aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "babar"
رام بن باس سے جب لوٹ کے گھر میں آئےیاد جنگل بہت آیا جو نگر میں آئےرقص دیوانگی آنگن میں جو دیکھا ہوگاچھ دسمبر کو شری رام نے سوچا ہوگااتنے دیوانے کہاں سے مرے گھر میں آئےجگمگاتے تھے جہاں رام کے قدموں کے نشاںپیار کی کاہکشاں لیتی تھی انگڑائی جہاںموڑ نفرت کے اسی راہ گزر میں آئےدھرم کیا ان کا تھا، کیا ذات تھی، یہ جانتا کونگھر نہ جلتا تو انہیں رات میں پہچانتا کونگھر جلانے کو مرا لوگ جو گھر میں آئےشاکاہاری تھے میرے دوست تمہارے خنجرتم نے بابر کی طرف پھینکے تھے سارے پتھرہے مرے سر کی خطا، زخم جو سر میں آئےپاؤں سرجو میں ابھی رام نے دھوئے بھی نہ تھےکہ نظر آئے وہاں خون کے گہرے دھبےپاؤں دھوئے بنا سرجو کے کنارے سے اٹھےرام یہ کہتے ہوئے اپنے دوارے سے اٹھےراجدھانی کی فضا آئی نہیں راس مجھےچھ دسمبر کو ملا دوسرا بن باس مجھے
دھرتی دھڑک رہی ہے مرے ساتھ ایفریقادریا تھرک رہا ہے تو بن دے رہا ہے تالمیں افریقہ ہوں دھار لیا میں نے تیرا روپمیں تو ہوں میری چال ہے تیری ببر کی چال''آ جاؤ ایفریقا''آؤ ببر کی چال''آ جاؤ ایفریقا''
نہ پوچھ اے ہم نشیں کالج میں آ کر ہم نے کیا دیکھازمیں بدلی ہوئی دیکھی فلک بدلا ہوا دیکھانہ وہ پہلی سی محفل ہے نہ مینا ہے نہ ساقی ہےکتب خانے میں لیکن اب تلک تلوار باقی ہےوہی تلوار جو بابر کے وقتوں کی نشانی ہےوہی مرحوم بابر یاد جس کی غیر فانی ہےزمیں پر لیکچرر کچھ تیرتے پھرتے نظر آئےاور ان کی ''گاؤن'' سے کندھوں پہ دو شہ پر نظر آئےمگر ان میں مرے استاد دیرینہ بہت کم تھےجو دو اک تھے بھی وہ مصروف صد افکار پیہم تھےوہ زینے ہی میں ٹکرانے کی حسرت رہ گئی دل میںسنا ون وے ٹریفک ہو گئی اوپر کی منزل میںاگرچہ آج کل کالج میں واقف ہیں ہمارے کمہمیں دیوار و در پہچانتے ہیں اور ان کو ہمبلندی پر الگ سب سے کھڑا ''ٹاور' یہ کہتا ہےبدلتا ہے زمانہ میرا انداز ایک رہتا ہےفنا تعلیم درس بے خودی ہوں اس زمانے سےکہ مجنوں لام الف لکھتا تھا دیوار دبستاں پرمگر ''ٹاور'' کی ساعت کے بھی بازو خوب چلتے ہیںکبوتر بیٹھ کر سوئیوں پہ وقت اس کا بدلتے ہیںاسی مالک کو پھر حلوے کی دعوت پر بلاتے ہیںوہ حلوہ خوب کھاتے ہیں اسے بھی کچھ کھلاتے ہیںاگر وہ یہ کہے اس میں تو زہریلی دوائی ہےمرا دل جانتا ہے اس میں انڈے کی مٹھائی ہےپھر اس کے بعد بہر خودکشی تیار ہوتے ہیںوہ حلوہ بیچ میں اور گرد اس کے یار ہوتے ہیںوہ پوچھے گر کہاں سے کس طرح آیا ہے یہ حلوہتو ڈبہ پیش کر کے کہہ دیا اس کا ہے سب جلوہکسی کنجوس کے کمرے میں جا کر بیٹھ جاتے ہیںاور اس کے نام پر ٹک شاپ سے چیزیں منگاتے ہیںبچارہ جعفریؔ مدت کے بعد آیا ہے کالج میںاضافہ چاہتا ہے اپنی انگریزی کی نالج میںترے سینے پہ جب یاران خوش آئیں کی محفل ہوتو اے 'اوول' اسے مت بھول جانا وہ بھی شامل ہو
آدھا تیتر کھایا لیکن بھوکا رہ گیا ببر شیرشيرنی اس کے واسطے لے کر آئی آدھا اور بٹیر
چڑیا گھر میں بسنے والیکیسا مزاج عالی ہےمنو بھیا پوچھ رہے ہیںکیا کوئی پنجرہ خالی ہےدوڑ میں سب سے اول چیتاجنگل کی ہر ریس میں جیتاجلدی جلدی بول رے ساتھیکچا پپیتا پکا پپیتاجنگل کے سلطان کو دیکھوشیر ببر کی شان کو دیکھوایسا بہادر کوئی نہیں ہےدل والے مہمان کو دیکھوبھاگ رہا ہے ہانپ رہا ہےڈر کے مارے کانپ رہا ہےبزدل گیدڑ نام ہے اس کادیکھو کیسا بھانپ رہا ہےہاتھی سونڈ ہلانے والےلمبے دانت دکھانے والےدریا دریا جنگل جنگلبھاری بوجھ اٹھانے والےباتوں میں بے باک بہت ہےسب پر اس کی دھاک بہت ہےبچو اس کا نام بتاؤیہ بی بی چالاک بہت ہےبن مانس کے کھیل عجب ہیںسرکس جیسے سارے ڈھب ہیںایسے کھیل کہاں سے سیکھےدیکھنے والے حیراں سب ہیںناچ دکھانے والے بھالوتو کالا تیرا نام ہے کالوکس سے ہے تری رشتہ داریتو آخر ہے کس کا خالوڈگ ڈگ ڈگ ڈگ بندر آئےخوشی خوشی سسرال کو جائےچھن چھن چھن چھن ناچے بندریاجیسے مداری چاہے نچائےزیبرا دیکھو دھاریوں والاپایا جس نے روپ نرالاصبح بھی اس کی شام بھی اس کیآدھا گورا آدھا کالایہ کچھوے سے ہارنے والاجھوٹی شیخی بگھارنے والاآخر منہ کی کھا جاتا ہےاوروں کو للکارنے والاسانپ جو پل پل بل کھاتے ہیںبین بجے تو لہراتے ہیںلہرائیں تو جاگے سوئےلاکھوں رنگ نظر آتے ہیںکنٹھی پہنے طوطے آئےہرے ہرے سے پر پھیلائےمٹھو بیٹا پڑھ لیتے ہیںکوئی ان کو اگر پڑھائےسارس دیکھو کتنا بڑا ہےبادل جیسے آن پڑا ہےمچھلی آئے اور پکڑ لوںپانی میں چپ چاپ کھڑا ہےوہ دیکھو وہ آیا زرافہجیسے کوئی بیرنگ لفافہہم دیتے ہیں اس کو دعائیںگردن میں ہو اور اضافہ
دیکھ نی مائے؟سندر ماتھے کی ریکھائیںتیرے ہاتھ کی ریکھاؤں سے ملتی جلتیاتر دکھن پورب پچھم ایک سفر ہے ٹانواں ٹانواںدیکھ گلابی آگ پہ سینکیڈب کھڑبی روٹی جیسا چہرا میرادیکھ نی مائےسرسوں جیسے ہاتھ تھے میرےہرے ہرے کنگن کی چنیگیٹہ گیٹہ بالن چننا ان کو مہنگا پڑ جائے گاکب سوچا تھا
شیر ببر نے پہنا چوغاگیدڑ کوٹ پہن اترایا
یار پرندے! یہیں کہیں تھا نیم کے پیڑ کا دیارمٹی کی کچی دیواریں چاندی جیسے یاریسو پنجو ہار کبوتر، کنچے ونچے، تاشجیتنے والے نالاں، ہارنے والے تھے خوش باشالٹے توے کی روٹی ساتھ میں کھٹا میٹھا ساگمکھن کی ڈلیوں میں جیسے ماں کے پیار کا راگدو کمروں کے گھر میں اتنے گھنے گھنیرے لوگنیم کی چھاؤں بانٹنے آتے گاؤں بھر کے لوگگھر کا دروازہ تھا سانجھا جیسے گھر کی ماںصحن میں اتنی وسعت ہوتی جیسے ایک جہاںیار پرندے! گاؤں وہی ہے ویسا نیم کا پیڑدیواروں پر کانچ جڑے ہیں دروازوں پر قفلشام ڈھلے ہی چوپالیں ہو جاتی ہیں سنسانچنگیروں کی باسی روٹی اور ڈبے کا دودھہوا ہوئیں مکھن کی ڈلیاں ہوا ہوا وہ پیاریار پرندے! نیم کے پیڑ کی باتوں میں مت آپاس کے جنگل میں زاغوں کے ڈیرے پر سو جا
شاہی دربار میں مہاراج کا مخبر خاص کو حکملحن سالار بتا حال زمانے کا مجھےاس میں بس مجھ کو بتا میری خبر کی بابتمت سنا خستہ زمانوں کی شکستہ باتیںلفظ لکھ میرے لیے نوک قلم سے اور پھرشہر بھر میں یہی تاریخ منادی کر دےوقت کے سارے مورخ کریں بیعت اس کیپھول پر خون نہیں تھا وہ نم شبنم تھاایک خاموش ریاضت تھی اجل کا چکربے بدن خواب تھے تہذیب کا نو رفتہ مزاج
گھروں میں کوئی پیڑ ہے نہ موتیے کی بیل ہےنہ دال کو بگھارتی ہوئی جوان لڑکیاںکہ سب چلن بدل گیا
ریشۂ اشک پہ ٹانکے ہوئے ہم برگ ملالقریۂ وحشت و افتاد میں ہیں خیمہ بدوشاپنے حصے کی جہانگیری اٹھا لائے ہیںکیا خبر کون نظر طرفہ مسیحائی ہوکون سا زہر ترے ہجر کا تریاق بنےبس اسی کار فراغت پہ ہے مامور یہ دلجس پہ کھلتے نہیں اسرار تعلق نہ مزاجاپنی ہی دھن میں سبک خیز چلا جاتا ہےایک اندیشۂ ایجاز تلاطم کی طرفجس کی تہذیب پہ تحریر ہیں نامے تیرےساحرہ دیکھ کبھی زیست مزاجوں کی طرفدیکھ کیا رنگ ترے خاک نشینوں کا ہواپر تجھے فرصت نظارۂ خاشاک نہیںتیری آنکھوں میں فروزاں ہے ستاروں کا وفورہم کہ بے نور چراغوں کے خراشیدہ بدناپنی ہی لو کی سخاوت سے جلے بیٹھے ہیںہم جہانگیر مزاجوں میں لٹے بیٹھے ہیں
یہ سرخ دھارے قدیم وقتوں کی داستانوں کے سرخ راویکنار آب فلک ہیں دستار بننے والے نخیل زادےنواح بصرہ میں پھیلتی بد گمان صبحیںفضا میں بے نام سسکیوں کی شکستہ لہریںجنہیں منافق سفارتوں کے حصار نے قتل کر دیا تھایہیں کہیں ہیںیہ شہر بصرہ جہاں پہ فارس کی اپسرائیںقدیم اونٹوں کی جنگ میں کام آ گئی تھیںخلافتوں اور ہجرتوں کے اصیل شاہدیہ سرخ دھارےعجب نہیں خامشی کی تسبیح کرتی راتیںکسی زمانے میں چیخ اٹھیںکہ کیسے عباسیوں کے عہد موافقت میںسیاہ سنجی ابل پڑے تھےغلام گردش کی داستانوں میں رخنہ پڑنا کہاں لکھا تھایہ سرخ دھارے مورخوں کی تراش کردہقبیح گرہیں کبھی تو کھولیں گے سچ کی خاطراے اہل بصرہ یہ اعتزالوں کی داستانیں کہاں لکھی تھیںتو واصل ابن عطا کی باتیں جو رزم گاہ کلام اندرچنی گئی تھیں سماعتوں نے کبھی سنی ہیںتو اہل بصرہ حسن جو بصری تھے جانتے ہومحاسبہ کی نوید لے کر تمہاری خاطر تمہاری مٹی پہ آ گئے تھےتمہیں خبر ہے جب اہل بصرہ نماز پڑھنا ہی بھول بیٹھےحسن جو بصری تھے یاں کی شورش سے دور جنگل میںتار انفاس کے تجلی سے بہرہ ور تھے مگر جو اس روزقہر ٹوٹا جنازہ گہ میں تھے اہل بصرہکوئی نہیں تھا خدا کے گھر میںتو اہل بصرہ یہ سرخ دھارے خموش تھے کیا
ریشہ ریشہ گیت کا گوٹا ہر اک انگ میں رقصسانس کے بھیتر کوئل بولے پنچھی جیسا شخص
میں مسجد احمریں کے دامن پہ ثبت پتھرنواح حیرت کدہ طلسمات عافیت تھانہ میرا فکر و نظر سے رشتہ نہ میرا ایہام گوئی شیوہفقط میں شاہد عبادتوں سے چمکتے لمحوں کی داستاں کادرون مسجد کھڑے منارے اذان دیتےتو وادیٔ عشق سے طلوع نماز ہوتیامام اور مقتدی سفیران اہل ایماںحضور یابی کی ندرتوں سے کلام کرتے سلام کرتے
چل کہ صد چاک گریباں وہاں ہو آتے ہیںیہ جو ہنگامۂ ہستی ہے ذرا دیر کو چھوڑایک بے انت مسافت کے ادھر بیٹھتے ہیںیاد کرتے ہیں پری خانوں کی تلخابی کواپنی آزردہ تمناؤں پہ رو لیتے ہیںگرد میں رکھے ہوئے اشک فسردہ چہرےگئے وقتوں کا تذبذب نئے وقتوں کا عذابآ کہ شانوں سے گرا آتے ہیں اس پار کہیںاس سے پہلے کہ یہاں سیل فنا آ نکلےنام لیتا ہوا دونوں کا اسی شور کے بیچوقت کے پار جہاں زاد کی دہلیز کے ساتھاشک روتے ہیں مسافت کا بھرم رکھتے ہیںچل کہ صد چاک گریباں وہاں ہو آتے ہیں
اے مرے خوابہنر خیز روایت کے امیںانکشافات کی دریوزہ گری چھوڑ بھی دےگرد ہنگام میں ترتیب سے رکھآنکھ کی خستہ فصیلوں سے گرے خشت مزاجان چنے زرد گلوں سے ڈھکے کچھ سوختہ پلسمت کا کوئی تعین تو نظر میں ٹھہرے
کسے ہوئے اکتارے پر ہیں گیندے کے دو پھولمہندی لگے ہاتھوں پر ہیرے موتی جڑے دو نقشبانسری کے ہونٹوں سے نکلے آٹھویں سر کا گیتشام املتاسوں کی سنائے تازہ تازہ نظمآئینے میں گوری کے امراؤ جان سا روپآنکھوں میں بے تاب تمنا دھڑکن ہے بے ربطدور سمے کے پار سے آنے والا ہے شہزادہگرد اڑاتی رتھ سے اترا آخر ایک جواناچکن پر ہے سجا ہوا سرخاب کا نیلا پرپان سپاری چونا کتھا ریشم ریشم جسمڈھول کی تھاپ پہ رقصاں گھنگرو اور گوری کا دلمحل سرا کی دیواروں پر ہے پیاس کا میٹھا رنگجسم سے نکلا نکلا جائے گوری کا ہر انگشہزادے کی سانسوں میں صندل کے عرق کی باسرتھ بانوں کی رگوں میں ان جانے لمحوں کا کیفجسم اور جام کی رعنائی میں ہار کا درد فناشہزادے کے سینے پر ہیں رقاصہ کے اشکایرانی قالین پر رقصاں رقاصہ کا خوندروازے کے باہر لٹکا جنگ میں ہار کا داغشہزادے کے ہونٹوں پر ہے فاتح کی مسکان
اک تذبذب کی سرائےساعتوں کے میل سےبوجھل مگر روشن چھتیں دیوار و دراور راہدری میں ابھرتیاجنبی قدموں کیہلکی تیز چاپاور خاموشی کا لمس جیسے سائبہپھر صحن میں آ کر اترتےقافلوں کی فاصلوں سے چور آوازیںسفر میں یوں اچانک آنے والےاس پڑاؤ کیلپٹتی میزباں ٹھنڈک سےسحر آگیں طراوت پا رہی ہیںسیڑھیوں سے دوردالانوں کے گوشے میں کھڑا اک عکساپنے ہم نشینوںہم رکابوں کا امیران کا محبیپھر بھیاس تشکیک کیبلور ساعت میںہر اک سے بد گماںاس سوچ میں غلطاںکہ جیسےاس سفر ہو رائیگاں
آٹھوں بازار مضافات کو رخصت کرتاگھنٹہ گھر آج بھی استادہ و مصروف وہیںآٹھ بازاروں کے ازدحام سے باہر آ کروہی درگاہ کی دیوار سے لپٹا پیپلجس کی شاخوں سے بندھے لاکھوں ہزاروں دھاگےیاد ہے پچھلے برسہم نے بھی باندھی تھی وہیںسبز دھاگے میں پروئی ہوئی منت کوئیاسی منت کے ہرے دھاگے کو آدھا کرکےتم نے باندھا تھا مری زرد کلائی پر بھیتم کو معلوم ہےیا تم نے سنا تو ہوگاوہ جو درگاہ وہاں ہوتی تھیاب بھی ہے وہیںاسی دیوار سے لپٹا وہ مقدس پیپلاس کی جس شاخ پہ منت کی گرہ باندھی تھیمرے بازو کی طرحسوکھ گئی ہے وہ بھی
کیا پالوں میں کیا پالوںکس کو میں گھر میں لاؤںببر شیر بھی پیارا ہےکیوں نہ اس کو پالوں میںمگر وہ ایک درندہ ہےہم سب کو کھا جائے گاسب کو مار وہ جائے گانہیں نہیں جی نہیں نہیںاس کو گھر میں لاؤں نہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books