aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "asadullaah"
اسی بے نور اندھیری سی گلی قاسم سےایک ترتیب چراغوں کی شروع ہوتی ہےایک قرآن سخن کا صفحہ کھلتا ہےاسد اللہؔ خاں غالبؔ کا پتا ملتا ہے
دلوں میں پیار جگانے کو عید آئی ہےہنسو کہ ہنسنے ہنسانے کو عید آئی ہے
استاد یہ قوموں کے ہیں معمار ہمارےان ہی سے ہیں افراد ضیا بار ہمارے
مبارک مبارک نیا سال سب کونہ چاہا تھا ہم نے تو ہم سے جدا ہومگر کس نے روکا ہے بہتی ہوا کوجو ہم چاہتے ہیں وہ کیسے بھلا ہواے جاتے برس تجھ کو سونپا خدا کومبارک مبارک نیا سال سب کو
مادر ہند کے فن کار تھے مرزا غالبؔاپنے فن میں بڑے ہشیار تھے مرزا غالبؔآپ کا نام اسداللہ تھا نو شاہ لقبمرزا غالب سے ہوئے بعد میں معروف ادبآج بھی پڑھ کے کلام آپ کا حیرت میں ہیں سبزلف اردو میں گرفتار تھے مرزا غالبمادر ہند کے فن کار تھے مرزا غالباکبرآباد میں پیدا ہوئے دہلی میں رہےعہد طفلی ہی سے دنیا کے بڑے ظلم سہےاب بھی ہر اہل سخن آپ کو استاد کہےسارے شعرا کے علم دار تھے مرزا غالبمادر ہند کے فن کار تھے مرزا غالبؔتنگ دستی میں بھی چھوڑا نہ وفا کا دامنمفلسی میں بھی نہ اپنائے خوشامد کے چلنخون جذبات سے شاداب کیا باغ سخنفطرتاً شاعر خوددار تھے مرزا غالبؔمادر ہند کے فن کار تھے مرزا غالبآپ پر فارسی شعرا کا بھی تھا خوب اثرمسئلہ خدمت اردو کا بھی تھا پیش نظراپنے اشعار کی عظمت سے بھی واقف تھے مگرمیرؔ جی کے بھی طرف دار تھے مرزا غالبؔمادر ہند کے فن کار تھے مرزا غالبؔخط نویسی کا دیا ایک انوکھا اندازگونج اٹھی بزم ادب میں یہ نرالی آوازآپ میدان سخن میں بھی تھے سب سے ممتازساتھ ہی اک بڑے نثار تھے مرزا غالبؔمادر ہند کے فن کار تھے مرزا غالبؔبے نیاز غم و آلام ہر اک فکر سے دورہو مصیبت میں بھی رہتے تھے ہمیشہ مسرورآج بھی جن کے لطیفے ہیں جہاں میں مشہورمسکراتے ہوئے کردار تھے مرزا غالبؔمادر ہند کے فن کار تھے مرزا غالبؔ
گرمی کے ظلم سے یہدنیا دہک رہی تھیپیاسی زمین کب سےآکاش تک رہی تھیموسم کو کیا ہوا ہےپل میں بدل گیا ہےلو بن کے چل رہی تھییہ تو وہی ہوا ہےدیکھو چلی ہوائیںچلائیں سائیں سائیںبادل کو ساتھ اپنےہر سمت لے کے جائیںتھم تھم چلے ہیں بادلڈم ڈم بجے ہیں بادلکھولی ہے آسماں نےبادل کی اپنی چھاگلپانی برس رہا ہےموسم یہ ہنس رہا ہےبارش میں بھیگتا ہےکیچڑ میں پھنس رہا ہےبستے اٹھائے بچےاسکول کو چلے ہیںکھیتوں کی سمت اپنےدہقاں نکل پڑے ہیںہر سمت پانی پانیندیوں میں ہے روانیپنچھی چہک رہے ہیںخوشیوں کی ہے نشانیگرمی کو کھا گئی ہےہر سمت چھا گئی ہےدل کو لبھا گئی ہےبرسات آ گئی ہے
اسکول بند ہیں سب اب سیر کو ہے جانالکھنا ہے اب نہ پڑھنا بس چھٹیاں منانا
بھنڈی بولی ٹنڈے سےاکڑ رہے ہو ٹھنڈے سےآئے کہاں سے ہو بابو
شہر میں سرکس آیا ہےکھیل تماشے لایا ہےہاتھی اونٹ اور گھوڑے ہیںسب ہی یوں تو بھگوڑے ہیںسب کو پکڑ کر لایا ہےشہر میں سرکس آیا ہےاڑتی اچھلتی کار بھی ہےکھیلوں کی بھر مار بھی ہےسارے کھلاڑی اور جوکرتار پہ چلتے ہیں سرسرشہر امڈ کر آیا ہےشہر میں سرکس آیا ہےشیر بھی ہے اور بکری بھیکتوں کی اک ٹولی بھیایک بڑا سا بھالو ہےکچھ اس کے ہم جولی بھیبھان متی کا کنبہ ہےجو سرکس نے جوڑا ہےہاتھی پوجا پاٹھ کرےبندر بندر بانٹ کرےبھالو ناچ دکھاتا ہےطوطا توپ چلاتا ہےسبھی دکھاتے ہیں کرتبجوکر اب گرا یا تبسب کے من کو بھایا ہےشہر میں سرکس آیا ہے
ککڑوں کوں جی ککڑوں کوںدیکھو میں اک مرغا ہوں
نقش فریادیبنا پھرتا ہوں میں بازار میںکاغذی اک پیرہنبس ڈھونڈھتا پھرتا ہوں میںپر وہ ملتا ہی نہیںکس طرح اپنی شکایت کے لئے پہنچوںبادشاہ وقت کے دربار میںبادشاہ بد بخت ہےہر وقت رہتا ہے مدرا میں اسیریہ مدرا وہ ہے اس کے ذہن میں ہے جو بھریاس مدرا کے ہی کارناس نے اپنے دیس کے لوگوں کےحلقوم تک ہیں کاٹ ڈالےاور سچے نیک لوگوں اور ولیوں کے مقابر توڑ کےنالیاں سڑکیں بنا دیںاب نہایت فخر سے کہتا ہے وہمیں خدا ہوں اس زمانے کااور سب کو مار کےزندہ رہوں گا میں سدانام اس کا میں کیا لوںسب جانتے ہیں اس کا ناماے اسداللہ غالب تم بتاؤکیا کروں
ان سے ملیےیہ ہیں مسٹر چیونگممنہ میں اپنے رکھ لو ان کودانتوں سے پھر کچلو ان کوچکھ لو پر نہ نگلو ان کوچکھنے سے نہ ہوں گے کمیہ ہیں مسٹر چیونگم
مالک ارض و سما کو یاد کرتا ہے جہاںحمد گاتی ہے زمیں تسبیح پڑھتا آسماںہاتھ باندھے پیڑ سارے جنگلوں میں ہیں کھڑےسب مویشی اس کی عظمت میں رکوع کرتے ہوئےجانور سب رینگتے سجدے میں ہیں گویا پڑےذرہ ذرہ اس زمیں کا رب کا ہے تسبیح خواںیاد کرتا ہے خدا کو ہر گھڑی سارا جہاںیہ زمیں اللہ کی حمد و ثنا میں ہے مگناس کی پاکی کو بیاں کرتا ہوا نیلا گگنعظمت رب کے قصیدہ خواں ہیں یہ کوہ و دمناک اسی کے نام سے روشن ہوئے کون و مکاںیاد کرتا ہے خدا کو ہر گھڑی سارا جہاںاس کی عظمت کے شواہد چار جانب ہیں عیاںہے ہر اک ذرے کے دل میں مالک ملک جہاںکیوں مگر انسان اپنے رب سے غافل ہے یہاںمالک ارض و سما کو یاد کرتا ہے جہاںحمد گاتی ہے زمیں تسبیح پڑھتا آسماں
اک آدمی سویرےسردی سے تھرتھراتارستے سے جا رہا تھادیکھا کہ نوجواں اکبلی کو اپنی لے کرنہلا رہا ہے جس سےپانی ہے برف جیسااس آدمی نے روکاتم کر رہے ہو یہ کیاپڑتی ہے سخت سردیاوپر سے ٹھنڈا پانیمر جائے گی یہ بلیاس بے زباں کے اوپرتھوڑا سا تو رحم کروہ نوجوان احمقغصے میں بھر کے بولابلی کا میں ہی مالکپانی بھی میرا اپناجو چاہوں میں کروں گادائیں نہ بائیں جھانکوچپ چاپ رستہ ناپووہ آدمی بیچارہچلتا بنا وہاں سےاور بعد ایک گھنٹہلوٹا اسی جگہ تودیکھا کہ نوجواں وہبیٹھا ہے سر پکڑ کراور سامنے ہی اس کےبلی مری پڑی ہےاس پر وہ شخص بولامیں نے تو پہلے تم کوآگاہ کر دیا تھاسردی میں سرد پانینہلاؤ گے تو آخربلی نہیں بچے گیتم نے مگر ہماریاک بات بھی نہ مانیوہ نوجوان بولاتم کہہ رہے ہو جو کچھویسا نہیں ہوا ہےبلی کی موت کی توکچھ اور ہی وجہ ہےسردی میں پانیوں نےاس کو نہیں ہے ماراسچائی ہے بس اتنینہلا کے میں نے اس کوجم کر نچوڑ ڈالا
آؤ بڑے بن جائیںناک پہ اپنی چشمہ رکھ کر سب کو آنکھ دکھائیںلمبی لمبی مونچھیں رکھ لیں سب پر رعب جمائیںکرتے جائیں من مانی اور ہرگز نہ گھبرائیںبڑے بڑے پیروں سے چل کر سب سے آگے جائیںآؤ بڑے بن جائیں
اک جادوئی کھلونا ہاتھوں پہ دھر لئے ہیںبچے جوان بوڑھے سب اس سے کھیلتے ہیںآنکھیں گڑی ہوئی ہیں اور انگلیاں ہیں رقصاںدنیا کی سیر اس میں سب لطف کے ہیں ساماںتصویر و فلم اس میں یوٹیوب ریڈیو بھیبھاشن بھجن تلاوت نغمات ریڈیو بھیکیمرہ و کانفرنسنگ ہیں اہتمام سارےہر گھر میں ہر گلی میں اس کے غلام سارےسچ پوچھئے تو یہ ہے جادو کا اک کھلوناہے اس میں سر کھپانا عمر عزیز کھوناگمراہیوں کے رستے اس میں کھلے ہوئے ہیںاس راہ علم میں بھی ڈاکو چھپے ہوئے ہیںمیلوں کی دوریاں ہیں پل میں عبور کرتادل دوریاں بھی اچھا ہوتا جو دور کرتا
دو گپ بازوں نے کل مجھ کوایک کہانی یوں ہی سنائیجھوٹ ہے سچ ہے رب ہی جانےلوگ پرانے یہ کہتے تھےایک زمانہ ایسا بھی تھاچاند ستارے سورج سارےساتھ رہا کرتے تھےاک دن اک ننھے تارے کیسالگرہ جو آئیسورج نے سبآسمان کے باشندوں کوگھر پہ ضیافت پر بلوایاکیک بڑا سا کہکشاں کےاک بازار سے آیاکھیر مگر گھر پر ہی پکے گیایسا گھر میں طے پایا
واکنگ کو چل پڑی ہےدادا کی یہ چھڑی ہے
پاکٹ اڑا کے چور کوئی بھاگتا ہوااک روز اک پولس کے شکنجے میں آ گیایہ سوچ کر کہ غیر اڑاتا ہے مال ترفوراً غریب چور کے پیچھے نکل پڑاآواز دے کے اس سے کہا اے میاں رکوجاتے کہاں ہو مال لیے اپنے باپ کاسن کر صدا سپاہی کی وہ چور چونک کررفتار اور تیز کی اور دوڑتا رہایہ سوچ کر کہ چور مری مانتا نہیںغصے میں بھر کے اور بھی وہ سرخ ہو گیاکہنے لگا کہ خود کو سمجھتا ہے کیا رنرہرگز نہ میرے ہاتھ سے تو بچ کے جائے گاتجھ کو دکھاؤں آج میں ہوتی ہے کیا رننگچل جائے گا تجھے بھی پتہ چیز ہوں میں کیاپیچھا کیا جو چور کا پولس نے دوڑ کرجوش جنوں میں چور کے آگے نکل گیا
آؤ بہتر بنائیں ہم یہ جہاںراحتوں سے سجائیں ہم یہ جہاں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books