aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "azm-e-nau"
میں جینا چاہتا ہوںاس زمیں پرآسماں بن کرمیں جینا چاہتا ہوںاس زمیں پرکہکشاں بن کرمیں جینا چاہتا ہوںاس زمیں پرپھول خوشبو چاندنی بن کرمیں جینا چاہتا ہوںاس زمیں پرصبح نو بن کرمیں جینا چاہتا ہوںاس زمیں پردوپہر میں سائے کی صورتمیں جینا چاہتا ہوںاس زمیں پرایسے بچوں کی طرحجن کو فرشتے اپنے ہاتھوں سے سجاتے ہیںکہ جن کےراستوں میں دیوتا پلکیں بچھاتے ہیںمیں جینا چاہتا ہوںاس زمیں پرایسے پیڑوں کی طرحجن کا گھنا سایہمسافر کی تھکنبے امتیاز مذہب و ملتچھپا لیتا ہے اپنی مخملی پلکوں کی چھاؤں میںعطا کرتا ہے پھراک عزم نومنزل کی جانب بڑھتے رہنے کا
اک نئی صبح درخشاں کا روپہلا آنچلاپنے ہم راہ لئے عزم جواں کی تنویرساقیٔ وقت کے رخسار پہ لہرایا ہےیہ ہے تاریک فضاؤں میں اجالے کی لکیر
یہی وہ منزل مقصود ہے کہ جس کے لئےبڑے ہی عزم سے اپنے سفر پہ نکلے تھےاسی گھڑی کی تمنا میں جانے کتنے لوگجو بے خطا تھے مگر سولیوں پہ لٹکے تھے
پھیکا ہے جس کے سامنے عکس جمال یارعزم جواں کو میں نے وہ غازہ عطا کیا
حقصداقتاور حسنیہ سب چٹانوں پہ چپکے ہوئےمٹی کے اندر دبے ہوئےفاسلس ہیںآؤ ہم انہیں کھرچ کر کھود کرتجربہ گاہوں میں لے چلےاور ہو سکے تو ڈی این اے سےان کی از سر نو تشکیل کریں
کل جو سپنے تھے ادھورے آج پورے ہوں گے وہآج ہم جمہوریت کا گیت گائیں گے ضرورامن کی شمعیں جلیں ہر سو اجالا ہو گیامٹ گئے ہیں ظلم کی تاریکیوں کے سب غرورکہہ دو ساری ظلمتوں سے تلخیوں سے ہوں وہ دورکیوں کہ ارزاں ہو گئی ہے دہر میں صہبائے نورآج پھر تاریکیوں کے مٹ ہی جائیں گے نشاںدیپ خوشیوں کے جلیں گے بستیٔ غم خوار میںخود بخود منزل کھنچی آئے گی قدموں کے تلےعزم نو کی خو بھی شامل ہوگی جب اطوار میںمتحد ہے کتنا بھارت دہر کو بتلائیں گےعظمت جمہوریت دنیا کو ہم دکھلائیں گےایک ہی دیوار کے سائے میں ہیں دیر و حرمہاں وہی بھارت ہے یہ جو امن کی تصویر ہےگوتم و گاندھی جواہر لال اور آزاد نےدیکھا تھا جو خواب پہروں اس کی یہ تعبیر ہےکہہ دو دنیا سے حسیں کردار بھی اب سیکھ لےآئے ہم سے امن کے اطوار بھی اب سیکھ لےآج وہ دن ہے کہ جس دن کے لیے تھے خوں بہےچندر شیکھر اور بھگت سنگھ اور پھر گاندھی کے خوناور ہاں جوہر علی مختار و سید تھے وہیتھا سدا جن کے دلوں سے سر کٹانے کا جنوندیش کی خاطر ہوا جن کا جنم اور موت بھیموت جن کی موت پہ روتی رہی روتی رہی
انسانیت کا از سر نو حق ادا کریںپھر باب انقلاب وطن آج وا کریںاٹھ حلقۂ فرنگ کی ہر صف کو توڑ کرپھر حریت کو دام خرد سے رہا کریںکچھ رہ گئیں رگوں میں ہیں بوندیں جو خون کیمحراب امن ہند پہ چل کر فدا کریںبرسائیں انقلاب کی پیہم وہ بارشیںرنگین آج چہرۂ موج صبا کریںپھر غرق کر کے مذہب نو کی ہر ایک شےاس ہند بد نصیب کے حق میں دعا کریںہر شے ہے انقلاب کے قدموں پہ سجدہ ریزایسے میں ہم نماز بغاوت قضا کریں
زمانہ از سر نو یہ گواہی دے رہا ہےازل سے تا ابد سب کچھ فنا ہےمگر اک خواہش بے سود ہر انسان کے اندر پنپتی ہےیہ ہر انسان کی فطرت میں شامل ہےجو ہر پل یہ سمجھتا ہےکہ مٹی کوزہ گر کے نور میں گوندھی گئی ہےیہ فطرت بے محابا ہےجو کوزہ گر کے ہاتھوں سےہر اک انسان میں شامل ہوئی ہےہر اک انسان بس اک واہمے میں ہےکہ وہ بھی لا فنا ہے
عزم آزادئ انساں بہ ہزاراں جبروتاک نئے دور کا آغاز کیا چاہتا ہے
ہم شہر زادوں کی سنوہم راقم تاریخ نو
یہ ستم ظریفیٔ عہد نو بھی ہے نجمیؔ کتنی عجیب سیکہ جو گمرہی میں ہے مبتلا ہے اسی کو دعویٰ رہبری
قسم شوخیٔ عشق سنجوگتا کیقسم جون کے عزم صبر آزما کی
پتھروں کو ملے ہاتھ پر عزم تیشہ زنی کون دےسنگ سنتے ہیں لیکن سمجھتے نہیں
سونے والوں کو پیام صبح نو دیتی ہوئیخواب کی دنیا اٹھی انگڑائیاں لیتی ہوئی
کھو گیا عقل کی راہوں میں مرا عہد شباباز سر نو مجھے دیوانہ بنانے آ جا
زینب کی بے ردائی نے سر میرا ڈھک دیاآغاز صبح نو ہوئی وہ شام شام کی
شراب و شعر کی رنگیں فضا پہ لہرا کرسرود خمکدۂ نو بہار چھوڑ گیا
پو پھٹی صبح نو نکھر آئی
یاں بایں عالم غرور یوسفیت بھی نہیںواں زلیخائی بہ عزم چاکدامانی ہے آج
اسی نے ساز ادب کو صدائے نو بخشیشکستہ دل کو انوکھی ادائے نو بخشی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books