کہ موجوں کے تلاطم میں بہا جاتامیں اپنی کشتیٔ بے بادباں کا پاسباں ہو کربتاتا حالت رفتار شب صحرا نشینوں کونجوم چرخ بن کر کارواں در کارواں ہو کرتھکے ماندے مسافر کو سلا دیتا لب دریاہوائے سرو بن کر موجۂ عنبر فشاں ہو کرگزر جاتا فغاں کرتا ہوا سنسان وادی سےفضاؤں کو جگا دیتا درائے کارواں ہو کرامید و بیم کے جھگڑے مٹا دیتا زمانے سےخودی کا دیوتا بن کر خدا کا ترجماں ہو کرفریب حسن دیتا دیدۂ کور تمنا کونگاہ دل نشیں بن کر ادائے دلستاں ہو کرکسی کی آرزو کرنی ہی تھی تو عمر بھر کرتاجوانی میں ہوس بن کر بڑھاپے میں جواں ہو کرترقی منحصر عصیاں پہ ہے مقصود فطرت کیتڑپتا سینہ ہائے شوق میں راز زیاں ہو کریہ حسرت تھی کہ عالمگیر ہوتی روشنی دل کییہ حسرت تھی کہ چھا جاتا زمیں پر آسماں ہو کرمگر کیا کیجئے جب فیصلہ یہ ہے مشیت کاکہ میں فطرت کی آنکھوں سے گروں اشک رواں ہو کر
قمریاں میٹھے سروں کے ساز لے کر آ گئیںبلبلیں مل جل کے آزادی کے گن گانے لگیںگل سے اپنی نسبت دیرینہ کی کھا کر قسماہل دل کو عشق کے انداز سمجھانے لگیں
آج دل میں ویرانیابر بن کے گھر آئیآج دل کو کیا کہیےبا وفا نہ ہرجائیپھر بھی لوگ دیوانےآ گئے ہیں سمجھانےاپنی وحشت دل کےبن لیے ہیں افسانےخوش خیال دنیا نےگرمیاں تو جاتی ہیںوہ رتیں بھی آتیں ہیںجب ملول راتوں میںدوستوں کی باتوں میںجی نہ چین پائے گااور اوب جائے گاآہٹوں سے گونجے گیشہر دل کی پہنائیاور چاند راتوں میںچاندنی کے شیدائیہر بہانے نکلیں گےآزمانے نکلیں گےآرزو کی گہرائیڈھونڈنے کو رسوائیسرد سرد راتوں کوزرد چاند بخشے گابے حساب تنہائیبے حجاب تنہائیشہر دل کی گلیوں میں
شہر دل کی گلیوں میںشام سے بھٹکتے ہیںچاند کے تمنائیبے قرار سودائیدل گداز تاریکیجاں گداز تنہائیروح و جاں کو ڈستی ہےروح و جاں میں بستی ہےشہر دل کی گلیوں میںتاک شب کی بیلوں پرشبنمیں سرشکوں کیبے قرار لوگوں نےبے شمار لوگوں نےیادگار چھوڑی ہےاتنی بات تھوڑی ہےصد ہزار باتیں تھیںحیلۂ شکیبائیصورتوں کی زیبائیقامتوں کی رعنائیان سیاہ راتوں میںایک بھی نہ یاد آئیجا بجا بھٹکتے ہیںکس کی راہ تکتے ہیںچاند کے تمنائییہ نگر کبھی پہلےاس قدر نہ ویراں تھاکہنے والے کہتے ہیںقریۂ نگاراں تھاخیر اپنے جینے کایہ بھی ایک ساماں تھاآج دل میں ویرانیابر بن کے گھر آئیآج دل کو کیا کہئےبا وفا نہ ہرجائیپھر بھی لوگ دیوانےآ گئے ہیں سمجھانےاپنی وحشت دل کےبن لئے ہیں افسانےخوش خیال دنیا نےگرمیاں تو جاتی ہیںوہ رتیں بھی آتی ہیںجب ملول راتوں میںدوستوں کی باتوں میںجی نہ چین پائے گااور اوب جائے گاآہٹوں سے گونجے گیشہر دل کی پنہائیاور چاند راتوں میںچاندنی کے شیدائیہر بہانے نکلیں گےآرزو کی گیرائیڈھونڈنے کو رسوائیسرد سرد راتوں کوزرد چاند بخشے گابے حساب تنہائیبے حجاب تنہائیشہر دل کی گلیوں میں
تری چاہ میں دیکھا ہم نے بحال خراب اسےپر عشق و وفا کے یاد رہے آداب اسےترا نام و مقام جو پوچھا، ہنس کر ٹال گیا
کیوں شام کا آنچل میلا ہےہر سمت دھواں سا پھیلا ہےمعدوم ہوئے آثار سبھیکلیوں کی چنچل آنکھیںجھکی جھکی سی موندے پلکیںگل بدن سر نگوں ہو گئےخوشبو بھی اڑیاور گیسوئے شب میں جا الجھی
حدیث بادہ و ساقی نہیں تو کس مصرفخرام ابر سر کوہسار کا موسم
فلک پر لکۂ ابر سبک رفتار رقصاں تھابہشت حسن تھا دنیا کی برنائی کا ہر ذرہ
اے نازش کونین ستم کیش و ستم گاراے خون رگ ابر رواں جان چمن زاراے ساز محبت کی مچلتی ہوئی جھنکارمیرا کوئی ساتھی ہے نہ ہمدم ہے نہ غم خوار
ریگزاروں میں بگولوں کے سوا کچھ بھی نہیںسایۂ ابر گریزاں سے مجھے کیا لینا
ابر گوہر بار بن کر ہند میں آیا تھا تواہل دنیا کے لئے پیغام حق لایا تھا تو
سمٹی ہوئی اس کے بازوؤں میںتا دیر میں سوچتی رہی تھیکس ابر گریز پا کی خاطرمیں کیسے شجر سے کٹ گئی تھیکس چھاؤں کو ترک کر دیا تھا
ماہ و انجم کنول ستارے سنوجب وہ مہ وش نہیں ہے اپنے پاسباد ابر بہار ہے بے کیفچاندنی مضمحل ہے چاند اداساس کی فرقت کا کس قدر احساس
حسن ہے موجود ہر جا چشم بینا چاہئےدیدۂ دل کھول کر ہاں اس کو دیکھا چاہئےاس کا جلوہ ہے عیاں گلہائے رنگا رنگ سےسبزے میں شاخوں میں گھر اس نے کیا سو ڈھنگ سےجاگزیں ہے رات دن یہ بحر و بر کے دیس میںشہر میں آتا ہے یہ لعل و گہر کے بھیس میںحسن قدرت منحصر کچھ چھوٹی چیزوں پر نہیںبلکہ یہ جلوہ نما ہے ہر جہاں میں ہر کہیںکوہ و راغ و ابر و باد و مہر و مہ جن و بشرنور حسن حق سے ہیں یہ سب منور سربسرہے جہاں سارا منور اور مندر حسن کادیکھیے جو گھر نظر آتا ہے وہ گھر حسن کاآشنا ہیں جو وجود حسن قدرت سے وہ سبجانتے ہیں آپ کو محصور نور حسن ربدل اگر دانا بود در ہر سخن اسرار ہستچشم گر بینا بود یوسف ب ہر بازار ہست
حضرت بل کی کہانی بابری مسجد کا روگبخش دے تو لغزشیں سب بھیج دے ابر کرم
مطرب بھی ہے شراب بھی ابر بہار بھیشیراز بن گیا ہے شبستان لکھنؤ
مست ہو جاتا ہے تو ابر سیہ کو دیکھ کرچشمکوں سے برق کی لیتا ہے تو کیا کیا اثر
آخر اس انداز پر رحمت کو پیار آ ہی گیامے کدے پر جھوم کر ابر بہار آ ہی گیا
ستارے جو دمکتے ہیںکسی کی چشم حیراں میںملاقاتیں جو ہوتی ہیںجمال ابر و باراں میںیہ نا آباد وقتوں میںدل ناشاد میں ہوگیمحبت اب نہیں ہوگییہ کچھ دن بعد میں ہوگیگزر جائیں گے جب یہ دنیہ ان کی یاد میں ہوگی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books