aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "alter"
بستر میں لیٹے لیٹےاس نے سوچا''میں موٹا ہوتا جاتا ہوںکل میں اپنے نیلے سوٹ کوآلٹر کرنےدرزی کے ہاں دے آؤں گانیا سوٹ دو چار مہینے بعد سہی!درزی کی دوکان سے لگ کرجو ہوٹل ہےاس ہوٹل کیمچھلی ٹیسٹی ہوتی ہےکل کھاؤں گالیکن مچھلی کی بو سالیہاتھوں میں بس جاتی ہےکل صابن بھی لانا ہےگھر آتےلیتا آؤں گااب کے ''یارڈلی'' لاؤں گاآفس میں کل کام بہت ہےباس اگر ناراض ہوا تودو دن کی چھٹی لے لوں گااور اگر موڈ ہوا توچھ کے شو میں''رام اور شیام'' بھی دیکھ آؤں گاپکچر اچھی ہے سالینو سے بارہکلب رمیدو دن سے لک اچھا ہےکل بھی ساٹھ روپے جیتا تھاآج بھی تیس روپے جیتا ہوںاور امید ہےکل بھی جیت کے آؤں گابس اب نیند آئے تو اچھاکل بھیجیت کےنیند آئے تواکا دکی نہلہ دہلہاینٹ کی بیگممچھلی کی بوتاش کے پتےجوکر جوکرسوٹ پہن کرموٹا تگڑا جوکر....اتنا بہت سا سوچ کے وہسویا تھا مگرپھر نہ اٹھا!!دوسرے دن جباس کا جنازہدرزی کی دوکان کے پاس سے گزرا توہوٹل سے مچھلی کی بودور دور تک آئی تھی!!!
تم بالکل ہم جیسے نکلےاب تک کہاں چھپے تھے بھائیوہ مورکھتا وہ گھامڑ پنجس میں ہم نے صدی گنوائیآخر پہنچی دوار توہارےارے بدھائی بہت بدھائیپریت دھرم کا ناچ رہا ہےقائم ہندو راج کرو گےسارے الٹے کاج کرو گےاپنا چمن تاراج کرو گےتم بھی بیٹھے کرو گے سوچاپوری ہے ویسی تیاریکون ہے ہندو کون نہیں ہےتم بھی کرو گے فتویٰ جاریہوگا کٹھن یہاں بھی جینادانتوں آ جائے گا پسیناجیسی تیسی کٹا کرے گییہاں بھی سب کی سانس گھٹے گیبھاڑ میں جائے شکشا وکشااب جاہل پن کے گن گاناآگے گڑھا ہے یہ مت دیکھوواپس لاؤ گیا زمانہمشق کرو تم آ جائے گاالٹے پاؤں چلتے جانادھیان نہ دوجا من میں آئےبس پیچھے ہی نظر جماناایک جاپ سا کرتے جاؤبارم بار یہی دہراؤکیسا ویر مہان تھا بھارتکتنا عالی شان تھا بھارتپھر تم لوگ پہنچ جاؤ گےبس پرلوک پہنچ جاؤ گےہم تو ہیں پہلے سے وہاں پرتم بھی سمے نکالتے رہنااب جس نرک میں جاؤ وہاں سےچٹھی وٹھی ڈالتے رہنا
کئی سال گزرےکئی سال بیتےشب و روز کی گردشوں کا تسلسلدل و جان میں سانسوں کی پرتیں الٹے ہوئےزلزلوں کی طرح ہانپتا ہےچٹختے ہوئے خوابآنکھوں کی نازک رگیں چھیلتے ہیںمگر میں اک سال کی گود میں جاگتی صبح کوبے کراں چاہتوں سے اٹی زندگی کی دعا دے کراب تک وہی جستجو کا سفر کر رہا ہوںگزرتا ہوا سال جیسا بھی گزرامگر سال کے آخری دننہایت کٹھن ہیںمرے ملنے والونئے سال کی مسکراتی ہوئی صبح گر ہاتھ آئےتو ملناکہ جاتے ہوئے سال کی ساعتوں میںیہ بجھتا ہوا دلدھڑکتا تو ہے مسکراتا نہیںدسمبر مجھے راس آتا نہیں
دفتر بھولے، بستر بھولے، پینے لگے سرابپل بھر آنکھ لگے، تو آئیں الٹے سیدھے خواب
پورب دیس میں ڈگی باجی پھیلا سکھ کا حالدکھ کی آگنی کون بجھائے سوکھ گئے سب تالجن ہاتھوں میں موتی رو لے آج وہی کنگالآج وہی کنگالبھوکا ہے بنگال رے ساتھی بھوکا ہے بنگالپیٹھ سے اپنے پیٹ لگائے لاکھوں الٹے کھاٹبھیک منگائی سے تھک تھک کر اترے موت کے گھاٹجین مرن کے ڈانڈے ملائے بیٹھے ہیں چنڈال رے ساتھیبیٹھے ہیں چنڈالبھوکا ہے بنگال رے ساتھی بھوکا ہے بنگالندی نالے گلی ڈگر پر لاشوں کے انبارجان کی ایسی مہنگی شے کا الٹ گیا بیوپارمٹھی بھر چاول سے بڑھ کر سستا ہے یہ مال رے ساتھیسستا ہے یہ مالبھوکا ہے بنگال رے ساتھی بھوکا ہے بنگالکوٹھریوں میں گانجے بیٹھے بینے سارا اناجسندر ناری بھوک کی ماری بیچے گھر گھر لاجچوپٹ نگری کون سنبھالے چار طرف بھونچالچار طرف بھونچالبھوکا ہے بنگال رے ساتھی بھوکا ہے بنگالپرکھوں نے گھر بار لٹایا چھوڑ کے سب کا ساتھمائیں روئیں بلک بلک کر بچے بھئے اناتھسدا سہاگن بدھوا باجے کھولے سر کے بال رے ساتھیکھولے سر کے بالبھوکا ہے بنگال رے ساتھی بھوکا ہے بنگالاتی پتی چبا چبا کر جوجھ رہا ہے دیسموت نے کتنے گھونگھٹ مارے بدلے سو سو بھیسکال بکٹ پھیلائے رہا ہے بیماری کا جال رے ساتھیبیماری کا جالبھوکا ہے بنگال رے ساتھی بھوکا ہے بنگال
جب بڑھاتے ہیں قدم پیچھے پھر ہٹتے ہی نہیںحوصلے ان کے جو بڑھتے ہیں تو گھٹتے ہی نہیںدم پیکار حریفوں سے یہ کٹتے ہی نہیںالٹے قدموں پہ بلا فتح پلٹتے ہی نہیںہیچ ہیں ان کے لیے آہنی دیواریں بھیروک سکتی نہیں فولاد کی دیواریں بھی
گھر سے بستہ اور ٹفن کے ساتھ نکلنا مکتب کوآدھے ہی رستے سے گھوم کے واپس آناشام ڈھلے تککھیلنا کودناجھگڑے کرناپھر مل جاناباغ سے جا کر آم چراناپکڑے جاناگھر پر آ کر ڈانٹیں سنناکبھی کبھی تھپڑ بھی کھاناگنے کے مرجھائے اور کالے پھولوں سےنقلی داڑھی مونچھ بناناچھپ کر جوٹھی بیڑی پیناکھیتوں میں جھاڑے کو جاناادھر ادھر کی باتیں کرنااک گورے لڑکے کے پیچھے تکتے رہناکم عمری میں بالغ ہوناالٹے سیدھے دھیان میں شب بھرجاگتے رہناکتنا اچھا لگتا تھاوہ راتیں کتنی پیاری تھیںوہ دن کتنے البیلے تھے
مگر اس بار جانے کیا ہوا مجھ کونمائش کی دکانوں میںسجا کر خود کو گھر واپس چلا آیاابھی دروازہ میں نے کھٹکھٹایا تھاکہ گھر والوں نے کینہ توز نظروں سے مجھے دیکھاجب ان کی آنکھوں میں،کوئی رمق پہچان کی میں نے نہیں پائیتو الٹے پیروں واپس لوٹ آیا ہوں
میں ہوں مسٹر انٹرنیٹکر لو اپنے گھر میں سیٹکمپیوٹر میں رہتا ہوںسب کو ویلکم کہتا ہوںجو کچھ دیتا ہے کالجمجھ میں بھی ہے وہ نالججو بھی چاہو لے لو کامحاضر ہوں میں صبح و شامہوتا ہے جو گھنٹوں میںکر دیتا ہوں منٹوں میںبھارت ہو یا پاکستانامریکہ ہو یا جاپانگڑیا اور بنٹی کے نامجب چاہو بھیجو پیغامچھپتے ہیں جو سرحد پارمجھ پر پڑھ لو وہ اخباردے کر انٹر کا اگزاممجھ سے پوچھو تم انجامسٹوڈنٹ ہو یا ٹیچرمالک ہو یا منیجرسب میرے دیوانے ہیںمیرے ہی پروانے ہیںمیرے بارے میں سن کرحیرت میں ہے جادوگر
قلم اداس ہے لفظوں میں حشر برپا ہےہوا رکی ہے تو رقص شرر بھی ختم ہواجنون شوق جنون سفر بھی ختم ہوافرات جاںتری موجوں میں اب روانی نہیںکوئی فسانہ نہیں اب کوئی کہانی نہیںسمٹ گئے ہیں کنارے وہ بیکرانی نہیںتو کیا یہ نبض کا چلنا ہی زندگانی ہےنہیں نہیں یہ کوئی زیست کی نشانی نہیںکہ سانس لینا فقط کوئی زندگانی نہیںکچھ اور رنگ میں آئی ہے یہ خزاں اب کےہے سمٹی سمٹی سی خود میں ہی غیرت ناہیدمیان اہل طریقت بھی بے ردا ہے غزلہجوم اہل زباں اور بے نوا ہے غزلسفر یہ کیسے کرے خار زار رستوں پرتھکن سوار ہے اس پر برہنہ پا ہے غزلتمہارا ساتھ جو چھوٹا تو اب پریشاں ہےکہ اس تغافل بے جا پہ سخت حیراں ہےیہ کس مقام پہ تم نے اکیلا چھوڑ دیاتمہیں خبر ہے کہ تم سے بہت خفا ہے غزلیہ بے مکانییہ تنہائی اور یہ در بہ دریستا رہا ہے بہت اب خیال ہمسفریصلیب و دار و رسن سے گزر رہی ہے غزلچلے بھی آؤ کہاں ہو کہ مر رہی ہے غزلسیہ لباس میں نوحے اداس بیٹھے ہیںسروں کو تھامے قصیدے اداس بیٹھے ہیںہے مرثیے کی نگاہوں میں ابر ٹھہرا ہوابدن دریدہ لطیفے اداس بیٹھے ہیںابھر رہی ہے یہ کیسی صدائے واویلاسرہانے دیکھو رباعی کا بین ہوتا ہےوہ دیکھونظم گریبان چاک کرتے ہوئےدہائی دیتی ہے مقتل کے استعاروں کیعلامتوں کی کنایوں کی اور اشاروں کیبہت ملول ہیں شہر سخن کی تحریریںشب الم کے ہیں قصے جنوں کی تفسیریںورق ورق ہے پریشاں غبار خاطر کاہوا ہے نثر کو احساس پھر یتیمی کاہوائے شہر ستم کس ادا سے گزری ہےدہن خموش ہیںچپ چپ سے ہیں سخن کے چراغبجھی بجھی سی ہے قندیل خانقاہ ادبدھواں دھواں ہیںخطابت کے فکر و فن کے چراغہے آسمان ادب پہ وہ دھند چھائی ہوئیدکھائی دیتا نہیں اب کوئی ستارۂ نورکلام کا وہ قرینہوہ گفتگو کا شعورکہاں سے اب کوئی لائے گا ثانیٔ منظورعجیب وقت پڑا ہے فن نظامت پرکہ دم بخود سے کھڑے ہیں اب انورؔ و منظورؔوقار کیسے عطا ہو شکستہ لہجوں کورفو کرے کوئی کیسے دریدہ جملوں کوہے مسکرانا ضروری وقار غم کے لئےتراشے کون زباں حرمت قلم کے لئےتمہارے جانے سے ویران ہو گئی محفلاجڑ گیا ہے یہ دیکھو جہان شہر ادبسمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ اب کہاں جائیںبھٹکتے پھرتے ہیں اب ساکنان شہر ادبیہ میکدے کی اداسییہ جام الٹے ہوئےکہ جیسے روئے ہوں شب بھر یہ ساغر و میناکئی دنوں سے ہنسی ہی نہیں ہے کالج گرلتمہارے ہجر نے پتھر بنا دیا ہے اسےبہت اداس بڑی بے قرار چپ چپ سیکہ حزن و یاس کا منظر بنا دیا ہے اسےوہ دیکھو میز پہ جتنی کتابیں رکھی ہیںتمہاری گرد رفاقت ہے سب کے چہرے پرپکارتی ہیں تمہیں یہ ادھوری تحریریںبکھرتے ٹوٹتے خوابوں کی تشنہ تعبیریںیہ اجڑا اجڑا دبستان ڈھونڈھتا ہے تمہیںچلے بھی آؤ کہ امکان ڈھونڈھتا ہے تمہیںجو ہو سکے تو چلے آؤ تم ملک زادہمگر یہ خواہش بے جااسے خبر ہی نہیںکہ جانے والے کبھی لوٹ کر نہیں آتےمہکتے رہتے ہیں گلدان ان کی یادوں کےسلگتے رہتے ہیں لوبان ان کی یادوں کے
مجھ سے بھی وہ ملتی تھیاس کے ہونٹ گلابی تھےاس کی آنکھ میں مستی تھیمیں بھی بھولا بھٹکا ساوہ بھی بھولی بھٹکی تھیشہر کی ہر آباد سڑک!اس کے گھر کو جاتی تھی!لیکن وہ کیا کرتی تھی!لڑکی تھی کہ پہیلی تھی!الٹے سیدھے رستوں پرآنکھیں ڈھانپ کے چلتی تھیبھیگی بھیگی راتوں میںتنہا تنہا روتی تھیمیلے میلے کپڑوں میںاجلی اجلی لگتی تھیاس کے سارے خواب نئےاور تعبیر پرانی تھی
کنوینس کچھ بھی جب نظر آیا نہ دائیں بائیںسوچا کہ آج ہم بھی منی بس میں بیٹھ جائیںجانا تھا لالو کھیت چڑھے تھے صدر سے ہمرخصت ہوئے تھے سر بہ کفن اپنے گھر سے ہمہر راہ بس کی شہر خموشاں کی راہ تھیہر سیٹ بس کی آخری آرام گاہ تھیرقاص خوش ادا کی طرح ہل رہی تھی بسنا آشنا ٹرک سے گلے مل رہی تھی بسفٹ پاتھ سے بھی ہاتھ ملاتی ہوئی چلیٹھمکہ قدم قدم پہ لگاتی ہوئی چلیپرزہ ہر ایک مظہر چنگ و رباب تھااس بس کا اتفاق سے بھونپو خراب تھاڈھیلی کمانیوں میں ترنم بلا کا تھادیکھا اتر کے بس سے تو جھونکا ہوا کا تھاگانے میں ٹھیک ٹھاک تھے چلنے میں ویک تھےاس محفل سماع میں پہیے شریک تھےنازک سماعتوں پہ ستم ڈھا رہی تھی بسالٹے سروں میں کوئی غزل گا رہی تھی بسہو تو گئے تھے بس میں مسافر سب ایڈجسٹڈر تھا کہ ہو نہ جائے کہیں ٹائروں میں برسٹبس میں سکڑ کے تھان سے چٹ ہو گئے تھے ہمپرزے تھے اور مشین میں فٹ ہو گئے تھے ہمجو کچھ بھی مل رہا تھا لیے جا رہے تھے ہمدھکوں کی گیند کیچ کئے جا رہے تھے ہممجبور ہو گئے تھے جمیل و حسین لوگمرغا بنے ہوئے تھے معزز ترین لوگبس میں مثال شاخ ثمر جھک گئے تھے لوگخوددار و سر بلند تھے پر جھک گئے تھے لوگکچھ شوقیہ تھے کچھ بہ ارادہ جھکے ہوئےعظمت میاں تھے سب سے زیادہ جھکے ہوئےآزاد طبع واقف گیراج ہی نہ تھیسگنل کی بتیوں کی تو محتاج ہی نہ تھیاسٹاپ سے چلی تو رکی اک دکان میںآخر اسے پناہ ملی سائبان میںوہ لوگ چل دیے جو سر رہ گزر نہ تھے''منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے''
ایک کونے میںہمالیائی سلک روٹ سےاسمگل کیے ہوئےبچیوں لڑکیوں عورتوں والےچینی فولادی جوتےپلوٹھی کے لڑکوں کے انتظار میںپگھل پگھل کےچھوٹی چھوٹی الٹے کٹوروں جیسیبےپھندے کی آہنیترکی ٹوپیوں بنے بیٹھے تھے
ناری اور شودر کو سمان سمجھنے والے مہا پرشاتہاس کے پنوں میں کھو گئے ہیںہونٹ آج بھی تھرتھراتے ہیںلفظ میلے نہ ہو جائیںزمین تھی تو پتھریلیلیکن اپنا کنواں کھوداتو پانی میٹھا نکلاپھنکارتے آبھوشنصندوقوں میں بند کر کےچابی بزرگوں کے حوالے کر دی گئیاڑتے ہوئے لفظوں کو مٹھیوں میں پکڑتے ہیچاند شرمانے لگاروشنی کا سودا کرنے والوں نےگہرے گڑھے کھود کرکرنوں کو دفنانا چاہالیکن وہ زندہ شریانوں میںلہو بن کر دوڑ گئیںمساموں سے پھوٹتے اجالوں کی یورش میںبہہ نکلے جانے کتنے میرؔ و سوداؔکتنے کالیداسؔالٹی پوتھی پکڑے پکڑےجانے کب ڈھائی اکھشر سیدھےڈھائی الٹے پڑھےاور دریا میں ڈبکی لگانے سے پہلےسرسوتی کو کہتے سنادشینت کی انگشتری لہروں کے حوالے کر دومچھلیاں چغل خور ہوتی ہیںبھرتؔ کو اپنے اندر تھامے رہوتا ابد
اے موٹے آلو یہ تو بتاؤکیا ہے تمہارا منڈی میں بھاؤکتنے کے کتنے ملتے ہو یعنیپیمانہ اپنا ہم کو بتاؤگن گن کے لیتے ہیں لوگ تم کویا سینٹی میٹر میں ناپے جاؤیا کہ لیٹر میں لگتی ہے قیمتیا بیچے جاؤ تم پاؤ پاؤمجھ پہ مصیبت باجی نے ڈالیمنو کے بچے آلو تو لاؤتم ہی بتاؤ کیسے خریدوںاے موٹے آلو جلدی بتاؤاے موٹے منو گولو مٹولوجاؤ سڑک پر سیٹی بجاؤلالا للا لا لالا للا لالالا للا لا بس گائے جاؤپتھر اچھالو ڈنڈے سنبھالوکتوں کے لشکر فرفر بھگاؤکچھ الٹے سیدھے کرتب دکھا کرکچھ اونگی بونگی باتیں بناؤپڑھنا نہ آئے لکھنا نہ آئےکرنے چلے ہو تم بھاؤ تاؤاے موٹے منو پیمانے سیکھومجھ سے نہ الجھو بس جاؤ جاؤ
صبح ہوئی اب اٹھو بچینیند ابھی تک کیوں ہے کچیرات گئی وہ سورج نکلاوہ پھیلا گھر بھر میں اجالااٹھو اٹھو منہ دھو ڈالوسستی ہو تو جا کے نہا لوآپا جاگیں بھیا جاگےاٹھتے ہی بستر سے بھاگےابا اٹھے دادی اٹھیںاور نمازیں سب نے پڑھ لیںجاگ اٹھا ہے گھر بھر سارایہ کیسا سونا ہے تمہاراصبح سویرے سستی کیسیعادت کچھ اچھی نہیں ایسیصبح کا منظر ہے کیا اچھاکتنا سہانا کیسا پیارااٹھ بیٹھو انگڑائی لے کراور لپیٹو اپنا بستراپنے کام کرو تم خود ہیبات یہی ہے سب سے اچھیناشتہ کر لو جلدی آ کرپھر پڑھ آؤ جھٹ جھٹ جا کرآج نیا لینا ہے سبق پھرجلدی الٹے تاکہ ورق پھراستانی کے گھر ہے جاناکل کا سبق ان کو ہے سناناپڑھنے لکھنے ہی میں مزا ہےکام اسی سے سب کا بنا ہےہے یہی ہر لڑکی کا گہناہرگز تم بیکار نہ رہناسیکھنا ہے پھر کھانا پکانارنگ اپنا گھر بھر میں جمانادیکھو اپنی ضد پہ نہ اڑناسب کو تم سے کام ہے پڑنادیکھو وقت نہ اپنا کھوناپڑھنا لکھنا سپنا پروناکام سے ہرگز جی نہ چراؤتاکہ جہاں میں عزت پاؤادب تمیز اور ہنر سلیقہسیکھو گھر میں بیٹی رفیقہسیکھ لو جلدی کھانا پکانااپنی ماں کا ہاتھ بٹانایہ سب تم جب سیکھ چکو گیگھر اور باہر عزت ہوگیسب یہ کہیں گے واہ ری لڑکیتو ہے کتنی اچھی بیٹیتجھ سے کیا خوش جی ہے ہماراکتنی سگھڑ کیا کام ہے پیاراجتنا پیارا کام ہے تیرادنیا بھر میں نام ہے تیرا
خلد بریں کو ناز تھا اپنے مکین پراور یہ بھی تھے مٹے ہوئے اک حور عین پرلالچ کی مہر کندہ تھی دل کے نگین پرٹی اے وصول کرنے کو اترا زمین پرابلیس راستے میں ملا کچھ سکھا دیااترا فلک سے تھرڈ میں انٹر لکھا دیا
یار پرندے! یہیں کہیں تھا نیم کے پیڑ کا دیارمٹی کی کچی دیواریں چاندی جیسے یاریسو پنجو ہار کبوتر، کنچے ونچے، تاشجیتنے والے نالاں، ہارنے والے تھے خوش باشالٹے توے کی روٹی ساتھ میں کھٹا میٹھا ساگمکھن کی ڈلیوں میں جیسے ماں کے پیار کا راگدو کمروں کے گھر میں اتنے گھنے گھنیرے لوگنیم کی چھاؤں بانٹنے آتے گاؤں بھر کے لوگگھر کا دروازہ تھا سانجھا جیسے گھر کی ماںصحن میں اتنی وسعت ہوتی جیسے ایک جہاںیار پرندے! گاؤں وہی ہے ویسا نیم کا پیڑدیواروں پر کانچ جڑے ہیں دروازوں پر قفلشام ڈھلے ہی چوپالیں ہو جاتی ہیں سنسانچنگیروں کی باسی روٹی اور ڈبے کا دودھہوا ہوئیں مکھن کی ڈلیاں ہوا ہوا وہ پیاریار پرندے! نیم کے پیڑ کی باتوں میں مت آپاس کے جنگل میں زاغوں کے ڈیرے پر سو جا
عتیقؔ اور اسلمؔ شعیبؔ اور سلیمؔرئیسؔ اور آصفؔ نفیسؔ اور وسیمؔیہ مکتب سے واپس ہوا قافلہتو رستے میں سب نے یہی طے کیاچلو کھیلتے ہم چلیں ریل ریلعتیقؔ ہوں گے گارڈ اور انجن طفیلؔیہ سنتے ہی بغلوں میں بستے لئےاور اک صف میں سیدھے کھڑے ہو گئےکھڑے آگے پیچھے یہ جب ہو چکےتو دامن قمیصوں کے پکڑے گئےقمیصوں کے دامن پکڑ جب چکےسیکنڈ اور انٹر کے ڈبے بنےغرض بن چکی جب یہ چھوٹی سی ریلچھٹا ننھے بچوں کا طوفان میلچھکا چھک چھکا چھک چھکا چھک چلابڑی زور سے سیٹی دیتا ہوامنڈیر اور کھائی پہ چڑھتا ہوابلندی سے نیچے اترتا ہواکبھی زور میں آ کے تیز ہو گیاکبھی رک کے انجن نے پانی لیاغرض دوڑتا گونجتا گھومتاگلی سے گلی کو بدلتا ہواچلا جا رہا تھا نہ تھی کچھ خبرکہ اتنے میں خطرہ ہے آیا نظرکہیں سامنے سے گدھا چیختاچلا آ رہا تھا اچھلتا ہواکبھی اگلے پاؤں سے ہوتا کھڑادو لتی کبھی زور سے پھینکتاجو آتے ہوئے اس نے دیکھا یہ میلتو رخصت ہوئی اس کی ساری کلیلادھر وہ وہاں سے پھرا چیختاادھر میل بھی جانے کس سمت گیا
سنو آج ہم میں سے کسی کو موت نے تاکااچانک مر گیا کوئیچلو دارو پئیں دیوار سے سر پھوڑ کے روئیںنشہ اترے تو اس کی یاد میں اک مرثیہ لکھیںپرانے تذکروں میں اس کے خد و خال کو ڈھونڈیںکتابوں کے ورق الٹیںرسالوں اور اخباروں کی پچھلی فائلیں کھولیںدماغ و دل کے گوشے میں چھپی یادیں کریدیںتلخیاں بھولیںفراموشی کی ساری گرد جھاڑیںرنجشیں بھولیںہر اک خوبی ہم اس کے نام سے منسوب کر دیںاور ایسے شخص کو پیکر تراشیںکل جو اپنے درمیاں زندہ نہیں تھا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books