aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "aslam"
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہےپر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہےقدسی الاصل ہے رفعت پہ نظر رکھتی ہےخاک سے اٹھتی ہے گردوں پہ گزر رکھتی ہےعشق تھا فتنہ گر و سرکش و چالاک مراآسماں چیر گیا نالۂ بیباک مراپیر گردوں نے کہا سن کے کہیں ہے کوئیبولے سیارے سر عرش بریں ہے کوئیچاند کہتا تھا نہیں اہل زمیں ہے کوئیکہکشاں کہتی تھی پوشیدہ یہیں ہے کوئیکچھ جو سمجھا مرے شکوے کو تو رضواں سمجھامجھ کو جنت سے نکالا ہوا انساں سمجھاتھی فرشتوں کو بھی حیرت کہ یہ آواز ہے کیاعرش والوں پہ بھی کھلتا نہیں یہ راز ہے کیاتا سر عرش بھی انساں کی تگ و تاز ہے کیاآ گئی خاک کی چٹکی کو بھی پرواز ہے کیاغافل آداب سے سکان زمیں کیسے ہیںشوخ و گستاخ یہ پستی کے مکیں کیسے ہیںاس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی برہم ہےتھا جو مسجود ملائک یہ وہی آدم ہےعالم کیف ہے دانائے رموز کم ہےہاں مگر عجز کے اسرار سے نامحرم ہےناز ہے طاقت گفتار پہ انسانوں کوبات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کوآئی آواز غم انگیز ہے افسانہ ترااشک بیتاب سے لبریز ہے پیمانہ تراآسماں گیر ہوا نعرۂ مستانہ تراکس قدر شوخ زباں ہے دل دیوانہ تراشکر شکوے کو کیا حسن ادا سے تو نےہم سخن کر دیا بندوں کو خدا سے تو نےہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیںراہ دکھلائیں کسے رہرو منزل ہی نہیںتربیت عام تو ہے جوہر قابل ہی نہیںجس سے تعمیر ہو آدم کی یہ وہ گل ہی نہیںکوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیںڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیںہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیںامتی باعث رسوائی پیغمبر ہیںبت شکن اٹھ گئے باقی جو رہے بت گر ہیںتھا براہیم پدر اور پسر آزر ہیںبادہ آشام نئے بادہ نیا خم بھی نئےحرم کعبہ نیا بت بھی نئے تم بھی نئےوہ بھی دن تھے کہ یہی مایۂ رعنائی تھانازش موسم گل لالۂ صحرائی تھاجو مسلمان تھا اللہ کا سودائی تھاکبھی محبوب تمہارا یہی ہرجائی تھاکسی یکجائی سے اب عہد غلامی کر لوملت احمد مرسل کو مقامی کر لوکس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہےہم سے کب پیار ہے ہاں نیند تمہیں پیاری ہےطبع آزاد پہ قید رمضاں بھاری ہےتمہیں کہہ دو یہی آئین وفاداری ہےقوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیںجذب باہم جو نہیں محفل انجم بھی نہیںجن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن تم ہونہیں جس قوم کو پروائے نشیمن تم ہوبجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہوبیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ہوہو نکو نام جو قبروں کی تجارت کر کےکیا نہ بیچوگے جو مل جائیں صنم پتھر کےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا کس نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا کس نےمیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا کس نےمیرے قرآن کو سینوں سے لگایا کس نےتھے تو آبا وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہوہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہوکیا کہا بہر مسلماں ہے فقط وعدۂ حورشکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعورعدل ہے فاطر ہستی کا ازل سے دستورمسلم آئیں ہوا کافر تو ملے حور و قصورتم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیںجلوۂ طور تو موجود ہے موسیٰ ہی نہیںمنفعت ایک ہے اس قوم کا نقصان بھی ایکایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایکحرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایککچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایکفرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیںکیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیںکون ہے تارک آئین رسول مختارمصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیارکس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعار اغیارہو گئی کس کی نگہ طرز سلف سے بے زارقلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیںکچھ بھی پیغام محمد کا تمہیں پاس نہیںجا کے ہوتے ہیں مساجد میں صف آرا تو غریبزحمت روزہ جو کرتے ہیں گوارا تو غریبنام لیتا ہے اگر کوئی ہمارا تو غریبپردہ رکھتا ہے اگر کوئی تمہارا تو غریبامرا نشۂ دولت میں ہیں غافل ہم سےزندہ ہے ملت بیضا غربا کے دم سےواعظ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہیبرق طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہیرہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہیفلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہیمسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہےیعنی وہ صاحب اوصاف حجازی نہ رہےشور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابودہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجودوضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنودیہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہودیوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہوتم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہودم تقریر تھی مسلم کی صداقت بیباکعدل اس کا تھا قوی لوث مراعات سے پاکشجر فطرت مسلم تھا حیا سے نمناکتھا شجاعت میں وہ اک ہستی فوق الادراکخود گدازی نم کیفیت صہبایش بودخالی از خویش شدن صورت مینا یش بودہر مسلماں رگ باطل کے لیے نشتر تھااس کے آئینۂ ہستی میں عمل جوہر تھاجو بھروسا تھا اسے قوت بازو پر تھاہے تمہیں موت کا ڈر اس کو خدا کا ڈر تھاباپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہوپھر پسر قابل میراث پدر کیونکر ہوہر کوئی مست مئے ذوق تن آسانی ہےتم مسلماں ہو یہ انداز مسلمانی ہےحیدری فقر ہے نے دولت عثمانی ہےتم کو اسلاف سے کیا نسبت روحانی ہےوہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کراور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کرتم ہو آپس میں غضب ناک وہ آپس میں رحیمتم خطا کار و خطا بیں وہ خطا پوش و کریمچاہتے سب ہیں کہ ہوں اوج ثریا پہ مقیمپہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلب سلیمتخت فغفور بھی ان کا تھا سریر کے بھییوں ہی باتیں ہیں کہ تم میں وہ حمیت ہے بھیخودکشی شیوہ تمہارا وہ غیور و خوددارتم اخوت سے گریزاں وہ اخوت پہ نثارتم ہو گفتار سراپا وہ سراپا کردارتم ترستے ہو کلی کو وہ گلستاں بکناراب تلک یاد ہے قوموں کو حکایت ان کینقش ہے صفحۂ ہستی پہ صداقت ان کیمثل انجم افق قوم پہ روشن بھی ہوئےبت ہندی کی محبت میں برہمن بھی ہوئےشوق پرواز میں مہجور نشیمن بھی ہوئےبے عمل تھے ہی جواں دین سے بدظن بھی ہوئےان کو تہذیب نے ہر بند سے آزاد کیالا کے کعبے سے صنم خانے میں آباد کیاقیس زحمت کش تنہائی صحرا نہ رہےشہر کی کھائے ہوا بادیہ پیما نہ رہےوہ تو دیوانہ ہے بستی میں رہے یا نہ رہےیہ ضروری ہے حجاب رخ لیلا نہ رہےگلۂ جور نہ ہو شکوۂ بیداد نہ ہوعشق آزاد ہے کیوں حسن بھی آزاد نہ ہوعہد نو برق ہے آتش زن ہر خرمن ہےایمن اس سے کوئی صحرا نہ کوئی گلشن ہےاس نئی آگ کا اقوام کہن ایندھن ہےملت ختم رسل شعلہ بہ پیراہن ہےآج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیداآگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدادیکھ کر رنگ چمن ہو نہ پریشاں مالیکوکب غنچہ سے شاخیں ہیں چمکنے والیخس و خاشاک سے ہوتا ہے گلستاں خالیگل بر انداز ہے خون شہدا کی لالیرنگ گردوں کا ذرا دیکھ تو عنابی ہےیہ نکلتے ہوئے سورج کی افق تابی ہےامتیں گلشن ہستی میں ثمر چیدہ بھی ہیںاور محروم ثمر بھی ہیں خزاں دیدہ بھی ہیںسیکڑوں نخل ہیں کاہیدہ بھی بالیدہ بھی ہیںسیکڑوں بطن چمن میں ابھی پوشیدہ بھی ہیںنخل اسلام نمونہ ہے برومندی کاپھل ہے یہ سیکڑوں صدیوں کی چمن بندی کاپاک ہے گرد وطن سے سر داماں تیراتو وہ یوسف ہے کہ ہر مصر ہے کنعاں تیراقافلہ ہو نہ سکے گا کبھی ویراں تیراغیر یک بانگ درا کچھ نہیں ساماں تیرانخل شمع استی و در شعلہ دو ریشۂ توعاقبت سوز بود سایۂ اندیشۂ توتو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سےنشۂ مے کو تعلق نہیں پیمانے سےہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سےپاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سےکشتئ حق کا زمانے میں سہارا تو ہےعصر نو رات ہے دھندلا سا ستارا تو ہےہے جو ہنگامہ بپا یورش بلغاری کاغافلوں کے لیے پیغام ہے بیداری کاتو سمجھتا ہے یہ ساماں ہے دل آزاری کاامتحاں ہے ترے ایثار کا خودداری کاکیوں ہراساں ہے صہیل فرس اعدا سےنور حق بجھ نہ سکے گا نفس اعدا سےچشم اقوام سے مخفی ہے حقیقت تیریہے ابھی محفل ہستی کو ضرورت تیریزندہ رکھتی ہے زمانے کو حرارت تیریکوکب قسمت امکاں ہے خلافت تیریوقت فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہےنور توحید کا اتمام ابھی باقی ہےمثل بو قید ہے غنچے میں پریشاں ہو جارخت بر دوش ہوائے چمنستاں ہو جاہے تنک مایہ تو ذرے سے بیاباں ہو جانغمۂ موج ہے ہنگامۂ طوفاں ہو جاقوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دےدہر میں اسم محمد سے اجالا کر دےہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہوچمن دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہویہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو خم بھی نہ ہوبزم توحید بھی دنیا میں نہ ہو تم بھی نہ ہوخیمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہےنبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہےدشت میں دامن کہسار میں میدان میں ہےبحر میں موج کی آغوش میں طوفان میں ہےچین کے شہر مراقش کے بیابان میں ہےاور پوشیدہ مسلمان کے ایمان میں ہےچشم اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھےرفعت شان رفعنا لک ذکرک دیکھےمردم چشم زمیں یعنی وہ کالی دنیاوہ تمہارے شہدا پالنے والی دنیاگرمی مہر کی پروردہ ہلالی دنیاعشق والے جسے کہتے ہیں بلالی دنیاتپش اندوز ہے اس نام سے پارے کی طرحغوطہ زن نور میں ہے آنکھ کے تارے کی طرحعقل ہے تیری سپر عشق ہے شمشیر تریمرے درویش خلافت ہے جہانگیر تریما سوا اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تریتو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تریکی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیںیہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
دلیل صبح روشن ہے ستاروں کی تنک تابیافق سے آفتاب ابھرا گیا دور گراں خوابیعروق مردۂ مشرق میں خون زندگی دوڑاسمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا و فارابیمسلماں کو مسلماں کر دیا طوفان مغرب نےتلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابیعطا مومن کو پھر درگاہ حق سے ہونے والا ہےشکوہ ترکمانی ذہن ہندی نطق اعرابیاثر کچھ خواب کا غنچوں میں باقی ہے تو اے بلبلنوا را تلخ ترمی زن چو ذوق نغمہ کم یابیتڑپ صحن چمن میں آشیاں میں شاخساروں میںجدا پارے سے ہو سکتی نہیں تقدیر سیمابیوہ چشم پاک ہیں کیوں زینت بر گستواں دیکھےنظر آتی ہے جس کو مرد غازی کی جگر تابیضمیر لالہ میں روشن چراغ آرزو کر دےچمن کے ذرے ذرے کو شہید جستجو کر دےسرشک چشم مسلم میں ہے نیساں کا اثر پیداخلیل اللہ کے دریا میں ہوں گے پھر گہر پیداکتاب ملت بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہےیہ شاخ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیداربود آں ترک شیرازی دل تبریز و کابل راصبا کرتی ہے بوئے گل سے اپنا ہم سفر پیدااگر عثمانیوں پر کوہ غم ٹوٹا تو کیا غم ہےکہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیداجہاں بانی سے ہے دشوار تر کار جہاں بینیجگر خوں ہو تو چشم دل میں ہوتی ہے نظر پیداہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہےبڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدانوا پیرا ہو اے بلبل کہ ہو تیرے ترنم سےکبوتر کے تن نازک میں شاہیں کا جگر پیداترے سینے میں ہے پوشیدہ راز زندگی کہہ دےمسلماں سے حدیث سوز و ساز زندگی کہہ دےخدائے لم یزل کا دست قدرت تو زباں تو ہےیقیں پیدا کر اے غافل کہ مغلوب گماں تو ہےپرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کیستارے جس کی گرد راہ ہوں وہ کارواں تو ہےمکاں فانی مکیں فانی ازل تیرا ابد تیراخدا کا آخری پیغام ہے تو جاوداں تو ہےحنا بند عروس لالہ ہے خون جگر تیراتری نسبت براہیمی ہے معمار جہاں تو ہےتری فطرت امیں ہے ممکنات زندگانی کیجہاں کے جوہر مضمر کا گویا امتحاں تو ہےجہان آب و گل سے عالم جاوید کی خاطرنبوت ساتھ جس کو لے گئی وہ ارمغاں تو ہےیہ نکتہ سر گزشت ملت بیضا سے ہے پیداکہ اقوام زمین ایشیا کا پاسباں تو ہےسبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کالیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کایہی مقصود فطرت ہے یہی رمز مسلمانیاخوت کی جہانگیری محبت کی فراوانیبتان رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہو جانہ تورانی رہے باقی نہ ایرانی نہ افغانیمیان شاخساراں صحبت مرغ چمن کب تکترے بازو میں ہے پرواز شاہین قہستانیگماں آباد ہستی میں یقیں مرد مسلماں کابیاباں کی شب تاریک میں قندیل رہبانیمٹایا قیصر و کسریٰ کے استبداد کو جس نےوہ کیا تھا زور حیدر فقر بوذر صدق سلمانیہوئے احرار ملت جادہ پیما کس تجمل سےتماشائی شگاف در سے ہیں صدیوں کے زندانیثبات زندگی ایمان محکم سے ہے دنیا میںکہ المانی سے بھی پایندہ تر نکلا ہے تورانیجب اس انگارۂ خاکی میں ہوتا ہے یقیں پیداتو کر لیتا ہے یہ بال و پر روح الامیں پیداغلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریںجو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریںکوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کانگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریںولایت پادشاہی علم اشیا کی جہانگیرییہ سب کیا ہیں فقط اک نکتۂ ایماں کی تفسیریںبراہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہےہوس چھپ چھپ کے سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریںتمیز بندہ و آقا فساد آدمیت ہےحذر اے چیرہ دستاں سخت ہیں فطرت کی تعزیریںحقیقت ایک ہے ہر شے کی خاکی ہو کہ نوری ہولہو خورشید کا ٹپکے اگر ذرے کا دل چیریںیقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالمجہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریںچہ باید مرد را طبع بلندے مشرب نابےدل گرمے نگاہ پاک بینے جان بیتابےعقابی شان سے جھپٹے تھے جو بے بال و پر نکلےستارے شام کے خون شفق میں ڈوب کر نکلےہوئے مدفون دریا زیر دریا تیرنے والےطمانچے موج کے کھاتے تھے جو بن کر گہر نکلےغبار رہ گزر ہیں کیمیا پر ناز تھا جن کوجبینیں خاک پر رکھتے تھے جو اکسیر گر نکلےہمارا نرم رو قاصد پیام زندگی لایاخبر دیتی تھیں جن کو بجلیاں وہ بے خبر نکلےحرم رسوا ہوا پیر حرم کی کم نگاہی سےجوانان تتاری کس قدر صاحب نظر نکلےزمیں سے نوریان آسماں پرواز کہتے تھےیہ خاکی زندہ تر پایندہ تر تابندہ تر نکلےجہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیںادھر ڈوبے ادھر نکلے ادھر ڈوبے ادھر نکلےیقیں افراد کا سرمایۂ تعمیر ملت ہےیہی قوت ہے جو صورت گر تقدیر ملت ہےتو راز کن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جاخودی کا رازداں ہو جا خدا کا ترجماں ہو جاہوس نے کر دیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوع انساں کواخوت کا بیاں ہو جا محبت کی زباں ہو جایہ ہندی وہ خراسانی یہ افغانی وہ تورانیتو اے شرمندۂ ساحل اچھل کر بے کراں ہو جاغبار آلودۂ رنگ و نسب ہیں بال و پر تیرےتو اے مرغ حرم اڑنے سے پہلے پرفشاں ہو جاخودی میں ڈوب جا غافل یہ سر زندگانی ہےنکل کر حلقۂ شام و سحر سے جاوداں ہو جامصاف زندگی میں سیرت فولاد پیدا کرشبستان محبت میں حریر و پرنیاں ہو جاگزر جا بن کے سیل تند رو کوہ و بیاباں سےگلستاں راہ میں آئے تو جوئے نغمہ خواں ہو جاترے علم و محبت کی نہیں ہے انتہا کوئینہیں ہے تجھ سے بڑھ کر ساز فطرت میں نوا کوئیابھی تک آدمی صید زبون شہریاری ہےقیامت ہے کہ انساں نوع انساں کا شکاری ہےنظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب حاضر کییہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہےوہ حکمت ناز تھا جس پر خرد مندان مغرب کوہوس کے پنجۂ خونیں میں تیغ کارزاری ہےتدبر کی فسوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتاجہاں میں جس تمدن کی بنا سرمایہ داری ہےعمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھییہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہےخروش آموز بلبل ہو گرہ غنچے کی وا کر دےکہ تو اس گلستاں کے واسطے باد بہاری ہےپھر اٹھی ایشیا کے دل سے چنگاری محبت کیزمیں جولاں گہہ اطلس قبایان تتاری ہےبیا پیدا خریدا راست جان نا توانے راپس از مدت گزار افتاد برما کاروانے رابیا ساقی نوائے مرغ زار از شاخسار آمدبہار آمد نگار آمد نگار آمد قرار آمدکشید ابر بہاری خیمہ اندر وادی و صحراصدائے آبشاراں از فراز کوہسار آمدسرت گردم توہم قانون پیشیں ساز دہ ساقیکہ خیل نغمہ پردازاں قطار اندر قطار آمدکنار از زاہداں برگیر و بیباکانہ ساغر کشپس از مدت ازیں شاخ کہن بانگ ہزار آمدبہ مشتاقاں حدیث خواجۂ بدرو حنین آورتصرف ہائے پنہانش بچشم آشکار آمددگر شاخ خلیل از خون ما نمناک می گرددببازار محبت نقد ما کامل عیار آمدسر خاک شہیرے برگ ہائے لالہ می پاشمکہ خونش بانہال ملت ما سازگار آمدبیا تا گل بفیشانیم و مے در ساغر اندازیمفلک را سقف بشگافیم و طرح دیگر اندازیم
محبت کی ایک نظماگر کبھی میری یاد آئےتو چاند راتوں کی نرم دلگیر روشنی میںکسی ستارے کو دیکھ لینااگر وہ نخل فلک سے اڑ کرتمہارے قدموں میں آ گرےتو یہ جان لینا وہ استعارہ تھا میرے دل کااگر نہ آئےمگر یہ ممکن ہی کس طرح ہےکہ تم کسی پر نگاہ ڈالوتو اس کی دیوار جاں نہ ٹوٹےوہ اپنی ہستی نہ بھول جائےاگر کبھی میری یاد آئےگریز کرتی ہوا کی لہروں پہ ہاتھ رکھنامیں خوشبوؤں میں تمہیں ملوں گامجھے گلابوں کی پتیوں میں تلاش کرنامیں اوس قطروں کے آئینوں میں تمہیں ملوں گااگر ستاروں میں اوس قطروں میں خوشبوؤں میں نہ پاؤ مجھ کوتو اپنے قدموں میں دیکھ لینا میں گرد ہوتی مسافتوں میں تمہیں ملوں گاکہیں پہ روشن چراغ دیکھوتو جان لینا کہ ہر پتنگے کے ساتھ میں بھی بکھر چکا ہوںتم اپنے ہاتھوں سے ان پتنگوں کی خاک دریا میں ڈال دینامیں خاک بن کر سمندروں میں سفر کروں گاکسی نہ دیکھے ہوئے جزیرے پہرک کے تم کو صدائیں دوں گاسمندروں کے سفر پہ نکلوتو اس جزیرے پہ بھی اترنا
شاعرساحل دریا پہ میں اک رات تھا محو نظرگوشۂ دل میں چھپائے اک جہان اضطرابشب سکوت افزا ہوا آسودہ دریا نرم سیرتھی نظر حیراں کہ یہ دریا ہے یا تصوير آبجیسے گہوارے میں سو جاتا ہے طفل شیر خوارموج مضطر تھی کہیں گہرائیوں میں مست خوابرات کے افسوں سے طائر آشیانوں میں اسیرانجم کم ضو گرفتار طلسم ماہتابدیکھتا کیا ہوں کہ وہ پيک جہاں پيما خضرجس کی پیری میں ہے مانند سحر رنگ شبابکہہ رہا ہے مجھ سے اے جويائے اسرار ازلچشم دل وا ہو تو ہے تقدیر عالم بے حجابدل میں یہ سن کر بپا ہنگامۂ محشر ہوامیں شہید جستجو تھا یوں سخن گستر ہوااے تری چشم جہاں بیں پر وہ طوفاں آشکارجن کے ہنگامے ابھی دریا میں سوتے ہیں خموشکشتئ مسکين و جان پاک و ديوار يتيمعلم موسیٰ بھی ہے ترے سامنے حیرت فروشچھوڑ کر آبادیاں رہتا ہے تو صحرا نوردزندگی تیری ہے بے روز و شب و فردا و دوشزندگی کا راز کیا ہے سلطنت کیا چیز ہےاور یہ سرمایہ و محنت میں ہے کیسا خروشہو رہا ہے ایشیا کا خرقۂ دیرینہ چاکنوجواں اقوام نو دولت کے ہیں پيرايہ پوشگرچہ اسکندر رہا محروم آب زندگیفطرت اسکندری اب تک ہے گرم ناؤ نوشبیچتا ہے ہاشمی ناموس دين مصطفیٰخاک و خوں میں مل رہا ہے ترکمان سخت کوشآگ ہے اولاد ابراہیم ہے نمرود ہےکیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہےجواب خضرصحرا نوردی
زندگی کے میلے میں خواہشوں کے ریلے میںتم سے کیا کہیں جاناں اس قدر جھمیلے میںوقت کی روانی ہے بخت کی گرانی ہےسخت بے زمینی ہے سخت لا مکانی ہےہجر کے سمندر میںتخت اور تختے کی ایک ہی کہانی ہےتم کو جو سنانی ہےبات گو ذرا سی ہےبات عمر بھر کی ہےعمر بھر کی باتیں کب دو گھڑی میں ہوتی ہیںدرد کے سمندر میںان گنت جزیرے ہیں بے شمار موتی ہیںآنکھ کے دریچے میں تم نے جو سجایا تھابات اس دئے کی ہےبات اس گلے کی ہےجو لہو کی خلوت میں چور بن کے آتا ہےلفظ کی فصیلوں پر ٹوٹ ٹوٹ جاتا ہےزندگی سے لمبی ہے بات رت جگے کی ہےراستے میں کیسے ہوبات تخلیئے کی ہےتخلیئے کی باتوں میں گفتگو اضافی ہےپیار کرنے والوں کو اک نگاہ کافی ہےہو سکے تو سن جاؤ ایک روز اکیلے میںتم سے کیا کہیں جاناں اس قدر جھمیلے ہیں
گلاب چہرے پہ مسکراہٹچمکتی آنکھوں میں شوخ جذبےوہ جب بھی کالج کی سیڑھیوں سےسہیلیوں کو لیے اترتیتو ایسے لگتا تھا جیسے دل میں اتر رہی ہوکچھ اس تیقن سے بات کرتی تھی جیسے دنیااسی کی آنکھوں سے دیکھتی ہووہ اپنے رستے میں دل بچھاتی ہوئی نگاہوں سے ہنس کے کہتیتمہارے جیسے بہت سے لڑکوں سے میں یہ باتیںبہت سے برسوں سے سن رہی ہوںمیں ساحلوں کی ہوا ہوں نیلے سمندروں کے لیے بنی ہوںوہ ساحلوں کی ہوا سی لڑکیجو راہ چلتی تو ایسے لگتا تھا جیسے دل میں اتر رہی ہووہ کل ملی تو اسی طرح تھیچمکتی آنکھوں میں شوخ جذبے گلاب چہرے پہ مسکراہٹکہ جیسے چاندی پگھل رہی ہومگر جو بولی تو اس کے لہجے میں وہ تھکن تھیکہ جیسے صدیوں سے دشت ظلمت میں چل رہی ہو
کبھي اے نوجواں مسلم! تدبر بھي کيا تو نےوہ کيا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تاراتجھے اس قوم نے پالا ہے آغوش محبت ميںکچل ڈالا تھا جس نے پائوں ميں تاج سر داراتمدن آفريں خلاق آئين جہاں داريوہ صحرائے عرب يعني شتربانوں کا گہواراسماں 'الفقر فخري' کا رہا شان امارت ميں''بآب و رنگ و خال و خط چہ حاجت روے زيبا را''گدائي ميں بھي وہ اللہ والے تھے غيور اتنےکہ منعم کو گدا کے ڈر سے بخشش کا نہ تھا ياراغرض ميں کيا کہوں تجھ سے کہ وہ صحرا نشيں کيا تھےجہاں گير و جہاں دار و جہاں بان و جہاں آرااگر چاہوں تو نقشہ کھينچ کر الفاظ ميں رکھ دوںمگر تيرے تخيل سے فزوں تر ہے وہ نظاراتجھے آبا سے اپنے کوئي نسبت ہو نہيں سکتيکہ تو گفتار وہ کردار ، تو ثابت وہ سےاراگنوا دي ہم نے جو اسلاف سے ميراث پائي تھيثريا سے زميں پر آسماں نے ہم کو دے ماراحکومت کا تو کيا رونا کہ وہ اک عارضي شے تھينہيں دنيا کے آئين مسلم سے کوئي چارامگر وہ علم کے موتي ، کتابيں اپنے آبا کيجو ديکھيں ان کو يورپ ميں تو دل ہوتا ہے سيپارا''غني! روز سياہ پير کنعاں را تماشا کنکہ نور ديدہ اش روشن کند چشم زليخا را''
سرشار نگاہ نرگس ہوں پا بستۂ گیسوئے سنبل ہوںیہ میرا چمن ہے میرا چمن میں اپنے چمن کا بلبل ہوںہر آن یہاں صہبائے کہن اک ساغر نو میں ڈھلتی ہےکلیوں سے حسن ٹپکتا ہے پھولوں سے جوانی ابلتی ہےجو طاق حرم میں روشن ہے وہ شمع یہاں بھی جلتی ہےاس دشت کے گوشے گوشے سے اک جوئے حیات ابلتی ہےاسلام کے اس بت خانے میں اصنام بھی ہیں اور آذر بھیتہذیب کے اس مے خانے میں شمشیر بھی ہے اور ساغر بھییاں حسن کی برق چمکتی ہے یاں نور کی بارش ہوتی ہےہر آہ یہاں اک نغمہ ہے ہر اشک یہاں اک موتی ہےہر شام ہے شام مصر یہاں ہر شب ہے شب شیراز یہاںہے سارے جہاں کا سوز یہاں اور سارے جہاں کا ساز یہاںیہ دشت جنوں دیوانوں کا یہ بزم وفا پروانوں کییہ شہر طرب رومانوں کا یہ خلد بریں ارمانوں کیفطرت نے سکھائی ہے ہم کو افتاد یہاں پرواز یہاںگائے ہیں وفا کے گیت یہاں چھیڑا ہے جنوں کا ساز یہاںاس فرش سے ہم نے اڑ اڑ کر افلاک کے تارے توڑے ہیںناہید سے کی ہے سرگوشی پروین سے رشتے جوڑے ہیںاس بزم میں تیغیں کھینچی ہیں اس بزم میں ساغر توڑے ہیںاس بزم میں آنکھ بچھائی ہے اس بزم میں دل تک جوڑے ہیںاس بزم میں نیزے پھینکے ہیں اس بزم میں خنجر چومے ہیںاس بزم میں گر کر تڑپے ہیں اس بزم میں پی کر جھومے ہیںآ آ کے ہزاروں بار یہاں خود آگ بھی ہم نے لگائی ہےپھر سارے جہاں نے دیکھا ہے یہ آگ ہمیں نے بجھائی ہےیاں ہم نے کمندیں ڈالی ہیں یاں ہم نے شب خوں مارے ہیںیاں ہم نے قبائیں نوچی ہیں یاں ہم نے تاج اتارے ہیںہر آہ ہے خود تاثیر یہاں ہر خواب ہے خود تعبیر یہاںتدبیر کے پائے سنگیں پر جھک جاتی ہے تقدیر یہاںذرات کا بوسہ لینے کو سو بار جھکا آکاش یہاںخود آنکھ سے ہم نے دیکھی ہے باطل کی شکست فاش یہاںاس گل کدۂ پارینہ میں پھر آگ بھڑکنے والی ہےپھر ابر گرجنے والے ہیں پھر برق کڑکنے والی ہےجو ابر یہاں سے اٹھے گا وہ سارے جہاں پر برسے گاہر جوئے رواں پر برسے گا ہر کوہ گراں پر برسے گاہر سرو و سمن پر برسے گا ہر دشت و دمن پر برسے گاخود اپنے چمن پر برسے گا غیروں کے چمن پر برسے گاہر شہر طرب پر گرجے گا ہر قصر طرب پر کڑکے گایہ ابر ہمیشہ برسا ہے یہ ابر ہمیشہ برسے گا
اک مولوی صاحب کی سناتا ہوں کہانیتیزی نہیں منظور طبیعت کی دکھانیشہرہ تھا بہت آپ کی صوفی منشی کاکرتے تھے ادب ان کا اعالی و ادانیکہتے تھے کہ پنہاں ہے تصوف میں شریعتجس طرح کہ الفاظ میں مضمر ہوں معانیلبریز مئ زہد سے تھی دل کی صراحیتھی تہہ میں کہیں درد خیال ہمہ دانیکرتے تھے بیاں آپ کرامات کا اپنیمنظور تھی تعداد مریدوں کی بڑھانیمدت سے رہا کرتے تھے ہمسائے میں میرےتھی رند سے زاہد کی ملاقات پرانیحضرت نے مرے ایک شناسا سے یہ پوچھااقبالؔ کہ ہے قمرئ شمشاد معانیپابندئ احکام شریعت میں ہے کیساگو شعر میں ہے رشک کلیم ہمدانیسنتا ہوں کہ کافر نہیں ہندو کو سمجھتاہے ایسا عقیدہ اثر فلسفہ دانیہے اس کی طبیعت میں تشیع بھی ذرا ساتفضیل علی ہم نے سنی اس کی زبانیسمجھا ہے کہ ہے راگ عبادات میں داخلمقصود ہے مذہب کی مگر خاک اڑانیکچھ عار اسے حسن فروشوں سے نہیں ہےعادت یہ ہمارے شعرا کی ہے پرانیگانا جو ہے شب کو تو سحر کو ہے تلاوتاس رمز کے اب تک نہ کھلے ہم پہ معانیلیکن یہ سنا اپنے مریدوں سے ہے میں نےبے داغ ہے مانند سحر اس کی جوانیمجموعۂ اضداد ہے اقبالؔ نہیں ہےدل دفتر حکمت ہے طبیعت خفقانیرندی سے بھی آگاہ شریعت سے بھی واقفپوچھو جو تصوف کی تو منصور کا ثانیاس شخص کی ہم پر تو حقیقت نہیں کھلتیہوگا یہ کسی اور ہی اسلام کا بانیالقصہ بہت طول دیا وعظ کو اپنےتا دیر رہی آپ کی یہ نغز بیانیاس شہر میں جو بات ہو اڑ جاتی ہے سب میںمیں نے بھی سنی اپنے احبا کی زبانیاک دن جو سر راہ ملے حضرت زاہدپھر چھڑ گئی باتوں میں وہی بات پرانیفرمایا شکایت وہ محبت کے سبب تھیتھا فرض مرا راہ شریعت کی دکھانیمیں نے یہ کہا کوئی گلہ مجھ کو نہیں ہےیہ آپ کا حق تھا ز رہ قرب مکانیخم ہے سر تسلیم مرا آپ کے آگےپیری ہے تواضع کے سبب میری جوانیگر آپ کو معلوم نہیں میری حقیقتپیدا نہیں کچھ اس سے قصور ہمہ دانیمیں خود بھی نہیں اپنی حقیقت کا شناساگہرا ہے مرے بحر خیالات کا پانیمجھ کو بھی تمنا ہے کہ اقبالؔ کو دیکھوںکی اس کی جدائی میں بہت اشک فشانیاقبالؔ بھی اقبالؔ سے آگاہ نہیں ہےکچھ اس میں تمسخر نہیں واللہ نہیں ہے
سیلف میڈ لوگوں کا المیہروشنی مزاجوں کا کیا عجب مقدر ہےزندگی کے رستے میں بچھنے والے کانٹوں کوراہ سے ہٹانے میںایک ایک تنکے سے آشیاں بنانے میںخوشبوئیں پکڑنے میں گلستاں سجانے میںعمر کاٹ دیتے ہیںعمر کاٹ دیتے ہیںاور اپنے حصے کے پھول بانٹ دیتے ہیںکیسی کیسی خواہش کو قتل کرتے جاتے ہیںدرگزر کے گلشن میں ابر بن کے رہتے ہیںصبر کے سمندر میں کشتیاں چلاتے ہیںیہ نہیں کہ ان کو اس روز و شب کی کاہش کاکچھ صلہ نہیں ملتامرنے والی آسوں کا خوں بہا نہیں ملتازندگی کے دامن میں جس قدر بھی خوشیاں ہیںسب ہی ہاتھ آتی ہیںسب ہی مل بھی جاتی ہیںوقت پر نہیں ملتیں وقت پر نہیں آتیںیعنی ان کو محنت کا اجر مل تو جاتا ہےلیکن اس طرح جیسےقرض کی رقم کوئی قسط قسط ہو جائےاصل جو عبارت ہو پس نوشت ہو جائےفصل گل کے آخر میں پھول ان کے کھلتے ہیںان کے صحن میں سورج دیر میں نکلتے ہیں
بے نگاہ آنکھوں سے دیکھتے ہیں پرچے کوبے خیال ہاتھوں سےان بنے سے لفظوں پر انگلیاں گھماتے ہیںیا سوال نامے کو دیکھتے ہی جاتے ہیںسوچتے نہیں اتنا جتنا سر کھجاتے ہیں
اے دل بے خبرجو ہوا جا چکی اب نہیں آئے گیجو شجر ٹوٹ جاتا ہے پھلتا نہیںواپسی موسموں کا مقدر تو ہےجو سماں بیت جائے پلٹتا نہیںجانے والے نہیں لوٹتے عمر بھراب کسے ڈھونڈھتا ہے سر رہ گزراے دل کم نظر اے مرے بے خبر اے مرے ہم سفروہ تو خوشبو تھا اگلے نگر جا چکاچاندنی تھا ہوا صرف رنگ قمرخواب تھا آنکھ کھلتے ہی اوجھل ہواپیڑ تھا رت بدلتے ہوا بے ثمراے دل بے اثر اے مرے چارہ گریہ ہے کس کو خبر!کب ہوائے سفر کا اشارہ ملے!کب کھلیں ساحلوں پر سفینوں کے پرکون جانے کہاں منزل موج ہے!کس جزیرے پہ ہے شاہ زادی کا گھر اے مرے چارہ گراے دل بے خبر کم نظر معتبرتو کہ مدت سے ہے زیر بار سفربے قرار سفرریل کی بے ہنر پٹریوں کی طرحآس کے بے ثمر موسموں کی طرحبے جہت منزلوں کی مسافت میں ہےرستہ بھولے ہوئے رہرووں کی طرحچوب نار سفراعتبار نظر کس گماں پر کریںاے دل بے بصریہ تو ساحل پہ بھی دیکھتی ہے بھنورریت میں کشت کرتی ہے آب بقاکھولتی ہے ہواؤں میں باب اثرتجھ کو رکھتی ہے یہ زیب دار سفر بے قرار سفراے دل بے ہنرگرم سانسوں کی وہ خوشبوئیں بھول جاوہ چہکتی ہوئی دھڑکنیں بھول جابھول جا نرم ہونٹوں کی شادابیاںحرف اقرار کی لذتیں بھول جابھول جا وہ ہوا بھول جا وہ نگرکون جانے کہاں روشنی کھو گئیلٹ گیا ہے کہاں کاروان سحراب کہاں گیسوؤں کے وہ سائے کہاںاس کی آہٹ سے چمکے ہوئے بام و در اے دل بے بصررنگ آسودگی کے تماشے کہاںجھٹپٹا ہے یہاں رہ گزر رہ گزروہ تو خوشبو تھا اگلے نگر جا چکااب کسے ڈھونڈھتا ہے ارے بے خبرجانے والے نہیں لوٹتے عمر بھراے دل کم نظر اے مرے چارہ گر اے مرے ہم سفر
مجھے اپنے جینے کا حق چاہیےزمیں جس پہ میرے قدم ٹک سکیںاور تاروں بھرا کچھ فلک چاہیےمجھے اپنے جینے کا حق چاہیےنعمتیں جو میرے رب نے دھرتی کو دیںصاف پانی ہوا بارشیں چاندنییہ تو ہر ابن آدم کی جاگیر ہیںیہ ہماری تمہاری کسی کی نہیںمجھ کو تعلیم صحت اور امید کیسات رنگوں بھری اک دھنک چاہیےمجھے اپنے جینے کا حق چاہیےنہ ہوا صاف ہے نہ فضا صاف ہےوہ جو آب بقا تھا وہ ناصاف ہےزمیں ہو سمندر ہو یا آسماںاک ذرا سوچیے اب کہ کیا صاف ہےموت سے پر خطر ہے یہ آلودگیدوستو دل میں تھوڑی کسک چاہیےمجھے اپنے جینے کا حق چاہیے
ہے زندہ فقط وحدت افکار سے ملتوحدت ہو فنا جس سے وہ الہام بھی الحادوحدت کی حفاظت نہیں بے قوت بازوآتی نہیں کچھ کام یہاں عقل خدا داداے مرد خدا تجھ کو وہ قوت نہیں حاصلجا بیٹھ کسی غار میں اللہ کو کر یادمسکینی و محکومی و نومیدیٔ جاویدجس کا یہ تصوف ہو وہ اسلام کر ایجادملا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازتناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد
اک بار جو کھو جائے وہ وقت نہیں ملتاجو پھول بکھر جائے وہ مرجھا کے نہیں کھلتاجو وقت ملا ہم کو اللہ کی امانت ہےاک خواب کا چہرا ہے تعبیر کی صورت ہےگر حکم نہ ہو اس کا پتا بھی نہیں ہلتااک بار جو کھو جائے وہ وقت نہیں ملتاموقعے کا بس اک ٹانکا تو ٹانکے بچاتا ہےادھڑے ہوئے دامن کو پھٹنے سے بچاتا ہےتاخیر جو ہو جائے پھر یوں ہی نہیں سلتااک بار جو کھو جائے وہ وقت نہیں ملتاتوقیر کرو اس کی جو لمحہ میسر ہےجو وقت پہ ہو جائے بس کام وہ بہتر ہےہاتھوں سے پھسل جائے جو بخت نہیں ملتااک بار جو کھو جائے وہ وقت نہیں ملتا
اب وہ آنکھوں کے شگوفے ہیں نہ چہروں کے گلابایک منحوس اداسی ہے کہ مٹتی ہی نہیںاتنی بے رنگ ہیں اب رنگ کی خوگر آنکھیںجیسے اس شہر تمنا سے کوئی ربط نہ تھاجیسے دیکھا تھا سراب
اللہ جیہم سو نہیں پاتےامی کو کب بھیجو گےنانی کہتی ہیںتم ہم سے روٹھے ہولیکن اب ہمروزانہ مکتب جائیں گےتم کو تختی پر لکھیں گےاسلم مسٹر گندے ہیںان کے ساتھ نہیں کھلیں گےاللہ جیاب مان بھی جاؤچاہو توامی کے بدلےہم سے ساری چیزیں لے لوگیند بھی لے لواور گولی بھیلٹو اور غلیل بھی لے لولیکن ہم کو امی دے دوہم کو ہماری امی دے دو
آمریت کی ہم نوائی میںتیرا ہمسر نہیں خدائی میںبادشاہوں کی رہنمائی میںروز اسلام کا جلوس نکالاب قلم سے ازار بند ہی ڈال
مرے ہونٹوں پہ اس کے آخری بوسے کی لذت ثبت ہےوہ اس کا آخری بوسہجو مستقبل کے ہر اک خوف سے آزاداک روشن ستارا تھاگزرتی رات کے ننگے بدن پر تل کی صورت قائم و دائمہمیشہ جاگنے والا ستارامیں جسے اس آگ برساتے ہوئے سورج کے آگےجگمگاتا دیکھ سکتا ہوں
دو چوہوں کی ایک کہانیکچھ تازہ ہے کچھ ہے پرانیاک چوہے کی جیب میں بٹوااک چوہے کے ہاتھ میں حقہحقے میں تھے بور کے لڈوکچھ تھے موتی چور کے لڈولڈو تھے سب رنگ رنگیلےکچھ تھے نیلی اور کچھ پیلےبٹوے میں تھے چار ٹماٹراور تھوڑا سا منرل واٹرلڈو کھا کر پانی پی کربولے چوہے چھت پر چڑھ کرکہاں ہے بلی اس کو بلاؤآیا ہے اب ہم کو تاؤآج نہیں وہ بچنے والیبچہ لوگ بجائے تالیبلی نے جب سنی یہ باتبیت چکی تھی آدھی راتپہلے اس نے دم کو ہلایادانتوں کو دانتوں پہ جمایاچپکے چپکے چھت پر پہنچیپھر تیزی سے ان پر جھپٹیدونوں چوہے ڈر کر بھاگےبلی پیچھے چوہے آگےسوری سوری لاکھ وہ بولےسنی نہ ان کی بات کسی نےبلی نے پھر مزے اڑائےاک اک کر کے دونوں کھائے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books